When the blood in your veins return to the sea,
And the earth in your bones return to the ground,
Perhaps then you will remember that land doesn't belong to you,
It's you who belongs to this land.
"سندھ کے قاتلو!
تم زمین نہیں، ایک تہذیب کے سینے پر وار کر رہے ہو۔۔!"
(تحریر: آفتاب احمد خان زادہ)
سندھ کو تقسیم کرنے کی بات کرنے والو! شاید تم نے سندھ کو صرف نقشے پر دیکھا ہے، اس کی مٹی کو نہیں چھوا؛ تم نے اس کی سرحدیں دیکھی ہیں، اس کی تاریخ نہیں پڑھی؛ تم نے زمین دیکھی ہے، مگر اس زمین کے اندر دفن پانچ ہزار سالہ انسانی حافظہ نہیں دیکھا۔
تم سمجھتے ہو کہ چند لکیریں کھینچ کر ایک تہذیب کو تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ تمہاری سب سے بڑی غلط فہمی یہی ہے کہ نقشہ بدلنے سے تاریخ بدل جاتی ہے۔ تاریخ اتنی سستی چیز نہیں کہ کسی دفتر کی میز پر بیٹھ کر اس کی نئی قیمت مقرر کر دی جائے۔
سندھ آج صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں؛ یہ ایک تاریخی شعور ہے، ایک تہذیبی تسلسل ہے، ایک ایسی اجتماعی یادداشت ہے جس نے حملہ آور دیکھے، سلطنتیں بنتی اور مٹتی دیکھیں، دریا کے راستے بدلتے دیکھے، مگر اپنی شناخت کو زندہ رکھا۔
اور آج جب سندھ میں سیاسی شعور بیدار ہو رہا ہے، جب لوگ اپنے حقوق، اپنے پانی، اپنی زمین، اپنے وسائل اور اپنی شناخت کے سوال پوچھ رہے ہیں، عین اسی وقت سندھ کو تقسیم کرنے کی آوازیں اٹھنا محض اتفاق سمجھنا سیاسی معصومیت ہوگی۔
جس قوم کو اس کے سوالوں کا جواب نہ دیا جا سکے، اسے اکثر نقشے بدلنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
یہی پرانی سیاست ہے۔
جب عوام غربت کا سوال کریں تو انہیں شناخت کا جھگڑا دے دو۔
جب وہ پانی مانگیں تو انہیں تقسیم کا خوف دے دو۔
جب وہ روزگار مانگیں تو انہیں ایک دوسرے کے مق��بل کھڑا کر دو۔
جب وہ وسائل کی منصفانہ تقسیم پوچھیں تو ان کے درمیان نئی سرحدیں کھینچنے لگو۔
کیونکہ حکمران طبقے اچھی طرح جانتے ہیں کہ متحد سوال ایک طاقت ہے، جبکہ تقسیم شدہ عوام صرف ایک ہجوم۔
سندھ کو تقسیم کرنے کی خواہش رکھنے والوں کو ایک تلخ حقیقت سمجھ لینی چاہیے: سندھ کے لوگ اب اتنے بےخبر نہیں کہ ہر سیاسی چال کو ترقی کا نام دے کر قبول کر لیں۔
سندھ کی محرومی کا علاج سندھ کو توڑنا نہیں، سندھ کے ساتھ انصاف کرنا ہے۔
اگر کسی شہر میں مسائل ہیں تو مسائل حل کرو۔
اگر انتظامیہ ناکام ہے تو انتظامیہ درست کرو۔
اگر روزگار کم ہے تو معیشت بہتر کرو۔
اگر تعلیم تباہ ہے تو اسکول بنا��۔
اگر صحت کا نظام مر رہا ہے تو اسپتال بناؤ۔
اگر کرپشن ہے تو احتساب کرو۔
اگر وسائل کی تقسیم غیرمنصفانہ ہے تو انصاف کرو۔
مگر یہ کیسا فلسفہ ہے کہ مریض کو دوا دینے کے بجائے اس کا جسم کاٹ دیا جائے؟
سندھ کے مسئلے کا حل سندھ کی تقسیم نہیں؛ سندھ کے مسئلے کا حل ��نصاف، جمہوریت، مضبوط بلدیاتی نظام، مساوی مواقع اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ہے۔
اور جو لوگ سندھ کی بیداری سے خوفزدہ ہیں، انہیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ بیدار قوموں کو سرحدوں سے نہیں، سچ سے خاموش کیا جاتا ہے—اور سچ کبھی خاموش نہیں رہتا۔
سندھ کے خلاف سب سے خطرناک سازش صرف یہ نہیں کہ اسے تقسیم کرنے کی بات کی جائے؛ اصل سازش یہ ہے کہ سندھ کے لوگوں کو ایک دوسرے سے بدظن کیا جائے، انہیں لسانی، طبقاتی اور شہری و دیہی نفرتوں میں بانٹا جائے، تاکہ وہ اصل سوال پوچھنا بھول جائیں:
ہماری زمین کس کے پاس ہے؟
ہمارا پانی کہاں جا رہا ہے؟
ہمارے وسائل پر اختیار کس کا ہے؟
ہمارے بچوں کا مستقبل کس نے گروی رکھا ہے؟
یہ سوال تقسیم سے نہیں ڈرتے۔
یہ سوال کسی نقشے سے نہیں مٹتے۔
یہ سوال کسی قرارداد سے دفن نہیں ہوتے۔
سندھ کوئی ایسا کاغذ نہیں جسے تم اپنی مرضی سے پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دو۔ یہ موئن جو دڑو کی اینٹوں سے لے کر آج کے انسان کے شعور تک پھیلا ہوا ایک تاریخی ��سلسل ہے۔
جو لوگ سندھ کو تقسیم کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں، انہیں شاید معلوم نہیں کہ تاریخ میں زمینیں تقسیم ہوتی ہیں، مگر تہذیبیں نہیں۔
تم سرحد کھینچ سکتے ہو،
مگر حافظے پر لکیر نہیں کھینچ سکتے۔
تم نقشہ بدل سکتے ہو،
مگر لوگوں کی تاریخی شناخت نہیں بدل سکتے۔
تم سیاسی منصوبے بنا سکتے ہو،
مگر پانچ ہزار سالہ تہذیبی شعور کو حکم نہیں دے سکتے کہ وہ اپنی یادداشت بھول جائے۔
اور سب سے بڑھ کر—
سندھ کی بیداریت کو تقسیم کے خوف سے دبانے کی کوشش دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ سندھ اب سویا ہوا نہیں۔
یہ بیداری کسی ایک جماعت، کسی ایک شخص یا کسی ایک نعرے کی ملکیت نہیں۔ یہ اس انسان کی بیداری ہے جو اپنی زمین، اپنے پانی، اپنے وسائل اور اپنے مستقبل کے بارے میں سوال کرنا سیکھ چکا ہے۔
اس لیے سندھ کو تقسیم کرنے کے خواب دیکھنے والوں کے لیے آخری بات:
سندھ کو توڑنے سے پہلے سندھ کے شعور کو توڑنا پڑے گا، اور سندھ کے شعور کو توڑنے کے لیے صرف طاقت کافی نہیں—کیونکہ شعور جب تاریخ سے جڑ جائے تو وہ طاقت سے زیادہ دیرپا ہو جاتا ہے۔
تمہارے پاس نقشے ہیں؛
ہمارے پاس تاریخ ہے۔
تمہارے پاس منصوبے ہیں؛
ہمارے پاس حافظہ ہے۔
تمہارے پاس اختیار ہے؛
ہمارے پاس سوال ہے۔
اور یاد رکھو—
اقتدار سوال کو کچھ عرصے کے لیے دبا سکتا ہے، مگر تاریخ کے اندر زندہ سوال کو ہمیشہ کے لیے قتل نہیں کر سکتا۔
سندھ کی وحدت کسی سیاسی مصلحت کا نام نہیں؛ یہ ایک تاریخی حقیقت، تہذیبی تسلسل اور اجتماعی شعور کا نام ہے۔
سندھ کو تقسیم کرنے کی ہر سازش کا جواب نفرت نہیں، بیداری ہے؛ خاموشی نہیں، دلیل ہے؛ اور خوف نہیں، اپنے حق کا شعوری مطالبہ ہے۔
کیونکہ سندھ جب سویا ہوا تھا تو تمہیں آسان لگتا تھا؛
اب سندھ جاگ رہا ہے—اور بیدار قوموں کو تقسیم کرنے سے پہلے ان کے شعور سے شکست کھانی پڑتی ہے.
#NewProvinces
#Systemfailure
#SystemCollapse
#AdministrativeUnits
@arieeejj@mastmalang09 MQM ministers , Sector incharge were target killers, Haqeeqi and MQM killed each other over money lands their greed you made city slum and claiming we died for cities what a shamelessness
@arieeejj@mastmalang09 What ? Why dragging Sindhi into this ? you didn’t die protecting khi you killed each other on distributions of extortion money, Aslam langra khaarna all these type of people were terrorist murderers killers, They have Burned Baldia factory killing 300 souls alive
Dubai rose it's status in the 80's when Karachi was handed over to the racist/terriost Mafia's like MQM/JI which destroyed our city by inflicting it into the bloody drugs / weapon war. MQM met its natural death like any fascist terrorist outfit would & JI is crippled for good.
دوران گفتگو مسعود نے حشو سے کہا، ”حشو تم ہندوستان کیوں نہیں چلے جاتے؟“
حشو نے ٹکا کر جواب دیا، ”مسعود یہ میرا وطن ہے، میں ہندوستان کیوں جاؤں؟“
مسعود نے اپنے انگوٹھے سے برابر والے کمشنر کے کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
"You Sindhis will be decimated like Red Indians
Heavy thunderstorms and record rainfall hit Dubai and the UAE this week (March 25-27, 2026), flooding roads, stranding cars, and disrupting traffic/flights.
Streets became rivers in areas like Sharjah and downtown Dubai.
In 1991 Indian Intelligence Agencies Infiltrated Both MQM and Karachi Gangs
In 1995 Karachi Areas Like Korangi, Malir, Pak Colony, Gulbahar & Liaqatabad Became No Go Areas Due to Violence by MQM Cadre and Karachi Gangs
In Karachi Off Duty Pakistan Army Officers Were Killed
Reminder: 15Nov2005: An Israeli army officer fired the entire magazine of his automatic rifle into a terrified 13yo Palestinian schoolgirl (shooting her 17 times!) declaring he'd have done the same if she'd been 3yo! He's acquitted on all charges #IsraeliTerrorism#FreePalestine
I do not believe in dividing humans on the basis of faith. Hindu, Muslim, Christians, Jews & Atheist to be treated equally. Faith is a personal matter. The present division is only for identification. I believe in Rab-ul-Alaymeen & Rahmat-ul-lil-Alaymeen. Support Haq not Batil.
کراچی کو روشنیوں کا شہر بنانے والا ایک ہندؤ تھا جس کا نام سیٹھ ہری چند رائے وشن داس تھا جو کراچی کے میئر تھے انہوں نے 1913 میں کراچی روشنی کا شہر بنانے کا آغاز کیا تھا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ 1920 میں امریکہ میں ابھی بجلی اتنی عام نہیں ہوئی تھی جبکہ بجلی والے بلب ایجاد ہو چکے تھے۔
پہلی بار 31 دسمبر 1879 امریکہ کی اسٹیٹ پنسلوانیا میں روشن ہوا تھا پھر آہستہ آہستہ اس پر مزید کام کیا گیا اسی دوران کراچی میں سیٹھ ہری چند رائے وشن داس جو 1911 سے 1922 تک کراچی کے میئر رہے جنہوں نے کراچی کو روشنیوں کا شہبثار بنا دیا مگر پھر کراچی کیسے اندھیروں کا شہر بنا ؟ اس پر کوئی تبصرہ کرنا بیکار بحث ہے بس افسوس صرف اس بات کا ہے کہ کراچی کے شہریوں نے بھی اندھیرے کو اپنا مقدر سمجھ لیا۔
نثار نندوانی