نیلسن میڈیلا کی ایک بڑی famous saying ہے غربت انصاف ختم کرتا ہے۔ انصاف خوشحالی لے کے آتا ہے۔ جب تک عدلیہ سٹینڈ نہیں لے گی rule of law کے لیے ملک کا کوئی فیوچر نہیں ہے۔ عمران خان
#مزاحمت_ہوگی_تو_رہائی_ہوگی
It’s a great honour for me to meet Sheikh Abdul Wahhab bin Zain Al-Abidin Al-Shaibi “The current holder of the keys of the Kaaba” He is so kind that he spared few hours for me and some other friends. He has a charismatic personality and great knowledge of Islamic history.
Chairman Pakistan Tehreek-e-Insaf Imran Khan's Conversation with Lawyers, Workers, and Media in Adiala Jail - June 5, 2025
“Human societies are built upon two fundamental pillars: justice and moral authority. In contrast, the law of the jungle is based solely on brute force, where the powerful operate above the law. When power supersedes justice in a human society, that society inevitably collapses.
I often quote Maulana Rumi who said: ‘When God has given you wings, why do you crawl on the ground like ants?’
Today in Pakistan, justice and democracy have been ruthlessly trampled and law of the jungle prevails. Independent judges have been sidelined, while obedient, state-appointed judges have been pushed forward. The weak and vulnerable now have no recourse, no avenue for redress.
It is not nuclear weapons that destroy nations; it is the collapse of moral values that leads to national destruction. What we are witnessing is a shameless and systematic assault on morality and democracy.
The inhumane treatment of my wife, inflicted in a bid to break me, is an unprecedented act of depravity in Pakistan’s history. Wives of Sheikh Mujib, Zulfikar Ali Bhutto, or Nawaz Sharif were never subjected to political vengeance, but my wife, Bushra Bibi, has been held in complete isolation for 14 months under deplorable conditions—solely to punish me. She has been unjustly imprisoned under the baseless Al-Qadir case, in which she is falsely accused of abetment, a charge the prosecution never even argued in court.
After his removal from office, the so-called 'King of the Jungle' sent a message to Bushra Bibi through Zulfi Bukhari, saying: ‘Aapa (Sister), I would like to meet you.’ She flatly rejected the request, stating clearly that she had no involvement in politics or governance and therefore had no reason to meet. That dignified refusal is what triggered the vindictive wrath of Asim Munir, who is now enacting his personal vendetta through a Colonel illegally posted at Adiala Jail, someone who holds court orders in utter contempt. Asim Munir has made this personal now. On his explicit instructions, scheduled weekly meetings between me and my wife have been denied for the past four weeks. Even the most basic human rights afforded to prisoners have been suspended without cause.
Pakistan Tehreek-e-Insaf remains the only true federal political party of this country. We are the force that binds the nation. As the largest democratic force, we are committed to uniting the country under the supremacy of the Constitution, rule of law, judicial independence, freedom of expression, and the protection of fundamental human rights. This nation has paid a heavy price for labeling political opponents as ‘traitors.’ The branding of Sheikh Mujib and Akbar Bugti as traitors inflicted irreversible harm. Today, the same narrative is being irresponsibly used against political figures like Mahrang Baloch and others. These tactics must end. Accusations of treason serve only to fracture the nation.
Media has been silenced through the draconian PECA law, and through coercion and bribery in the form of advertisements. After the unlawful 26th constitutional amendment, the 27th amendment is now being introduced with the same aim: to suppress every voice that dares to speak out against ‘His Majesty, the King’. Those who submit will have their cases wiped clean. Those who resist will languish in prison. Independent journalists have been abducted, silenced, or exiled. Their families have been harassed to the point of despair. This is one of the darkest chapters in Pakistan’s journalistic history.
The morally bankrupt and shameless Chief Election Commissioner Sikandar Sultan Raja has played the role of chief facilitator in establishing this monarchy.
1/2
“انسانی معاشرے دو چیزوں پر چلتے ہیں انصاف اور اخلاقی قوت پر۔ جانوروں کا معاشرہ طاقت کی حکمرانی پر چلتا ہے۔ جس میں طاقتور قانون سے بالاتر ہوتا ہے جبکہ انسانوں کے معاشرے میں جب طاقت کے زور پر حکمرانی کی جاتی ہے تو وہ معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے۔
اس حوالے سے میں تواتر سے مولانا رومی کے قول کا حوالہ دیتا ہوں: “جب اللہ نے تمہیں پر دیے ہیں تو چیونٹیوں کی طرح زمین پر رینگ کیوں رہے ہو”-
آج پاکستان میں جنگل کا قانون ہے جس نے انصاف اور جمہوریت کو نیست و نابود کر دیا ہے۔ اس ملک کے آزاد ججز کو پیچھے کر دیا گیا ہے اور سرکاری ججز کو آگے کر دیا گیا ہے۔ آج پاکستان میں کمزور کے پاس کہیں بھی جانے کا راستہ نہیں ہے۔
ایٹم بم سے قومیں تباہ نہیں ہوتیں بلکہ اخلاقیات کی گراوٹ قوموں کی تباہی کا باعث بنتی ہے۔ یہ انتہائی بےشرمی سے اخلاقیات اور جمہوریت کو تباہ کر رہے ہیں۔
مجھے زیر کرنے کیلئے جو ناروا سلوک میری اہلیہ کے ساتھ روا رکھا گیا ہے وہ پاکستان کی تاریخ میں گراوٹ کی اپنی مثال ہے۔ انتقام کے طور پر شیخ مجیب، ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف کی بیگمات کو بھی کبھی جیل کی کال کوٹھڑی میں نہیں دھکیلا گیا جیسے مجھ سے انتقام لینے کیلئے میری اہلیہ کیساتھ کیا گیا۔ بشریٰ بی بی کو 14 ماہ سے قید تنہائی میں انتہائی برے حالات میں رکھنے کے پیچھے صرف مجھے سزا دینا مقصود ہے۔ القادر جیسے بے بنیاد کیس میں سزا سنا کے بشریٰ بی بی کو ناحق جیل میں رکھا ہوا ہے جس میں ان پر اعانت کا الزام لگایا گیا ہے جبکہ القادر کیس ٹرائل میں پراسیکیوٹرز نے اعانت کا کبھی دعویٰ ہی نہیں کیا-
جنگل کے بادشاہ نے عہدے سے برطرفی کے بعد زلفی بخاری کے ذریعے بشریٰ بی بی کو پیغام پہنچایا کہ “آپا میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں”۔ مگر بشریٰ بی بی نے صاف انکار کر دیا کہ میرا سیاسی اور حکومتی معاملات سے کوئی تعلق نہیں لہذا میں ملاقات نہیں کرونگی۔ جس کا عاصم منیر یہاں اڈیالہ جیل میں تعینات کرنل کے ذریعے انتقام لے رہا ہے۔ غیر قانونی طور پر تعینات اس کرنل کے نزدیک عدالتی احکامات کی قطعاً کوئی حیثیت نہیں۔ عاصم منیر اب ذاتیات پر اتر آیا ہے، اسی کی ایماء پر میری اور بشریٰ بی بی کی چار ہفتوں سے شیڈول ملاقات بھی نہیں کروا��ی جارہی اور قیدیوں کو میسر دیگر بنیادی انسانی حقوق بھی مکمل معطل ہیں۔
تحریک انصاف واحد وفاقی سیاسی جماعت ہے۔ ہم ملک کو جوڑنے والے ہیں، ہم بحیثیت ملک کی سب سے بڑی وفاقی سیاسی قوت کے آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی، آزادی اظہار رائے، اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے سب کو ساتھ لے کر چلیں گے-
اس ملک کو غداری کے الزامات سے بہت نقصان اٹھانا پڑا- ماضی میں شیخ مجیب اور اکبر بگٹی کو غدار قرار دے کر ملک کا بہت نقصان کیا گیا۔ ماہ رنگ بلوچ اور ہم سب سیاسی لوگ ہیں، غداری کے لیبل لگانے سے ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
پیکا قانون کے ذریعے زبردستی اور اشتہارات کی ذریعے رشوت دے کر میڈیا کا منہ بند کر دیا گیا ہے۔ ناجائز 26ویں آئینی ترمیم کے بعد اب 27ویں آئینی ترمیم اسی مقصد کیلیے لائی جارہی ہے کہ “بادشاہ سلامت” کے سامنے کوئی آواز اٹھانے کی جرآت نہ کرے۔ جو بھی بادشاہ کے سامنے جھکے گا اسکے سارے کیسز معاف کر دیے جائیں گے اور جو بھی بادشاہ کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرے گا اسکا مقدر جیل کی کال کوٹھڑی ہوگی۔ پاکستان میں جو بھی آزاد صحافی تھا بزور جبر یا تو اسے ملک بدری پر مجبور کر دیا گیا، چپ کرا دیا گیا یا اسے اٹھا لیا گیا۔ آزاد صحافیوں کیلئے جیسے زمین تنگ کر دی گئی انکی فیملیز کو جیسے ہراساں کیا گیا ملکی تاریخ میں اسکی نظیر ملنا بھی مشکل ہے۔
بے ضمیر، بے شرم چیف الیکشن کمشنر اسکندر سلطان راجہ نے بادشاہ سلامت کی بادشاہی کے قیام کیلئے بھرپور سہولت کاری کی۔
مفرور سزایافتہ نواز شریف، شہباز شریف اور آصف زرداری کے جعلی اکاؤنٹس سمیت کرپشن کے تمام کیسز معاف کر دئیے گئے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد، شاہ محمود قریشی اور میرے دیگر پارٹی لیڈرز کا ایک ہی جرم ہے کہ وہ تحریکِ انصاف کا ساتھ نہیں چھوڑ رہے۔ اگر آج وہ پارٹی سے کنارہ کشی اختیار کرلیں یا مطلوبہ بیان دے دیں تو آج ہی انہیں ناجائز قید سے رہا کر دیا جائے گا۔
آج تک قوم کسی ناانصافی کو نہیں بھولی۔ جسٹس منیر کا ناجائز فی��لہ بھی قوم کی یادداشت میں تازہ ہے اور یہ قوم کبھی بھی قاضی فائز عیسیٰ کے انصاف کے منصب پر بدترین کردار کو فراموش نہیں کرے گی۔ قوم سب ججز کو دیکھ رہی ہے کہ کون تاریخ کی درست سمت میں آئین و قانون کے ساتھ کھڑا ہے اور کون جسٹس منیر اور قاضی فائز عیسیٰ ک�� طرح بادشاہ سلامت کے حکم کی بجا آوری میں قوم کے حقوق غصب کرنے کے درپے ہے۔
1/2
چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام:
”اس ملک میں جنگل کا قانون نافذ ہے۔ تحریک انصاف پر تمام قانونی اور آئینی راستے بند کر دیے گئے ہیں اس لیے میں اب خود بطور پارٹی سربراہ جیل سے احتجاجی تحریک کی سربراہی کروں گا- باہر میری نمائندگی عمر ایوب کریں گے- سلمان اکرم راجہ ہدایات پر عملدرآمد کروائیں گے-
تحریک کا لائحہ عمل چند روز میں قوم کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔ اس احتجاجی تحریک کے لیے اپنی اتحادی جماعتوں سمیت تحریک تحفظ آئین، جی ڈی اے اور ماہرنگ بلوچ کو بھی دعوت دیں گے۔ انشأللہ اس تحریک کو کوئی نہیں روک سکے گا۔
پاکستانی قوم کو میرا پیغام ہے کہ شاید یہ پھر سے میری ملاقاتوں پر پابندی عائد کر دیں لیکن آپ نے یاد رکھنا ہے کہ ووٹ میرا نہیں آپ کا چوری ہوا ہے۔ آواز میری نہیں آپ کی دبائی جا رہی ہے، لہذا آپ کو خود پاکستان کی حقیقی آزادی کے لیے کھڑے ہونا ہوگا۔ بارہا کہہ چکا ہوں کہ “آزادی کوئی پلیٹ میں رکھ کر نہیں دیتا”-
احتجاجی تحریک ملک گیر اور مسلسل ہو گی کیونکہ اسلام آباد میں سنائپرز تعینات ہوتے ہیں جو معصوم شہریوں اور پر امن احتجاجیوں پر سیدھے فائر کھول دیتے ہیں۔جو قتل عام تحریک انصاف کے ساتھ کیا گیا اور کسی جماعت کے ساتھ نہیں ہوا۔
میرا اپنے پارٹی عہدیداران کو پیغا�� ہے کہ اگر میں جیل کاٹ سکتا ہوں تو آپ کو بھی کوئی ڈر نہیں ہونا چاہیئے۔ اب تک پارٹی سب کو بنی بنائی مل گئی تھی۔ اب مشکل وقت ہے اور سب کا امتحان ہے۔ مجھے بھی جیل میں ڈالنے کے بعد تین سال خاموش ہو جانے پر آرام سے بنی گالا بیٹھ جانے کا کہا گیا تھا جیسے نواز شریف کو دس سال تک چپ رہنا پڑا مگر میں بزدل نہیں ہوں اور یزیدیت پر کبھی خاموش نہیں رہ سکتا۔
میں جمہوریت کی بحالی کے لیے آخری دم تک جدوجہد کروں گا-“
1/2
جب تحریک انصاف کو توڑنے کے تمام حربے ناکام ہو گئے تو اب پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو قتل کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ بلوچستان کی عوام کا اعتماد پہلے ہی ریاست سے اٹھ چکا ہے، اور اب صوبے کے حقیقی عوامی نمائندوں کو ڈرا دھمکا کر یا دہشت گردی کے ذریعے راستے سے ہٹانے کی کوششیں عوام میں مزید غم و غصے کو بھڑکا رہی ہیں۔ ریاستی اداروں کو ہوش کے ناخن لینے ہوں گے، صدام خان ترین کو ملنے والی ان دھمکیوں اور ڈھیٹ وارنٹ کی جلد سے جلد تفتیش کروا کر حقیقت قوم کے سامنے لائی جائے، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔
@SadamktPTI
ڈیتھ وارنٹ حکم جاری کرنے والوں نہ ملک چھوڑ کہ جاؤنگا نہ میدان
اپنے اللہ پر مکمل بھروسہ ہے حق کہ لیئے جان قربان کرنے کہ لیئے تیار ہوں
حکمت احتیاط و توکل سے مقابلہ کرونگا میدان میں کرونگا پہلے سے ڈٹ کر کرونگا
میری روزی روٹی نہ کوئی کم کر سکتا ہے نہ زیادہ
آواز اٹھائیں 🚨
عمران خان کا نظریاتی کارکن صدام ترین کہہ رہا ہے میرے ڈیتھ وارنٹ جاری ہوئے
صدام ترین کا کوئی مخصوص گروپ یا سوشل میڈیا ٹیم نہیں اس لئے سب صدام ترین کی آواز بنیں
کل پھر ہمیں چیلنج کیا گیا کہ تم انسان نہیں ہو،ہمیں کہا گیا تم غلام ہو تمہاری آواز کی تمہاری رائے کی کوئی وقعت نہیں ہے،ہمیں بحثیت قوم اب یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ہم بھیڑ بکریاں ہیں؟ ،ہم قبرستان کے باسی ہیں؟ ہم لاشیں ہیں یا زندہ انسان ہیں؟۔ سلمان اکرم راجہ
قیامت کے دن حکمرانوں اور ججوں کے ہاتھ بندھے ہوں گے، اللہ پوچھے گا تجھے جو حکمران بنایا تھا تم نے کیا کیا میرے بندوں کے ساتھ، اللہ قاضی سے پوچھے گا بتا کتنے عدل اور کتنے ظلم کے فیصلے کئے تھے
مولانا طارق جمیل کی ایک گناہ یہ بھی تھی 💔