چھبیس ہزار بل کراے کا مکان۔۔۔بیچارے سے بولا نہیں جا رہا۔۔۔اتنا ظلم نا کرو کہ پھر بات ہاتھ سے نکل جائے۔۔۔غریب کو ریلیف دینے پہ مجبوریاں سنانے والے بے شرم وزیر مشیر خود سالانہ اربوں کی بجلی مفت استعمال کرتے ہ��ں۔۔۔ڈُب کے مرجاو لعنتیو ماردیا غریب کو💔😭
#StopElectricityExtortion
ڈیفنس فیز 6، اتحاد کمرشل پر جو کچھ ہوا وہ ایک حادثہ نہیں، بلکہ کراچی کے طاقتور طبقے کی اخلاقی اور سماجی پستی کا عکاس ہے۔
ایک نجی اشتہاری کمپنی Bionic Films کے مبینہ مالک سلمان فاروقی، جن کے پاس نہ کوئی برداشت تھی، نہ اخلاق، اپنی مرسیڈیز سے ایک موٹر بائیک والے کو ٹکر مار بیٹھے۔
لیکن حادثے سے بڑی ضرب تو اُس غریب لڑکے کی عزتِ نفس پر لگی، جسے صرف اس لیے سرِ عام مارا پیٹا گیا کیونکہ سامنے والا "سی ای او" تھا، اور خود کو "سرکاری افسر" ظاہر کر رہا تھا۔
بات ٹکر کی نہیں، طاقت کے نشے کی ہے۔
معافی مانگتی بہنیں ہاتھ جوڑ رہی تھیں، لیکن "شہر کے شرفاء" کو رحم کہاں آتا ہے؟
یہ وہی شہر ہے جہاں عزت بھی طبقاتی بن چکی ہے — جس کے پاس گاڑی ہے، سرکاری عہدہ ہے، میڈیا پاور ہے، وہ چاہے تو مارے، دھمکائے، عزت پامال کرے اور پھر کیمرے بند کر کے قانون سے بھی بچ جائے۔
سوال یہ ہے:
سلمان فاروقی جیسے لوگ کس کی چھتری تلے خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں؟
کب تک کراچی میں طاقتور کا قانون چلے گا؟
کیا اس شہر میں غریب کی کوئی عزت نہیں؟ کیا بائیک پر بیٹھا ہر شخص بےوقوف ہے، جس کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے؟
اگر آج اس نوجوان کے پاس بھی اپنی حفاظت کے لیے لائسنس یافتہ اسلحہ ہوتا، تو شاید وہ اور اس کی بہنیں یوں سڑک پر بے بس نہ ہوتیں۔
سوال صرف سلمان فاروقی پر نہیں، نظام پر ہے۔
یہ نظام کب بدلے گا؟
کیا میڈیا انڈسٹری کے "مائی باپ" قانون سے بڑے ہیں؟
یا پھر ہم سب نے اس ظلم کے سامنے خاموش رہنے کا حلف اٹھا رکھا ہے؟
@@KarachiPolice_@SouthDig
There is no moral difference between putting people in gas chambers and burning people in school in Gaza.
A holocaust is happening right before our eyes and the world is silent.