اس شہر میں پھر کیا دیکھو گے
جب حرف یہاں مَر جائے گا
جب تیغ پہ لے کٹ جائے گی
جب شعر سفر کر جائے گا
جب قتل ہوا سُر سازوں کا
جب کال پڑا آوازوں کا
جب شہر کھنڈر بن جائے گا
پھر کس پر سنگ اٹھاؤ گے
اپنے چہرے آئینوں میں
جب دیکھو گے ڈر جاؤ گے
~احمد فراز
#KABULBLAST
مت قتل کرو آوازوں کو
تم اپنے عقیدوں کے نیزے
ہر دل میں اُتارے جاتے ہو
ہم لوگ مَحبت والے ہیں
تم خنجر کیوں لہراتے ہو
اس شہر میں نغمے بہنے دو
بستی میں ہمیں بھی رہنے دو
ہم پالنہار ہیں پھولوں کے
ہم خوشبو کے رکھوالے ہیں
تم کس کا لہو پینے آئے
ہم پیار سکھانے والے ہیں
سو بار سوچنے کے بعد کال پک یا کال بیک کرتا ہوں اور کال کٹتے ہی ذہن میں خود پر غصے اور بیزاری کی سی کیفیت ہوتی ہے "ایسا کیوں کیا، کیوں کال کی، کال نہ پک کرتا تو کیا ہو جاتا۔"
https://t.co/b5Q0BWcQMl
Song- "SAY NO TO WAR"
Music composed by Rohansh Pandit
Lyrics- Rahul B Seth, Anoushka Sivashankar and Rohansh Pandit
Singers- Javed Ali and Andrea Jeremiah
جبری گمشدگیوں، غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے افراد، تعلیم سے محروم نوجوان اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کے اعداد و شمار کے مطابق یہ ��ات تو کنفرم ہو گئی کہ پاکستان بلوچ ہونا سنگین جرم ہے، تو سوال یہ ہے کہ بلوچ ہونے کے جرم میں تعزیراتِ پاکستان کی کونسی دفعہ لگتی ہے؟
آج سے ٹھیک 136 سال پہلے شکاگو کے محنت کشوں نے اپنے اوقات کار 8 گھنٹے مقرر کروانے کے اپنے بنیادی حق کے حصول کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور کامیاب ہوئے، جبکہ ہمارے ہاں آج بھی مزدور 12 اور 16 گھنٹے کام کرنے پر مجبور ہیں۔
اسی حوالے سے منو بھائی کی نظم ملاحظہ فرمائیں۔۔۔
عورت گر پینٹ شرٹ پہننے سے زلزلے آتے ہیں، اگر حضرت لوط کے بیٹوں کے ساتھ زیادتی ہو تو آسمان سے پتھر برستے ہیں، خانہ کعبہ پر حملہ ہو تو ابابیلیں آتی ہیں، غیر مسلموں سے جنگ ہار رہے ہوں تو فرشتے اترتے ہیں مگر افغانی بچیاں جب سرِ عام بِکتی ہیں تو کسی کے سر جوں تک نہیں رینگتی۔۔۔
سب سے اہم یہ کہ دنیا اس روز عدم تشدد کے عظیم رہنما سے محروم ہو گئی تھی۔ گاندھی کے عدم تشدد کے فلسفے نے بہت سے عالمی رہنماؤں کو متاثر کیا جن میں مارٹن لوتھر کنگ جونئیر، نیلسن منڈیلا اور خان عبد الغفار خان یعنی باچا خان شامل ہیں۔
30 جنوری 1948 کو گاندھی جی کو ایک شدت پسند تنظیم کے رکن نتھو رام گوڈسے نے اس وقت قتل کیا جب وہ مسلمانوں سے اظہارِ یکجہتی کیلئے صوفی بختیار کاکی رح کے دربار پر حاضری کیلئے جارہے تھے، دراصل کچھ روز قبل کچھ شدت پسندوں نے بختیار کاکی دربار کی عمارت کو نقصان پہنچایا جس کی نہ صرف +
بھارت کا یہ نقصان ناقابل تلافی ہے اور ایسے عظیم شخص کے گزر جانے سے پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنا انتہائی دشوار ہو گا۔''
اس کے علاوہ پاکستان میں سرکاری تعطیل اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا، مزید برآں سرکاری عمارات پر پاکستانی پرچم بھی سرنگوں کیا گیا۔ +