انصار الاسلام والے سپریم کورٹ کے دروازے پر کھڑے ہوکر سپریم کورٹ کے حفاظت کررہے ہیں.
اوئے یوتھیا نما صحافیوں یہ دیکھ لو
#مولانا_آرہا_ہے#چلوچلو_سپریم_کورٹ_چلو
شھباز شریف کو صرف ترامیم کیلیے وزیراعظم بنایا ہوا ہے
تم نے آئین کو مذاق بنا دیا ہے عوام کے ساتھ کھلواڑ بند کرو
خدارا کچھ عوام پر بھی رحم کرو اس ملک کیلیے سوچو
مولانا فضل الرحمٰن کی پارلیمنٹ اجلاس سے گفتگو
#خون_سستا_پیٹرول_مہنگا
اسلام آباد:قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا قومی اسمبلی کے اجلاس سے اہم خطاب
نوٹ: قومی اسمبلی کی میڈیا مینجمنٹ نے مولانا صاحب کے خطاب کے دوران متعدد مقامات پر آواز غائب کرکے اسے سینسر کرنے کی مذموم کوشش کی ۔
مجھے احساس ہے اس بات کا کہ وہ بھی میرا خون ہے۔ چند ہفتے پہلے وانا میں آپ کے پورے قلعے کو اڑا دیا گیا، جس میں ہمارے فوجی جوان شہید ہوئے۔
کل بنوں میں ہونے والے ایک حملے نے پورے پولیس اسٹیشن کو اڑا دیا۔ جتنے بھی وہاں سپاہی تھے، وہ سب کے سب شہید ہو گئے۔ اور آج تمام شہر اور علاقے کے تھانوں کی پولیس اپنے اپنے تھانوں کو چھوڑ کر پولیس لائن میں آ کر جمع ہو گئی ہے۔
جو مقامات ہمارے تحفظ کے لیے تھے، آج ان کو خود تحفظ حاصل نہیں۔ کس کے پاس جائیں؟
ہم روایتی لوگ ہیں۔ اگر میں غم کے اندھیروں میں کھڑا ہوں، اگر میں خون کے جھیل میں کھڑا ہوں، اور ہر طرف میرا خون بہہ رہا ہو، تو ایسے ماحول میں کم از کم میں جشن نہیں منا سکتا۔ بڑا دل ہے، ہر طرف خون بکھرا ہوا ہے، زندگیاں غیر محفوظ ہیں، اور ساتھ ساتھ جشن بھی منایا جا رہا ہے۔
اس ساری صورتحال میں ہم نے یہاں بڑے بڑے واقعات دیکھے ہیں۔ مولانا ادریس کا واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ میں روز مرہ کی بات کر رہا ہوں۔ پورے سال کے تعلیمی دور میں وہ ہر روز اٹھائیس سو طلبہ کو پڑھا رہا ہوتا ہے۔ بیک وقت ایک مدرسے میں تیرہ سو اور دوسرے مدرسے میں پندرہ سو طلبہ پڑھتے ہیں۔ یہ ہمارے اثاثے ہیں۔ اس کے باوجود انہیں شہادت کے لباس میں دفن کیا گیا۔ تو مجھے فیض کا یہ شعر یاد آیا:
کہ اپنے سر پر کفن کو ذرا ٹیڑھا رکھو
تاکہ دشمن کو یہ گمان نہ ہو کہ میں غرورِ عشق کی بانکپن کھو چکا ہوں۔
وہ زندہ ہے، تمام شہداء زندہ ہیں۔ میرے اداروں کے نوجوان اگر جا رہے ہیں تو وہ اپنا خون اپنی مٹی کے حوالے کر رہے ہیں، اپنی جان مٹی کے حوالے کر رہے ہیں۔ تو ہماری پالیسیاں کہاں ہیں؟ امن و امان نہ ہو تو کاروبار کہاں ہوگا؟
آج میرے علاقوں میں، جناب اسپیکر، توجہ سے سن لیجیے، کوئی حکومتی رٹ موجود نہیں۔ دیہاتوں میں، مسجدوں کے اندر مسلح لوگ، بیٹھکوں میں مسلح لوگ۔ عام آدمی اپنے بچے کو سکول نہیں بھیج سکتا۔ کاروبار ختم ہو چکے ہیں۔ لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں، اور بہت سے لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں، لیکن قوم کو نہیں بتایا جا رہا کہ ہمارے ملک میں کیا صورتحال ہے۔
میں ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھتا ہوں، ٹانک میرا علاقہ ہے، لکی مروت میرا علاقہ ہے، بنوں میرا علاقہ ہے۔ میں ان علاقوں سے ووٹ لیتا رہا ہوں، ان علاقوں نے بار بار مجھے پارلیمنٹ میں بھیجا ہے۔ یہ میرے آنکھوں کے سامنے کے علاقے ہیں۔
ہمارا کوئی سپاہی محفوظ نہیں، کوئی شہری محفوظ نہیں۔ ایک ہی گاؤں میں چھٹی پر آیا ہوا نوجوان صبح لے جایا گیا، صحرا میں اس کی ویڈیو بنائی گئی اور اسے قتل کر دیا گیا۔ اسی گاؤں سے ظہر کے بعد دوسرے شخص کو لے جایا گیا اور مغرب سے پہلے اس کی لاش آ گئی۔ اس طرح ہماری جانیں آسان ہو گئی ہیں، اس طرح ہمارا خون سستا ہو گیا ہے۔
آپ پیٹرولیم کی قیمتیں بڑھائیں، لیکن یہ بھی تو دیکھیں کہ آپ کی پالیسیوں کے نتیجے میں میرا خون کتنا سستا ہو چکا ہے۔ کبھی احساس ہے ہمیں اس بات کا؟ جب میں نہ ملک کے لیے، نہ امن و امان کے لیے، نہ شہری کی حفاظت کے لیے کوئی پالیسی بنا سکتا ہوں، نہ معیشت کے لیے کوئی پالیسی بنا سکتا ہوں، تو پھر حکومت تو نہ رہی۔
حکومت کے تو دو ہی کام ہوتے ہیں: لوگوں کی معیشت کو بہتر کرنا اور لوگوں کی جان و مال اور انسانی حقوق کا تحفظ کرنا۔ نہ ہم لوگوں کو معیشت دے رہے ہیں اور نہ جان و مال کا تحفظ دے رہے ہیں۔
اس بات کا بھی نوٹس لیا جائے کہ جب بجٹ پاس ہوتا ہے اور کسی بھی اسکیم کے ٹینڈر آتے ہیں تو ٹھیکیدار کو سائٹ پر جانے سے پہلے پورے ٹینڈر کے پیسے کا دس فیصد دینا پڑتا ہے۔ یہ ساری چیزیں کیا ہیں؟ یہ ہمارا دل گردہ ہے کہ ہم پھر بھی ان علاقوں میں جاتے ہیں، ان گاؤں میں جاتے ہیں اور وہاں کس ماحول میں ہوتے ہیں؟
اب تو لوگوں نے علاقوں میں جانا چھوڑ دیا ہے۔ ہمارے نوٹیبل لوگ بھی اب غمی خوشی اسلام آباد تک محدود ہو گئے ہیں۔ اور اگر کوئی عام آدمی گاڑی میں جا رہا ہو یا درس حدیث دے رہا ہو تو اسے شہید کر دیا جاتا ہے، جیسے مرغی کو بھی اتنی آسانی سے ذبح نہیں کیا جاتا۔ اور یہ سلسلہ جاری ہے۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا قومی اسمبلی میں خطاب
آج پوری دنیا میں،حکمران میاں شہباز صاحب کو نہیں سمجھا جا رہا، ملک میں بھی اور ملک سے باہر بھی۔ وزیراعظم ہیں لیکن اس کام کے لیے ہیں کہ جیسے آج پتہ نہیں ایک سو قانون سازیاں بیک وقت ہو گئیں۔ جب چاہیں آپ قانون سازیاں کرائیں، جب چاہیں آپ چھبیسویں ترمیم لے آئیں، جب چاہیں آپ ستائیسویں ترمیم لائیں، اور پھر جب چاہیں آپ اٹھائیسویں ترمیم لانے کی باتیں کریں۔ یہ مذاق بنا دیا گیا ہے اس آئین کا۔ ہم نے تو اس آئین سے وفاداری کا حلف اٹھایا ہے، لیکن پہلے ناجائز طریقوں سے آئین معطل ہوتا تھا، آئین کسی ایک فرد واحد کی رائے کے تابع ہوتا تھا، اور آج پاکستان میں حکومت بے بس اور اسٹیبلشمنٹ طاقتور، ایک آمر کی طرح جب چاہے ہمیں ہدایات دیتی ہے اور ہمیں اس پارلیمنٹ میں ترمیم کرائی جاتی ہے۔
میں حکومتی بینچوں پر بیٹھے ہوئے پیپلز پارٹی کے بھائیوں سے کہہ سکتا ہوں کہ اٹھارویں ترمیم آپ کے دور میں ہوئی تھی، صوبوں کو اختیارات آپ کے دور میں دیے گئے۔ کس طرح آپ اس مہم جوئی میں شریک ہوتے ہیں کہ رفتہ رفتہ دوبارہ اٹھارویں ترمیم کو غیر مؤثر کیا جا رہا ہے، اور پارلیمنٹ سے باہر پارلیمنٹ کو کنٹرول کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ یہ پھر پارلیمنٹ نہیں کہلائے گی، اس کے لیے ایک لفظ ہوگا: ربڑ اسٹیمپ پارلیمنٹ کام کر رہی ہے۔
کچھ تو اپنے ملک کے لیے سوچیں، اس جمہوریت کی بات تو کریں۔ ہمارے ملک میں ہم نے ادارے بنائے ہیں، ہم نے اس ملک کا آئین بنایا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو وزیراعظم تھے، دو تہائی اکثریت ان کے پاس تھی، لیکن چھوٹے صوبوں کو پورے اعتماد میں لے کر انہوں نے آئین بنایا، اور مجھے ان کا وہ بیان آج بھی یاد ہے کہ ہم نے آئین بنایا ہے اور ہم ہی اس آئین کا تحفظ کریں گے۔
آج میرا آئین غیر محفوظ ہے، اس کو ہم کس طرح دوبارہ متفقہ آئین کی شکل دے سکتے ہیں؟ میں یقیناً پیپلز پارٹی سے یہ توقع رکھوں گا کہ وہ ایک مضبوط مؤقف کے ساتھ اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرے، ورنہ یہ ڈھیلا ڈھالا کردار شاید ذوالفقار علی بھٹو کی روح کو تسکین نہیں پہنچا سکے گا۔ آپ ان کی امانت کو ضائع کر رہے ہیں۔ میرے والد نے دستخط کیے تھے، میں اس پر کھڑا ہوں۔ آپ نے اٹھارویں ترمیم پاس کی، میں آپ کے ساتھ تھا۔ آج بھی آپ آئین کی جنگ لڑیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں، ہم آپ کے سپاہی ہیں۔ لیکن احساس ہونا چاہیے کہ یہ ملک میرا ہے، احساس ہونا چاہیے کہ میں واقعی عوام کا نمائندہ ہوں اور اس ملک کے اندر میں ایک پارلیمانی کردار ادا کر رہا ہوں۔
قائد جمیعت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا قومی اسمبلی میں خطاب
آبنائے ہرمز بند ہے، لیکن کسی ملک کے پیٹرولیم نرخوں پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا، پھر صرف پاکستان ہی وہ ملک کیوں ہے جہاں مہنگائی عروج پر پہنچ گئی؟
صرف پاکستان میں مہنگائی کا طوفان آیا۔ کہاں ہیں ہمارے معاشی ماہرین؟ کہاں ہیں ملکی معیشت کو منیج کرنے والے لوگ؟ نہ انڈیا متاثر ہوا، حالانکہ جہاز تو ان کے بھی رکے ہوئے ہیں، نہ خود ایران متاثر ہوا، حتیٰ کہ افغانستان تک متاثر نہیں ہوا، لیکن ہم نے یہاں عوام پر قیامت برپا کر دی، گویا ان پر پہاڑ گرا دیے ہوں۔
اب ہم کس سے روئیں؟ میں نے تو یہاں کھڑے ہو کر، غالباً آپ ہی کی موجودگی میں، یہ تجویز دی تھی کہ پارلیمنٹ کا ایک اِن کیمرہ اجلاس بلایا جائے، اور اس سے پہلے بھی ایسے اجلاس بلائے جا چکے ہیں۔ جناب یوسف رضا گیلانی کے دورِ وزارتِ عظمیٰ میں بھی اجلاس بلائے گئے تھے، اس سے پہلے اور بعد میں بھی بلائے جاتے رہے ہیں۔
اگر یہ پارلیمنٹ واقعی عوام کی نمائندہ ہے تو حکومت اس تجویز سے فرار کیوں اختیار کر رہی ہے؟ کیوں ہم سر جوڑ کر آپس میں نہیں بیٹھ رہے؟ کیوں ہمیں حالات سے آگاہ نہیں کیا جا رہا؟ کیا ہم اس آزاد ملک میں آزادی سے بات بھی نہیں کر سکتے؟
قائدِ جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا قومی اسمبلی میں خطاب
اس دوران انڈیا نے ہمارے اوپر حملہ کیا، ہم نے دفاع کیا، جو قابل تحسین بات ہے۔ وہ نہ پہلے ہم نے چھپائی ہے نہ آج چھپاتے ہیں کہ پاکستان نے بہتر دفاعی کارکردگی دکھائی۔
لیکن ذرا آگے تو پڑھیے جب جنگ شروع ہوئی تو وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے جو پہلا بیان جاری کیا وہ یہ تھا کہ یہ انڈیا پاکستان کا باہم معاملہ ہے ہم اس میں مداخلت نہیں کریں گے، ان کی رپورٹس یہ تھی کہ انڈیا بہت طاقتور ہے اور اگر پاکستان کو وہ لپیٹ لے تو امریکہ اور مغرب کا کچھ نہیں جارہا، وہ ہندوستان کے ساتھ سٹریٹیجک معاہدے کر رہا تھا اور پاکستان کے بارے میں کہا کہ یہ آپس میں لڑ رہے ہیں، لڑنے دو، پھر نریندر مودی کی درخواست پر امریکہ نے مداخلت کی، پھر جنگ بند ہوئی، پھر کہا میں نے انڈیا پاکستان کی جنگ بند کرائی ہے، کس کے درخواست پہ کی ہے؟ کیوں کی ہے؟ ان ساری چیزوں کا ادراک کیوں نہیں کیا جارہا؟ اور پھر ہم نے کہا کہ ٹرمپ صاحب کو امن نوبل انعام ملنا چاہیے، ایک طرف ستر ہزار شہداء، فلسطین کے شہدہ ہیں، ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ لوگ زخمی ہیں، اتنے ہی بے گھر ہو چکے ہیں، طاقت کے زور پر ایک پورے مسلمان ملک پر قبضہ کیا جارہا ہے، اسرائیل کو مکمل تعاون دیا گیا، اس کو اسلحے کی سپورٹ دی گئی، وہ جنگ بڑھتے بڑھتے ہمارے ایران تک پہنچ گئی۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا قومی اسمبلی میں خطاب
میں آج جس ماحول میں گفتگو کر رہا ہوں، مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے میں خون کے جھیل میں کھڑا ہوں اور آپ سے مخاطب ہو رہا ہوں۔
مسئلہ کسی ایک فرد کا نہیں ہے۔ ہمارے شیخ مولانا محمد ادریس شہید ہو گئے۔ وہ ہمارے صوبائی اسمبلی کے ممبر رہ چکے تھے۔ ان کے سسر، قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے تھے، مولانا حسن جان شہید۔ مولانا معراج الدین اس پارلیمنٹ کے رکن رہے، شہید ہو چکے ہیں۔ مولانا نور محمد صاحب وانا کے، وہ اس پارلیمنٹ کے رکن رہے ہیں اور وہ بھی شہید ہو چکے ہیں۔
باقی جو ہمارے اکابر علماء ہیں، جو میرے لیے میرے استاد کا مقام رکھتے ہیں، وہ دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ اور جمعیۃ علماء اسلام ہو، تمام مکاتبِ فکر کی سیاسی جماعتیں ہوں۔
تمام مکاتبِ فکر کے مدارس ہوں، مدرسین ہوں، علماء ہوں، طلباء ہوں، طول و عرض میں یہ سب لوگ پاکستان کے آئین کے ساتھ کھڑے ہیں، ملک کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کس چیز کی سزا ان کو دی جا رہی ہے کہ آئے روز ہم جنازے اٹھا رہے ہیں؟
باجوڑ میں ہم نے ایک جلسے کے اندر اسی جنازے اٹھائے۔ وانا وزیرستان میں، شمالی وزیرستان میں ہمارے ضلعی صدور، ضلعی امیر، وہ تمام شہید کر دیے گئے ہیں، اور بعض اب بھی زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ ایک فعال زندگی گزارنے کے قابل نہیں رہے ہیں۔
پندرہ، بیس آپریشن ہو گئے۔ آپریشن ہے کہ ہم دیکھ رہے ہیں، کبھی کس نام سے، کبھی کس نام سے، اور مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا قومی اسمبلی میں خطاب
میرے والد نے اس آئین پر دستخط کیے تھے میں اس پر کھڑا ہو اٹھارویں ترمیم میں ہم آپ کے ساتھ تھے آج بھی آپ آئین کی جنگ لڑے آپ آگے ہم آپکے سپاہی
#ریاست_یا_سوتیلی_ماں
آپ جتنا مرضی چاھیں مولانا صاحب کی تقریروں کو سنسر کرلیں ھم جمعیت کے ڈیجیٹل میڈیا کے کارکن انکی آواز ھیں اور انکی آواز دنیا تک پہنچتی رھے گی ان شاءاللہ
#ریاست_یا_سوتیلی_ماں
@MeFaheem کمینٹ کرنے والے بے غیرتوں آپ کو بس فحاش بندہ چاہئیے
چاہے ایماندار ہو یا نا ہو
انہوں نے جہاں سورس دیا ہے ان علاقہ کے غریب سے پوچھ لے اس کے بارے میں
ایران اسلامی برادری کا حصہ ہے،ایران پر اسرائیل کے جارحانہ حملے کی ہم صرف مذمت نہیں کرتے بلکہ ہم ایران کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔
نیتن یاہو کو عالمی عدالت نے جنگی مجرم قرار دیا ہے لیکن اس پر عمل نہیں ہورہا ہے اور وہ مسلمانوں کے خلاف دندناتا پھر رہا ہے،اس ماحول میں جمعیۃ علماء اسلام سب کو جنجھوڑ رہی ہے کہ فلسطین کے بعد ایران پر حملہ ہوا ہے اس کے بعد اگلی باری کس اسلامی ملک کی ہوگی ؟
اگر حرمین شریف کی طرف پیشرفت کی گئی تو ہم جس طرح آج فلسطین کے ساتھ کھڑے اسی طرح دنیا کا ہر ایک مسلمان حرمین شریفین کے تحفظ کے لئے اپنا خون بہا لے گا لیکن حرمین شریفین پر آنچ نہیں آنے دے گا۔!
جانثاران جمعیتہ علماءاسلام پاکستان
اکابرین سے عقیدت
صحابہ کرام واہل بیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے عشق
نفاذ نظام مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منزل
مہمان خصوصی:
صوبائی کوآرڈینیٹر ڈیجیٹل میڈیا سیل جمعیتہ علماءاسلام کے پی کے جناب صداقت خان صاحب
https://t.co/mcvd3cMVTa
جے یو آئی کا 8 فروری 2024 کے متنازع اور بدترین دھاندلی زدہ انتخابات کے خلاف یومِ سیاہ منانے کا فیصلہ
8 فروری کو ملک بھر میں یومِ سیاہ منائیں گے ۔اسلم غوری
جمہوریت دن بدن کمزور ہو رہی ہے۔ ترجمان جےیوآئی
آئین پاکستان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔اسلم غوری
مولانا فضل الرحمان راولپنڈی میں مرکزی احتجاجی پروگرام سے خطاب کریں گے ۔ترجمان جے یو آئی
تمام صوبائی ہیڈ کوارٹرز میں بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔اسلم غوری
غیور عوام حکمرانوں کی قرآن و شریعت کے متصادم آئین سازی کے خلاف احتجاج کریں گے ۔ترجمان جے یو آئی
مہنگائی ،بے روزگاری ،بدامنی ،،لاقانونیت ، کے خلاف عوام کے شانہ بشانہ ہونگے ۔اسلم غوری
عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ قبول نہیں ۔اسلم غوری
شریعت ،آئین اور جمہوریت کے تحفظ کیلئے ہر آئینی، جمہوری اور پرامن راستہ اختیار کریں گے ۔ترجمان جےیوآئی
کارکن تیاری مکمل کریں ۔اسلم غوری
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان