شوق کو عازمِ سفر رکھیے
بے خبر بن کے سب خبر رکھیے
چاہے نظریں ہوں آسمانوں پر
پاؤں لیکن زمین پر رکھیے
بات ہے کیا، یہ کون پرکھے گا
آپ لہجے کو پُر اثر رکھیے
جانے کس وقت کوچ کرنا ہو
اپنا سامان مختصر رکھیے
نگہت افتخار
ایک عورت قصاب کی دکان میں بند ہونے سے کچھ دیر پہلے داخل ہوئی اور پوچھا
"کیا آپ کے پاس ابھی بھی مرغی موجود ہے؟"
قصاب نے اپنا ڈیپ فریزر کھولا، آخری بچی ہوئی مرغی نکالی، اور ترازو پر رکھی۔ اس کا وزن 1.5 کلو تھا۔
عورت نے مرغی اور ترازو کی طرف غور سے دیکھا اور پوچھا
"کیا آپ کے پاس اس سے بڑی کوئی مرغی ہے؟"
قصاب نے وہی مرغی دوبارہ فریزر میں رکھی، پھر دوبارہ نکالی، لیکن اس بار اس نے چالاکی سے اپنا انگوٹھا ترازو پر رکھ دیا، اور ترازو نے 2 کلو وزن دکھایا۔
عورت خوش ہو کر بولی
"یہ تو بہت زبردست ہے! براہ کرم، مجھے دونوں مرغیاں دے دیں".
ایسی صورتحال میں انسان کو اندازہ ہوتا ہے کہ اس کی دیانتداری اور ساکھ داؤ پر لگ چکی ہے۔
آپ کی چالاکی بے وقوفی بن جاتی ہے، اور آپ کی حکمت احمقانہ لگنے لگتی ہے۔
قصاب کا سر ابھی بھی ڈیپ فریزر کے اندر پہلی مرغی تلاش کر رہا ہے.
عقلمند عورت نے قصاب کی چالاکی کو بھانپ لیا تھا۔ مگر بحث کرنے کے بجائے اُس نے ہوشیاری سے اُسی کے جال میں اُسے پھنسا دیا اور کہا کہ "مجھے دونوں مرغیاں دے دیں۔"
بعض اوقات خاموشی سے اپنی عقل کا استعمال کر کے آپ کسی کو بحث کیے بغیر شرمندہ کر سکتے ہیں۔
دوسری طرف، ہمیشہ سچ بولیں، اور آپ آزاد رہیں گے
اچھا نام دولت سے بہتر ہے۔
اپنی سچائی کے ساتھ جئیں، دوسروں کو متاثر کرنے کے لیے نہیں۔
محمد ذکریا آزاد کی بہت ہی خوبصورت غزل
ایک مدت کی ریاضت سے... کمائے ہوئے لوگ.
کیسے بچھڑے ہیں مرے دل میں سمائے ہوئے لوگ
تلخ گوئی سے ہماری........... تُو پریشان نہ ہو.
ہم ہیں دنیا کے مصائب کے .........ستائے ہوئے لوگ
اس زمانے میں مرے یار ..............کہاں ملتے ہیں .
اپنے دامن میں ...........محبت کو بسائے ہوئے لوگ
تجھ کو اے شخص کبھی.. زیست کی تنہائی میں
یاد آئیں گے ہم عجلت میں گنوائے ہوئے لوگ .
اُن کے رستے میں بچھا دیتے ہیں........ پلکیں اپنی
جب بھی ملتے ہیں..... ترے شہر سے آئے ہوئے لوگ
یہ غنیمت ہیں جو............ آزاد نظر آتے ہیں
خواب پلکوں کے دریچوں میں سجائے ہوئے لوگ
ایک عرب شیخ دبئی کے ایک پرتعیش ریستوراں میں بیٹھا دوپہر کا کھانا کھا رہا تھا کہ ایک خستہ حال بے گھر آدمی اندر داخل ہوا اور اس کے برابر میں بیٹھ گیا۔ اس آدمی نے کہا، "میرے پاس ایک سنہری لائٹر ہے۔ تم اسے خریدنا چاہو گے، لیکن میں تمہیں پہلے ہی خبردار کر دوں کہ اس کی قیمت دس لاکھ ڈالر ہے۔"
عرب ہنسا اور بولا، "بوڑھے آدمی، کیا تمہارا دماغ چل گیا ��ے؟ دس لاکھ ڈالر؟ یہ لائٹر تو ایک ڈالر کے لائق بھی نہیں ہے!"
وہ بے گھر شخص خاموشی سے سنہری لائٹر جلاتا ہے۔ اچانک، ایک جن ��اہر نکلتا ہے اور کہتا ہے، "جناب، آپ کی کیا خواہش ہے؟"
پورا ریستوراں خاموش ہو جاتا ہے جب وہ آدمی جن سے کہتا ہے، "میرے لیے چینی والی چائے کا ایک کپ لاؤ۔" جن تالی بجاتا ہے اور—پھک!—آگ کے ایک شعلے کے ساتھ، ٹرے میں رکھی چائے کا گلاس، چینی اور چمچ کے ساتھ حاضر ہو جاتا ہے۔
عرب اپنی آنکھیں ملتا ہے، جو کچھ اس نے دیکھا اسے دیکھ کر وہ دنگ رہ گیا۔ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے، اس نے لائٹر پکڑا اور اس آدمی کے نام دس لاکھ ڈالر کا چیک لکھ دیا۔
"اتنی جلدی نہیں،" بے گھر آدمی نے کہا۔ "مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ یہ چیک اصلی ہے؟" چنانچہ وہ دونوں عرب کے بینک گئے اور چیک کیش کروایا۔ رقم کی تصدیق ہونے کے بعد، انہوں نے مصافحہ کیا اور اپنے اپنے راستے پر چل دیے۔
عرب جوش و خروش میں اپنے محل کی طرف بھاگا۔ اپنی بڑی میز پر بیٹھ کر اس نے سنہری لائٹر جلایا۔ یقیناً، جن دوبارہ حاضر ہوا۔ "جناب، آپ کی کیا خواہش ہے؟"
عرب مسکرایا اور بولا، "سب سے پہلے، مجھے وہ دس لاکھ ڈالر واپس چاہیے جو میں نے تمہارے لیے ادا کیے ہیں۔ پھر مجھے ایک نئی سپر یاٹ (بڑی کشتی) چاہیے، میرا اپنا 'لیئر' پرائیویٹ جیٹ، گیراج میں تازہ ترین ماڈل کی رولز رائس، اور ان سب کی ایرانی میزائلوں سے حفاظت کے لیے ایک ناقابلِ شکست 'آئرن ڈوم' (دفاعی نظام) چاہیے۔"
جن شرمندہ سا نظر آیا اور بولا، "معذرت خواہ ہوں جناب... میں صرف چائے یا کافی پیش کر سکتا ہوں۔ کیا آپ اس میں چینی لینا پسند کریں گے؟"
عربوں کے ساتھ امریکہ نے یہی کیا ہے
اسیں اُس ویلے دے سنگتی آں
جتھے ظالم نوں دھتکارن لئی
نہ لفظاں ساڈی بانہھ نپی
نہ جیبھاں ساڈے نال رہیاں
اسیں چُپ چپیتی رو دھو کے
بددُعاواں دیندے رہ گئے
تیری اکھ دے ساویں ربا ویکھ
ساڈے گاٹے لیندے رہ گئے
سہیل صفدر