اس لائن میں تو خود خان صاحب بھی کھڑے ہوچکے ہیں پھر چاہے جان بوجھ کر یا انجانے میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی خدمات حاصل کرنا تو ہر سیاست دان نے اپنے لیئے باعث فخر جانا ہے سو محض کسی ایک خاک و خمیر کا ذکر اس ضمن میں نا انصافی ہے۔
@AltafHussain_90 یہ تب تک ہوتا رہے گا جب تک پاکستان میں بسنے والا ہجوم پاکستانی بن کر سوچنے اور جدوجہد کرنے پر اتفاق نہیں کر��یتا اور چونکہ گورے انگریزوں کا طرز حکومت بھی تقسیم کرو اور حکومت کرو ہی تھا لہٰذا ٹکڑوں میں محض مار کھانے کے لیئے ہی تیار رہنا چاہیئے۔
ظالموں کا ظلم طاقتوروں کی خاموشی سے جنم لیتا ہے اور پھر معاشرے میں تباہی پھیر دیتا ہے بلکل ویسی ہی تباہی جیسی آج پاکستان بھر میں دکھتی ہے تاہم یہ درس کربلا ہے کہ معاشرے میں سدھار محض طاقت کا محتاج نہیں سو اب ہر عام آدمی کو بھی سمجھنا ہوگا کہ کامیابی تمہاری مخلص محنت سے مشروط ہے۔
معاہدہ عبوری ہی صحیح لیکن اگر ایران امریکہ کو اک ایسے فریم ورک پر بات کرنے کے لیئے آمادہ کرچکا ہے جس میں ایرانی معیشت کو اہمیت دی جارہی ہے تو اس میں کوئ شبہ نہیں کہ یہ معاہدہ ایران کی اک بڑی جیت ہے۔
تاہم دیکھنا یہ ہے اس بار ٹرمپ صاحب ایران کو "تجارت کرو" کہتے ہیں یا نہیں۔۔۔!
میں عمران خان، اُن کی فیملی اور چاہنے والوں سے معافی مانگتا ہوں۔
آپ نے دو سال میری فیملی کو کیا کچھ نہیں کہا، میں نے برداشت کیا۔ آپ نے ان فالو اور بلاک کرنے کی مہم چلائی، کوئی فرق نہیں پڑا۔ لیکن آج میں خود اپنی مرضی سے، اپنی انا کی قربانی دے رہا ہوں۔ آئیں پاکستان کا سوچتے ہیں۔
اک ایسا ملک جس کی آبادی میں سب سے بڑی تعداد 18 سے 30 سال کے افراد کی ہو، جنکے فیصلے انکے مستقبل سے تعلق رکھتے ہوں، انہیں ایسی ترامیم کے ذریعے انکے جائز حق سے محروم کردینا سراسر ظلم ہے۔۔۔
مسئلہ یہ ہے کہ آپ اک نیا ادارہ بنانے کی باتیں کررہے ہیں جبکہ عوامی سطح پر دو ادارے یعنی پارلیمنٹ اور جوڈیشری پہلے ہی فیل ہوچکے ہیں اور وجہ صرف ایک کہ عوامی سطح پر فیورٹسم کو سپورٹ کیا جاتا ہے۔
سو۔۔ محترم اگر واقعی کچھ کرنا ہے تو پہلے عام آدمی کو آزادی کا صحیح مطلب سمجھائیں۔
دنیا بھر میں ایسی پالیسیز کا بننا جو تباہی کا باعث ہوں عام ہوچکا ہے جبکہ مسلم دنیا میں ایسی پالیسیز کو اپنانا بتاتا ہے کہ اس دور کی تباہی اب ذیادہ دور نہیں۔
عام آدمی ایک مرتبہ پھر بھوک، افلاس اور غربت دیکھے گا جبکہ طاقتور اب نئے سرے سے دنیا چلانے کا پلان سامنے لائینگے۔۔۔
مذاکرات کی ناکامی دنیا کو اس قدر شدید معاشی بحران کی جانب دھکیلنے جارہی ہے کہ وہ ممالک جو اب تک اس جنگ سے معاشی فوائد حاصل کررہے تھے اب وہ بھی مہنگائ کا طوفان دیکھینگے۔
سو یہ تو طے ہوگیا ہے کہ اب جنگ ناگزیر ہے تاہم یہ طے ہونا ابھی باقی ہے کہ اس سب میں پاکستان کس جانب کھڑا ہوگا۔۔۔
پاکستان میں ریاست مخالف بیانیے کو کسی ایک شخص یا جماعت سے جوڑنے والے خود کو کبھی غیر جانبدار ثابت نہیں کرسکتے کیونکہ پاکستانی تاریخ میں ریاست مخالف بیانیہ تقریباً ہر جماعت نے اپنایا یہ اور بات کے ریاست مخالف بیانیہ اپنانے کے بعد ان جماعتوں نے اپنے نظریات سے لاتعلقی اختیار کر لی۔
پاکستان میں ممکنہ لاک ڈائون کو خاموش ماک ڈرل سمجھا جاسکتا ہے جو کے ایک بڑے طوفان کا پیش خیمہ بھی ہوسکتا ہے تاہم اس ضم�� میں ملکی معیشت کا مکمل بوجھ عوام کے کاندھوں پر ڈال دینا یقیناً ظلم ہے حالانکہ حکومتی اداروں کو ڈیجیٹلائز کرکے جعلی و سفارشی ایمپلائمنٹ کا بوجھ کم کیا جاسکتا تھا۔
یورپ کا خود کو مشرق وسطیٰ کی جنگ سے دور رکھنے کا فیصلہ گو کہ احسن فیصلہ ہے تاہم یہی فیصلہ مستقبل قریب میں یورپ کی تباہی اور بربادی کی وجہ بھی بن سکتا ہے کیونکہ بہرحال امریکی بغل بچے اسرائیل کے لیئے یورپ کا یہ فیصلہ اسرائیلی مفادات کے خلاف تصور کیا جائے گا۔
@JUI_NW اگر ایرانی حملے گلف ممالک کی عوام پر ہیں تو یقیناً یہ فتنہ ہے اور اگر ایران کی خواہ�� ہے کہ اس خطے میں اب امریکی اڈوں کی ضرورت نہیں کیونکہ پاکستان اب امریکہ بدل کے طور پر موجود ہے تو پھر اس میں تو اک دوسرے کا ساتھ دینا بنتا ہے نا کہ یوں شک ڈال کر آپس میں لڑانا۔۔۔
گلف ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر ایرانی حملوں کو جو تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے گو کہ اسرائیل پر متواتر حملوں نے اسکا اثر زائل کیا ہے تاہم پاکستان جیسے ملک میں موجود عوامی ہجوم پر کسی بیانیے کو مسلط کرنا ہرگ�� مشکل نہیں البتہ اسکے بعد کے حالات کو سنبھالنا کہیں ذیادہ مشکل ہوگا۔
اس بیانیے کے بعد وہ تمام مسلم ممالک جو ٹرمپ کو ابو مانتے ہیں انہیں اپنی غیرت کا گلا گھونٹ کر اپنے ابو کا انتقام لینے کے لیئے اٹھ کھڑے ہونے میں کوئ آر نہیں ہوگی۔
الغرض اب اس جنگ کو ذاتی انتقام کی بھینٹ چڑھا کر کفر اور اسلام کی جنگ کا ٹیگ لگنے سے بچایا جائے گا۔
امریکی و اسرائیلی خواہش پر ایران گلف وار تو خیر سے ممکن نظر نہیں آتی کیونکہ گلف جان چکا ہے کہ اب امریکی ٹیکنالوجی چائنیز ٹیکنالوجی کے آگے پھیکی پڑنے لگی ہے تاہم اس جنگ کو مذید طول دینے کے لیئے نیٹو افواج اور انکے اسلحے کا سہارا لینا یقیناً تیسری عالمی جنگ کی ابتداء ہوسکتا ہے۔
امریکہ اگر دنیا کو یہ باور کرانے لگا ہے کہ اسکے پاس بہت ہتھیار ہیں اور وہ طویل جنگ لڑسکتا ہے تو ان عقل بندوں کے لیئے اشارہ کافی ہے کہ اب اس جنگ کو جتنا طویل کیا جاسکتا ہے کیا جائے کیونکہ اس جنگ کی طوالت ہی امریکی اجارہ داری کا خاتمہ کرسکتی ہے۔