6/6
نتیجہ: مغربی پاکستان میں قتل عام بہت بڑے اور فوری تھے، جبکہ مشرقی پاکستان میں 1947 میں چھوٹے پیمانے پر۔ بعد میں (1950) مشرقی پاکستان میں ہندوؤں کے خلاف فسادات بڑھے جس سے مزید ہجرت ہوئی۔
1/6
1947 کی ہجرت کے دوران مغربی پاکستان (خاص طور پر مغربی پنجاب) میں بڑے پیمانے پر قتل عام ہوئے۔ لاکھوں لوگ مارے گئے۔ دونوں طرف (مسلمان اور ہندو/سکھ) نے ایک دوسرے کے خلاف شدید تشدد کیا۔
5/6
مشرقی بنگال میں کم کیوں؟
• 1947 ��ے وقت منظم ملیشیا کم تھیں۔
• انتظامی کنٹرول نسبتاً بہتر رہا۔
• تشدد کی چوٹی 1946 میں گزر چکی تھی۔
• نقل مکانی زیادہ بتدریج ہوئی، مکمل نسلی صفائی نہیں ہوئی۔
4/6
کیوں پنجاب میں زیادہ؟
• آبادی زیادہ ملی جلی تھی۔
• منظم مسلح گروہ (سکھ جتھے، مسلم لیگ گارڈز) فعال تھے۔
• حکومت کا مکمل خاتمہ ہو گیا۔
• ریڈکلف لائن نے شدید عدم تحفظ پیدا کیا۔
3/6
مقابلہ: پنجاب میں اندازاً 5 لاکھ سے 10 لاکھ اموات ہوئی۔ مشرقی بنگال میں 1947 کے فوری بعد ہزاروں کی تعداد میں اموات ہوئیں، جو پنجاب سے کہیں کم تھیں۔ بنگال کی بڑی تشدد 1946 میں پہلے ہو چکی تھی (کلکتہ اور نوآکھالی)۔
2/6
مشرقی پاکستان (مشرقی بنگال) میں بھی تشدد ہوا، لیکن پیمانہ بہت چھوٹا تھا۔ 1947 میں فوری تقسیم کے وقت یہاں بڑے پیمانے کے قتل عام نہیں ہوئے جیسے پنجاب میں۔ کچھ فسادات ہوئے مگر محدود رہے۔
1/7
1947 کی تقسیم کے بعد بہت سے مسلمان پاکستان ہجرت کرنے کے بجائے بھارت میں رہے۔ وجوہات عملی، نظریاتی، جغرافیائی، معاشی اور ذاتی تھیں۔ سب مسلمانوں کی مکمل منتقلی نہیں ہوئی۔
6/7
سیکولر بھارت پر اعتماد: کانگریس کے حامی مسلمان بھارت کے آئینی وعدوں پر بھروسہ کرتے تھے کہ مذہب کی بنیاد پر امتیاز نہیں ہوگا۔ وہ متنوع معاشرے میں رہنا پسند کرتے تھے۔
5/7
جائیداد، کاروبار اور خاندانی تعلقات: بہت سے لوگوں کے پاس گھر، زمین اور کاروبار تھے۔ ہجرت کا مطلب اثاثے کھونا اور خاندان سے الگ ہونا تھا۔ کچھ لوگ پاکستان جا کر واپس بھی آئے۔
4/7
نظریاتی مخالفت: بہت سے مسلمان لیگوں اور رہنماؤں نے پاکستان کی مخالفت کی۔ مولانا ابوالکلام آزاد، آزاد مسلم کانفرنس، جمیعت علمائے ہند اور خان عبدالغفار خان نے متحدہ اور سیکولر بھارت کی حمایت کی۔
3/7
جغرافیائی وجہ: پاکستان مسلم اکثریتی علاقوں سے بنا۔ یوپی، بہار، دہلی اور جنوبی ریاستوں کے مسلمان ان علاقوں میں تھے جو بھارت میں رہے۔ وہاں سے ہجرت کا مطلب آبائی گھر چھوڑنا تھا۔
2/7
تقریباً 60 سے 80 لاکھ مسلمان پاکستان گئے، لیکن 1951 کی مردم شماری کے مطابق بھارت میں تقریباً 3.54 کروڑ مسلمان رہ گئے (��قریباً 9.8 فیصد آبادی)۔ زیادہ تر پنجاب اور بنگال میں نقل مکانی ہوئ
عبدالعزیز ابن سعود (ابن سعود)، جدید سعودی عرب کے بانی۔
یہ بیان برطانوی اکاؤنٹس سے آتا ہے، خاص طور پر 1922 کی عُقَیر کانفرنس کے ارد گرد (جس نے نجد، عراق اور کویت کی سرحدیں مقرر کیں)۔ ایچ آر پی ڈکسن کی کتاب Kuwait and Her Neighbours (1956) کے مطابق، جب سر پرسی کاکس نے ان کے دعووں
یہ «میں تمہارا غلام بن جاؤں گا» کا لفظی اقتباس نہیں، بلکہ معاصر برطانوی رپورٹس ہیں جو انتہائی فرمانبردار زبان (جاگیر دار، کاکس/برطانیہ کو «با�� اور ماں» کہنا) کی ہیں۔
عُقَیر کا یہ واقعہ اس قسم کی جذباتی ماتحتی کا بہترین دستاویزی ثبوت ہے۔ اس دور کے کسی دوسرے بڑے عرب رہنما
بھی حوالے کر دیں گے۔
پہلی جنگ عظیم کے دوران کیپٹن ولیم شیکسپئیر کی رپورٹ میں بھی انہیں «برطانوی جاگیر دار» بننے کی پیشکش کرتے بیان کیا گیا۔
یہ «میں تمہارا غلام بن جاؤں گا» کا لفظی اقتباس نہیں، بلکہ معاصر برطانوی رپورٹس ہیں جو انتہائی فرمانبردار زبان (جاگیر دار، کاکس/برطانیہ کو
کے دعووں کے خلاف سرحدیں کھینچیں تو ابن سعود بہت جذباتی ہو گئے۔
وہ تقریباً ٹوٹ پڑے، رونے لگے اور کاکس سے کہا:
«آپ میرے باپ ہیں اور میری ماں ہیں۔ آپ ہی وہ ہیں جنہوں نے مجھے بنایا اور مجھے کچھ نہیں سے اٹھایا۔»
اور مزید کہا کہ اگر کاکس حکم دیں تو وہ اپنے بادشاہی کا آدھا یا پورا حصہ
🇵🇸 5 Palestinians, including 2 children, were killed Monday in fresh Israeli strikes across Gaza, despite the ceasefire, Palestinian news outlets and journalists reported. Many others, including several children, were hospitalized with serious injuries.
➤ Two children, Walid Mohammed Shakshak, 13, and Yusuf Salim Abu Ghali, 14, were killed by an Israeli drone in Qizan Abu Rashwan, south of Khan Younis.
➤ Sheikh Mohammed Sha’sha’a, who directed Gaza’s Al-Shafi Quran memorization project, was killed when an Israeli drone struck a displacement tent near Al-Israa Mosque in Gaza City’s Sheikh Radwan neighborhood. Three others were wounded.
➤ Abdullah Munir Harz was killed in an Israeli strike in Gaza City’s Daraj neighborhood, near Al-Tabi’in School.
➤ Tamer Mohammed al-Sabbagh, 33, was killed and 6 others wounded in an Israeli strike on al-Jalaa Street in Gaza City.
Israeli forces also fired on homes and displacement tents and shelled areas of northern and southern Gaza.
🚨 Reem Asaad Awad, a 33-year-old mother, was killed when an Israeli airstrike hit her family's apartment in Gaza City's Rimal neighborhood around 4am Wednesday, setting the building on fire. Videos circulating online show her young daughter being pulled out of the burning apartment.
Footage from inside the apartment shows the girl sitting alone on a bed as smoke fills the room and fire burns the wall above her. In another shot she presses her hand to her mouth, eyes wide with terror.
Israel said it was targeting a Hamas member but has provided no evidence.