Pakistani Punjabi seeking civilian supremacy | irrespective of religious or political views stands with Balochs, Pashtuns, & others against state oppression
@fawadchaudhry@saqibbashir156 Not just CCD, Pak’s problems can’t be solved by treating the symptoms. An army chief can wreck havoc to the country. You can rearrange the deck chairs until kingdom come, but unless Army’s role is redefined & restricted, Pak will continue to move in circles rather than forward.
There is a pattern with this government now. Every time lobbies of the powerful go against the ordinary people, the powerful win.
On March 7 petrol price increase, the oil marketing companies won. Pakistanis lost.
Throughout March and April with diesel prices, the refineries have won. The people lost.
When it comes to urea prices, fertiliser companies win, farmers lose.
Last year, ordinary consumers lost and sugar industry won.
At the time of wheat harvesting last year, stockists and middlemen won, farmers lost.
When it comes to govt’s vast expenses, political families, ministers, MNAs and MPAs and senior bureaucrats win, Pakistani taxpayers lose.
Pakistanis haven’t been able to get a break under this government. That’s why the average income of Pakistanis today is less than in 2014.
Agreed. But u never uttered a word when the poor had homes bulldozed or when judiciary punished HR lawyers & journos thru sham trials. While u were doing okay the rage at injustice was non existent. Now when it disturbed your sleep, rage at injustice has awakened. Elite Bubbles!
Elites of Islamabad quietly cheered the brutal demolition of poor neighbourhoods — all perfectly 'legal', they said.But the moment the same law touches One Constitution Avenue skyscraper, it turns bearable. Law for the poor. Exception for the elite.
نیا جال لائے پرانے شکاری۔۔۔ فوجی ڈکٹیٹر جنرل ایوب خان کے دور میں "تعمیری تنقید" اور "پریس ایڈوائس" کی خوبصورت اصطلاحات متعارف کروائی گئی تھی۔ آمریت میں اخبارات کو ہدایت کی جاتی تھی کہ حکومت کی کارکردگی پر خبریں دینے کی بجائے معاشرتی خرابیوں کے حوالے سے خبروں پر زیادہ توجہ دیں۔
اگر ایک بچہ نگر پارکر یا اوباڑو میں بیٹھا ہوا ہے اور کا باپ ہل چلا رہا ہے تو اچھا ہے وہ AI سے بچ گیا۔ اگر وہ کلہاڑی کو چھوڑ پر کمپیوٹر کو پکڑے گا تو اس کے ��یے مشکلات ہوں گی، وزیر تعلیم سندھ سردار علی شاہ
رکشہ ڈرائیور کو پشاور میں تین روز میں 6 ،6 ہزار کا دو مرتبہ پرچہ
دو روز قبل بھی پرچہ دیا آج بھی پرچہ دیدیا میں کہاں سے 12 ہزار لے کر آئوں گا مجھے جرگانو چوک ( با��ا خان چوک) میں پرچہ کیا اور پھر مجھے مارا بھی
رکشہ ڈرائیور کی فریاد
پٹرول لیوی پر 40فیصد ٹیکس صرف ایف بی آر کو نالائقی کو پورا کرنے کیلئے لگایا گیا ہے، ہمارے سیاستدان آئی ایم ایف کو جا کر خود بتاتے ہیں ہم پٹرول لیوی لگا کر پورا کرلیں گے ، ان کا رویہ عوام دشمن ہے کیونکہ ان کو ساری مراعات گھر بیٹھے ہوئے مل رہی ہیں، فری گاڑیاں ، پٹرول ، بجلی اور گھر ملے ہوئے ہیں،ماہر معاشی امور ڈاکٹر اکرام الحق کی تہلکہ خیز گفتگو
#PublicNews #NewsUpdates #PublicProgram #RiyasatOrAwam @iRaiSaqib
پی ٹی آئی کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کی تحقیقات کرنے والی سکروٹنی کمیٹی کے دو ممبران کو سکندر سلطان راجہ نے نواز دیا،جب تک یہ افسران ای سی پی میں رہیں گے سپیشل سیکرٹری رہیں گے جب جائیں گے ان کی پوسٹس ڈی جی کی ہوجائے گی،خوفناک ترین انکشافات کا پارٹ 1
میری ایکسکلوسیو خبر
تین دن پہلے پنجاب حکومت نے محکمہ تعلیم کے بجٹ سے کٹوتی کی ہے اور آج لاہور میں 500 ایکڑ پہ فلم سٹی بنانے کا اعلان کردیا ہے
90 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں غربت اور مہنگائی کی وجہ سے اور انکو فلم سٹی بنانی ہے
واقعی شعور سے پیٹ نہیں بھرتا فلم سٹی سے شاید بھر جائے
اسلام آباد پولیس نے شہری کو ترنول پھاٹک کو آبنائے ہرمز سے تشبیہ دینے پر گرفتار کرلیا۔شہری ملکی مفاد میں راستوں کی بندش برداشت کررہے ہیں توان کی تکلیف کوبھی سمجھاجائے۔مزاحیہ پوسٹ پربھی گرفتاری پر تاثرجائے گا کہ شہری ملکی مفاد نہیں بلکہ خوف سے خاموش ہیں
پچھلے تین سالوں میں ایک بات کھل کر سامنے آ گئی ہے چاہے ماضی کی حکومتیں جیسی بھی تھیں، مگر موجودہ حکومت جتنی نوسرباز اور جعلساز شاید ہی کوئی آئی ہو۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ان کارناموں کا کریڈٹ لینے پر تُلے ہوتے ہیں جن کا حقیقت میں کوئی وجود ہی نہیں ہوتا۔
مثلاً آپ علی پرویز ملک اور عطا تارڑ کو بڑے فخر سے یہ دعویٰ کرتے سنیں گے کہ دنیا بھر میں تیل کی قلت تھی، مگر انہوں نے کسی نہ کسی طرح ملک میں سپلائی برقرار رکھی۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے دنیا میں کہیں بھی تیل کی ایسی کوئی قلت پیدا نہیں ہوئی تھی کہ سپلائی متاثر ہوتی
اصل معاملہ یہ ہے کہ عالمی سطح پر تیل باآسانی دستیاب رہا، مگر پاکستان میں اسی دوران قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کیا گیا۔ گویا عوام پر بوجھ ڈال کر اسے کارکردگی کا نام دیا جا رہا ہے جو کہ نہ صرف گمراہ کن ہے بلکہ کھلی حقیقت سے انکار بھی