@mohsin__zaid مطلب ایران اور روس پیچھے ہٹ گئے ہیں یا اسرائیل نے پہلے کون سے کم ظلم کیئے ہیں
اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے جو فلسطین کی سرزمین پر قابض اور عورتوں بچوں بزرگوں پر پہلے دن سے ظلم کا بازار گرم کیئے ہوئے ہیں
اسرائیل کا دفاع نظام ریزہ ریزہ ہوا ہے اور حماس پہلے سے مضبوط
اللہ مددگار ہے
وہ 40 اسلامی ممالک نے ایک فوجی اتحاد قائم کیا تھا ، اس کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے پوچھنا تھا کہ جناب کے اتحاد کی فوجیں جناب کی سربراہی میں کب فلسطین پہنچ رہی ہیں ؟ اگر خواب غفلت سے بیدار ہو گئے ہوں تو ذرا غور فرمائیں مظلوم مسلمان آپ کی راہ تک رہے ہیں
حماس نے زخمیوں اور گرفتار اسرائیلی اہلکاروں کے بدلے جنگ بندی سے انکار کر دیا.
حازم قاسم نےکہا: "جنگ بندی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا, اس بار ہم حتمی فتح کی طرف جا رہے ہیں۔"
#AksaTufan#AqsaFlood#IsraelPalestineWar
اسرائیل کا مشہور آئرن ڈوم سسٹم حماس کی طرف سے فائر کیے جانے والے راکٹوں کو نہیں روک سکا
حماس کے ایک راکٹ کی قیمت صرف 300 ڈالر ہے، جبکہ آئرن ڈوم کے ایک میزائل کی قیمت $100,000 سے زیادہ ہے۔
اس خاتون کا حوصلہ، جذبہ الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا، پتھر پھینکنے کے بعد باڈی لینگویج آپ کا کلیجہ چیر دیتی پتا نہیں کتنے پیارے قربان کئے ہوں گے اس عظیم عورت نے۔ مسلم ممالک کے بے غیرت، بےحس ، بےحیاء عیاش حکمران اس عظیم حریت پسند خاتون کے پیروں کی خاک کی برابری بھی نہیں کر سکتے
اپریل ۲۰۲۲ کے اوئل میں جب سائفر کی ڈی کلاسفیکیشن کے متعلق بحث ہورہی تھی تو چند وزراء نے اس فیصلے کی حمایت تو کی مگر ساتھ ہی وزیراعظم کو تنبیہ کی کہ آپ کی مخالف قوتیں (اندرونی اور بیرونی) بہت طاقتور ہیں اور یہ اقدام سیاسی طور پر آپ کی مشکلات میں مزید اضافہ کریگا۔ عمران خان کا جواب وہی تھا جس کی ان سے توقع رکھی جاسکتی ہے۔ “میرا اللہ سب سے طاقتور ہے”، ‘وہ جانتا ہے کہ میں اپنے ملک و قوم کے مفاد کے لیے خود کو مشکل میں ڈال رہا ہوں، وہ میری مدد کریگا’۔ خان صاحب کو اپنے اللہ پر ایمان تو تھا ہی انہیں یہ بھی اعتماد تھا کہ ملک کے تمام ادارے پاکستان کی خوداری کو اتنا ہی مقدم رکھتے ہیں جتنا کہ ان کا فرض بنتا ہے۔ اور وہ اس ضمن میں بننے والی پالیسیوں پر ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ بات انہوں نے میرے سوال کے جواب میں کہی تھی اور میں نے تب بھی زیرِ لب یہی دعا کی کہ اللہ کرے آپ کا یہ اعتماد قائم رہے۔
اسرائیل کے حوالے سے بھی انہیں یہ یقین تھا کہ پاکستان کی سالمیت اور بقا کا حلف لینے والی تمام قوتیں قائدِ اعظم کے فرمان کو مقدم رکھیں گی۔
میں نے گذشتہ سال کیے چند وی لاگز میں بارہا کہا کہ رجیم چینج آپریشن کے دوسرے مرحلے میں خطے میں نئے گیم پلان کے تحت دہشتگردی کی واپسی، یوکرائن اور اسرائیل پالیسی میں پیش رفت پر خصوصی نظر رکھیں۔ دہشتگردی کی واپسی کی تردید کی گئی اور آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس تردید کا بار ہمیں اپنے جنازوں کی صورت اٹھانا پڑ رہا ہے۔ یوکرائن پر بولے گئے جھوٹ بھی بے نقاب ہوئے اور اسرائیل پر موقف تو نگران وزیرِ خارجہ اور کل کے نگران وزیرِ اعظم کے بیان سے واضح ہے۔
اب مڑ کر دیکھیں اور یاد کریں آپ کے وزیرِ اعظم سے سوال ہوا کہ کیا وہ امریکہ کو اڈے فراہم کریگا تو اس نے یکسر اس امکان کو “ایبسلوٹلی ناٹ” کہہ کر رد کردیا۔ تو پھر کون تھا کہ جس سے اڈوں کے حوالے سے ہونے والی بات چیت کا تذکرہ نیو یارک ٹائمز کی خبر میں کیا گیا؟
یورپین یونین کے یوکرائن اور روس کے حوالے سے ارسال کیے گئے خط پر تو ملک کے منتخب وزیراعظم نے ان سے جواباً سوال پوچھا تھا کہ کیا ہم آپ کے غلام ہیں؟ کیا آپ بھارت سے ایسی ڈیمانڈ کرنے کی جسارت کرسکتے ہیں؟ ہم یوکرائن جنگ کی مذمت کریں تو آپ نے فلسطین اور کشمیر پر قبضوں کے حوالے سے کیا کیا ہے؟
ملک کا سربراہ تو عمران خان تھا اور اس کا ریاست کے behalf پر یہ موقف تھا، تو ایک ذیلی ادارے کا سربراہ کیسے ایک کانفرنس میں بیٹھ کر اس پالیسی سے روگردانی کر رہا تھا؟ اور اپنے بیان سے کس کو کیا پیغام دے رہا تھا؟
روس کا دورہ ہو یا یوکرائن جنگ کے حوالے سے مؤقف عمران خان کے ذاتی فیصلے بھی نہیں تھے وہ ریاست کا سربراہ تھا اور ریاست کے مفاد میں دیگر عہدیداروں کے مشورے سے یہ فیصلے کررہا تھا۔ مگر کس کو اپنی ریاست کی خوداری، اس کے مفاد اور اس کی آزادی کی نسبت بیرونی طاقتوں کی خوشنودی مطلوب تھی؟
کیا اب بھی کسی کو یہ شک رہ جاتا ہے کہ ریاستِ پاکستان کے منتخب سربراہ، عمران خان کی پیٹھ میں خنجر بیرونی طاقتوں کی ایماء پر گھونپا گیا تھا؟
آج عمران خان انہی طاقتوں کی منشاء پر جیل میں ہے ڈیمانڈ ہوئ تھی کہ اس کی حکومت گراؤ لیکن کوئ شاہ سے بڑھ کر بھی یاں شاہ کا وفادار نکلا۔
آج رجیم چینج کے ایک ایک ایجنڈے کی تعمیل آپ کو نظر آرہی ہے۔ انسانی حقوق کے علمبرداروں اور جمہوریت کا راگ الاپنے والوں کی پاکستان میں سیاسی اور شخصی آزادی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموشی بھی آپ کو سمجھ آجانی چاہئیے اور یہ بات بھی کہ اپنی غیرت کا بار آپ کو خود اٹھانا پڑیگا کیونکہ یہاں آپ سے مخلص بس وہ ایک آزاد آدمی تھا کہ جو آج اسی جرم میں قید ہے، وہ کہ جس نے آپ کی خوداری، آپ کے مفاد کو اپنی حکومت اور اب تو یوں لگتا ہے کہ اپنی زندگی پر بھی مقدم رکھا ہوا ہے۔
فوج کی تحویل میں مقیدافراد کا دھڑادھڑملٹری کورٹ ٹرائیل شروع ہوچکا ہے۔اٹارنی جنرل کی سپریم کورٹ میں کرائی گئی یقین دہانی اور سپریم کورٹ کی واضح ہدایات ، کہ “جب تک سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں آجاتا،فوجی عدالتیں سویلین کے مقدمات سننے سے پہلے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا جائے گا” باقاعدہ طور پرردی کی ٹوکری کا حصہ بن گئے ہیں۔
فضل الرحمان نے آج کی پریس کانفرنس میں پاکستان کی افغان مہاجرین سے متعلق پالیسی پر بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کو پاکستان مدعو کیا ہے ۔ اداروں سے ایک سوال ہے کہ جناب کوئی غداری یا بغاوت کی FIR ہو گی ؟ ویسے اسرائیلی مظالم پر مولانا نے خاموشی اختیار کرنا مناسب سمجھا ۔