"دعائیں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں ان کا اندازِ قبولیت انسان کی اپنی سمجھ سے مختلف ہوتا ہے، لیکن وقت آنے پر وہ ایسے پوری ہوتی ہیں کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے۔" ❤️🌺
ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی
اک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی
جو چاہو ستم کر لو اور بھی گل کھیلو
پر ہم سے قسم کے لو کی ہو جو شکایت بھی
شاہوں کے تکبر سے بھی دب کر نہ رہا میں
آخر کس بارگاہِ خاص کا گدا ہوں میں ❤️
نہ ہم مایوس تھے اور نہ ہیں بلکہ ہم پہلے سے بڑھ کی آئیں گے 🌺❤️
امیرِ محترم جبری گمشدگی کیس کی سماعت
آج پولیس کی جانب سے رپورٹس جمع کروائی گئیں، جن میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ رضوی برادران پولیس کی تحویل میں نہیں ہیں۔
بعد ازاں عدالت نے ایف آئی اے اور وزارتِ داخلہ کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے📌27 اکتوبر کو رپورٹس طلب کر لیں۔
امیرِ محترم جبری گمشدگی کیس کی سماعت
آج پولیس کی جانب سے رپورٹس جمع کروائی گئیں، جن میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ رضوی برادران پولیس کی تحویل میں نہیں ہیں۔
بعد ازاں عدالت نے ایف آئی اے اور وزارتِ داخلہ کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے📌27 اکتوبر کو رپورٹس طلب کر لیں۔
🚨 کیس اپڈیٹ | امیرِ محترم کی جبری گمشدگی کیس‼️
امیرِ محترم کی جبری گمشدگی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت جسٹس جواد ظفر کی عدالت میں ہوئی۔
تاہم، سماعت کے دوران کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہو سکی، اور درخواست پر مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی۔
🚨 کیس اپڈیٹ | امیرِ محترم کی جبری گمشدگی کیس‼️
امیرِ محترم کی جبری گمشدگی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت جسٹس جواد ظفر کی عدالت میں ہوئی۔
تاہم، سماعت کے دوران کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہو سکی، اور درخواست پر مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی۔
وہ آسماں کا راگ تھا وہ دعوت بلال تھی
میرے لیے تو دعوت وصال و جمال تھی
دھو لیا نہا کہ میں نے وضو بھی بنا لیا
نسبت حضور میں نے عود بھی لگا لیا
گھر سے ہم نکل پڑے صحابی رسول کے
جارہے تھے سبھی سمت مسجد رسول کے
وہ انتہائے عشق تھی یا نور بے حساب تھا
میں قید و بند وقت سے آزاد اس صدی میں تھا
وہ دور مصطفیٰ ﷺ تھا میں مدینہ نبیﷺ میں تھا
صحابی جاتے ہیں آپ کے پاس اور عرض کرتے ہیں کہ
آنے والے دور کا ہے امتی گنہگار ہند سے یہ ہے حضور ہے مگر سیاہ کار
1/5
فضا بھی خوش نصیب تھی
زمیں بھی خوش نصیب تھی
نیا نیا کھلا کھلا سا نیلا آسمان تھا
پرانی طرز پہ بنے نئے نئے مکان تھے
کئی گھروں میں اونٹ تھے کئی گھروں میں بکریاں
پک رہا تھا کچھ جہاں جل رہی تھیں لکڑیاں
اتنے میں اذاں ہوئی تو رونگٹے کھڑے ہوئے
دل کہ جیسے کھل گئے ہوں تالے سب پڑے ہوئے
پھر چشمِ فلک نے دیکھا کہ ارضِ مقدس کی خاطر سب کچھ وار دینے والے ہمارے شہزادگان آج بھی جبری گمشدگی کا شکار ہیں مگر اپنے نظریے سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے۔
جوانی کی دہلیز پر وقت کے یزید کو للکارنے والے بابا جان کے بعد عزم و ہمت کی یہی داستان اب ان کے لختِ جگر دہرا رہے ہیں۔
کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔
مگر تاریخ گواہ ہے...ظلم کی رات کتنی ہی لمبی اور اندھیری کیوں نہ ہو، سچ کی ایک کرن اندھیرے کے ہر قلعے کو گرا دیتی ہے۔ فیصلہ آپ کا ہے کہ آپ تاریخ کے اوراق میں ایک بیدار کردار بننا چاہتے ہیں یا محض تماشائی؟ 💔⚖️
٢/٢
ظلم اب صرف گولی یا بم کی آواز کا محتاج نہیں رہا؛ سب سے بڑا ظلم تو اس وقت خاموشی ہے۔ جو ظالم کی تائید کرتی ہے اور مظلوم کی چیخوں پر آنکھیں بند کر لیتی ہے۔
آج کل انصاف کے ترازو بھی مصلحتوں کے وزن سے جھک چکے ہیں، جہاں طاقتور کا جھوٹ سچ بن جاتا ہے اور کمزور کی سچائی کو ثبوت
١/٢👇