کبھی کبھی جو ترے قرب میں گزارے تھے
اب ان دنوں کا تصور بھی میرے پاس نہیں
گزر رہے ہیں عجب مرحلوں سے دیدہ و دل
سحر کی آس تو ہے زندگی کی آس نہیں
مجھے یہ ڈر ہے تری آرزو نہ مٹ جائے
بہت دنوں سے طبیعت مری اداس نہیں
ناصر کا��می
نوجوان کسی قوم کا مستقبل نہیں بلکہ حال ہوتے ہیں۔
جب نوجوان اٹھ کھڑا ہو تو تبدیلی کو کوئی روک نہیں سکتا۔
آؤ اپنی سوچ، علم اور اتحاد سے تاریخ بدلیں۔
#RiseOfYouth_15thJan
نوجوان جب جاگتا ہے تو قوم بدلتی ہے۔
وقت آ گیا ہے آواز بننے کا، کردار دکھانے کا اور مستقبل سنوارنے کا۔
آؤ مل کر ایک نئی سوچ، نئی سمت اور نیا پاکستان بنائیں۔
#RiseOfYouth_15thJan
@iqrarulhassan ایک مضبوط جماعت وہی ہے جس کے اندر بھی جمہوریت ہو۔
لی��رشپ ہمیشہ انٹرنل الیکشن اور میرٹ سے منتخب ہونی چاہیے—
نہ کہ پسند، احسان یا سفارش سے۔
جب فیصلے ایک فرد نہیں بلکہ ایک شفاف نظام کرے،
تب ہی عام کارکن، مڈل کلاس اور نوجوان
اصل قیادت تک پہنچ سکتے ہیں۔
آپ کے پاس کیا دلیل یا منطق ہے کہ پاکستان میں ایک جمہوری جماعت نہیں بننی چاہیے جس کے اپنے اندر جمہوریت ہو؟ جس میں انٹرنل الیکشن کے ذرہعے مخصوص مدت کے لیے لیڈرز منتخب ہوں، جس میں فیصلے کوئی ایک شخص نہیں بلکہ انٹرنل الیکشن کے ذریعے منتخب لوگوں کی کمیٹیاں اور بورڈز مل کر فیصلے کریں، جس میں عام آدمی اور مڈل کلاس نوجوان کے پاس بھی پارٹی سربراہ اور وزیراع��م بننے کا برابر موقع ہو۔۔۔ جہاں نوجوانوں کو عہدے کسی کے احسان یا نامزدگی پر نہیں بلکہ انٹرنل الیکشن کے ذریعے اپنی قابلیت اور میرٹ کی بنیاد پر ملیں۔
سوچئیے کہ ابھی تو ایک عوامی جمہوری سیاسی جماعت کے لیے شروع کی جانے والی تحریک کے نام کا اعلان ہونا ہے، ملک گیر رجسٹریشن کا آغاز ہو گا، یونین کونسل سے لے کر مرکز تک ذمے داریاں تفو��ض کی جائیں گی، سوشل میڈیا ٹیمز تشکیل پائیں گی۔۔۔ اگلے چنددنوں اور چند ہفتوں میں آپ پاکستان میں ایک حقیقی انقلاب آتا دیکھیں گے۔ ایک ایسا انقلاب جو پہلی بار پاکستان کے عام لوگوں کو فیصلے کا اختیار دے گا۔ ایک ایسا انقلاب جس میں پہلی بار پاکستان کے عوام اقتدار کے تخت تک پہنچیں گے۔ ایک ایسا انقلاب جس میں مڈل کلاس نوجوان اس ملک کے لیڈر ہوں گے۔ ایک ایسا انقلاب جس میں صرف امیرزادے نہیں پاکستان کا ایک عام آدمی بھی بااختیار ہو گا۔۔۔ انشاء اللہ
ہمارا نعرہ ہے بلدیاتی نظام کے ذریعے صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ، پولیس اور ڈویلپمنٹ کو مکمل اختیار گلی محلوں میں منتخب نمائندوں کو دے کر گلیوں سے ایوانِ وزیراعظم تک عام آدمی کو بااختیار بنائیں گے۔
کئی حادثے مرے جسم و جاں پہ گزر گئے
مجھے جانے کس کی تھی بددعا میں مرا نہیں
یہ بجا کہ رزق بہت ملا ہمیں قید میں
جو یقین اپنے پروں پہ تھا،وہ رہا نہیں
ترا ساتھ گر میں نہ دے سکا تو برا ہوا
میں برا نہیں ہوں،برا نہیں ہوں،برا نہیں
ساجد رحیم
نجانے کیسے دُکھ سے لڑ رہا ہوں
گلِ تازہ ہوں، پھر بھی سڑ رہا ہوں
وہ میرے ساتھ رہنا چاہتا ہے
روایت خود سے جھوٹی گھڑ رہا ہوں
جسے بخشوں میں آسانی وہ کہہ دے
میں اُس کی مشکلوں کی جڑ رہا ہوں
ثمرؔ جمال