تحریک انصاف نے محبت اور بھائی چارے کا جو نقصان کیا ہے، وہ شاید سب سے بڑا نقصان ہے۔ وہ دوست، جن کے بارے میں سوچ کر بندہ مسکرا دیتا تھا، ان کی شکل دیکھنے کا دل نہیں کرتا۔ عزیز رشتہ داروں میں ایسی نفرت پیدا کر دی گئی ہے کہ پیار، محبت، اور رواداری ختم ہو کر رہ گئی ہے۔
تحریک انصاف کی نفرت کی سیاست نے خوشیوں کو ختم کر دیا ہے۔ یہ تقسیم اور نفرت کا کھیل ہماری قوم کے لیے زہر بن چکا ہے، اور یہ بات اب ہر دل میں اترتی جا رہی ہے کہ ہم نے اپنی خوشیوں کا سودا کر لیا ہے۔
تحریک انصاف کی سیاست نے ملک سے خوشی چھین لی ہے۔
منقول
آجکل امبانی خاندان کا بہت چرچا ہے لیکن ساتھ یہ بھی نوحہ گایا جا رہا ہے کہ پاکستان کے پاس امبانی ، برلا ،ٹاٹا جیسی کمپنیاں کیوں نہیں ہیں۔
لیکن کیا کیا جائے کہ نئی نسل کے لیئے جاننا ضروری ہے ۔۔۔۔۔کہ
1970 تک پاکستان میں تیس چالیس امبانی، ٹاٹا برلا سے بڑے ��ینیئس صنعتکار، بینکار، بزنس جینئس تھے۔ جنہوں نے ملک کی معیشت کو سنبھالا ہوا تھا۔
ملک کوریا جاپان سے بہت آگے تھا، مڈل ایسٹ کے ممالک کسی گنتی میں نہیں تھے۔ ان صنعتکاروں بینکاروں کو بائیس خاندان کا نام دے کر ٹارگٹ کیا گیا۔
ان میں سہگل گروپ نے کپڑے کی صنعت کو عروج دیا، داوود گروپ ہیوی وہیکل اور زرعی مشنری کے بادشاہ تھے۔
داوود ہرکولیس کے پاس ٹریکٹر کی پروڈکٹ تھی، ہارون خاندان چھوٹی مصنوعات، اصفہانی خاندان اور سلہٹ کے چائے کے باغات کے مالک تھے۔
ملک کی پہلی ائیرلائن قائم کی جو آج کی سب ائیر لائینوں سے بہتر تھی، حبیب گروپ بینکنگ کے کنگ تھے۔
ساٹھ کی دہائی ان کا حبیب پلازہ ایشیاء کی بلند ترین عمارت تھی۔
ایشیاء میں پہلا IBM بینکنگ سسٹم اس بلڈنگ کی نویں منزل پر نصب ہوا۔
۔ فینسی کپڑے کی صنعت نشاط گروپ کے پاس اور مختلف مصنوعات کے بانی تھے،
لاہور میں بیکو انڈسٹری یعنی بٹالہ انجینئرنگ سائیکل موٹرسائیکل اسمبل کرتے تھے۔
ان کی بیکو، ہرکولیس، سہراب، رستم سائیکل پورے ملک میں چلتی۔۔۔
میاں شریف کی اتفاق ٹیوب ویل اور تھریشر کے بانی تھے۔
سن چھیاسٹھ بیکو کے میاں لطیف اور اتفاق کے میاں شریف نے مغل پورہ ورکشاپ میں ٹینک سازی کی اجازت لی۔
لارنس پور وولن ملز کی سوٹنگ دنیا میں نمبر ون تھی جو کہ پوری صنعتی ریاست تھی۔
جن کے مالک مشینری بنگلہ دیش لے گئے۔
بھٹو صاحب نے ان 22 خاندانوں کے خلاف تحریک چلائی کہ ملک کی ساری دولت ان کے پاس ہے ان کے پیٹ سے نکالوں گا۔
۔ہم عوام ان کے خون کے پیاسے ہوا کرتے تھے۔ ہم نے ان محسن خاندانوں کے خلاف خونی تحریک چلائی۔
بھٹو صاحب خود بھی فیوڈل تھے اور فیوڈلز ��عنی بڑے زمین داروں نے پاور میں آکر سب صنعت کاروں کی املاک بلا معاوضہ قومی ملکیت میں لے لیں۔ جس کو نیشنلائیزیشن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
سب جینئس خاندان تباہ و برباد ہوئے۔
بیکو کے میاں لطیف جرمنی چلے گئے، کسمپرسی کی حالت میں فوت ہوئے۔
اتفاق کے میاں شریف ملک ��ھوڑ کر گلف سٹیل ملز کے نام سے مڈل ایسٹ میں فیکٹری لگا کر بیٹھ گئے۔
اصفہانی کنگال ہوگئے ۔
ان کے سلہٹ کے چائے کے باغات بنگلہ دیش لے گیا۔
ائیرلائن پی آئی اے بن کر تباہ ہوئی،
حبیب گروپ سے حبیب بینک چھین لیا گیا،
سہگل گروپ نے کوہ نور جیسی بزنس ایمپائرز پلاٹ بنا کر نیلام کر دی۔
کوہ نور پوٹھوہار کی ماں کہلاتی تھی تباہ ہوئی۔
رہے سہے جاگیرداروں کو اسمبلیوں میں لا کر بٹھا دیا ۔کاروبار بند کروا کر سیاست پہ لگا دیا
مشرقی پاکستان میں جنرل ایوب خان کے دور کے میمن سنگھ اور نرائن گنج بہت بڑے انڈسٹریل زون بنگلہ دیش کے کام آئے،
کراچی سائیٹ انڈسٹریل ایسٹیٹ جہاں گندھارا وا��ے ہینو ٹرک بناتے، شاہنواز لمیٹڈ، شیورلیٹ اور مرسیڈیز اسمبلی کرتے تھے، سب کچھ قومیا (نیشنلائیز) کرکے تباہ کر دیا گیا۔
ان خاندانوں میں سے اصفہانی کی بیٹی حسین حقانی کی اہلیہ امریکہ چلی گئی۔
عوام کو بے روزگار کیا فیوڈلز، وڈیرے چوہدری مخدوم لغاری جتوئی ٹوانے سب بڑے زمیندار اسمبلیوں میں ��ہنچ گئے اور ایلیکٹیبلز بن گئے۔
اور صنعتکاروں کو تباہ کرکے لوگوں کو ان وڈیروں کا اور ملک کو آئی ایم ایف کا غلام بنا دیاگیا ۔
اہل شعور اور خواندہ لوگوں کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
@Badass1ZQ1 یہ تو امریکہ ، کینیڈا آسٹریلیا آتا وہاں بھی بقول آپ کے شعدہ بازی ہوتی ہیں یہ عقیدت ہے اسکا جغرافیہ سے تعلق نہی ان کی خدمات تو دیکھئیے ڈرا ، مسلمانوں کے بہت سے فرقوں سے بہتر ہیں یہ قوم اور وجہ انکلا امام ہے ۔
محترم،
ہمیں اندازہ ہے کہ لاہور میں کھانا محبت بھی ہے، تفریح بھی، اور شاید آخری سہارا بھی۔
مگر کراچی والوں کو کم از کم یہ تو معلوم ہے کہ ذائقہ صرف شور، گھی اور بھرے ہوئے دسترخوان کا نام نہیں ہوتا۔
لاہور کھانے کو مذہب کہتا ہے، کراچی اسے تہذیب سمجھتا ہے۔
آپ خواب میں پائے دیکھتے ہیں، ہم نے حقیقت میں نسلوں کو دیگوں کے ساتھ بوڑھا ہوتے دیکھا ہے۔
آپ کے ہاں کھانا موڈ ہے، ہمارے ہاں وراثت ہے۔
آپ کے ہاں حلوہ پوری پر بحث ہوتی ہے، یہاں نہاری کی ایک پلیٹ کے پیچھے تین نسلوں کی ہجرت، محنت اور اصل recipe کھڑی ہوتی ہے۔
کراچی نے کھانے ایجاد نہیں کیے لیکن ان کا اصل معیار محفوظ رکھا ہے۔
بریانی اگر یہاں نہ آتی تو شاید آج بھی کئی شہروں میں زرد چاول کو بریانی سمجھا جا رہا ہوتا۔
نہاری اگر کراچی کے پرانے ہوٹلوں میں دم نہ لیتی تو شاید لوگ آج بھی آٹے والے شوربے کو نہاری کہہ کر خوش ہو رہے ہوتے۔
اور حلیم… وہ تو کراچی کے ہاتھوں میں آ کر عبادت بن گئی۔ اصل فرق شاید یہی ہے۔
لاہور کھانے سے عشق کرتا ہے، کراچی ذائقے کی عزت کرتا ہے۔
اور ویسے بھی عشق اکثر اندھا ہوتا ہے۔
کراچی میں ایک معمولی سے بن کباب والے کو بھی معلوم ہے کہ چٹنی کتنی ہونی چاہیے، پیاز کتنی باریک کٹنی چاہیے، اور کوئلے کی آنچ کتنی دھیمی رکھنی ہے۔
لاہور میں کھانا زندگی کا مقصد ہوگا، کراچی میں ذائقہ کردار کا حصہ ہے اور شاید اسی لیے پورا پاکستان لاہور جا کر سیر کرتا ہے مگر کھانا اب بھی کراچی آ کر کھاتا ہے۔
نواز شریف کے والد نے 1950 میں اتفاق فاؤنڈری لگائی وہ بہت محنتی انسان تھے اور ایک جینوئن صنعتکار، انہوںُ نے بہت بہت سے اتفاق فاونڈرئ بنائ : خان صاحب بتاتے ہوئے کہ کیسے شریف خاندان 1950 سے ایک کامیاب بزنس فیملی ہے
انصافیون کے لئے خاص 👇🏻