مجھے صحافی دوستوں نے کہا کہ چھوڑیں دفعہ کریں لیکن بھائی آ�� کو سمجھ نہیں آ رہی - آپ کے ساتھ ٹرپ پر اور ایئرپورٹ پر جو ہمارا "کامن" دوست موجود تھا وہ کہتا ہے کہ گالی بالکل نہیں دی گئی. اب بتائیں "کانفرنس کال" میں لینا ہے اسے ، "پریس کانفرنس" میں بٹھانا ہے یا ڈالر کما لوں "وی لاگ" سے؟
اس دفعہ آپ طہ کر لیں؛ باقی رزق اللہ کی ذات دیتی ہے ، نہ آپ کے جھوٹ کو ایکسپوز کرنے سے پہلے اللہ مجھے بھوکا مار رہا تھا اور نہ آگے مارے گا انشاء اللہ۔
جواب کا انتظار رہے گا 🙏
اقرار الحسن اتنا بے شرم ہے کہ صرف عمران خان کے کردار پر بات کرتے ہیں اس شخص کے منہ سے صرف ایک بار بتا دیں کہ اس نے ایک پارٹی لیڈر کے بارے میں بات کی ہو جس کے بارے میں کہا جاتا تھا یہ سہرا گاڑی میں لے کر گھومتا ہے۔ مت پھیلاؤ اتنا گند پھر یہ گند آپ کے گھر کی طرف آئے گا، سید ذیشان
یہ وہ ناکام پروجیکٹس ہیں جنہیں عمران خان کی سیاست ختم کرنے کے لیے میدان میں اتارا گیا تھا۔ عمران خان کی سیاست تو ختم نہیں ہوئی لیکن ��ہ خود بالکل ختم ہو گئے ہیں۔
کبھی چند لوگ ان کی عزت کرتے تھے۔ اب پورا پاکستان ان کو گالیاں دیتا ہے۔
بےشک عزت اور ذلت دینے والی ذات صرف اللہ کی ہے۔
یہ وہی DC ہے جسے جسٹس بابر ستار نے تحریک انصاف کے رہنماؤں کے خلاف بار بار غیر قانونی MPO آرڈر جاری کرنے پر 6 ماہ کی سزا سنائی لیکن ریاست نے نہ صرف وہ سزا ختم کروائی بلکہ DC صاحب کو صدارتی تمغے سے نواز کر مجبور قوم کو پیغام دے دیا کہ جو ریاست کی خدمت کرے گا ہم اسے لُو بھی نہیں لگنے دیں گے اور کوئی مائی کا لال جج اسے چھو نہیں سکے گا، ایک بابر ستار نے جرات کی تھی اور اسے بھی ہم نے اُٹھا کر پشاور جا پھینکا ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ ہم ایک ملک میں نہیں بلکہ ایک سرکس میں رہ رہے ہیں
میں ہر منگل کو یہاں آتا ہوں اور اس جہاد میں اپنا حصہ ڈالتا ہوں۔اگر عمران خان مجرم ہے تو کھلی عدالتوں میں اس کے کیس سنے جاتے تاکہ دنیا کو اس کے ��رائم کا پتہ چلتا۔ اس پر کوئی جرم نہیں، اگر جرم ہوتا تو جیلوں میں چھپ کر ٹرائل نہ ہوتے۔
اڈیالہ سے ایک شہری
#اڈیالہ_کی_چابی_صرف_مزاحمت
اگر کسی کی ماں بیٹی کو رات گئے ہسپتال لایا جائے، سرجری ہو اور واپس جیل بھیج دیا جائے، فیملی تک کو ملنے نہ دیا جائے تو اس سے بڑھ کر شرمناک بات کیا ہو گی؟ بشریٰ بی بی ہوں یا ڈاکٹر یاسمین راشد، ان کے ساتھ جیل میں ہونے والے بدترین ظلم کو نارملائز کر دیا گیا ہے۔ سوچیں اگر ایسا سلوک شریف یا زرداری خاندان کی کسی خاتون کے ساتھ جیل میں ہوتا تو یہاں کیسا طوفان برپا کیا جا��ا، صحافی تقاریر کر رہے ہوتے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی سینئر خاتون یا بشریٰ بی بی کو آخر یہ کس جرم کی سزا ہے؟ شہباز گل
@SHABAZGIL #pakistan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
یہ باتیں وہ خواجہ آصف کر رہا ہے:
• جوامریکہ جا کر کہتا ہے کہ “ہم لبرل ہیں اور عمران خان مذہبی انتہا پسند ہے” اور پاکستان میں اسی عمران خان کے خلاف بےشرمی سے “یہودی ایجنٹ” کی کمپین کرتا ہے
• جس کی حکومت نے PSL میچز میں فلسطین کے پرچم پر پابندی لگائی
• جس کی حکومت میں اسرائیل کے خلاف احتجاج میں گولیاں چلائی گئیں اور لوگوں کو شہید کیا گیا
• جو اسرائیل کے ساتھ نام نہاد “پیس بورڈ” کا حصہ بنے، جس کا مقصد غزہ پر قبضہ اور بندر بانٹ سمجھا جاتا ہے
• جس نے پچھلے ہفتے ہی اسرائیل کے خلاف دو ٹویٹس
ڈیلیٹ کیں کیونکہ “ابو” سے ڈانٹ پڑ گئی گھی
• جو 2013 سے تین الیکشن ہار کر فو��یوں کی مدد سے پارلیمنٹ کا حصہ بنتا آیا ہے
• جس کی حکومت میں اسرائیل سے تعلقات کے لیے وفود بھجوائے گئے
جبکہ عمران خان وہ شخص ہے جس نے:
• جنرل باجوہ کی خواہش کے باوجود اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کیا
• دنیا بھر میں اسلام کا مقدمہ لڑا
• ہمیشہ اسرائیل کے مظالم کے خلاف آواز اٹھائی
• جس کو جیفری ایپسٹین جیسے موساد ایجنٹ “سب سے بڑا خطرہ” کہتے آئے ہیں
#ReleaseAndTreatImranKhan
Imran Khan’s son @Kasim_Khan_1999 latest interview clip:
“All we are asking for is that our father be given his bare necessities. At least give him humane conditions.”
Is this man really the PM of Pakistan? 🇵🇰
In February 2024, Imran Khan won 180 seats from all over Pakistan and Shahbaz Sharif won only 17 seats, yet he got “elected.”
پاکستان میں نظام اور صحافت کے باہمی مفاداتی گٹھ جوڑ کو سمجھنے کے لیے طلعت حسین صاحب کافی ہیں۔میں پچھلے برس اس وقت حیران رہ گیا جب محمد ہریرہ اور شاہ زیب خان جیسے بہتر ایوریج اور تکنیک رکھنے والے بلے بازوں کو نظرانداز کر کے طلعت حسین صاحب ک�� فرزند شامیل حسین کو پاکستان شاہینز کے سکواڈ میں شامل کر کے باہر بھیجا گیا اور میں نے اس پر سوال بھی اٹھایا۔اب اس برس پہلے شامیل سیدھے پاکستان شاہینز کے کپتان بنا کر باہر بھیجے گئے جہاں ایک میچ میں ففٹی کے علاوہ دو ٹی ٹونٹی اور ایک ون ڈے میں ان کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی حالاں کہ وہ کھیلتے بھی اوپنر ہیں۔اب اس خراب کارکردگی کے بعد شامیل صاحب واپس ملک پہنچے تو والد صاحب کی بوٹ پالشی نے پھر ان کی قسمت کو گئیر لگایا اور اب وہ پاکستان قومی ٹیم کے ون ڈے سکواڈ کا حصہ بن کر بنگلادیش جا رہے ہیں۔اگلے پانچ یا چھے ماہ میں شامیل صاحب آپ کو قومی ٹیم کی ون ڈے یا ٹی ٹونٹی ٹیم کے کپتان بھی نظر آئیں گے اور میری یہ بات لکھ کر رکھ لیجے۔