Another international media interview by @Kasim_Khan_1999 and #SulaimanKhan on Imran Khan’s health emergency. Thanks @AJEnglish!
Imran Khan must be transferred to Shifa International Hospital & medical treatment must start asap under the supervision of personal doctors & family.
سہیل آفریدی صاحب ہمارا آپ سے کوئی زمین جائیداد کا جھگڑا نہیں ہے۔ ہم تو بس یہی چاہتے ہیں کہ ظالموں سے مفاہمت ختم کرو اور بہنوں کے ساتھ کھڑا ہو کر مزاحمت جاری رکھتے ہوئے عمران خان کو رہا کرواؤ۔ آپ جب بھی مزاحمت سے پلٹا کھائیں گے تو ہمیں وہاں نہیں پائیں گا۔
قید تنہائی میں ڈالنے سے قبل وکلاء، اراکین اسمبلی اور پارٹی قیادت کے لیے احکامات تھے عدالتوں کے باہردھرنا دیں جب تک انصاف نہیں ملتا۔ ان سب کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر یاد کراچکا ہوں۔ وکلاء کے نام بھی سخت پیغام تھا اور کیوں نہ ہوتا پارٹی عہدوں سے لیکر اسمبلی ٹکٹ اور بار الیکشن تک عمران خان کے نام پر ��ڑے جاتے ہیں لیکن خان صاحب کے احکامات کے باوجود عدالت کے باہر مستقل، بمع اراکین اسمبلی دھرنا نہیں دیا جا سکتا؟ پہلے بارش تھی، پھر رمضان تھا اب گرمی ہے۔۔
خان صاحب کی بیماری، ڈرون حملے،آپریشن، بدلتے ہوئی بین الاقوامی حالات،پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے،بے جا ٹیکسسسز، مہنگائی کے تناظر میں تحریک چلانے کی صلاح۔ صرف صوبہ نہیں ملک بند کرنے کا پلان،عمران خان کی صحت کے معاملے پر متحرک ہونے کی درخواست، ایوانوں سے استعفوں کے زریعے حکومت سے legitimacy واپس لینے کے لیے سب سے پہلے اپنے استعفیٰ کی پیشکش۔۔۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران خان کی اسیری کا زمہ دار ان میں سے کوئی فرد نہیں بلکہ بین الاقوامی اسٹیبلیشمنٹ کی ایماء پر برسرپیکار عاصم منیر، قانونی و غیر قانونی طور پر اس کے ماتحت آنے والے ادارے اور اسکے اشاروں پر ناچنے والی سیاسی قوتیں ہیں۔ مگر کیا عمران خان اپنی ذات کے لیے مقید ہے کہ اس کی رہائی کے لیے اپنی پوری قوت سے کوشش کرنا بھی کسی کا فرض نہیں ہے؟ قیادت سے لیکر قوم تک کسی کا بھی نہیں؟
تحفظ آئین پاکستان مہینوں بعد ایک بیٹھک منعقد کرنے کا فیصلہ خود کر سکتی ہے،سی ایم جلسے کا اعلان اور پھر ملتوی خود کر سکتا ہے، اراکین اسمبلی شادیوں اور دعوتوں میں مخالفین کے ساتھ بیٹھنے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں، مارکوپولو بن کر دنیا کے چکر لگانے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں،سیاسی کمیٹی خود کو “محب وطن” ثابت کرنے کے لیے ایمرجنسی اجلاس بلا سکتی ہے،تنظیمیں عہدوں کے نئے نئے نوٹیفیکشن کرسکتی ہیں،صوبائی حکومت فارم ۴۷ وزیراعظم اور صدر کے ساتھ بیٹھ سکتی ہے، کور کمانڈر ہاؤس کا رخ کر سکتی ہے لیکن جب عمران خان کا سوال ہو تو سیاسی کمیٹی کا جواب ہوتا ہے تحفظ آئین پاکستان، ان کا جواب ہوتا ہے پی ٹی آئی قیادت، قیادت فیملی کا نام لیتی ہے اور پھر سی ایم پر بات آجاتی ہے اور یہی سلیم اللہ سے کلیم اللہ اور کلیم اللہ سے سلیم اللہ چلتا رہتا ہے۔تو جب سارے فیصلے اپنے طور پر کیے جا سکتے ہیں تو تحریک کا فیصلہ کیوں نہیں؟ محض اس کے لیے عمران خان کی ہدایت درکار ہے اور جہاں عمران خان کی ہدایات میسر ہیں وہاں حیلے بے شمار ہیں۔ مان لیتے ہیں کہ منزل ایک ہے لیکن طریقہ کار مختلف ہے تو ایک دن کے نوٹس پر آپ سب ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر مشترکہ اجلاس بلا کر عملی جدوجہد کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور ادھر ہی مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد بھی ہوسکتا ہے۔ چلو یہ بھی مان لیتے ہیں کہ زیادہ تر تحریک کے حق میں ہیں تو کچے دھاگے توڑنے کے لیے اجلاس کو لائیو نشر کیجئے ویسے بھی کونسا ایٹم بم کا فارمولہ ڈسکس ہونا ہے تو جو بھی رکاوٹ ہوگی قوم خود اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ان کا بھی احتساب کر لے گی۔
ہمیں تو گراونڈ ریلئٹی نہیں معلوم ناں تو بس پبلکی مشورہ دے دیا کیونکہ خان صاحب کی بیماری کے وقت میں نے ایک وائس نوٹ میں وہ تمام تجاویز دہرائے جو میں ��یادت کو بارہا بھیج چکا تھا، نا ہی کوئی کال دی نا ہی کوئی فیصلہ کیا لیکن خان صاحب کے لیے کچھ کرنے کے بجائے مجھے قیادت و صوبائی حکومت نے پیغام بھجوایا کہ آپ کے ایک وائیس نوٹ سے تحریک کو Irreversible نقصان ہوا ہے۔ سیریسلی؟ اور یہ میرے ساتھ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔۔
تین سال بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے وہ بھی ناحق اسیری اور عمران خان جیسا لیڈر۔ چار سال مجھے ہوگئے پہلے دربدر اور پھر مستقل اور پھر روپوشی بھی ایسی کہ کوئی ایک ہفتہ بھی نہ گزار سکے۔ آج صرف مل بیٹھ کر ایک جہد مسلسل کی گزارش کر رہا ہوں اگر نہیں ہو رہا آپ سے تو جیسا آپ ہمارے بیانیہ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے ہم آپ کی غفلت کا بوجھ نہی�� اٹھا سکتے۔ اور یہ جو کرنل سے مل کر ایک دوسرے کو مشورے دیتے ہو کہ خان تو جیل میں ہی رہے گا مراد سعید تو پاگل ہے نہ اپنی پرواہ نہ کسی اور کی وہ تو جب بھی نظر آیا مارا جائے گا اپنی زندگی کیوں خراب کرتے ہو تو اتنا کہوں گا اللہ آپ کو مزید آسانیاں دے لیکن ہمارے مقصد ہماری جدوجہد اور ہماری زندگیوں کی قیمت پر نہیں بالکل بھی نہیں۔ کوئی فیصلہ کیجیے-
“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہی�� سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے” -
ناحق قید سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پیغام
(21 مارچ، 2026)
“The judges in this country should be ashamed of themselves. Time and time again we have gone to the judiciary. But they have sold their souls for their paid personal privileges. They have sold their integrity. They know they cannot break me, so they turn to my wife. How they can allow this inhumane treatment to Bushra BiBi, simply to blackmail me. She spends 24 hours a day in isolation, except for 30 minutes with me per week - and even that is often ignored. It is unislamic to harm women, children and the elderly - and their motives are plain and clear. The judges are responsible for the justice in a society. They should be ashamed of themselves.”
Illegally Incarcerated Former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan, speaking to his sons on phone from Adiala Jail - (March 21, 2026)
آج رمضان کی طاق رات ہے میں اس مبارک شب میں اللہ کو حاضر ناظر جان کے گواہی دیتا ہوں کہ یہ ایپ میں نے صرف اور صرف پاکستان میں جمہوریت عدلیہ کی آزادی اور حقیقی آزادی کیلئے بنائی ہے اس ایپ کا مقصد عوام کو ایجنسیوں سے محفوظ رہ کے رابطہ قائم کرنے کی سہولت دینا ہے تاکہ مزاحمت کی جسکے!
یمن کی مساجد میں یمن کے اہل ایمان عمران خان کی کامیابی اور سربلندی کے لیے دست بدعا ہیں
اور ہماری مساجد میں صورت حال یہ ہے کہ اگر کوئی خطیب یا عالم عمران خان کا تذکرہ کر دے تو اسے منبر سے معزول کر دیا جاتا ہے
We categorically REJECT all the medical reports circulating in the media regarding Imran Khan. Our doctor, Dr. Asim Yousif spoke to the doctors last night, who explained the procedure and treatment carried out, but as Dr. Asim Yousuf stated in his video, there is NO way for us to verify any of this.
Now we are even more concerned and worried and our demand remains unchanged: Imran Khan must be urgently transferred to a proper medical facility (Shifa International Hospital Islamabad) where he shall be examined by qualified specialists under Dr. Asim Yousuf’s supervision and in the presence of his family.
Tomorrow, we will be at Adiala Jail at 1:30pm, and we expect the authorities to allow us to meet Imran Khan as this is his legal right. The family will also hold a press conference outside Adiala at 4pm after our meeting with Imran Khan.
عمران خان کی صحت ٹھیک ہے اس بات کی یقین دہانی خان کی فیملی اور عوام کو کروائے بغیر اگر احتجاج اور دھرنے ختم کیے جاتے ہیں تو پھر یہ طے ہے کہ عمران خان پر سختی اور جیل کی وجہ تحریک انصاف کی قیادت ہے !
ہاں ایک اور بات ۔۔ پنجاب 💔
It is deeply shocking and irresponsible that a respected newspaper like Dawn published a planted report from a FAKE account falsely attributed to Noreen Niazi on its front page, without any verification from her. This raises extremely serious concerns for us and further undermines our trust in the government’s intentions and the information being circulated. Please note that my sister’s real account on X is @Noreen_KhanPK , please report all other accounts as they are all fake.
Our position has been clear and consistent. Imran Khan must be urgently admitted to Shifa International Hospital (Islamabad) for proper examination and treatment. His personal doctors have already provided the government with several acceptable specialist options. Any tests and treatment are only acceptable to our family if conducted in the physical presence and supervision of his personal doctor, Dr Asim Yusuf and Dr Nausherwan Burki representing the family. We had previously nominated Dr Uzma Khan to represent our family, but we were informed that none of Imran Khan’s sisters would be allowed to be present. Therefore, we have complete faith and trust in Dr Nausherwan Burki, who is like an elder brother to us, to represent our family.
It is extremely concerning and unacceptable that the government is resisting the presence of Imran Khan’s personal doctor and family representative during his examination and treatment. Without the physical presence of both his personal doctor and family representative, we categorically REJECT any claims made by the government regarding his examination, treatment, or medical condition.
A detailed report by the “Amicus Curiae” appointed by the Supreme Court of Pakistan on the health and prison conditions of arbitrarily detained former Prime Minister of Pakistan Imran Khan reveals disturbing details of serious human rights violations, inhumane treatment, psychological torture, and deliberate medical neglect, which has resulted in 85% vision loss in his right eye. Here are some highlights from the report:
A Govt Minister has tweeted that a medicial board is being set up for Imran khan. Secondly, we are hearing in news that Imran Khan is to be shifted to Al Shifa eye hospital in Rawalpindi.
Our demand has been clear from the beginning. Imran khan shall not be given any treatment WITHOUT the presence and approval of his personal doctors and family members.
We do NOT accept any medical board they set up and control!
We do NOT accept any reports or results they manufacture.
Our family is getting extremely worried as to why they are resisting the selection of specialists advised by Imran Khan’s personal doctors.
Why are they rejecting the supervision by Imran Khan’s personal doctors?
Why are they rejecting the presence of Imran Khan’s family members?
Why such fierce resistance?
Are they hiding something?