🚨 BIGGEST RECORD FOR BABAR AZAM 🚨
- Babar azam is the only captain in cricket history to captaining a team for 3rd time.
- There’s no replacement of Babar azam in Pakistan team. 🐐
ایک سچ اور ہمارا بے حس نظام
کیا اپ جانتے اس شخص کو جسے پاکستان نے ہٹایا دنیا نے Times Square پر سجایا۔
سابق چیئرمین نادرا طارق ملک نے ایک ڈیٹا نکال کر دکھایا تھا جس نے پاکستان کی حکمران اشرافیہ کی نیندیں اڑا دی تھیں۔ وہ انکشاف یہ تھا کہ 20 لاکھ پاکستانی ہر سال بیرونِ ملک جاتے ہیں مگر ایک روپیہ ٹیکس نہیں دیتے۔
یہ کوئی اندازہ نہیں تھا یہ سب نادرا کے اپنے ڈیٹا بیس سے نکلا ہوا ڈیٹا تھا جسکی اک ٹھوس حقیقت تھی۔
یہ وہ ڈیٹا تھا جو طاقتوروں کے چہروں سے نقاب اٹھا سکتا تھا اور یہی اس کا جرم بھی ثابت ہوا۔اسکو جانا پڑا
طارق ملک نے نادرا کے تحت پاکستان میں 14 کروڑ 50 لاکھ شہریوں کو رجسٹر کیا جو ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک مثال بن گیا۔
انہوں نے Roshan Digital Accounts کے لیے محفوظ تصدیقی نظام بنایا جس کے ذریعے بیرونِ ملک پاکستانیوں نے 7 ارب ڈالر سے زائد پاکستان بھیجے۔
انہیں دنیا کے 25 بہترین ڈیجیٹل شناختی دماغوں میں شامل کیا گیا اور New York کے Times Square پر Nasdaq ڈیجیٹل اسکرین پر پاکستانی پرچم کے ساتھ ان کی تصویر چلتی رہی۔
لیکن پاکستان نے اس بہترین دماغ سے فائدہ نہی اٹھایا ۔ کیونکہ اشرافیہ بے نقاب ہو جاتی
طارق ملک نے جون 2023 میں اپنی میعاد پوری ہونے سے ایک سال پہلے ہی استعفیٰ دے دیا۔ اپنے تین صفحات کے استعفے میں انہوں نے لکھا: میں ایک سیاسی طور پر بوجھل اور پولرائزڈ ماحول میں کام کرنا مشکل پاتا ہوں جہاں پیشہ ورانہ دیانتداری کی بجائے سیاسی وفاداری کو ترجیح دی جاتی ہے۔
انہوں نے وزیرِ اعظم سے یہ بھی گزارش کی کہ ان کی جگہ کسی ریٹائرڈ افسر کو نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کے کسی ماہر کو لایا جائے۔
پھر کیا ہوا؟
استعفے کے بعد معاملہ ختم نہیں ہوا بلکہ شروع ہوا
FIA نے طارق ملک اور 12 دیگر افسران کے خلاف 2 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سے زائد کی مالی بدعنوانی کا مقدمہ درج کیا۔ الزام یہ تھا کہ سمارٹ شناختی کارڈز 3 سینٹ فی کارڈ مارکیٹ ریٹ کی بجائے 99 سینٹ فی کارڈ خریدے گئے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں 14 ارب روپے کی کرپشن کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔
FIA نے ان پر سفری پابندی بھی عائد کر دی۔
اصل سوال
طارق ملک نے جو ڈیٹا نکالا اس نے یہ ثابت کیا کہ لاکھوں پاکستانی بیرونِ ملک آتے جاتے ہیں پیسہ باہر لے جاتے ہیں مگر ٹیکس؟ وہ نہیں دیتے۔ اور یہ لوگ کوئی عام آدمی نہیں یہ وہ طبقہ ہے جو نظام چلاتا ہے۔
اسی سچ نے طارق ملک جس نے دنیا میں نام روشن کیا اسے مجرم بنا دیا گیا۔
یہاں سے اندازہ لگا لجیے کیسے چن چن ��ر پورے پاکستان سے کرپٹ ناتجربہ کار لوگ ڈھونڈے گے انہیں عہدے دیے گئے اب ملک کی حالت اپکے سامنے ہے ۔
سلمی بٹ خو بتا چکی ہیں کہ انہوں نے سی ایم پنجاب کو کہا کہ وہ اس وازرت کا تجربہ نہی رکھتی انہوں نے کہا تم کر لو گی ۔ باقی انکے فنی ٹوٹے مجھے بتانے کی ضرورت نہی ہے وڈا ٹوٹا چھوٹا ٹوٹا نکا ٹوٹا والا کلپ دیکھ لجیے ۔
دوسری طرف خواجہ اصف کی بھانجی لگا دیا گیا شیزا فاطمہ جن کا کوی تجربہ نہی ہے وہ عوام کے گھروں پر قابض ہونے کیلے ٹاور بل لے ائیں ۔
یہ تو صرف دو مثالیں ہیں باقی جس وزارت کو دیکھیں کارکردگی گوگل کر لجیے گا ۔ فری میں بلڈ پریشر بڑھ جاے گا ۔
جب سی ایم پنجاب خود فرما چکی ہیں کہ ہم پاکستان کے بہترین دماغ ایکسپورٹ کریں گے تو اس سے اندازہ لگا لجیے گا کہ ملک کو کیسے چلایا جارہا ہے ۔
تیل کی قیمتوں میں کمی اچھا اقدام ہے لیکن ناکافی ہے !
اگر @PTIofficial حکومت میں @ImranKhanPTI
100 ڈالر پر بیرل کا خرید کر عوام کو 150 روپے لیٹر پہ بیچ رہے تھے تو @CMShehbaz کیسے عالمی مارکیٹ میں ہم سے کم 74 ڈالر پر بیرل کا خرید کر اب بھی 299 یعنی تق��یباً 300 روپے لیٹر بیچنا چاہتے ہیں۔
عوام ک�� آنکھوں میں دھول نہ جھونکیں۔
اگر پیٹرول کی قیمت نواز شریف کی 2017 والی قیمت پہ نہیں لا سکتے جس کے دعوے اور وعدے کیئے جاتے تھے تو کم از کم عمران خان کے دور کی رجیم چینج کے وقت 2022 کی قیمت پہ ہی لا کر دکھاؤ۔
چلو ہمت کرو !
امریکہ میں اوورسیز پاکستانیوں سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار صاحب نے کہا ہے اپنے وطن سے محبت کا ثبوت دیں اور اپنے ملک میں انویسٹ کریں
میرے اسحاق ڈار صاحب سے پانچ سوال ہیں:
پہلا سوال: اسحاق ڈار اور ان کے بچوں کی یو اے ای میں کتنی انویسٹمنٹ ہے اور ان کے بچے خود کب اپنی انویسٹمنٹ پاکستان لا رہے ہیں؟
دوسرا سوال: اووسیز پاکستانیوں کے سیاسی نظریے اور رائے کا آاحترام کرنے کے لیے آپ تیار ہیں؟ اور ان سے آپ نے ووٹنگ رائٹ کیوں چھینا تھا؟
تیسرا سوال: اوورسیز پاکستانیوں کے سرمائے کا تحفظ کون کرے گا؟ کیا آپ وعدہ کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے ہونے کا الزام لگا کر ٓپ ان کی فیکٹریاں اور پلازے نہیں گرائیں گے؟ ان کے اوپر دہشت گردی کے مقدمے نہیں بنائیں گے، ان پہ پابندی نہیں لگائیں کے کہ وہ اپنا آزاد سیاسی نظریہ نہ رکھیں
چوتھا سوال: کیا کسی ڈسپیوٹ کے صورت میں عدالتیں ان کو انصاف دیں گی یا طاقتور کے ساتھ کھڑی ہوں گی؟
پانچواں سوال: شریف خاندان پہ برا وقت آیا تو آپ پھر سے ملک چھوڑ کے تو نہیں جائیں گے؟
نوٹ: میں خود بھی چاہتا ہوں کہ اوورسیز پاکستانی پاکستان میں ضرور انویسٹ کریں، مگر یہ بھی چاہتا ہوں پھر ان کے اس عمل کا احترام بھی کیا جائے
مجھے کسی مفتی صاحب سے فتویٰ چاہیے میں بحثیت پاکستانی آئی ایم ایف کا 2لاکھ 50 یا 2 لاکھ70 ہزار کا مقروض ہوں
اور ہمارے گھر میں 7 افراد ہیں۔۔۔
اس طرح صرف میرے گھر کے سات افراد آئی ایم ایف کے 18 سے 19 لاکھ کے قرضدار ہیں
*اب پوچھنا یہ ہے کہ۔۔*
کیا ہم پر قربانی فرض ہے اس طرح پورے ملک کا ہر فرد آئی ایم ایف کا قرضدار ہے کیا ان پر قربانی فرض ہے ؟
نوٹ:- ہم کیسے قرض دار ہوئے کیوں ہوئے قرضہ کس نے لیا کس نے کہاں استعمال کیا ہمیں پتہ بھی نہیں
اس دیرینہ مسئلے کا کوئی حل نکال دیں
اور ہاں ایک سوال یہ بھی پوچھنا ہے
کہ اگر اس قرض کے ساتھ بندہ مرجائے تو اس ان دیکھے قرض کی مجھ سے پوچھ گچھ تو نہیں ہوگی۔۔؟
کیونکہ حکم ہے کہ مرنے سے پہلے اپنے قرض اتار دو اگر ہو سکے تو۔
اور ساتھ میں یہ بھی کہ
ہم اس وقت غلام رعایا ہیں کیا غلاموں پر بھی قربانی فرض ہے۔
منجانب: ایک قرضدار، غریب، مظلوم اور محکوم عام پاکستانی ۔۔ 🙏
پٹوار خانے کا نیا پکوان !!
۱۸ سال والا شادی کر سکتا ہے، کاروبار کر سکتا ہے نوکری کر سکتا ہے بچے پیدا کر سکتا ہے بینک سے لون اپلائی کر سکتا ہے، کوئی نئی ایجاد کر کے Patent رجسٹر کروا سکتا ہے، بس ووٹ نہیں ڈال سکتا!!
بھائیوں ووٹ تو ۳۰ سال والے نے بھی آپکو نہیں دینی !
ایسے کریں ا��یکشن صرف فوج میں کروا لیا کریں کہ پانچ سال کس سیاستدان کو ملازم رکھنا ہے؟؟
ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالنے کے لیے آئی ایم ایف کا وفد آ رہا ہے۔ جنگ کے بہانے آئی ایم ایف کی شرائط پوری ہو رہی ہیں۔ غلامی کا پھندا عوام کے گلے میں ڈال دیا گیا ہے۔ پیٹرول بھی 'قسطوں' کی ادائیگی کے لیے مہنگا ہو رہا ہے جو سفید پوش طبقے کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے۔ اس سب کے دوران آرمی چیف ��اصم منیر کی ترجیح اس کا نیا گلف اسٹریم جہاز رہا۔ قوم نے اپنے خون سے اس کی قیمت ادا کی۔
حکومت دن رات ک��ایت شعاری کے درس دے رہی ہے، جبکہ مریم نواز کی ترجیح بھی اُن کا جہاز رہا۔ یہ معیشت کا نمونہ تہہ ہوا ہے!
اقرار الحسن کو اس بات پر غصہ آیا کہ ایک شخص، جو عوام کے ٹیکس سے تنخواہ لیتا ہے، وردی میں رہتے ہوئے ایک سیاستدان پر جملہ کیسے کس سکتا ہے
یہ بات سننے میں بڑی اصولی لگتی ہے مگر حقیقت میں یہ اصول نہیں، منتخب غیرت ہے
اگر آپ کی ساری بہادر�� صرف اُس وردی والے تک محدود ہے جو بے اختیار ہے، اور آپ اُس طاقتور وردی والے کے سامنے مکمل خاموشی اختیار کر لیتے ہیں وہ جو سیاست میں مداخلت کرتا ہے، لوگوں کو اٹھواتا ہے، جیلوں میں ڈلواتا ہے، گھروں کو مسمار کرتا ہے، نہتے شہریوں پر گولیاں چلاتا ہے عزتیں پامال کرتا ہے اور عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھتا ہے تو پھر یہ آواز نہیں بس شور ہے
یہ رویہ صاف بتاتا ہے کہ کہاں بولنا محفوظ ہے اور کہاں خاموش رہنا فائدہ مند۔ یہ منافقت ہے، یہ منتخب غیرت ہے، یہ غصہ نہیں بلکہ اداکاری ہے ایک ایسا دکھاوا ہے جس میں تماشہ لگا کر خبروں میں رہا جا رہا ہے
کمزور پر انگلی اٹھانا اور طاقتور کے سامنے سر جھکا دینا کوئی جرات نہیں یہ کھلی منافقت ہے۔ یہ اصول نہیں، ایکٹنگ ہے ایک ایسا ڈرامہ جس میں آواز وہاں بلند ہوتی ہے جہاں خطرہ نہ ہو، اور خاموشی وہاں اختیار کی جاتی ہے جہاں قیمت چکانی پڑے۔ یہی اس ساری جرات کی اصل حقیقت ہے، چاہے اسے کتنے ہی خوبصورت لفظوں میں کیوں نہ چھپایا جائے
تین دن پہلے پنجاب حکومت نے محکمہ تعلیم کے بجٹ سے کٹوتی کی ہے اور آج لاہور میں 500 ایکڑ پہ فلم سٹی بنانے کا اعلان کردیا ہے
90 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں غربت اور مہنگائی کی وجہ سے اور انکو فلم سٹی بنانی ہے
واقعی شعور سے پیٹ نہیں بھرتا فلم سٹی سے شاید بھر جائے
کوئٹہ میں نکاح کی ایک تقریب کا دلچسپ واقعہ
ایک شادی کی تقریب میں حق مہر کے لیے 5 سے 8 لاکھ روپے اور 5 تولے سونے کی بات ہو رہی تھی۔
سسر نے اپنے داماد کو ساتھ والی کرسی پر بلا کر سرگوشی میں پوچھا، "بیٹا، آپ کتنا مہر آسانی سے دے سکتے ہیں؟"
داماد نے جواب دیا، "آپ لوگ جو مقرر کریں، منظور ہے، لیکن زیادہ سے زیادہ کوشش کروں تو دو لاکھ دے سکتا ہوں۔"
سسر نے نکاح خواں سے کہا، "مہر ایک لاکھ ہوگا۔"
پھر سسر نے سونے کے بارے میں پوچھا۔
داماد نے کہا، "میں دو تولے بنا چکا ہوں، تین اور بنا لوں گا۔"
سسر نے سب کو مخاطب کرتے ہوئے اعلان کیا، "سونا دو تولے ہوگا۔"
یہ سن کر تمام عزیز و اقارب ناراض ہوئے اور کہنے لگے کہ اتنے کم مہر اور سونے پر بات کیوں ختم کی؟
سسر نے وضاحت کی، "آج اگر میں اس سے کوئی بھی ڈیمانڈ کروں، یہ مجبوراً پوری کرے گا۔ لیکن بعد میں میری بیٹی کو جو پوری روٹی ملے گی، وہ آدھی ہو جائے گی، کیونکہ یہ قرض لے کر یہ ڈیمانڈز پوری کرے گا۔ میں چاہتا ہوں کہ میری بیٹی بعد میں آرام اور خوشی سے رہے۔"
اس شادی کو 15 سال گزر چکے ہیں۔ وہ داماد اپنی بیوی کا بہت خیال رکھتا ہے اور سسر کی خود سے بھی زیادہ عزت کرتا ہے۔ یہ واقعہ کوئٹہ کا ہے۔
آج صدر راولپنڈی، GPO چوک پر ایک عجیب منظر دیکھا، جو ہمارے معاشرے کا آئینہ ہے
میں بائیک پر کھڑا تھا کہ دو خواتین نے رکشہ بُک کیا۔ کرایہ طے ہونے لگا۔
رکشہ والے نے کہا: 250 روپے لگیں گے باجی
خواتین: نہیں بھائی، 200 سے ایک روپیہ اوپر نہیں دیں گی، بس!
کافی بحث کے بعد غریب رکشے والا 200 پر مان گیا۔ پسینہ بہا کر، محنت سے کمانے والا 50 روپے ہار گیا۔
خواتین رکشے میں بیٹھیں ہی تھیں کہ ایک بھکاری آ گیا۔ ہاتھ پھیلایا۔
اور بنا ایک لمحہ سوچے، اُن میں سے ایک خاتون نے پرس سے 100 کا نوٹ نکال کر اُسے دے دیا۔
میں یہ سب دیکھ کر بس سوچتا رہ گیا...
جس رکشے والے نے دھوپ میں جل کر آپ کو منزل تک پہنچانا تھا، اُس سے 50 روپے کے لیے جھگڑا کر لیا۔
اور جس نے صرف ہاتھ پھیلایا، اُسے 100 روپے فوراً دے دیے؟
یہ کیسی سوچ بن گئی ہے ہماری؟
محنت کی قیمت کم اور بھیک کی قیمت زیادہ کیوں ہو گئی ہے؟
کیا وہ رکشہ ڈرائیور اُس 100 روپے کا زیادہ حقدار نہیں تھا جس نے پسینہ بہانا تھا؟
کبھی کبھی لگتا ہے ہم ہمدردی غلط جگہ دکھا رہے ہیں۔ محنت کش کو اُس کا حق دو، عزت دو۔ بھیک نہیں، روزگار کو فروغ دو۔
آپ کا کیا خیال ہے؟
اسامہ خان۔۔۔۔
آواز ِ دروں —•—
غزہ ، ایران اور لبنان پر وحشیانہ بمباری اور معصوموں کے
قتل ِ عام نے ھر انسان کا دِل چیر دیا ۔۔۔
سمجھ نہیں آرھی تھی کہ یہ ظلم کب رکے گا ؟
کب اللّٰہ کا غضب ظالموں پر اترے گا ۔۔؟
اور پھر دیکھتے ھی دیکھتے غزہ ، ایران اور لبنان میں بے گناھوں کے بہتے لہو کی لالی نے بہت کچھ بہا ڈالا !!
ھم حیرت کے ساتھ ایک صدی سے زائد مسلط ورلڈ آرڈر کو ھفتوں میں بدلتا دیکھ رھے ھیں ——
پوپ سمیت یورپی و امر��کی عوام کے جنگ مخالف شدید رد عمل اور یورپین حکومتوں کی جانب سے امریکی و اسرائیلی حکمرانوں کے وار ھسٹریا کی مخالفت نے اسلام اور عیسائیت میں فاصلہ گھٹا دیا
اس ظلم عظیم کیخلاف مسلم ممالک کے اھل دانش اور عوام ایک دوسرے کی غلطیاں بھول کر متحد ھو گئے
شیعہ ، سُنی اور اھل حدیث کا تفرقہ مِٹ گیا
ساری دنیا نے اسرائیل کو ایک دھشت گرد ریاست قرار ��یدیا
امریکی سپر پاور ایرانیوں کے جذبۂِ ایمانی و شھادت کے سامنے سرنگوں ھوگىئ
پاکستان کو پائیدار امن ، شرف ِ انسانی اور بقاۓ باھمی کے نئے دور کی بنیاد رکھنے کا شرف عطا ھوا
سعودی اور قطری قیادت کے تحمل و تدبر نے مسلمان کو مسلمان کیخلاف لڑنے کی سازش کو ناکام بنا دیا ۔۔
اب ھماری نگاھیں ایک نیا منظر نامہ دیکھ رھی ھیں ۔۔۔
مسلم ممالک نىئ صف بندیوں کی جانب گامزن ھیں ، مشترکہ دفاع کے معاھدے ، باھمی مشاورت اور ایک دوسرے پر اعتماد کی نىئ راھیں کُھل رھی ھیں ۔۔۔
پاکستان دنیا میں امن ، اعتماد اور اقوام کے مابین پُل کی حیثیت سے اُبھر رھا ھے
مدینہ منورہ کے بعد اسی نظری�� پر قائم ھونیوالا پاکستان اپنے اصل کردار کی جانب پیش قدمی کر رھا ھے۔۔۔۔
الحمد للّٰہ رب العالمین۔۔۔۔۔ اللّٰہ کریم
@OfficialDGISPR
ہماری نظر میں مزاکرات کی ناکامی ایران کی جیت ہے ۔
ایران نے ابنائے ہرمز پر امریکہ کے قبضے اور شراکت داری سے انکار کردیا ہے ۔
پاکستان کو ایرا ن کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے ۔
امریکہ غصے میں واپس جا رہے ہیں ۔
آپ کس طرح شہدا کی قربانیوں کو نظر انداز کر کے امریکہ کو قبضے یا شراکت داری کی اجازت دے سکتے ہیں ۔
روس چین کے ساتھ پاکستان کو جانا چاہیے ۔
جو ہوتا ہے اللہ کی رضا اور بہتری کے لیے ہوتا ہے ۔
مسٹر خان کی آزادی اتنی ہی ضروری ہے جتنی اس خطے سے امریکہ کو دور رکھنے میں باقی ملکوں کی بھلائی ہے ۔
وزير الدفاع الباكستاني ينفجر غضبا من محاولة اسرائيل تدمير المفاوضات في المنطقه
🔴وزير الدفاع الباكستاني خواجه عاصف|
"أدعو الله أن يحترق في جهنم أولئك الذين أنشأوا دولة سرطانية على أرض فلسطين للتخلص من اليهود الأوروبيين."
"إسرائيل شر ولعنة على البشرية."
وطن عزیز دنیا کا واحد ملک ھے جہاں بازار دوپہر کے بعد کھلتے ھیں اور نصف رات کے بعد بند ھوتے ھیں۔ کئی دفعہ ھر سطح پہ یہ مسئلہ اٹھایا ھے مگر تاجر حضرات کی طاقت کے سامنے حکومتیں لاچار ھیں ۔ سالوں سے بجلی کا رونا رویا جاتا ھے۔ بجلی چوری حق سمجھ کے کی جاتی ھے۔ اللہ نے ھمیں بارہ مہینے سورج کی روشنی سے نواز ا ھے۔ مگر ھم مصر ھیں کے کاروبار رات اندھیرے میں بجلی کی روشنی میں کرنا ھے۔ دنیا مغرب کے بعد بازار بند کرتی ھے ھفتے میں ایک مکمل چھٹی ضرور ھوتی ھے۔ ھمارے ملک میں ایسی مارکیٹیں بڑے شہروں میں موجود ھیں نام بتائے جا سکتے ھیں جہاں رزق حلال چوری کی بجلی سے کمایا جاتا ھے۔ ھمارا میڈیا ھر بات و ایشو پہ بات کرتا ھے مگر اس ایشو پہ مکمل خاموش ھے۔ جب مارکیٹوں کہ او��ات آدھی کے بعد تک ھوں تو سمجھ نہیں آتی بچوں اور فیملی کے لئے وقت کب میسر ھوتا ھے۔
کفایت شعاری کی بات ھم حکمران کرتے ھیں مگر بازاروں کے اوقات سے جسطرح آمدنی اور وسائل کا ضیاع ھوتا ھے اسکی کوئ بات کوئ نیں کرتا ۔ پارلیمنٹ بلڈنگ میں بھی بجلی کی بچت کی جارہی ھے۔ مگر بازار شام گئے بند کرنے کی کوئ بات نہیں کرتا جب اتنا بڑا تضاد ھو تو عام شہری پھر وقت کی نزاکت کا احساس نہیں کرتا۔