ميں بھی خائف نہیں تختہ دار سے
میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے
کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے
ظلم کی بات کو جہل کی رات کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
~حبیب جالب
إلى الجهات الأمنية المختصة في المملكة العربية السعودية:
نرجو التحقق بشكل عاجل من حساب TikTok: voiceofjampur، الذي ينشر مقاطع تتضمن تهديدات بالقتل بحق رئيس وزراء باكستان وقائد الجيش الباكستاني عند زيارتهما للمملكة.
صاحب الحساب يُدعى شبير بلوش، من جام بور، ويُقال إنه مقيم حالياً في المملكة العربية السعودية.
نأمل اتخاذ ال��جراءات النظامية اللازمة والتحقق من هذه التهديدات حفاظاً على الأمن والسلامة.
@MOISaudiArabia @security_gov @modgovksa @KSAMOFA
چھوٹا سا نکتہ ہے جو لوگ کہہ رہے پاکستان ترکی سعودیہ والا معاہدہ اتنی اہمیت نہی رکھتا ہے تو آپ دیکھ لیں دو دن سے دنیا بھر کے میڈیا پر یہی ڈسکس ہو رہا ہے ہر طرف اسی کا شور ہے اگر اتنی اہ�� نہی تو اتنے شور کی کیا ضرورت ہے ؟
آپ کو انڈیا اسرائیل ایران اور یوتھیے مشترکہ اس کی مخالفت کرتے نظر آئیں گے
سعودیہ کو ایران اور امریکہ دونوں بلیک میل کر رہے تھے ایران حملوں سے ڈرا رہا تھا غوثیوں کو اس پر چھوڑ کر اس کا معاشی ناطقہ بند کروا رہا تھا امریکہ کھل کر تحفظ نہی دے رہا تھا پھر ایٹمی تعاون آفر کیا اور شرط اسرائیل کو تسلیم کرنا اور ابراہیم اکارڈ پر دستخط رکھے
سعودیہ نے اسرائیل کو تسلیم نہی کیا بلکہ خطہ کے مضبوط فوجی مسلم طاقتوں سے معاہدہ کر لیا
بس اتنی سی بات ہے
ہر بیس سال بعد یہ تماشہ دہرایا جاتا ہے۔ بھٹو نے جنرل ایوب کو ڈیڈی کہا، جنرل یحییٰ کے مارشل لاء کا خیر مقدم کیا، اقتدار پایا، نکالے گئے تو انقلابی بن گئے۔ نواز شریف نے جنرل جیلانی کی گود میں پرورش پائی، جنرل ضیاء کے “مشن” کو آگے بڑھانے کے وعدے کیے، اقتدار پایا، نکالے گئے، انقلابی بن گئے۔ عمران خان نے ڈکٹیٹر مشرف کو ووٹ دیا، ایمپائر (راحیل شریف) کی انگلی کی خواہش کی، باجوہ کو جمہوری کہا، اقتدار پایا، نکالے گئے، انقلابی بن گئے۔
ہم ہر بیس سال بعد ہونے والے اس تماشے کو شعور اور انقلاب سمجھ بیٹھتے ہیں۔ یہ سلسلہ روکنا ہے تو جرنیلوں کی گود میں پلنے والے ہر سیاسی ڈکٹیٹر کو ہمیشہ کے لیے مسترد کرنا ہو گا، ورنہ آنے والی نسلوں کو یہی پیغام جائے گا کہ اقتدار کے لیے اسٹیبلشمنٹ کے بوٹ پالش کرو، اقتدار اور عروج پاؤ۔۔۔ جب جی چاہے اس بھولی قوم کو بے وقوف بنا کر انقلابی بن جاؤ۔ یہ پیٹرن ختم کرنا ہو گا پاکستانیو !!
عمران خان کا سیاسی امور سے زیادہ تعلق نہی نا وہ ان کی باریکی سمجھتا ہے یہ جو اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ خاص کر پنجاب میں یہ بنیادی طور پر نواز شریف کا شروع کیا ہے اور نوے کی دہائی سے ہے اس سے پہلے پنجاب ایسا نہی تھا نواز شریف کے ہر فوجی سربراہ سے پھڈے ہوئے پھر ریکشن آیا اور پنجاب میں لوگ ریڈیکلائز ہوتے گے نون لیگ عمران دور تک اسی ٹریک پر تھی قائم رہتی تو بہت کچھ حاصل کرتی مگر پھر شریف فیملی میں ایک عمران شہباز شریف کی صورت پیدا ہو گیا اسے ہر صورت اقتدار چاہیے تھا اور جب اس نے اقتدار لیا تو پرو اسٹیبلشمنٹ ہو گے
عمران نے نواز شریف کا پچھلے بیس پچیس سال میں سول سپریمیسی اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ اٹھا لیا عمران کے پاس جدید سوشل میڈیا اور نوجوان تھا پھر بیرون ملک سے بھی پاکستان مخالف الیمنٹ نے ایلگورتھم سپورٹ دی مگر عمران چونکہ سیاسی ذہن نہی اس نے خود کو ہی بند گلی میں بند کر دیا ہے آپ آج عمران کو اقتدار دے دیں چھ مہینے بعد وہ وہیں کھڑا ہو گا جہاں اس وقت شہباز ہے وجہ پاکستان کے مسائل اصل نوجوانوں کی فرسٹریشن درست مگر حل عمران کے پاس بھی نہی ہے وہ بھی ناکام ہو گا ۔
ڈئیر اسٹیبلشمنٹ !! پہلے آپ نے کہلوایا کہ نواز شریف سسلین مافیا ہے اور خراب نظام کو عمران خان ٹھیک کرے گا۔ پھر آپ نے بتلایا کہ عمران خان نا اہل ہے، یہ رہا تو نظام ڈیفالٹ ہو جائے گا۔ پھر سمجھایا کہ سسلین مافیا تجربہ کار ہے، یہی ملک بچائے گا۔ انہیں مسلط کرنے کے بعد پھر آپ کہلوا رہے ہیں کہ نظام کولیپس ہو گیا ہے۔
ایک بار آپ خود پر بھی نظرِثانی فرما کر دیکھ لیں۔