وزیر اعلی خیریت سے پشاور میں موجود ھے ۔ سی ایم آفریدی آج 3 بجے پارلمانی اجلاس کی قیادت کرینگے ۔ 5:30 پریس کانفرنس کرینگے ۔اور شام 7 بجے صوبائی اسمبلی اجلاس میں شرکت کرینگے ۔
سہیل آفریدی @SohailAfridiISF آپ اس وقت کروڑوں تحریک انصاف کے ورکرز ووٹرز سپورٹرز کی امید بن چکے ہو
چاہے آپ آخری رہ جاؤ پھر بھی 27 ستمبر کو ��پنے لیڈر کی آزادی کے لیے ضرور نکلنا
ڈٹ جاو عمران کی ��رح پوری قوم پورا سوشل میڈیا آپ کے ساتھ کھڑا ہے
اگر کوئی یہ کہے کہ سہیل آفریدی کچھ نہیں کرنا چاہتا تو یہ سراسر غلط ہے۔
بغض اور مفاد رکھنے والوں کے علاوہ ہر کوئی دیکھ سکتا ہے کہ اسے اکیلا کیا جارہا ہے دبایا جا رہا ہے ڈرایا جا رہا ہے اور ��ارا ملبہ اس پر ڈالا جا رہا ہے۔
حتی کے اپنوں نے بھی کچھ کرنے کی زحمت نا کر کے سارا بوجھ اس پر ڈال دیا ہے۔
سہیل آفریدی ، مجھے نہیں معلوم کہ کیا ہوگا آنے والا وقت کیا لائیگا، مگر تمہاری نیت پر کوئی شک نہیں، اللّٰہ تمہے کامیاب کرے۔
ہم سب تمہارے ساتھ ہیں، ہمیں تم پر فخر ہے، اللّٰہ تمہارا حامی و ناصر ہو۔
پاکستان زندہ باد، عمران خان زندہ باد۔
@Arman_khanxIK@salmanAraja@SohailAfridiISF Kaun sa Marwat Jo court may keh raha K Imran khan na ehl aur saza yafta Hai, Imran khan K pass CM lagana ka haq nai. Usi Marwat Ki baat kar rahay ho
Today, my aunt, Aleema Khan, has been abducted by police in Lahore. Our family has been told nothing about where she has been taken. Her family and lawyers cannot reach her.
This is the behaviour of a fascist government - abducting people, terrorising families and trampling human rights, due process and the rule of law while pretending to stand for democracy.
First they imprisoned my father. Now they are coming after his family.
We demand immediate access to her for her family and lawyers, full disclosure of where she is being held, and her immediate release.
The world cannot keep looking away from what is happening in Pakistan.
اٹھو لوگوں بغاوت سے قیامت کا سماں کر دو کہ یہ خاموش رہنے کی عادت تمہیں مار ڈالے گی
ریاست گر بچانی ہے تو سیاست چھین لو ان سے
ورنہ یہ سیاست ریاست کو مار ڈالے گی
پاکستان کے طلباء Gen Z پر اس وقت سب سے بھاری ذمہ داری عائد ہے، ملک کے روشن مستقبل کا انحصار ان طلباء پر ہے
27 ستمبر کو ملک کے مستقبل کی خاطر Gen Z کو فرنٹ سے لیڈ کرنا ہو گا، یونیورسٹیوں، کالجوں کے نوجوان طلباء کو فرنٹ سے لیڈ کرنا پڑے گا
ایک اور پولیس آفیسر کو ویڈیو بیان سامنے آگیا
ہم سے زبردستی مخالفین پر مقدمات درج کروائے جاتے
ہمیں زبردستی آرڈر دیے جاتے کہ لوگوں کی چادر چاردیواری کا جاکر تقدس پامال کرو....
ہمارا 27 ستمبر کا لانگ مارچ ایک پُرامن، جمہوری اور آئینی جدوجہد ہے۔ پاکستان کے ہر شہری کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے بنیادی حقوق کے لیے پُرامن طور پر آواز بلند کرنے اور اجتماع کرنے کا حق حاصل ہے۔ ہم اسی آئینی حق کو استعمال کرتے ہوئے اپنی آواز عوام اور متعلقہ اداروں تک پہنچائیں گے۔
عوامی مینڈیٹ کو کچل کر ملک پر مسلط ہونے والے وفاقی وزراء کی جانب سے مسلسل دھمکی آمیز بیانات کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ اختلافِ رائے کو دبانے یا شہریوں کو خوفزدہ کرنے کے بجائے فارم 47 حکومت کو چاہیے کہ وہ عوامی مطالبات سنے، آئینی حقوق کا احترام کرے اور سیاسی معاملات کا حل مکالمے، قانون اور جمہوری عمل کے ذریعے تلاش کرے۔
اس وقت پاکستان کا ہر ذی شعور شہری آئین کی اصل حالت میں بحالی اور ناحق قید سیاسی اسیران کی رہائی کا مطالبہ کر رہا ہے- پاکستان کا نوجوان روزگار اور بہتر مستقبل کا مطالبہ کر رہا ہے۔ مزدور اپنے معاشی حقوق اور باعزت زندگی کی جدوجہد کر رہا ہے۔ کسان اپنی محنت کا مناسب معاوضہ اور معاشی تحفظ چاہتا ہے۔ اور ہر شہری انصاف، مساوات، آئینی آزادیوں اور باوقار زندگی کا حق مانگ رہا ہے۔ ان آوازوں کو دھمکیوں سے نہیں بلکہ سنجیدہ سیاسی مکالمے اور مؤثر حکمرانی سے جواب دیا جانا چاہیے۔
27 ستمبر کا لانگ مارچ پُرامن رہے گا اور آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہوگا۔ ہم ریاستی اداروں اور فارم 47 حکومت سے بھی توقع رکھتے ہیں کہ وہ شہریوں کے آئینی حقوق کا احترام کریں گے، پُرامن سیاسی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا کرنے کے بجائے قانون کی بالادستی کو یقینی بنائیں گے۔
ملک اس وقت بہتر ہوگا جب دھمکیوں کے بجائے عوامی مسائل پر توجہ دی جائے گی؛ جب عوامی رائے کا احترام ہوگا؛ جب پارلیمنٹ اپنی آئینی ذمہ داریاں مؤثر طور پر ادا کرے گی؛ جب عدلیہ کی آزادی اور قانون کی بالادستی یقینی ہوگی؛ آئین بحال ہو گا اور سیاسی اسیران رہا ہوں گے اور جب صحافت کو آزادانہ طور پر اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔
ہم کسی تصادم کے خواہاں نہیں۔ ہمارا مطالبہ واضح ہے: آئین کی بحالی، قانون کی حکمرانی، سیاسی اسیران کی رہائی ، بنیادی حقوق کا تحفظ اور عوام کی آواز کا احترام۔
دباؤ، دھمکی یا خوف ہماری پُرامن اور آئینی جدوجہد کا راستہ نہیں روک سکتے۔ ہم قانون کا احترام کرتے ہوئے اپنے جمہوری حق کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔
ادھر آ ستمگر، ہنر آزمائیں
تُو تیر آزما، ہم جگر آزمائیں۔