سیاست کا طالب علم ہوں، جمہوریت، عدل اور اتحاد پر یقین رکھتا ہوں۔
قائد نواز شریف کی سوچ اور وژن سے متاثر،
پاک فوج سے محبت، کرکٹ کا جنون، اور پاکستان سے وفاداری میرا فخر ہے۔
یہ پلیٹ فارم میری سوچ، جذبے اور امید کی آواز ہے۔
#Pakistan#Democracy#Cricket#Unity
Follow Me ➤
Distributed Uniforms and Shoes among special students on the directions of CM Punjab @MaryamNSharif . It's an honour and a privilege to be working for these kids.
سیاست کا طالب علم ہوں، جمہوریت، عدل اور اتحاد پر یقین رکھتا ہوں۔
قائد نواز شریف کی سوچ اور وژن سے متاثر،
پاک فوج سے محبت، کرکٹ کا جنون، اور پاکستان سے وفاداری میرا فخر ہے۔
ی�� پلیٹ فارم میری سوچ، جذبے اور امید کی آواز ہے۔
#Pakistan #Democracy #Cricket #Unity
Follow Me ➤
🔴👈🏽جنرل عاصم منیر ایک خاموش مگر بااثر سپہ سالار
پاکستان کے موجودہ آرمی چیف، جنرل سید عاصم منیر، اُن شخصیات میں سے ہیں جنہیں عموماً عوامی شہرت یا میڈیا میں نمایاں ہونے کا شوق نہیں ہوتا۔
وہ ایک خاموش طبیعت رکھنے والے جنرل کے طور پر جانے جاتے ہیں، لیکن حالیہ مہینوں میں ان کا نام نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی زیرِ بحث آیا ہے۔
بھارت، امریکہ، چین اور مشرقِ وسطیٰ کے سفارتی حلقوں میں جنرل منیر کا ذکر ہوتا دکھائی دیتا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی شخصیت اور کردار محض فوجی قیادت تک محدود نہیں رہی بلکہ اب وہ عالمی سطح پر ایک نمایاں عسکری رہنما کے طور پر ابھر رہے ہیں۔
جنرل عاصم منیر کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ پاکستان کے وہ پہلے آرمی چیف ہیں جنہوں نے نہ صرف ملٹری انٹیلی جنس (MI) بلکہ طاقتور ترین خفیہ ادارے انٹرسروسز انٹیلی جنس (ISI) کی بھی قیادت کی ہے۔
ان اداروں کی سربراہی کا تجرب�� انہیں نہ صرف قومی سلامتی کے اندرونی اور بیرونی پہلوؤں پر گہری نظر عطا کرتا ہے بلکہ دشمن کی چالوں کو بروقت بھانپنے کی صلاحیت بھی بخشتا ہے۔
ان کی ٹریننگ ایسے ماحول میں ہوئی جہاں دیکھنا، سننا اور انتظار کرنا سب سے اہم ہنر مانے جاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت میں ایک خاص ٹھہراؤ، چوکنا پن اور دوراندیشی نمایاں نظر آتی ہے۔
جب جنرل عاصم منیر کو پہلی بار نجی گفتگو میں دیکھا گیا تو وہ نہایت شائستہ، نرم گفتار اور مہذب شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔
لیکن جب وہ سٹیج پر آئے، تو ان کا انداز ایک تجربہ کار، سخت گیر اور مستعد کمانڈر کا تھا۔
یہ دوہرا پہلو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کا ہنر رکھتے ہی جو کسی بھی اعلیٰ فوجی رہنما کے لیے ایک بنیادی خوبی ہے۔
جنرل عاصم منیر کے حالیہ بیانات اور سفارتی دورے اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ وہ پاکستان کے مفادات کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی سطح پر سرگرم ہو چکے ہیں۔ ان کا بیانیہ صرف پاکستان کے اندر تک محدود نہیں بلکہ اب وہ علاقائی سلامتی، افغانستان کی صورتحال، بھارت کے ساتھ کشیدگی، اور چین و مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ تعلقات جیسے حساس معاملات پر بھی اپنی موجودگی کا احساس دلا رہے ہیں۔
پاکستان اس وقت سیاسی، معاشی اور سکیورٹی کے کئی بحرانوں سے گزر رہا ہے۔ ان حالات میں جنرل عاصم منیر کو نہ صرف فوجی قیادت کرنی ہے بلکہ ایک ایسی ریاستی حکمت عملی وضع کرنی ہے جو داخلی استحکام اور بیرونی دباؤ کے درمیان توازن قائم رکھ سکے۔ ان کی قیادت میں فوج نے بارہا اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر ریاستی اداروں کی حمایت جاری رکھے گی۔
جنرل عاصم منیر ایک ایسے فوجی رہنما ہیں جو روشنیوں سے دور رہتے ہوئے بھی اپنی موجودگی کا احساس دلانے میں کامیاب ہیں۔ ان کی شخصیت میں چھپی سنجیدگی، خاموشی اور حکمت اُنہیں ایک منفرد آرمی چیف بناتی ہے
شاہد آفریدی بھائی سے فون پر ��ات ہوئی اور پاکستان کے لیے ان کا جذبہ دیکھ کر آنسو آگئے آفریدی بھائی کا کہنا ان کے والد بھی پاکستان کے لیے لڑے تھے اور ان کے لیے بھی سب سے اول پاکستان ہے وہ کہتے پاکستان ہے تو ہم ہیں آفریدی بھائی اپنے ذاتی پیسے سے فاونڈیشن چلاتے ہزاروں غریبوں کی بچوں کی مدد کرتے اندر باہر سے پاکستان کی محبت میں جکڑے ہیں ❤️❤️
سوال یہ کہ پاکستان کے دیگر سلیبرٹی اس وقت کہاں ہیں ؟
جن کو نام شہرت اور پیسہ پاکستان کی وجہ سے ملا مگر اس مشکل وقت پر خاموش ہیں قوم سب دیکھ رہی ہے
شاہد آفریدی صاحب آپ کرکٹ میں بھی ہیرو تھے اور ان جنگی حالات میں بھی ہیرو بن کر سامنے آئے ہیں پاکستانی کی قوم آپ سے محبت کرتی ہے آپ ہمیشہ آباد رہیں
*بھارت کی مرکزی حکومت نے پنجاب کے سرحدی علاقوں میں رہائش پذیر افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی ہے۔ اس کے تحت امرتسر، گورداسپور، تارن تارن، فیروزپور، فاضلکا اور پٹھان کوٹ کے اضلاع میں 10 کلومیٹر کے دائرے میں آنے والے دیہات خالی کرائے جا رہے ہیں۔