سینکڑوں ہی رہنما ہیں راستہ کوئی نہیں
آئنے چاروں طرف ہیں دیکھتا کوئی نہیں
سب کے سب ہیں اپنے اپنے دائرے کی قید میں
دائروں کی حد سے باہر سوچتا کوئی نہیں
گاہے گاہے ہی سہی امجدؔ مگر یہ واقعہ
یوں بھی لگتا ہے کہ دنیا کا خدا کوئی نہیں
امجد اسلام امجد
لوگ سہمے سہمے ہیں ہر طرف سیاست ہے
بے پناہ وعدے ہیں
لچھے دار باتیں ہیں
لفظ کے جھمیلے ہیں
یہ کسی کا دعویٰ ہے
آزمودہ نسخہ اک
موت سے مفر کا ہے
خود کو کہہ خدا کوئی
حاکم زمانہ بن
جبر و قہر کرتا ہے
عام لوگ سب کہ سب
بول بازیوں سے اب
بے پناہ عاجز ہیں
اسریٰ رضوی
کس قدر ہو گا یہاں مہر و وفا کا ماتم
ہم تری یاد سے جس روز اُتر جائیں گے
فیض آتے ہیں رہِ عشق میں جو سخت مقام
آنے والوں سے کہو ہم تو گزر جائیں گے
آج فاروق خٹک صاحب کی برسی ہے۔ اُن کو بچھڑے تین سال ہو گئے۔
11 June 1943 - 14 Dec 2018