پاکستان کی تعمیر کیلئے اگر کوئی کام ہوسکے گا تو اس وقت ہو سکے گا جبکہ قوم اور اس کے حکمرانوں کا مقصد اور مسلک ایک ہو اور وہ اسلام اور صرف اسلام ہی ہو سکتا ہے_
مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ
وحی کے سیاسی اصول اور عہدِ حاضر کا آئینی تقاضا
اسلامی وحی نے انسانیت کو ایسی سیاسی قدریں عطا کی ہیں جو ایک عادلانہ نظامِ حکومت کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ البتہ ان قدروں کو ہر زمانے، ہر خطے اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق کن اداروں اور عملی طریقوں کی صورت میں نافذ کیا جائے، اس کا معاملہ اجتہاد پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ گویا اسلام نے سیاسی زندگی کے لیے اصول اور اقدار متعین کردیں، لیکن ان کے عملی اظہار کی صورتیں انسانی اجتہاد اور زمانے کے تقاضوں کے حوالے کردیں۔
افسوس کہ اسلامی تاریخ میں یہ سیاسی قدریں اپنی پوری قوت کے ساتھ نشوونما نہ پاسکیں، بلکہ طویل عرصے تک کمزوری اور بے عملی کا شکار رہیں۔ اس کا سبب اسلام کی تعلیمات میں کوئی نقص نہ تھا، بلکہ وہ مخصوص تاریخی حالات تھے جن میں اسلام کا ظہور ہوا: ایک طرف جزیرہ نمائے عرب کا سیاسی خلا تھا اور دوسری طرف اس کے گرد و پیش میں قائم عظیم سلطنتوں کا دباؤ۔ ان حالات نے اسلامی سیاسی قدروں کے ارتقا اور ان کے ادارہ جاتی اظہار کی راہ میں بڑی رکاوٹیں پیدا کیں۔
آج مسلمانوں کے سامنے اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں کہ وہ ان سیاسی قدروں کو ازسرِنو زندہ کریں اور اس پوشیدہ قوت اور امکان کو عملی صورت دیں جو اسلامی وحی نے ان کے اندر ودیعت کیا ہے۔ یہی راستہ انہیں اپنی ذات کے ساتھ بھی صلح و مصالحت کی منزل تک پہنچا سکتا ہے اور باقی انسانیت کے ساتھ بھی ایک عاد��انہ تعلق قائم کرنے کے قابل بنا سکتا ہے۔ لیکن اس مقصد کا حصول دو بنیادی شرائط پر منحصر ہے۔
پہلی شرط یہ ہے کہ اسلامی سیاسی فکر کو اس خوف کی نفسیات سے نجات دلائی جائے جو صدیوں سے اس پر مسلط چلی آرہی ہے؛ یعنی وہ نفسیات جو ہر سیاسی تبدیلی کو فتنہ سمجھتی، ظلم کے خلاف مزاحمت سے روکتی اور استبداد کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کو مصلحت کا نام دیتی ہے۔ اس کے بجائے سیاسی ظلم کے خلاف اصولی، جرأت مندانہ اور انقلابی اقدام کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔
دوسری شرط یہ ہے کہ اسلام کی سیاسی قدروں کو ایسے دستوری اور آئینی اداروں اور طریقِ کار کی صورت دی جائے جو ایک طرف اسلامی وحی کے بنیادی تقاضوں سے پوری طرح ہم آہنگ ہوں اور دوسری طرف معاصر علاقائی ریاست کی حقیقتوں، ساخت اور عملی ضروریات کو بھی پیشِ نظر رکھیں۔ محض اصولوں کا اعلان کافی نہیں؛ جب تک وہ ریاست کے آئینی ڈھانچے، اداروں اور عملی نظام میں اپنی جگہ نہیں بناتے، اس وقت تک ان کی قوت معاشرے کی تعمیر میں بروئے کار نہیں آسکتی۔
(محمد المختار الشنقیطی)
#الأزمةالدستوريةفي_الحضارةالإسلامية
Construction workers in Lahore are facing growing difficulties as dense smog and toxic air blanket the city, posing serious health risks and disrupting their daily livelihoods
وحی کے سیاسی اصول اور عہدِ حاضر کا آئینی تقاضا
اسلامی وحی نے انسانیت کو ایسی سیاسی قدریں عطا کی ہیں جو ایک عادلانہ نظامِ حکومت کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ البتہ ان قدروں کو ہر زمانے، ہر خطے اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق کن اداروں اور عملی طریقوں کی صورت میں نافذ کیا جائے، اس کا معاملہ اجتہاد پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ گویا اسلام نے سیاسی زندگی کے لیے اصول اور اقدار متعین کردیں، لیکن ان کے عملی اظہار کی صورتیں انسانی اجتہاد اور زمانے ک�� تقاضوں کے حوالے کردیں۔
افسوس کہ اسلامی تاریخ میں یہ سیاسی قدریں اپنی پوری قوت کے ساتھ نشوونما نہ پاسکیں، بلکہ طویل عرصے تک کمزوری اور بے عملی کا شکار رہیں۔ اس کا سبب اسلام کی تعلیمات میں کوئی نقص نہ تھا، بلکہ وہ مخصوص تاریخی حالات تھے جن میں اسلام کا ظہور ہوا: ایک طرف جزیرہ نمائے عرب کا سیاسی خلا تھا اور دوسری طرف اس کے گرد و پیش میں قائم عظیم سلطنتوں کا دباؤ۔ ان حالات نے اسلامی سیاسی قدروں کے ارتقا اور ان کے ادارہ جاتی اظہار کی راہ میں بڑی رکاوٹیں پیدا کیں۔
آج مسلمانوں کے سامنے اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں کہ وہ ان سیاسی قدروں کو ازسرِنو زندہ کریں اور اس پوش��دہ قوت اور امکان کو عملی صورت دیں جو اسلامی وحی نے ان کے اندر ودیعت کیا ہے۔ یہی راستہ انہیں اپنی ذات کے ساتھ بھی صلح و مصالحت کی منزل تک پہنچا سکتا ہے اور باقی انسانیت کے ساتھ بھی ایک عادلانہ تعلق قائم کرنے کے قابل بنا سکتا ہے۔ لیکن اس مقصد کا حصول دو بنیادی شرائط پر منحصر ہے۔
پہلی شرط یہ ہے کہ اسلامی سیاسی فکر کو اس خوف کی نفسیات سے نجات دلائی جائے جو صدیوں سے اس پر مسلط چلی آرہی ہے؛ یعنی وہ نفسیات جو ہر سیاسی تبدیلی کو فتنہ سمجھتی، ظلم کے خلاف مزاحمت سے روکتی اور استبداد کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کو مصلحت کا نام دیتی ہے۔ اس کے بجائے سیاسی ظلم کے خلاف اصولی، جرأت م��دانہ اور انقلابی اقدام کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔
دوسری شرط یہ ہے کہ اسلام کی سیاسی قدروں کو ایسے دستوری اور آئینی اداروں اور طریقِ کار کی صورت دی جائے جو ایک طرف اسلامی وحی کے بنیادی تقاضوں سے پوری طرح ہم آہنگ ہوں اور دوسری طرف معاصر علاقائی ریاست کی حقیقتوں، ساخت اور عملی ضروریات کو بھی پیشِ نظر رکھیں۔ محض اصولوں کا اعلان کافی نہیں؛ جب تک وہ ریاست کے آئینی ڈھانچے، اداروں اور عملی نظام میں اپنی جگہ نہیں بناتے، اس وقت تک ان کی قوت معاشرے کی تعمیر میں بروئے کار نہیں آسکتی۔
(محمد المختار الشنقیطی)
#الأزمةالدستوريةفي_الحضارةالإسلامية
اس قدر سستا اور گھٹیا شعور ملک پر حکومت کرتا ہے کہ اس پر تنقید کرنا خود اپنی توہین ہے۔ کون سنجیدہ شخص پنجاب کے یورپ بن جانے کے دعوے کو غلط ثابت کرتا جچتا ہے۔کون بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کو حکومت سمجھے ، کسے آزاد کشمیر، آزاد لگتا ہے ؟ کسے دعوی ہے کہ کراچی کی نمائندہ پیپلز پارٹی ہے ؟ کے پی میں بیٹھا غیر منتخب گورنر جسے قابض انگریز کے اختیارات حاصل ہیں مگر وہ خود ایک چپڑاسی سے زیادہ کچھ نہیں۔ گلگت بلتستان جسے ا��ک چیف سیکرٹری چلاتا ہے۔
کیسے سینہ چوڑا کر کے مذاق اڑایا جاتا ہے کہ ہمارا سیاست سے تعلق نہیں۔ کس طرح جھوٹ کو ہمارے منہ پر تھوکا جاتا ہے اور ہم اسے نگلتے ہیں۔
کون ایک بندر کے انسان ہونے کی قسم کھانے پر تبصرہ کرے ؟
سرکس میں بھی رسی پر چلتے فنکار الگ ہوتے ہیں، ناچتےمسخرے اور۔
سرکس لگانا تھا تو فنکار ہی دئیے ہوتے ، اتنا بھی کیا مذاق اڑانا تھا کہ ناچتے جوکر ہی مسلط کر ڈالے۔
انگریز نے جیسے دربان کو پگڑی پہنا کر دراصل پوری قوم کو ذلیل کیا تھا، کتوں اور مقامی باشندوں کے لیے اپنے علاقوں کو بند کر دیا تھا، اسی طرح موجودہ انتظام اس قوم کی توہین نہیں تو کیا ہے ؟
آدمی مشکل سہہ لیتا ہے مگر ایسی بےعزتی کہ بے آبرو کر ڈالا جیسے کسی کو قید میں ڈال کر مزہ نہ آئے تو اس کو بے لباس کیا جاتا ہے۔
یہ کام امریکی فوج نے جب عراق پر قبضے کے بعد کیا تو ان میں سے بھی چند کو سزا مل گئی، اپنے ادھر تو وہ بھی ممکن نہیں۔
First foreign astronaut to board Chinese space station
A Pakistani astronaut will join the Shenzhou-24 crewed flight mission as a payload specialist, said the China Manned Space Agency on Saturday.
جنگِ صفین: اسلامی سیاست کا فیصلہ کن موڑ
قدروں کی تاریخ کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اسلام کی سیاسی میراث، فکر اور عملی تطبیق دونوں اعتبار سے، دراصل چار مختلف سیاسی نظام ہائے اقدار کے باہمی تصادم اور امتزاج کی داستان ہے۔ ان میں پہلا اسلام کا معاہداتی ماڈل ہے، جس میں اقتدار کی بنیاد باہمی رضامندی پر رکھی جاتی ہے اور حکمرانوں کو محکوموں کی مرضی اور اجتماعی ارادے کا پابند سمجھا جاتا ہے۔ دوسرا بدویانہ قبائلی سیاست کا ماڈل ہے، جس میں عرب قبیلہ ریاست کے تصور اور اس کی ��طاعت سے گریزاں دکھائی دیتا ہے۔ تیسرا ایرانی سلطانیت کا ماڈل ہے، جو حکمران کو تقدس کا مقام عطا کرتا اور اس کے اقتدار کو عام انسانوں کی جواب دہی سے بالاتر سمجھتا ہے۔ اور چوتھا یونان کی جمہوری روایت کا ماڈل ہے، جس کی روح آزادی، شہری سرگرمی اور اجتماعی سیاسی زندگی کے جوش و خروش سے عبارت تھی۔
جہاں تک یونانی جمہوری ماڈل کا تعلق ہے، وہ اسلام کی آمد سے کئی صدیاں پہلے ہی دم توڑ چکا تھا۔ اسلام کے ظہور کے زمانے تک اس کی صرف دھندلی سی یاد باقی رہ گئی تھی، اگرچہ اس کا ذکر اور اس کی شہرت صدیوں تک باقی رہی۔ مسلمانوں نے یونانی سیاسی فکر سے جو کچھ اخذ کیا، وہ یا تو سطحی نوعیت کا تھا یا پھر اس میں بعض ایسی چیزیں شامل کردی گئیں جن کی اصل یونانی فکر میں موجود نہ تھی۔ اس کی ایک مثال السیاسۃ والفراسۃ فی تدبیر الرئاسۃ نامی کتاب ہے، جسے مترجم ابن بطریق نے خود تصنیف کیا، مگر اسے عظیم فلسفی ارسطو کی طرف منسوب کردیا۔
اس لیے اسلامی تاریخ کے ابتدا��ی دور میں اصل کشمکش صرف اسلام کی سیاسی قدروں اور جزیرہ نمائے عرب کی بدویانہ قبائلی قدروں کے درمیان تھی۔ اسلام کی سیاسی تعلیمات جب قبائلی بغاوت اور خود سری کی ان قدروں سے ٹکرائیں تو اس تصادم نے اسلامی سیاست کے اندر دو نہایت بنیادی اصولوں کے درمیان کشمکش پیدا کردی: ایک امت کی وحدت کا اصول اور دوسرا اقتدار کے جواز کا اصول۔ جنگِ صفین ہی سے اس کشمکش کا فیصلہ اس طرح ہوا کہ وحدتِ امت کو اقتدار کے جائز ہونے کے اصول پر فوقیت حاصل ہوگئی۔ گویا اقتدار کے جواز اور اس کے آئینی استحقاق کا سوال پس منظر میں چلا گیا اور سیاسی وحدت کو برقرار رکھنے کا تقاضا غالب آگیا۔
بعد ازاں اموی ر��است کے خاتمے اور عباسی ریاست کے قیام کے زمانے میں اسلامی معاشرے کے دروازے ساسانی سلطنت کی سیاسی اور فکری میراث کے لیے کھل گئے۔ اس طرح ایرانی سلطانیت کے تصور کو نہ صرف اسلامی سیاست میں داخل ہونے کا موقع ملا، بلکہ اس کے غلبے کے لیے فکری اور اخلاقی جواز بھی اسی میراث سے مستعار لیے گئے۔ اسی راستے سے استبداد کی وہ روایت بھی اسلامی سیاسی زندگی میں داخل ہوئی جس کی جڑیں قدیم زمانے سے مشرقی معاشروں کی گہرائیوں میں پیوست تھیں۔
(محمد المختار الشنقیطی)
جنگِ صفین: اسلامی سیاست کا فیصلہ کن موڑ
قدروں کی تاریخ کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اسلام کی سیاسی میراث، فکر اور عملی تطبیق دونوں اعتبار سے، دراصل چار مختلف سیاسی نظام ہائے اقدار کے باہمی تصادم اور امتزاج کی داستان ہے۔ ان میں پہلا اسلام کا معاہداتی ماڈل ہے، جس میں اقتدار کی بنیاد باہمی رضامندی پر رکھی جاتی ہے اور حکمرانوں کو محکوموں کی مرضی اور اجتماعی ارادے کا پابند سمجھا جاتا ہے۔ دوسرا بدویانہ قبائلی سیاست کا ماڈل ہے، جس میں عرب قبیلہ ریاست کے تصو�� اور اس کی اطاعت سے گریزاں دکھائی دیتا ہے۔ تیسرا ایرانی سلطانیت کا ماڈل ہے، جو حکمران کو تقدس کا مقام عطا کرتا اور اس کے اقتدار کو عام انسانوں کی جواب دہی سے بالاتر سمجھتا ہے۔ اور چوتھا یونان کی جمہوری روایت کا ماڈل ہے، جس کی روح آزادی، شہری سرگرمی اور اجتماعی سیاسی زندگی کے جوش و خروش سے عبارت تھی۔
جہاں تک یونانی جمہوری ماڈل کا تعلق ہے، وہ اسلام کی آمد سے کئی صدیاں پہلے ہی دم توڑ چکا تھا۔ اسلام کے ظہور کے زمانے تک اس کی صرف دھندلی سی یاد باقی رہ گئی تھی، اگرچہ اس کا ذکر اور اس کی شہرت صدیوں تک باقی رہی۔ مسلمانوں نے یونانی سیاسی فکر سے جو کچھ اخذ کیا، وہ یا تو سطحی ن��عیت کا تھا یا پھر اس میں بعض ایسی چیزیں شامل کردی گئیں جن کی اصل یونانی فکر میں موجود نہ تھی۔ اس کی ایک مثال السیاسۃ والفراسۃ فی تدبیر الرئاسۃ نامی کتاب ہے، جسے مترجم ابن بطریق نے خود تصنیف کیا، مگر اسے عظیم فلسفی ارسطو کی طرف منسوب کردیا۔
اس لیے اسلامی تاریخ کے ابتدائی دور میں اصل کشمکش صرف اسلام کی سیاسی قدروں اور جزیرہ نمائے عرب کی بدویانہ قبائلی قدروں کے درمیان تھی۔ اسلام کی سیاسی تعلیمات جب قبائلی بغاوت اور خود سری کی ان قدروں سے ٹکرائیں تو اس تصادم نے اسلامی سیاست کے اندر دو نہایت بنیادی اصولوں کے درمیان کشمکش پیدا کردی: ایک امت کی وحدت کا اصول اور دوسرا اقتدار کے جواز کا اصول۔ جنگِ صفین ہی سے اس کشمکش کا فیصلہ اس طرح ہوا کہ وحدتِ امت کو اقتدار کے جائز ہونے کے اصول پر فوقیت حاصل ہوگئی۔ گویا اقتدار کے جواز اور اس کے آئینی استحقاق کا سوال پس منظر میں چلا گیا اور سیاسی وحدت کو برقرار رکھنے کا تقاضا غالب آگیا۔
بعد ازاں اموی ریاست کے خاتمے اور عباسی ریاست کے قیام کے زمانے میں اسلامی معاشرے کے دروازے ساسانی سلطنت کی سیاسی اور فکری میراث کے لیے کھل گئے۔ اس طرح ایرانی سلطانیت کے تصور کو نہ صرف اسلامی سیاست میں داخل ہونے کا موقع ملا، بلکہ اس کے غلبے کے لیے فکری اور اخلاقی جواز بھی اسی میراث سے مستعار لیے گئے۔ اسی راستے سے است��داد کی وہ روایت بھی اسلامی سیاسی زندگی میں داخل ہوئی جس کی جڑیں قدیم زمانے سے مشرقی معاشروں کی گہرائیوں میں پیوست تھیں۔
(محمد المختار الشنقیطی)
ٹرمپ انتظامیہ دراصل قوت کے بنیادی تصور ہی کو سمجھنے میں ناکام ہے۔ قوت کو محض عسکری برتری یا فوجی طاقت کے ہم معنی قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ اسے ایک پیچیدہ نفسیاتی تعلق کی حیثیت سے سمجھنا ضروری ہے۔ حقیقی قوت کسی ملک کو جبر اور دھونس کے ذریعے نہیں، بلکہ اس کی رضامندی حاصل کرکے اپنے اثر میں لانے کی صلاحیت کا نام ہے۔ فوجی قوت کا استعمال دراصل سیاسی قوت کے نقطۂ عروج کا اظہار ��ہیں، بلکہ اس بات کا اعلان ہے کہ سیاسی قوت سے کام لینے کی صلاحیت ترک کر دی گئی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جنگجویانہ روش اس کی قوت نہیں بلکہ اس کی کمزوری کو آشکار کرتی ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں اس کی جارحانہ کارروائیاں درحقیقت اس امر کا اعتراف ہیں کہ وہ دوسرے ذرائع سے حالات کا رخ متعین کرنے اور واقعات پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کھو چکی ہے۔ اگر یہ ملک اپنی روح ہی کھو بیٹھے تو اس کی تمام فتوحات محض ’’ایک عظیم قوم کے زوال اور سقوط کی تاریخ میں حاشیے کی حیثیت رکھیں گی۔‘‘
(ڈیوڈ ساکس)
بین الاقوامی سیاست: اصولوں پر مفادات کی بالادستی
بین الاقوامی سیاست کا مطالعہ کرتے ہوئے اس حقیقت کو کسی طرح نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ قوموں کے معاملات میں قومی مفادات آج بھی اخلاقی آرزوؤں اور بین الاقوامی اصول و ضوابط پر غالب حیثیت رکھتے ہیں۔ قومیں اپنی خارجہ پالیسی کی توجیہ کرتے ہوئے انصاف، امن، آزادی، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے کتنے ہی بلند بانگ دعوے کیوں نہ کریں، لیکن جب ان کے اپنے مفادات اور ان اخلاقی اصولوں کے درمیان کشمکش پیدا ہوتی ہے تو عموماً اصولوں کی اہمیت باقی نہیں رہتی اور قومی مفادات ہی ان کے فیصلوں کا معیار بن جاتے ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ بین الاقوامی سیاست میں اخلاقی اصولوں کی حیثیت اکثر مستقل اور غیر متغیر نہیں ہوتی، بلکہ ان کی تعبیر و تشریح بھی قومی مفادات کے تابع کر دی جاتی ہے۔ جو اق��ام ایک قوم کے مفادات کے لیے ضروری اور جائز قرار پاتا ہے، وہی اقدام کسی دوسری قوم کے مفادات کے خلاف ہو تو قابلِ اعتراض ٹھہرتا ہے۔ چنانچہ بین الاقوامی قانون اور اخلاقی ضابطوں کی پابندی بھی اکثر اسی وقت تک ملحوظ رکھی جاتی ہے جب تک وہ طاقت ور قوموں کے سیاسی، معاشی اور تزویراتی مقاصد کی راہ میں حائل نہ ہوں۔
لہٰذا عالمی سیاست کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ قوموں کے اعلانیہ اصولوں اور ان کے عملی طرزِ عمل کے درمیان فرق کو پیشِ نظر رکھا جائے۔ محض اخلاقی دعووں، امن کے نعروں اور بین الاقوامی ضابطوں کے حوالوں سے یہ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ کوئی قوم درحقیقت کس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اس کے لیے دیکھنا ہوگا کہ اس کے حقیقی مفادات کیا ہیں، طاقت کے توازن میں اس کا مقام کیا ہے اور ان مفادات کے حصول کے لیے وہ کن اصولوں کو اختیار کرتی اور کنہیں نظرانداز کر دیتی ہے۔ یہی بین الاقوامی سیاست کی وہ تلخ حقیقت ہے جس سے آنکھیں بند کرکے اس کے معاملات کو سمجھنا ممکن نہیں۔
پٹرول چار سو روپے لیٹر سے اوپر جا رہا تھا۔ تن جماعت اسلامی نے نظام میں موجود خرابی کی نشاندہی کی جس کے تحت ریفائنریز لو منافع کی ادائیگی ایک سے زائد مرتبہ ہو رہی تھی۔ اب فی لیٹر باون روپے کمی بنتی ہے جس پریہ قیمت لائی جا رہی ہے۔ وزارت پٹرولیم والے رشوت خور ڈوب مریں، جو اس لوٹ مار میں شریک تھے۔ کروڑوں کی تنخواہیں لے کر۔
آزادی و خود مختاری (Strategic Self Reliance) ہی اصل طاقت ہے
ایران جنگ کے بعد کے واقعات نے عالمی سیاسیات کے اس بنیادی اصول کو پھر پوری قوت سے واضح کردیا ہے کہ ملکوں کی اصل طاقت ان کی آزادی، خودمختاری اور خود انحصاری ہوتی ہے۔ نئے عالمی حالات میں بالخصوص، ملکوں کی قوت (strength)نہ ان کی معیشت کے حجم سے طے ہورہی ہے اور نہ فوج اور فوجی طاقت سے بلکہ قوت کا اصل راز اب یہ ہوگیا ہے کہ آپ بیرونی دباؤ کو برداشت کرنے اور دوسرے ملکوں پر انحصار کی معذوری کا شکار ہوئے بغیر آزادانہ فیصلے کرنے کی کتنی صلاحیت رکھتے ہیں؟
دولت، اسلحہ اور افواج کی بہتات، تیل اور معدنیات جیسے بنیادی وسائل پر تسلط اور اہم ترین عالمی گزرگاہوں پر کنٹرول کے باوجود، اگر آپ کا انحصار کسی بھی عالمی طاقت پر ہو تو نہ آپ کے علاقے اور عوام کی سلامتی یقینی ہے اور نہ آپ کے مفادات محفوظ ہیں۔ یہ حقیقت اب پالیسی کی سطح پر بڑے پیمانے پر تسلیم کی جانے لگی ہے اور اُن ممالک میں بھی تسلیم کی جانے لگی ہے جو برسوں سے "سپر پاور" کے سائے میں خود کو مکمل طور پر محفوظ سمجھتے رہے تھے۔ امور خارجہ کے ماہرین کے درمیان کرائے گئے ایک عالمی سروے کے مطابق اب اسٹریٹجک خود انحصاری strategic self-reliance کو خارجہ پالیسی کی اولین اور اہم ترین ترجیح مانا جارہا ہے اور اُسے ملکوں کی معاشی ترقی اور جنگوں کی روک تھام جیسے اہداف پر بھی فوقیت دی جانے لگی ہے۔
قطر کے امیر شیخ تمیم الثانی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر میں کہا کہ مشرق وسطی کا اصل مسئلہ ایک ایسے مشترکہ علاقائی سلامتی کے نظام کا نہ ہونا ہے جو خود مختاری، سرحدوں کے احترام، تنازعات کی پر امن یکسوئی اور عدم مداخلت جیسے اصولوں پر مبنی ہو۔ یعنی جس ملک میں مشرق وسطی کا سب سے بڑا امریکی فوجی اڈہ ہے، وہ بھی اب یہ محسوس کرنے لگا ہے کہ اصل ضرورت علاقے کے ملکوں کے باہمی تعاون پر مبنی آزاد سلامتی کے نظام کی ہے۔
(سید سعادت اللہ حسینی)
آزادی و خود مختاری (Strategic Self Reliance) ہی اصل طاقت ہے
ایران جنگ کے بعد کے واقعات نے عالمی سیاسیات کے اس بنیادی اصول کو پھر پوری قوت سے واضح کردیا ہے کہ ملکوں کی اصل طاقت ان کی آزادی، خودمختاری اور خود انحصاری ہوتی ہے۔ نئے عالمی حالات میں بالخصوص، ملکوں کی قوت (strength)نہ ان کی معیشت کے حجم سے طے ہورہی ہے اور نہ فوج اور فوجی طاقت سے بلکہ قوت کا اصل راز اب یہ ہوگیا ہے کہ آپ بیرونی د��اؤ کو برداشت کرنے اور دوسرے ملکوں پر انحصار کی معذوری کا شکار ہوئے بغیر آزادانہ فیصلے کرنے کی کتنی صلاحیت رکھتے ہیں؟
دولت، اسلحہ اور افواج کی بہتات، تیل اور معدنیات جیسے بنیادی وسائل پر تسلط اور اہم ترین عالمی گزرگاہوں پر کنٹرول کے باوجود، اگر آپ کا انحصار کسی بھی عالمی طاقت پر ہو تو نہ آپ کے علاقے اور عوام کی سلامتی یقینی ہے اور نہ آپ کے مفادات محفوظ ہیں۔ یہ حقیقت اب پالیسی کی سطح پر بڑے پیمانے پر تسلیم کی جانے لگی ہے اور اُن ممالک میں بھی تسلیم کی جانے لگی ہے جو برسوں سے "سپر پاور" کے سائے میں خود کو مکمل طور پر محفوظ سمجھتے رہے تھے۔ امور خارجہ کے ماہرین کے درمیان کرائے گئے ایک عالمی سروے کے مطابق اب اسٹریٹجک خود انحصاری strategic self-reliance کو خارجہ پالیسی کی اولین اور اہم ترین ترجیح مانا جارہا ہے اور اُسے ملکوں کی معاشی ترقی اور جنگوں کی روک تھام جیسے اہداف پر بھی فوقیت دی جانے لگی ہے۔
قطر کے امیر شیخ تمیم الثانی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر میں کہا کہ مشرق وسطی کا اصل مسئلہ ایک ایسے مشترکہ علاقائی سلامتی کے نظام کا نہ ہونا ہے جو خود مختاری، سرحدوں کے احترام، تنازعات کی پر امن یکسوئی اور عدم مداخلت جیسے اصولوں پر مبنی ہو۔ یعنی جس ملک میں مشرق وسطی کا سب سے بڑا امریکی فوجی اڈہ ہے، وہ بھی اب یہ محسوس کرنے لگا ہے کہ اصل ضرورت علاقے کے ملکوں کے باہمی تعاون پر مبنی آزاد سلامتی کے نظام کی ہے۔
(سید سعادت اللہ حسینی)
امت مسلمہ کو لاحق اصل بیماری: سیاسی استبداد
الملل والنحل کے مصنف محمد بن عبد الکریم شہرستانی نے اسلامی تہذیب کے اس ناسور کی نشان دہی کردی تھی جس نے صدیوں سے اس کی قوت کو کھوکھلا اور اس کی زندگی کو مضمحل کر رکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’امت میں سب سے بڑا اختلاف امامت(خلافت) کا اختلاف ہے۔ اس لیے کہ اسلام کے کسی دوسرے دینی مسئلے پر وہ خون ریز معرکے برپا نہیں ہوئے جو ہر زمانے میں امامت(خلافت) کے مسئلے پر برپا ہوتے رہے ہیں۔‘‘
شہرستانی نے اس طرح محض ایک تاریخی واقعے کی نشان دہی نہیں کی، بلکہ مسئلے کی تہہ تک پہنچ کر یہ حقیقت واضح کردی کہ اسلامی تہذیب کا بنیادی بحران دراصل آئینی بحران ہے؛ یعنی یہ سوال کہ اقتدار کا جائز حق دار کون ہے، اسے حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہے اور ایک حاکم سے دوسرے حاکم تک اس کی منتقلی کن اصولوں کے تحت ہونی چاہیے۔
عصر حاضر کے صاحبِ بصیرت مسلمان مفکرین نے شہرستانی کی اس تشخیص سے ا��تلاف نہیں کیا۔ ان میں عبد الرحمن کواکبی کا نام خاص طور پر قابلِ ذکر ہے، جنہیں ابن خلدون کے بعد مسلم سیاسی فکر کا سب سے بڑا مفکر قرار دیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے امت کے اس طویل سیاسی انحطاط کی صحیح تشخیص کو اپنے فکری مشن کا بنیادی مقصد بنایا۔ کواکبی نے اس فتور کی جڑیں تلاش کرنے کے لیے محض قیاس آرائی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ تحقیق و استقراء کا راستہ اختیار کیا اور مختلف اسباب کا جائزہ لے کر ان کے اصل سرچشمے تک پہنچنے کی کوشش کی۔
یہاں ایک نہایت قابلِ توجہ بات سامنے آتی ہے۔ کواکبی نے اپنی کتاب ام القری میں اسلامی امت کے عمومی زوال اور انتشار کے اسباب پر بحث کرتے ہوئے تحقیق ��ا دائرہ بہت وسیع رکھا اور چھیاسی اسباب گنوائے۔ لیکن جب وہ اپنی دوسری کتاب طبائع الاستبداد میں ان تمام اسباب کی جڑ تک پہنچے تو انہیں معلوم ہوا کہ ان سب کے پیچھے ایک ہی بنیادی علت کارفرما ہے: سیاسی استبداد۔ گویا امت کی بیماری کی جڑ بھی یہی ہے اور اس کی مصیبت کا اصل سرچشمہ بھی یہی۔ کواکبی نے اسلامی تہذیب کے عمومی انحطاط اور سیاسی استبداد کے درمیان علت و معلول کا تعلق واضح کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ اس مرض کا علاج صرف ’’آئینی شورائیت‘‘ میں مضمر ہے۔
اپنی کتاب کے آغاز ہی میں وہ لکھتے ہیں:
’’چوں کہ میرے سامنے یہ حقیقت بالکل واضح ہوچکی ہے کہ اصل بیماری سیاسی استبداد ہے اور اس کا علاج آئینی شورائیت کے ذریعے اس کا خاتمہ کرنا ہے۔‘‘
اپنے تجزیے میں کواکبی شہرستانی سے بھی ایک قدم آگے بڑھ گئے۔ شہرستانی نے افسردگی کے ساتھ یہ حقیقت بیان کی تھی کہ امامت کے مسئلے پر اٹھنے والی تلواریں مسلم امت کی گردنوں پر صدیوں سے مسلط ہیں۔ لیکن کواکبی نے اس سے آگے بڑھ کر یہ دریافت کیا کہ ان سیاسی فتنوں کی اصل بنیاد سیاسی استبداد ہے، جو خلافتِ راشدہ کے بع�� سے اسلامی تاریخ کے دامن سے چمٹا ہوا ہے۔ ان کے الفاظ میں:
’’استبداد سب سے بڑی مصیبت ہے، اس لیے کہ وہ فتنوں کا دائمی سرچشمہ ہے۔‘‘
کواکبی نے اس حقیقت کی طرف بھی توجہ دلائی کہ مسلمانوں کے بیشتر اعتقادی اختلافات کی جڑیں دراصل ان کے سیاسی اختلافات میں پیوست ہیں۔ ان کے نزدیک مسلمانوں نے خلافت اور ملوکیت کے مسئلے پر ایک دوسرے سے جنگیں لڑیں، گروہوں میں بٹے، باہم قوت آزمائی کی، قتل و خون ریزی کا بازار گرم کیا اور بالآخر سیاسی گروہ بندیوں نے انہیں دینی ��رقہ بندیوں میں بھی مبتلا کردیا۔ اس طرح جو اختلاف ابتدا میں اقتدار کی کشمکش سے پیدا ہوا تھا، وہ رفتہ رفتہ عقیدے اور مذہب کے نام پر بھی تقسیم کا سبب بن گیا۔
گزشتہ چند دہائیوں میں سیاست کے اسی رنگ میں رنگا ہوا مذہبی انتشار عالم اسلام میں اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ جس خطے کو ’’دار الاسلام‘‘ ہونا چاہیے تھا، وہ عملاً ’’دار الحرب‘‘ کا منظر پیش کرنے لگا ہے؛ حالاں کہ اس کا حقیقی تشخص تو ’’دار السلام‘‘ کا ہونا چاہیے تھا۔ ارضی سیاسیات کے معروف مصری ماہر جمال حمدان نے بھی اس المیے کو محسوس کیا اور نہایت تلخ الفاظ میں لکھا:
’’افسوس کہ دار الاسلام، دار الحرب میں تبدیل ہوگ��ا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے عالم اسلام مسلسل جنگوں کا میدان بنا ہوا ہے۔ کہیں اسلامی ریاستیں ایک دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار ہیں، کہیں ایک ہی اسلامی ریاست کے اندر خانہ جنگیاں جاری ہیں، اور کہیں ان مسلم اقلیتوں کو جنگوں کی آگ میں جھونکا جارہا ہے جو عالم اسلام سے باہر یا اس کے چھوڑے ہوئے علاقوں میں آباد ہیں۔ یہ تمام جنگیں ایک پھندا بن کر عالم اسلام کو اپنی گرفت میں لے رہی ہیں؛ مشرق بعید سے مغرب بعید تک اور شمال بعید سے جنوب بعید تک۔‘‘
فلسفی مالک بن نبی بھی اسلامی تہذیب کے زوال کی بنیادی وجہ اس کے قدیم آئینی بحران کو قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اس بحران کا آغاز پہلی صدی ہجری کے وسط میں برپا ہونے والے فتنۂ اکبر کے دوران ہوا، جب سیاسی اقتدار کا جواز اپنی بنیادیں کھونے لگا۔ مالک بن نبی کے تجزیے کے مطابق اسلامی تہذیب کا زوال، جو اس کی پیدائش کے تقریباً آٹھ سو برس بعد اپنی تکمیل کو پہنچا، کسی ایک حادثے یا اچانک رونما ہونے والی تبدیلی کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ یہ صدیوں کی مسلسل کاوشوں، غلط فیصلوں اور سیاسی انحرافات کا حاصل تھا۔ اس زوال کا بیج فتنۂ اکبر کے دوران جنگِ صفین میں بویا گیا تھا۔
بظاہر یہ ایک سیاسی اور عسکری اختلاف تھا، لیکن اپنی گہری حقیقت میں اس نے اسلامی تہذیب کے مستقبل کا رخ متعین کردیا تھا۔ مالک بن نبی اس تاریخی تبدیلی کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’یہ تبدیلی، یعنی زوال، اچانک رونما نہیں ہوا تھا، بلکہ وہ اس طویل انحراف کا دور رس نتیجہ تھا جس کا آغاز صفین میں ہوا۔ اس انحراف نے عصبیت پر مبنی بادشاہت کو خلافت پر مبنی جمہوری حکومت کی جگہ لا کھڑا کیا اور ریاست اور عوامی ضمیر کے درمیان ایک گہری خلیج حائل کردی۔ اس ایک تبدیلی کے اندر وہ تمام سیاسی چیرہ دستیاں اور تضادات پوشیدہ تھے جو مستقبل میں عالم اسلام کے قلب میں جنم لینے والے تھے۔
یہ وہ تاریخی موڑ تھا جہاں اسلامی تہذیب اپنے ارتقا کی راہ سے ہٹ گئی۔ یہ محض ایک سیاسی نظام کی تبدیلی نہ تھی، بلکہ اقدار کی ایک ایسی معکوس تبدیلی تھی جس نے پورے تہذیبی سفر کی سمت بدل دی۔ اس مرحلے پر معاملہ صرف ریاست کے ڈھانچے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ خود انسان بھی اس تبدیلی کی زد میں آجاتا ہے۔ وہ انسان جو کبھی تہذیب کی تعمیر کا حوصلہ رکھتا تھا، رفتہ رفتہ اپنی تہذیبی قوت اور خود اعتمادی کھو بیٹھتا ہے؛ اور جب اس کا یہ حوصلہ ر��صت ہوجاتا ہے تو وہ اپنی ترجمانی اور تخلیق کی صلاحیت سے بھی محروم ہونے لگتا ہے۔‘‘
(محمد المختار الشنقیطی)
Losing gambler energy, can't walk away from the table. Boss is prepping the next war phase while America teeters on an Israel-First cliff. Skip the TED talk. Why not say this to your boss?
‘Muslim’ emirati quoting the BIBLE against another Muslim (?)
You genuinely can’t make this up bro
These people are so terrorised by the ikhwanis it’s insane
امریکہ کے انتخابات پر سب سے بہترین تجزیہ 💯
"Under the particular circumstances of 2026, it was simply too difficult to hide the sun of the cost-of living crisis with a fascist middle finger."
A Bad Day for Bigotry?
Demagoguery, hate, and fearmongering are proven electoral tactics. This is, after all, how Trump conquered the White House, not once but twice.
Such tactics have also served Israel’s longest-serving leader, Binyamin Netanyahu, particularly well, and have been central to the rise of the extreme right in Europe.
Yesterday the playbook crashed out in the US mid-term elections. It not only failed, it backfired spectacularly.
I would nevertheless be wary about concluding that it failed because the US voter rejected the hate, racism, and bigotry that was manufactured on an industrial scale to sway these elections. A shockingly high number of them embraced this agenda, and embraced it eagerly.
The playbook failed, I think, because an even larger number of voters determined that their head of state is a clinically insane congenital liar utterly disconnected from reality; because the campaign of hate and bigotry was too transparently conducted on behalf of the interests of a foreign state, and one that has furthermore embroiled the US in a costly foreign war while openly interfering in US domestic affairs; and because the politics of hate were too obviously being promoted to shut down and dismiss meaningful discussion and debate about the issues that voters actually care about.
In contrast to other elections, including Trump’s, where demagoguery and hate has been a winning formula, this time the argument that Americans were suffering because of immigrants, Muslims, and various others was not seriously promoted. Because it couldn’t be.
Instead, voters were served months of endless hysteria about the Muslim Brotherhood, anti-Semitism, sharia, communism, and similar nonsense that failed to gain serious traction. It didn’t even work in Michigan’s Jewish community.
Under the particular circumstances of 2026, it was simply too difficult to hide the sun of the cost-of living crisis with a fascist middle finger.
Voters were too pre-occupied with gas and grocery prices to obsess over claims about something Hasan Piker said in 1629 or about Abdul El-Sayed’s great-great-grandmother fourteen times removed.
The specific circumstances of 2026 made the politics of kiss up, kick down an untenable proposition. Elon Musk committed no less than half a billion dollars to the eighteenth century, and got his ass handed to him.
The above notwithstanding, the demagogues and fearmongers are not going to accept defeat. If anything, their hysteria is reaching unprecedented heights. Their meltdown is approaching a successful experiment in nuclear fusion.
It is important to recognize that these fanatics are not only promoting hate and bigotry, but also inciting violence, in my view deliberately and knowingly so.
People, including young children in the United States, have already been murdered as a direct result of their ceaseless campaigns of hate and bigotry.
These fanatic ideologues now view the stakes as nothing short of existential. They will double down, and bring the house down, before accepting their fate.
And like their favorite state they will stop at nothing. Absolutely nothing.
Fasten your seatbelts.