9th OIC Ministerial Conference on Women to begin in Islamabad tomorrow
Pakistan will host the 9th OIC Ministerial Conference on Women in Islamabad on July 12–13, bringing together around 190 delegates from 57 OIC member states. The conference aims to strengthen cooperation on women's empowerment by promoting greater socio-economic and political participation across OIC member countries.
نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین حکومتِ پاکستان کی میزبانی میں وزارتِ انسانی حقوق کے زیرِ اہتمام یہ اہم کانفرنس 12 تا 13 جولائی 2026 کو اسلام آباد میں منعقد ہوگی۔
او آئی سی ممالک میں خواتین کا سماجی، معاشی اور سیاسی استحکام: چیلنجز اور آئندہ کا لائحۂ عمل" کے عنوان سے منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں او آئی سی کے رکن ممالک کے خواتین و خاندانی امور کے وزراء، اعلیٰ سرکاری حکام، او آئی سی کے ذیلی اداروں، بین الاقوامی تنظیموں اور ترقیاتی شراکت داروں کے نمائندگان شرکت کریں گے، جہاں خواتین کے سماجی، معاشی اور سیاسی استحکام کے فروغ سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
Prime Minister Shehbaz Sharif addresses the Provincial Apex Committee under National Action Plan in Quetta to review the security situation in Balochistan.
From local farms to global markets 🥔🌎
Pakistan produces premium-quality potatoes in diverse varieties, meeting both domestic and global demand.
With growing opportunities in value addition, processing, and exports, the potato sector offers strong investment potential.
Explore investment opportunities in Pakistan's agriculture sector. #SIFC is here to facilitate.
32nd Textile Asia International Exhibition | Lahore📍
The event brought together professionals, industrialists, investors, and buyers from across the globe, showcasing the potential of Pakistan’s textile industry 🇵🇰🧶
With over 425 companies and 2,000 international brands participating, the exhibition highlighted 🇵🇰’s growing appeal as a textile and investment destination.
Let’s hear what the participants have to say about #SIFC 🎥
Pakistan's right to water under the IWT is its inalienable right, it is our lifeline which we will protect. India's unilateral failed attempt of holding IWT in abeyance has no legal or moral standing. This act has caused India nothing but embarrassment. It is a clear violation of “One Water-One Vision” principle endorsed by the United Nations.
https://t.co/CMJplb9vOG
" مزید یہ بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ اگر شرائط و ضوابط (Terms and Conditions) طے کرنے میں کوئی مسئلہ پیش آئے تو فریقین اس معاملے کو متعلقہ اتھارٹی کے پاس لے جا سکتے ہیں۔ تاہم، چونکہ یہ پورا عمل باہمی رضامندی (Mutual Consent) اور آزاد مرضی کی بنیاد پر ہوگا، اس لیے اس میں دیگر لازمی میکانزم لاگو نہیں ہوتے۔
البتہ، جب آپ ترمیم شدہ قانون کا جائزہ لیں گے تو اس میں اپیل اور ٹریبونل کا ذکر بھی موجود ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر آپ اپنی خالی زمین پر رضامندی سے کسی کمپنی کو ٹاور لگانے کی اجازت دیتے ہیں، یا آپ اپنے مکان کے کسی حصے سے اپنی مرضی سے انڈر گراؤنڈ لائن گزارنے کی اجازت دیتے ہیں، تو یہ سب آپ کی آزاد مرضی سے ہوگا۔ اگر آپ اجازت نہ دیں تو معاملہ وہیں ختم ہو جائے گا۔
لیکن جب اجازت دے دی جائے اور اس کے بعد فریقین کے درمیان شرائط و ضوابط پر باقاعدہ معاہدہ ہو جائے، تو اگر مستقبل میں اس معاہدے کی خلاف ورزی ہوتی ہے، مثلاً آپ کرایہ بھی وصول کر رہے ہوں اور اچانک ایک دن کنکشن منقطع کر دیں یا معاہدہ یکطرفہ طور پر ختم کر دیں، تو اس طرح نظام نہیں چل سکتے۔ اسی لیے ہم نے اس کے لیے ایک مناسب ڈسپیوٹ ریزولوشن میکانزم فراہم کیا ہے۔
اس صورت میں ایک متعلقہ اتھارٹی موجود ہوگی جو تنازع کا فیصلہ کرے گی۔ اگر آپریٹر کے خلاف شکایت ہو کہ وہ ادائیگی نہیں کر رہا یا معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو اس کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔ اسی طرح اگر مالک، جس نے اپنی آزاد مرضی سے جگہ دی ہے، کرایہ بھی وصول کر رہا ہے اور اپنی رضامندی کے بدلے فائدہ بھی حاصل کر رہا ہے، لیکن معاہدے کی مدت کے دوران بلاجواز رکاوٹ پیدا کرتا ہے یا معاہدہ توڑ دیتا ہے، تو ایسے معاملات کا بھی قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔ روزمرہ زندگی میں بھی ہم جو معاہدے کرتے ہیں، ان کی پابندی کرنا ضروری ہوتا ہے، اسی لیے اس کا باقاعدہ میکانزم فراہم کر دیا گیا ہے۔
بنیادی تبدیلیاں یہی تھیں۔ اس کے علاوہ بعض تعریفی شقوں (Definition Clauses) میں بھی مزید وضاحت کر دی گئی ہے تاکہ کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔ واضح طور پر بیان کر دیا گیا ہے کہ رائٹ آف وے سے کیا مراد ہے، اوور گراؤنڈ اور انڈر گراؤنڈ تنصیبات کیا ہوں گی، ٹیلی کمیونیکیشن آلات کہاں نصب کیے جا سکیں گے، اور "آلات" (Equipment) سے کیا مراد ہے۔ ان وضاحتوں کے بعد یہ پوری کنٹروورسی ختم ہو جائے گی۔
آخر میں، آپ سب کی سہولت کے لیے، کیونکہ اس کے بعد آپ نے بہت سے سوالات کرنے ہیں، میں یہ بتا دوں کہ کمیٹی نے یہ رپورٹ متفقہ طور پر (Unanimously) منظور کی ہے اور وزیراعظم صاحب کو پیش کر دی گئی ہے۔ اب یہ معاملہ ترمیم شدہ مسودے کے ساتھ دوبارہ سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی میں جائے گا۔
اس ترمیم شدہ مسودے میں واضح طور پر درج کر دیا گیا ہے کہ نجی املاک کے مالکان کو ان کی مرضی اور رضامندی کے بغیر کسی بھی قسم کا رائٹ آف وے دینے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ، سرکاری املاک اور بڑی منظم ہاؤسنگ اسکیموں یا بڑے منصوبوں کے لیے الگ میکانزم ہوگا۔
میں یہ بھی واضح کرتا چلوں، جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا گیا، کہ یہ کوئی نیا قانون نہیں ہے۔ رائٹ آف وے کا تصور دہائیوں سے موجود ہے، کیونکہ اس کے بغیر نہ بجلی لوگوں تک پہنچ سکتی ہے، نہ گیس، نہ انٹرنیٹ، نہ کیبل ٹی وی، اور نہ ہی دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔
میرا خیال ہے کہ قانون سازی کے اس عمل میں ہمیں کھلے دل کے ساتھ بیٹھنا چاہیے اور کسی ایک شق کو تنہا دیکھ کر غیر ضروری تشویش میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ جہاں جہاں ہمیں ابہام نظر آیا، وہ قابلِ حل تھا۔ اگر قانون اسی صورت میں بھی رہتا تو عدالتیں اس کی تشریح کر سکتی تھیں، لیکن یہ بہتر ہوا کہ وزیراعظم صاحب کی ہدایت پر بروقت چار تفصیلی اجلاس ہوئے، تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا، اور پھر یہ فیصلہ کیا گیا۔
اب یہ معاملہ اس طرح واضح ہو گیا ہے کہ نجی املاک کے بارے میں صاف الفاظ میں درج کر دیا گیا ہے کہ مالک کی مرضی اور رضامندی کے بغیر اس کی جائیداد کسی بھی مقصد کے لیے استعمال نہیں کی جا سکے گی۔
بہت شکریہ۔"
" کمیٹی نے اپنی فائنڈنگز میں، جن نکات کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں ان کے علاوہ، یہ بھی تجویز کیا کہ چونکہ یہ معاملہ اب عوامی سطح پر آ چکا ہے، اس لیے اس میں مزید وضاحت کر دی جائے تاکہ مکمل شفافیت ہو اور کسی قسم کی کنفیوژن باقی نہ رہے۔ قانون کی عبارت (Plain Reading of Words) ایسی ہونی چاہیے کہ عام آدمی بھی اسے پڑھ کر آسانی سے سمجھ سکے۔
رائٹ آف وے کے حوالے سے بنیادی طور پر تین طرح کی پراپرٹیز ہوتی ہیں جہاں کمپنیوں کو اجازت درکار ہوتی ہے۔ آپ اپنے گھروں کے اردگرد سڑکوں پر دیکھتے ہیں کہ انٹرنیٹ کی تاریں بچھائی جاتی ہیں، پہلے زمانے میں ٹیلی فون کی تاریں ہوتی تھیں، آج کل گیس کی پائپ لائنیں، بجلی کی تاریں، کیبل نیٹ ورک اور دیگر انفراسٹرکچر بھی نصب کیا جاتا ہے۔ یہ کبھی اوور گراؤنڈ اور کبھی انڈر گراؤنڈ ہوتا ہے۔
پہلی قسم پبلک پراپرٹیز کی ہے، جن میں سڑکیں، ریلوے کے اطراف کی زمینیں اور دیگر سرکاری املاک شامل ہیں۔ پہلے ان پر بھی فیس وصول کی جاتی تھی، جس کے باعث افسران اور آپریٹرز کے درمیان کئی کئی سال تک ڈیڈ لاک رہتا تھا اور متعدد منصوبے ادھورے چھوڑ دیے جاتے تھے۔ وزیراعظم صاحب نے صوبائی حکومتوں کے تعاون اور طویل مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ چونکہ یہ سہولت عام لوگوں، خصوصاً نوجوان نسل، اور ایک ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد رکھنے کے لیے ضروری ہے، اس لیے پبلک پراپرٹیز پر رائٹ آف وے کو فری آف کاسٹ کر دیا جائے۔
دوسری کیٹیگری وہ پراپرٹیز ہیں جو پرائیویٹلی اونڈ یا پارشلی اونڈ ہاؤسنگ اسکیمز اور ہاؤسنگ سوسائٹیز پر مشتمل ہیں، جن میں بعض نیم سرکاری ادارے بھی شامل ہیں۔ ہمارے ہاں بڑی بڑی ہاؤسنگ سوسائٹیز موجود ہیں۔ ان کے بارے میں یہ طے کیا گیا کہ انہیں مذاکرات (Negotiation) کا حق حاصل ہوگا اور یہ حق برقرار رہے گا۔ ان کی باہمی رضامندی سے معاملات طے ہوں گے، تاہم وہ بلاجواز درخواست مسترد نہیں کریں گے، اور مناسب نرخوں پر رائٹ آف وے فراہم کیا جائے گا۔ اگر وہ انکار کریں تو معاملہ متعلقہ حکومت کے پاس جائے گا۔
اس حوالے سے تین اصول طے کیے گئے ہیں۔ پہلا یہ کہ جہاں ممکن ہو، رائٹ آف وے فری آف کاسٹ ہوگا۔ دوسرا یہ کہ اگر آپریٹر کے کام سے کسی قسم کا نقصان ہوتا ہے تو وہ اس کی مکمل مرمت یا تلافی کرے گا۔ تیسرا یہ کہ اگر کوئی ایسا معاملہ ہو جہاں فری آف کاسٹ رائٹ آف وے ممکن نہ ہو، تو اس تنازع کا فیصلہ متعلقہ حکومتی اتھارٹی کرے گی، جس میں ڈپٹی کمشنر، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، سیکرٹری کوآپریٹو یا دیگر متعلقہ حکام شامل ہو سکتے ہیں۔ قانون میں ان تمام کیٹیگریز کی وضاحت کر دی گئی ہے۔ وہ معاملہ سن کر فیصلہ کریں گے کہ آیا رائٹ آف وے فری آف کاسٹ ہوگا یا نہیں، اور اگر کسی نقصان کا ازالہ یا معاوضہ بنتا ہے تو وہ بھی مقرر کریں گے۔ اس فیصلے کے خلاف اپیل کا حق بھی فراہم کیا گیا ہے، جو ہائی کورٹ کے حاضر سروس یا سابق جج کی سربراہی میں قائم ٹریبونل کے سامنے دائر کی جا سکے گی۔
تیسری کیٹیگری نجی جائیدادوں (Private Properties) کی ہے۔ ذہن میں رکھیے کہ اس سے مراد وہ جائیدادیں ہیں جو افراد کی ذاتی ملکیت ہیں۔ ان میں ہمارے مکانات بھی شامل ہو سکتے ہیں، دکانیں بھی، خالی پلاٹ بھی، زرعی زمینیں بھی، خواہ وہ چند مرلے ہوں یا سینکڑوں ایکڑ پر مشتمل ہوں۔
اس حوالے سے یہ اصول طے کیا گیا ہے کہ چونکہ نجی افراد کو عمومی مفاد کے نام پر اس بات پر مجبور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اپنے جائیداد کے حقوق سے دستبردار ہوں یا اپنی جائیداد سے حاصل ہونے والے ممکنہ فائدے سے محروم ہو جائیں، اس لیے پہلے قانون میں صرف باہمی مذاکرات (Mutual Negotiation) کا ذکر تھا، لیکن اب واضح کر دیا گیا ہے کہ مالک کی باقاعدہ رضامندی (Consent) لازمی شرط ہوگی۔
اب قانون میں یہ واضح طور پر درج کر دیا گیا ہے کہ اگر کسی نجی جائیداد، خواہ وہ مکان ہو، دکان ہو، خالی پلاٹ ہو یا زرعی زمین، کے اوپر یا نیچے سے کسی بھی قسم کا ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر گزارنا ہو، تو اس کے لیے متعلقہ مالک کی پیشگی اجازت حاصل کرنا لازمی ہوگی، اور یہی اس عمل کی بنیادی شرط (Pre-condition) ہوگی۔"
"اس ایشو پر آج ہمیں بلایا گیا ہے اور بات کرنے کے لیے کہا گیا ہے، جو گزشتہ دنوں سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا میں زیرِ بحث رہا، اور جس پر کافی گفتگو ہوئی۔
میں محترمہ شزا فاطمہ خواجہ صاحبہ کی آخری بات سے آغاز کروں گا کہ کمیٹی نے اس پہلو کا بھی بغور جائزہ لیا، کیونکہ بعض حلقوں کی جانب سے یہ کہا گیا کہ شاید اس میں متعلقہ ڈیپارٹمنٹ یا وزارت کا کوئی مالی مفاد شامل ہے۔ ہم نے اس معاملے کو ہر زاویے سے دیکھا۔ ہماری رائے میں اس کے پیچھے مالی وجوہات نہیں ہو سکتیں، کیونکہ ہزاروں کی تعداد میں کمپنیاں اور چھوٹے آپریٹرز رائٹ آف وے حاصل کرتے ہیں۔ اس لیے یہ تصور کرنا کہ کسی ایک کمپنی کو فائدہ پہنچانے کے لیے ایسا کیا گیا، درست معلوم نہیں ہوتا۔
اگر کوئی ایک مخصوص کیس ہوتا، جس میں کسی ایک جگہ سے گزرنے کی اجازت دے کر کسی کمپنی کو ناجائز فائدہ پہنچایا گیا ہوتا اور کسی کے حقوق پامال کیے گئے ہوتے، تو پھر ایسی بات قابلِ غور ہو سکتی تھی، لیکن اس کے لیے بھی شواہد درکار ہوتے۔ کمیٹی کے سامنے ایسی کوئی بات یا کوئی ایسی کنسیڈریشن نہیں آئی۔ یہ محض ایک الزام تھا۔
میرا خیال ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں صحافت ہو یا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ہونے والی بحث، ہمیں بہت سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہیے۔ اس طرح کے عمومی اور sweeping statements نہیں دینے چاہییں، کیونکہ ان کی وجہ سے لوگوں کے کردار، پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور ساکھ پر غیر ضروری دباؤ پڑتا ہے۔
میں قانونی پہلو بھی واضح کر دوں کہ یہ بل نیشنل اسمبلی سے چھ ترامیم کے ساتھ منظور ہوا۔ اس کے بعد جب یہ سینیٹ میں آیا تو وہاں کمیٹی میں بحث کے دوران کچھ تحفظات سامنے آئے۔ ان میں سب سے اہم معاملہ نجی ملکیت (Privately Owned Property) کا تھا، یعنی افراد یا دیگر نجی مالکان کی جائیدادوں کے حوالے سے کچھ ابہام محسوس کیا جا رہا تھا۔
یہ تاثر پیدا ہو رہا تھا کہ شاید قانون کی منشا یہ ہے کہ مالکِ جائیداد کی رضامندی کے بغیر بھی وہاں سے تاریں گزاری جا سکتی ہیں، یعنی رائٹ آف وے لیا جا سکتا ہے، چاہے وہ انڈر گراؤنڈ ہو یا اوور گراؤنڈ۔ یہاں تک یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا کہ شاید کسی نجی جائیداد یا اس کی چھت پر ٹیلی کام ٹاور یا دیگر ٹیلی کمیونیکیشن آلات نصب کیے جا سکتے ہیں۔
جب پورے قانون کی اسکیم کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ بنیادی قانون 1996 کا تھا، جبکہ 2006 میں رائٹ آف وے اور انٹرنیٹ سے متعلق کنیکٹیویٹی کو بہتر بنانے کے لیے اس میں اہم ترامیم کی گئی تھیں۔ اب جبکہ ہم فائیو جی کی طرف جا رہے ہیں، اور آپ دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان نے اپنے "اڑان پاکستان" پروگرام میں ڈیجیٹل اکانومی، آئی ٹی سے متعلق برآمدات اور آمدنی پر خصوصی توجہ دی ہے، تو یہ شعبہ مزید اہم ہو گیا ہے۔
الحمدللہ، اس سال ہماری آئی ٹی برآمدات تقریباً ساڑھے چار ارب ڈالر تک پہنچ رہی ہیں۔ اس کے علاوہ تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں میں بھی ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی انتہائی ضروری ہے۔ ہمارے فری لانسرز ماشاء اللہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ ہماری خواتین، خصوصاً دور دراز علاقوں میں، اپنے گھروں میں بیٹھ کر دستکاری اور دیگر مصنوعات سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پیش کر رہی ہیں، آن لائن ادائیگیوں کے ذریعے کاروبار کر رہی ہیں، اور ان کی مصنوعات پارسل کے ذریعے ملک بھر میں بھیجی جا رہی ہیں۔ اس طرح کی اور بھی بہت سی سرگرمیاں جاری ہیں، اور یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب مضبوط ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی موجود ہو۔
اسی مقصد اور نیت کے ساتھ جب اس قانون کا جائزہ لیا گیا تو جہاں ابہام موجود تھا اور جہاں بحث کی گنجائش تھی، وہاں بعض اعتراضات کسی حد تک درست تھے اور بعض حد تک درست نہیں تھے۔ اس لیے ہم نے فیصلہ کیا کہ ان نکات کو مزید واضح کر دیا جائے تاکہ کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔
میں ایک بات مزید عرض کرتا چلوں کہ قوانین جب بھی بنتے ہیں، وہ جامد نہیں ہوتے بلکہ وقتاً فوقتاً ان میں ترامیم ہوتی رہتی ہیں۔ مزید یہ کہ اگر کسی قانون میں معمولی یا حتیٰ کہ زیادہ ابہام بھی ہو، تو عدالتیں آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کی روشنی میں اس کی تشریح اور اصلاح کر سکتی ہیں۔ جائیداد کا حق (Right to Own Property) آئین کے تحت ایک بنیادی حق ہے، اس لیے اگر کسی شق سے ایسا تاثر بھی پیدا ہوتا، تو عدالت اس کی درست تشریح کر سکتی تھی۔
تاہم، میں یہ بھی واضح کر دوں کہ ابھی یہ قانون بنا نہیں ہے۔ یہ ابھی قانون سازی کے عمل سے گزر رہا ہے۔ اس وقت یہ صرف ایک بل ہے، قانون نہیں بنا۔"
"مجموعی طور پر نظام کو بہتر بنانا ضروری ہے۔ بطور وزیرِ آئی ٹی، میری بنیادی ذمہ داری ہے کہ ہم ہر صورت ہر بچے اور ہر گھر تک انٹرنیٹ کی سہولت پہنچائیں۔ ان شاء اللہ، ہم اپنی اس جدوجہد کو پوری سنجیدگی اور تسلسل کے ساتھ جاری رکھیں گے۔ تاہم، اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کسی کے بھی بنیادی حقوق کو نظر انداز کیا جائے گا۔
آخر میں، میں صرف یہ کہنا چاہتی ہوں کہ اس پورے معاملے میں میں نے وزیراعظم پاکستان سے بھی گزارش کی ہے کہ جو الزامات لگائے گئے، خصوصاً میڈیا میں جو باتیں کی گئیں اور میری سیکرٹری کی مالی دیانت داری (Financial Integrity) پر جو سوالات اٹھائے گئے، ان کی باقاعدہ انکوائری کرائی جائے۔
اگر ہماری طرف سے کسی بھی قسم کی کوئی کمی یا کوتاہی ثابت ہوتی ہے، تو وزیراعظم جو بھی فیصلہ کریں گے، ہم اس کے ذمہ دار ہوں گے اور پوری ذمہ داری قبول کریں گے، اور جو ہدایت دی جائے گی اس پر عمل کریں گے۔
تاہم، اگر تحقیقات میں ایسی کوئی بات سامنے نہیں آتی، تو پھر ہمارے پاس تمام قانونی راستے موجود ہیں۔ آئین اور ملکی قوانین ہمیں جو حقوق فراہم کرتے ہیں، ان کے مطابق ہم اس معاملے کو آگے بڑھائیں گے، اور اس حوالے سے اپنی قانونی ٹیم اور دیگر متعلقہ افراد سے مشاورت کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل اختیار کریں گے۔"
"یہ بل، جو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ایکٹ سے متعلق ہے، پاکستان کی مجموعی ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کو ریگولیٹ کرتا ہے۔ یہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA)، نیشنل ٹیلی کام، اور پاکستان میں قائم ہونے والے تمام ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو بھی گورن کرتا ہے۔
جب یہ ایکٹ بنایا گیا تھا تو اُس وقت ٹو جی (2G) ٹیکنالوجی کا دور تھا، اس لیے اُس وقت کا قانون آج کی فائیو جی (5G) ٹیکنالوجی اور جدید ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کی ضروریات کے لیے ناکافی ہو چکا تھا۔ آپ سب بھی بارہا اس بات کی شکایت کرتے رہے ہیں کہ پاکستان میں انٹرنیٹ کی رفتار اور سہولت مطلوبہ معیار کی نہیں ہے۔
جب سے ہم آئے ہیں، ہم نے دیکھا کہ صرف دو سال کے دوران پاکستان میں ڈیٹا کنزمپشن تقریباً 25 فیصد بڑھ گئی۔ ماشاء اللہ آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ ڈیٹا کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، اور جیسے جیسے ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے، ڈیٹا کی ضرورت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔
ان تمام چیلنجز اور رکاوٹوں کو سامنے رکھتے ہوئے سب سے بڑا مسئلہ پاکستان میں اسپیکٹرم کی کمی تھی۔ گزشتہ تقریباً 30 سال سے پاکستان کے پاس مجموعی طور پر صرف 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم دستیاب تھا۔ اس حوالے سے میں تمام حکومتوں اور بالخصوص وزیراعظم کی شکر گزار ہوں کہ ہم نے دنیا کی بڑی اسپیکٹرم آکشنز میں سے ایک منعقد کی، جس کے نتیجے میں اسپیکٹرم کی دستیابی 274 میگا ہرٹز سے بڑھا کر تقریباً ساڑھے سات سو (750) میگا ہرٹز تک پہنچا دی گئی، اور پہلی مرتبہ پاکستان میں فائیو جی کے لیے راہ ہموار ہوئی۔
تاہم، فائیو جی کے مؤثر رول آؤٹ کے لیے مضبوط ٹیلی کام انفراسٹرکچر بھی ضروری ہے، جس میں فائبرائزیشن، ٹیلی کام ٹاورز، اور اوور گراؤنڈ و انڈر گراؤنڈ انفراسٹرکچر شامل ہیں۔
دوسری اہم وجہ، جس کے باعث یہ بل لایا گیا اور سہولت کاری کی ضرورت محسوس ہوئی، یہ تھی کہ پاکستان کی 24 کروڑ آبادی میں صرف 30 لاکھ فائبر ہاؤس پاسز موجود تھے، یعنی گھروں اور دفاتر تک فائبر انٹرنیٹ کے صرف 30 لاکھ کنکشن تھے۔ ہم نے دو سال کے اندر اس تعداد کو بڑھا کر 50 لاکھ سے تجاوز کرا دیا۔ اس مقصد کے لیے ہم نے مختلف اقدامات کیے، جن میں سی بی ایس اور ڈسٹرکٹ لیول لائسنسز سمیت دیگر تکنیکی اصلاحات شامل تھیں۔
ہماری کوشش، اور وزیراعظم کا ہدف، یہ ہے کہ آئندہ تین برسوں میں کم از کم ایک کروڑ گھروں تک فائبر کے ذریعے انٹرنیٹ کی سہولت پہنچائی جائے۔ تاہم، بدقسمتی سے پاکستان کا ریگولیٹری نظام سرمایہ کاری کے لیے سازگار نہیں تھا۔ اسی لیے ہماری کوشش رہی کہ رائٹ آف وے (Right of Way) سے متعلق تمام رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔ وزیراعظم نے اس سلسلے میں ایک بڑا اسٹرکچرل ریفارم کیا، جس میں تمام صوبوں نے بھی بہترین کردار ادا کیا۔ حکومت نے رائٹ آف وے کو آسان اور مؤثر بنایا، جس کے نتیجے میں ہم نے سرمایہ کاری میں نمایاں تیزی دیکھی۔"
" یہ بل، جو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن آرگنائزیشن ایکٹ 2006 سے متعلق ہے، اس ایکٹ میں ترمیم کے لیے ہم نے متعارف کرایا۔ اس میں بہت سی ضروری ترامیم درکار تھیں، جن پر میں ابھی آؤں گی، لیکن سب سے پہلے میں یہ بتانا چاہتی ہوں کہ جب ہمارا یہ بل آیا اور ہم نے اسے متعارف کرایا، تو اس سال جنوری میں یہ بل ٹیبل ہوا۔ اس کے بعد نیشنل اسمبلی میں متعدد اجلاسوں اور اسٹینڈنگ کمیٹی کے غور و خوض کے بعد، جب ہمارے اراکین نے اس کا اچھی طرح جائزہ لیا اور ہم نے تقریباً مکمل اتفاقِ رائے پیدا کر لیا، تو جون میں اس بل میں پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے کچھ ترامیم بھی شامل کی گئیں۔ انہی ترامیم کے ساتھ یہ بل جون میں نیشنل اسمبلی سے منظور ہو گیا۔
اس کے بعد جب ہم نے اس بل کو سینیٹ میں پیش کیا، تو اس پر اچھی تجاویز سامنے آئیں، اور ہم اسے اسٹینڈنگ کمیٹی میں لے گئے، جو قانون سازی کے جمہوری عمل کا ایک باقاعدہ حصہ ہے۔ اسٹینڈنگ کمیٹی میں بل پیش کیے جانے کے بعد، ہم نے اسے کمیٹی کے سامنے پڑھا، اور کمیٹی کے اراکین کے جو بھی تحفظات تھے، وہ سامنے آئے۔ ہم نے بل کا مقصد بھی کمیٹی کے سامنے مکمل طور پر واضح کیا۔ تاہم، اس کے بعد کمیٹی کا اجلاس مؤخر کر دیا گیا، کیونکہ اراکین مزید وضاحت بھی چاہتے تھے اور اپنی آراء بھی دینا چاہتے تھے۔ چنانچہ فیصلہ ہوا کہ اگلے دن اس پر مزید تفصیل سے غور کیا جائے۔
اس کے بعد یہ معاملہ میڈیا میں آیا اور عوامی تحفظات بھی سامنے آئے۔ ان تمام امور کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نے اس کا نوٹس لیا اور اس حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دی، جس کی سربراہی وزیرِ قانون کر رہے ہیں۔ اس کمیٹی کی سفارشات کے بارے میں وزیرِ قانون آپ کو تفصیل سے آگاہ کریں گے۔ میں صرف مختصراً اس بل کے بارے میں یہ عرض کرنا چاہوں گی کہ اس کی ضرورت کیوں پیش آئی، اور اگر اس کی کسی بھی شق میں کوئی سقم موجود ہے، تو ان شاء اللہ اسے درست کیا جائے گا۔"