Saddened to learn about the loss of lives due to the devastating storm in KP.
My deepest condolences to the victims and prayers for the recovery of the injured.
خیبرپختونخوا میں تباہ کن طوفانِ باد و باراں کے باعث قیمتی جانوں کے ضیاع پر نہایت رنجید�� ہوں۔ میری دعائیں اور ہمدردیاں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں اور میں زخمیوں کی جلد اور مکمل شفایابی کیلئے دعا گو ہوں۔
رجیم چینج آپریشن نے کیسے ایک سال میں پاکستانی قوم کو اس سے کہیں زیادہ نقصان پہنچایا جتنا کبھی کسی دشمن نے پہنچایا ہو۔
اس سے بھی بڑھ کر ستم تو یہ ہے کہ اس ملک کے لوگوں کے خلاف ��س (سنگین) جرم کے ارتکاب پر کسی کا بھی محاسبہ نہیں کیا جا رہا۔
How in one year the regime change operation has done more damage to the people of Pakistan than any enemy could have ever caused.
What’s worse is that no one is being held accountable for this crime against the people of this country.
آج میں نے ایک عالمی ریکارڈ توڑا ہے، ظاہر ہے کہ کرکٹ کے میدان میں نہیں بلکہ 20 مقدمات میں عدالت میں پیش ہوکر، جوکہ اپنی نوعیّت کا ایک نیا ریکارڈ ہے۔ اس میں قتل اور دہشتگردی سے لیکر بغاوت تک کے مقدمات شامل ہیں۔
کمال کی بات تو یہ ہے کہ جب میں نیب کی حراست میں تھا تو مزید 9 فوجداری مقدمات مجھ پر تھوپ دیے گئے۔
قانون کی حکمرانی، جس کا میں (ہمیشہ سے قائل ہوں اور) احترام کرتا آیا ہوں، کے پیشِ نظر میری ہرممکن کوشش ہے کہ اپنے خلاف قائم 150 (جعلی) مقدمات میں سے کسی ایک کی بھی عدالتی پیشی چھوٹ نہ پائے۔
اس سطح کی انتقامی کارروائیوں سے امپورٹڈ حکومت کی ساکھ ہی پوری طرح خاک میں نہیں مل گئی بلکہ اب یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ہمارے خلاف اس سفاکیّت اور فسطائیت کا واحد مُحرِّک یہ ہے کہ مقتدر گروہ انتخابات میں تحریک انصاف کے ہاتھوں شکستِ فاش سے خوفزد�� ہے۔
اپنے مخالفین کو جبر و انتقام کا نشانہ بنانے کیلئے جس ڈھٹائی اور بےشرمی سے قانون پامال کیا جارہا ہے بدقستمی سے وہ خود ہمارے نظامِ عدل کیخلاف ایک بھیانک فردِ جرم ہے۔
آزاد جمہوری معاشروں میں تو شہریوں کے بنیادی حقوق کی یوں پامالی کا تصور تک ممکن نہیں۔
Former Governor Punjab Latif Khosa affirms and condemns the false allegation of murder being pinned on me.
He further clarifies that Advocate Abdul Razzaq Shar was murdered because of personal enmity.
Mian Aslam Iqbal, former senior minister Punjab writes the ordeal his family is facing at the hands of this fascist government. No one is spared, from humiliating his 80 year old mother to brothers, relatives or anyone these criminals can get their hands on.
Since the mainstream media has now been completely muzzled, through social media everyone must be made aware of the reign of terror unleashed on Pakistan's biggest party so that it can be kept out of the elections.
پنجاب کے سابق سینئر وزیر میاں اسلم اقبال نے اُس ابتلاء و آزمائش کی روداد قلمبند کی ہے جس سے ان کے اہلِ خانہ اس فسطائی حکومت کے ہاتھوں گزر رہے ہیں۔ ان کی 80 سالہ ضعیف ماں سے لیکر بھائیوں تک کسی کو بھی معاف نہیں کیا گیا اور ان کے اَعِزّہ و اَقارِب سمیت (ان سے نسبت رکھنے والے) جس کسی پر بھی یہ مجرم ہاتھ ڈال سکتے تھے، اس کی تذلیل کی گئی۔
چونکہ قومی میڈیا کا گلا پوری طرح گھونٹا جاچکا ہے چنانچہ سوشل میڈیا کے ذریعے (قوم کے) ہر فرد کو اس وحشت و سفاکیّت سے آگاہ کیا جائے جو انتخابی میدان سے باہر رکھنے کیلئے پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کیخلاف آزمائی جارہی ہے۔
I have never asked our workers to indulge in violence in my 27 years of politics. Therefore, the events of 9th may first took me by surprise and then it did not take long for me to discover that the whole charade from my violent arrest to the arson to the nazi era type crackdown, was pre planned
The video of this journalist confirms it all
This is why from day one I have called for an independent investigation of the incident
سپریم کورٹ کب تک پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت سے وابستہ ہرشخص کے بنیادی حقوق کی مکمل خلاف ورزی کی اجازت دیتی رہےگی؟
ہم (ملکی تاریخ کے) تاریک ترین دور میں زندہ ہیں۔ تحریک انصاف کیخلاف نازی جرمنی کے دور کی طرز پر (کسی ایک فرد پر کسی جرم کے ارتکاب کےالزام پر) پورے خاندان/برادری/اہلِ خانہ کو سزا دینے کی وحشیانہ رسم بطور ہتھیار استعمال کی جارہی ہے۔
وہ ممالک جن میں یہ ظالمانہ قانون نافذ کیا گیا ان میں سٹالن کے روس، شمالی کوریا اور ثقافتی انقلاب کے دوران چین جیسی مطلق العنان (Totalitarian)ریاستیں شامل ہیں۔
اپنی 27 سالہ سیاست کے دوران میں نے کبھی کسی بھی موڑ پر اپنے کارکنان کو تشدد کی تلقین نہیں کی۔ چنانچہ 9 مئی کے واقعات (کی تفصیلات معلوم ہونے پر) پر پہلے تو مجھے نہایت تعجب اور حیرانگی ہوئی اور پھر مجھے اس حقیقت تک پہنچنے میں کچھ زیادہ وقت نہیں لگا کہ میری پرتشدد گرفتاری سے جلاؤ گھیراؤ اور پھر نازیوں کے سے انداز میں (تحریک انصاف کیخلاف) کریک ڈاؤن تک کا پورا ڈرامہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت رچایا گیا۔
اس صحافی کی یہ ویڈیو اس سب کی مکمل تصدیق کرتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ میں نے روزِ اوّل سے اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
How long will the SC allow complete violation of fundamental rights of anyone linked to Pakistan's biggest political party?
We are now living in the dark ages.
Nazi Germany era law of kin punishment is being practiced against PTI.
In other countries where this barbaric law was imposed, was in totalitarian states like Stalins Russia, North Korea and China during the cultural revolution.
Strongly condemn Mian Azhar's abduction from his residence in Lahore. He is one of the most respected politicians of Punjab, 82 years of age and struggling with multiple health issues.
It just goes to show that this fascist regime is devoid of any sense of ethics or morality in its mission to crush PTI.
Such acts that violate the value system of our society especially the way we respect women & our elders, will further breed hatred and anger against this fascist govt.
میاں اظہر کے لاہور میں ان کی رہائشگاہ سے اغواء کی شدید مذمّت کرتا ہوں۔ ان کا شمار پنجاب کے نہایت محترم سیاستدانوں میں ہوتا ہے۔82 سال کی عمر میں وہ بیک وقت ضعف و علالت سے برسرِپیکار اور کئی قسم کے طبّی مسائل کا شکار ہیں۔
اس اقدام سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ فسطائی حکومت تحریک انصاف کو کچلنے کے اندھے شوق میں اخلاق و اَقدار کے احساس تک سے محروم ہوچکی ہے۔
ایسی حرکتوں، جن کی براہِ راست زد ہمارے معاشرتی اقدار (یعنی جس انداز میں ہم اپنی خواتین ��ور بزرگوں کا احترام کرتے ہیں) پر پڑتی ہے، سے عوام میں اس فسطائی حکومت کیخلاف (پہلے سے پائے جانے والے) غصےّ اور نفرت میں مزید شدّت آئے گی۔
پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ ماؤں، بہنوں ب��ٹیوں کو پہلےاغواء کیا گیا، پھر جیلوں میں بدسلوکی کا نشانہ بنانے اور نہایت غیرانسانی حالات میں رکھنے کے ساتھ انہیں شدید ذہنی اذیّت پہنچانےکا سلسلہ جارہی ہےحالانکہ ان میں سےکوئی بھی جلاؤ گھیراؤ میں ملوث نہیں۔
پرامن احتجاج کی پاداش میں ان ماؤں،بہنوں، بیٹیوں کی محض اس لئےتذلیل کی گئی کہ ڈرا دھمکا کے اور خوفزدہ کرکے انہیں آئندہ پرامن احتجاج کے اپنے بنیادی حق کےاستعمال سے باز رکھا جاسکے اور سیاست سے دور کیا جاسکے۔
ہمار�� ان تمام خواتین نے جس حوصلے اور وقار سے اس (بہیمانہ، انسانیت سوز اور مجرمانہ سلوک) کا سامنا کیا اس پر مجھے فخر ہے۔