عاشقی کام ہے فقیروں کا
آپ بس اپنےفن کی بات کریں
ہم ہیں اور بس ہماری تنہائی
اور ہم کس گھٹن کی بات کریں
من کی دنیا میں جھانکتے ہی ن��یں
لوگ تو صرف تن کی بات کریں
چھوڑ دیجیےاِدھر اُدھر کی بات
آپ بس اپنے من کی بات کریں
ٹال دیتا ہے وہ ہمیں اشنال
جب بھی ا�� سےملن کی بات کریں
دست فلک میں گردش تقدیر تو نہیں
دست فلک میں گردش ایام ہی تو ہے
آخر تو ایک روز کرے گی نظر وفا
وہ یار خوش خصال سر بام ہی تو ہے
بھیگی ہے رات فیضؔ غزل ابتدا کرو
وقت سرود درد کا ہنگام ہی تو ہے
ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہے
دشنام تو نہیں ہے یہ اکرام ہی تو ہے
دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
کرتے ہیں جس پہ طعن کوئی جرم تو نہیں
شوق فضول و الفت ناکام ہی تو ہے
دل مدعی کے حرف ملامت سے شاد ہے
اے جان جاں یہ حرف ترا نام ہی تو ہے
اے ھَوائے خِطۂ ریشمیں
تُجھے کیا خبر
تیرے بعد کیسی قیامتیں
دلِ بے سُکوں پہ گزر گئیں۔
اے صَدائے سوزِ گراں بہا
تیری دُوریوں کے فِشار سے
یہ سَماعتیں نمِ بے کنار سے بَھر گئیں۔
اے فُسونِ راحتِ دل زداں
تُو بجھا تو حُسنِ خیال و فکر کی نکہتیں
سرِ شاخِ شوق ھی مَر گئیں۔
زندگی خاک نہ تھی خاک اڑا کے گزری
تجھ سے کیا کہتے، تیرے پاس جو آتے گزری
رات کیا آئی کہ تنہائی کی سرگوشی میں
ہُو کا عالم تھا، مگر سُنتے سناتے گزری
نصیر ترابی