A view of Taip si Baan when it was less explored and exposed to vulnerability in the form of tourism! It is in the Mankial Ramet Valley in Bahrain Swat
This mount is the highest in Swat. It looks like K2. Locally in the Gawri language it is called Palasaar but the tourists and travelers named it Falak Sair!
مُھون لُوڑ او گھن
بُوڑ پیس سی بھن
نأ دا کھام پیاندَی
نأ یی آمن
سَوق سی کی فیگر نُو تُھو
بُوڑ سیاست سی جَھن
مُھون لُوڑ او گھن
بُوڑ پیس سی بھن
اے شور او غوغا تُھو
بازار تھی کو ڙَن
عقل ما مھیدیک پُورا تھی
مھویے ما بھیدی کھن
#توروالی#Torwali
قبائلی معاشروں میں جمود اور جبر کو سردارو ں کے ذریعے برقراررکھا جاتا ہے جبکہ سرمایہ دارانہ معاشروں میں یہ کام کارپوریشنوں اور کمپنیوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔جبکہ کئی مولوی، پادری اور پنڈٹ ان دونوں کے لیے ہمہ وقت میسر ہوتے ہیں!
Without any substantive move on the constitutional status of #GilgitBaltistan, the general elections held there today are just another measure to reinforce the internal colonial legacy that has prevailed in the region for centuries! #gbelctions
"We can only make an appeal, and this appeal will reach only a few. Many tourists, the trashers and teasers, will still behave the same regardless of our request. We would love for everybody to visit our mountains, but they should pay attention to this little piece of advice: ‘Leave nothing here [tourist spots] except your footprints and take nothing from here except photographs and
fond memories!’" --Zubair Torwali
کچھ روایات پر شرمندگی ہوتی ہے!
بڑی بے غیرتی بس غریبی ہوتی ہے!
جو اپنے گریباں میں جھانگ نہ سکے
ایک ڈھو��گ ایسی عزیز ویلی ہوتی ہے
جو رہنماء صرف فاتحہ پڑھ کر خاموش رہے
ایسی ہر ہمدردی محض سیاسی ہوتی ہے!
جو صرف طاقت و دولت کی زبان سمجھے
ایسی ہر ریاست ہر جگہ سوتیلی ہوتی ہے!
پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث
زبیر توروالی
گزشتہ ایک دو سال سے ایک بار پھر پاکستا ن میں نئے صوبے بنانے کی بحث جاری ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس بار بھی اسٹبلشمنٹ اس پر سنجیدگی سے سوچ رہی ہے۔
پاکستان میں نئے صوبے بنانے کی بحث محض ایک انتظامی یا آئینی سوال نہیں بلکہ ریا��ت، طاقت، وفاقیت، شناخت اور حکمرانی کے نظری مباحث سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ یہ سوال دراصل یہ پوچھتا ہے کہ ریاست کس کے لیے ہے، طاقت کہاں مرتکز ہے اور عوام تک حکمرانی کس حد تک پہنچتی ہے۔ اگر اس سوال کو محض جنوبی پنجاب، ہزارہ یا شہری سندھ کے مطالبات تک محدود کر دیا جائے تو ہم اس کے گہرے سیاسی اور نظری پہلوؤں کو نظرانداز کر دیں گے۔
سیاسیات میں ریاستی طاقت اور اختیارات کی تقسیم پر دو بڑے تصورات ملتے ہ��ں: مرکزیت (Centralization) اور غیرمرکزیت یا اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی (Decentralization)۔ مرکزیت میں فیصلہ سازی، وسائل اور اختیار ایک مرکزی طاقت کے پاس جمع ہوتے ہیں جبکہ غیرمرکزیت میں یہ اختیارات مختلف سطحوں پر تقسیم کیے جاتے ہیں تاکہ حکمرانی عوام کے قریب ہو۔ جدید وفاقی ریاستیں اسی تصور پر قائم ہوتی ہیں کہ طاقت کی تقسیم استحکام پیدا کرتی ہے جبکہ ضرورت سے زیادہ مرکزیت محرومی، مزاحمت اور بیگانگی کو جنم دیتی ہے۔
پاکستان کی ریاستی تاریخ کو اگر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ابتدا ہی سے ایک گہری مرکزیت پسند ریاست رہی ہے۔ نوآبادیاتی برطانوی ریاست سے ورثے میں ملنے والا بیوروکریٹک اور عسکری ڈھانچہ آزادی کے بعد بھی برقرار رہا۔ برطانوی سامراج نے ہندوستان میں حکمرانی کے لیے مرکزیت، نگرانی اور سرحدی علاقوں پر سخت کنٹرول کا جو ماڈل بنایا تھا۔ پاکستان نے بڑی حد تک اسے اپنایا۔ سیاسیات کے ماہرین اسے نوآبادیاتی ��یاست کی تسلسل (colonial continuity) کہتے ہیں۔
اسی تناظر میں پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث کو سمجھنا چاہیے۔
نظری طور پر چھوٹی انتظامی اکائیاں اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی(subsidiarity principle ) کے مطابق زیادہ مؤثر ہوتی ہیں۔ یہ اصول کہتا ہے کہ جو فیصلے مقامی سطح پر کیے جا سکتے ہوں انہیں اوپر کی سطح پر نہیں لے جانا چاہیے۔ یورپی یونین سے لے کر جدید وفاقی نظاموں تک یہ اصول اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس منطق کے مطابق پاکستان جیسے متنوع ملک میں موجودہ بڑے صوبے خود ایک قسم کی مرکزیت کا شکار ہیں۔ لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ خود چھوٹے مراکزِ طاقت بن چکے ہیں جہاں سے دور علاقوں کے بارے میں فیصلے کی�� جاتے ہیں۔
اسی لیے یہ تجویز نظری طور پر وزن رکھتی ہے کہ پاکستان میں موجود تمام ڈویژنوں کو صوبوں میں تبدیل کر دیا جائے۔ اس سے ریاستی طاقت عمودی طور پر نیچے منتقل ہوگی، حکمرانی عوام کے قریب آئے گی اور صوبائی مرکزیت ٹوٹے گی۔ اس تصور کو ش(subsidiarity principle )یا کثیر سطحی وفاقیت بھی کہا جا سکتا ہے۔ گلگت بلتستان کو ��زاد کشمیر کی طرح الگ اتنظامی اکائی بنایا جانا ممکن ہے۔
لیکن یہاں پاکستان کی سیاسی حقیقت ایک پیچیدہ تضاد پیدا کرتی ہے۔
ایک طرف نئے صوبوں کی بات کی جاتی ہے، جو بظاہر غیرمرکزیت کی علامت ہے جبکہ دوسری طرف اٹھارہویں آئینی ترمیم کے خاتمے یا کمزوری کی آوازیں اٹھتی ہیں جو صوبائی خودمختاری کو محدود کرنے کی خواہش کی عکاس ہیں۔ نظری طور پر یہ ایک واضح تضاد ہے۔
اٹھارہویں ترمیم پاکستان میں وفاقیت کو مضبوط کرنے کی ایک اہم کوشش تھی۔ اس نے مرکز سے اختیارات صوبوں کو منتقل کیے۔ اگر وفاقی نظریے کے مطابق دیکھا جائے تو یہ ایک مثبت قدم تھا کیونکہ وفاقیت کا مقصد ہی طاقت کو تقسیم کرنا ہوتا ہے۔ لیکن اگر اسی وقت نئے صوبوں کی بات بھی ہو اور صوبائی خودمختاری سے بھی خوف ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مسئلہ نظریاتی نہیں بلکہ طاقت کے کنٹرول کا ہے۔
یہاں ہمیں کے طاقت کے تصور کو سمجھنا ہوگا۔ فوکو کے مطابق طاقت صرف ریاستی اداروں میں نہیں بلکہ پورے نظامِ حکمرانی میں گردش کرتی ہے مگر بعض طاقت کے ڈھانچے اسے اپنے حق میں منظم کرتے ہیں۔ پاکستان میں سوال صرف آئینی نہیں بلکہ یہ ہے کہ طاقت کے اصل مراکز کہاں ہیں۔
اسی طرح ایک دوسری تھیوری کہتی ہے کہ جدید ریاستیں اکثر طاقت کے ارتکاز کے ذریعے بنتی ہیں اور طاقت اپنے آپ کو برقرار رکھنے کے لیے نئے ادارے تخلیق یا ختم کرتی ہے۔ اگر پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث اصولی نہیں بلکہ طاقت کے توازن کے لیے استعمال ہو تو یہ وفاقیت نہیں بلکہ طاقت کی نئی ترتیب ہوگی۔
پاکستان کے تناظر میں ایک اور اہم تصور (praetorian state) یا عسکری غلبے والی ریاست کا ہے ۔ ایسی ریاستوں میں منتخب ادارے کمزور ہوتے ہیں اور اصل فیصلہ سازی غیر منتخب طاقتور اداروں کے ہاتھ میں رہتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ اس تصور سے بہت دور نہیں۔ ون یونٹ کا قیام، صوبائی سیاست میں مداخلت، آئینی انجینئرنگ اور حکومتوں کی تشکیل و تحلیل اسی طرزِ سیاست کی مثالیں ہیں۔
اس تناظر میں جب نئے صوبوں کی بات ہوتی ہے تو سوال یہ بنتا ہے کہ کیا یہ واقعی عوامی خوداختیاری کے لیے ہے یا ریاستی طاقت کے نئے انتظام کے لیے؟
شناختی سیاست کا نظریہ بھی یہاں اہم ہے۔ قومیں خیالی برادریاں (imagined communities)ہوتی ہیں یعنی وہ سماجی اور سیاسی تصورات کے ذریعے تشکیل پاتی ہیں۔ پاکستان میں صوبائی شناختیں بھی تاریخی، لسانی اور سیاسی عوامل سے ��نی ہیں۔ اگر نئے صوبے صرف لسانی بنیادوں پر بنائے جائیں تو یہ شناختی کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں اوراگر صرف انتظامی بنیاد پر بنائے جائیں تو مقامی ثقافتی حقائق نظرانداز ہو سکتے ہیں۔ اس لیے متوازن نقطہ نظر درکار ہے۔
اسی لیے میری رائے میں پاکستان میں نئے صوبوں کا سوال صرف انتظامی نہیں بلکہ (radical democratic decentralization ) یعنی جمہوری اختیارات کی حقیقی نچلی سطح تک منتقلی کے تناظر میں حل ہونا چاہیے۔اس کا ایک عملی راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ موجودہ تمام ڈویژنوں کو صوبائی حیثیت دی جائے، آٹھارہویں ترمیم کو نہ چھیڑا جائے بلکہ مزید مضبوط کیا جائے، مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ دیا جائے، مالیاتی وفاقیت (fiscal federalism) کو ازسرنو منظم کیا جائے اور صوبوں کی تشکیل کسی مقتدر ادارے کی مرضی کے بجائے قومی مکالمے، پارلیمانی اتفاق اور عوامی مشاورت سے ہو۔
آخر میں اصل سوال صوبوں کی تعداد نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کس نوعیت کی ریاست بننا چاہتا ہے: مرکزیت پسند، کنٹرول پر مبنی ریاست؟ یا ایک کثیرالجہتی کثرالقومی وفاقی جمہوریت جہاں طاقت واقعی عوام تک منتقل ہو؟
اگر طاقت بدستور چند اداروں، مراکز اور اشرافیہ میں مرتکز رہے تو چار صوبے ہوں یا چالیس نظام کی روح نہیں بدلے گی۔ لیکن اگر طاقت کی حقیقی جمہوری تقسیم ہو تو نہ صرف نئے صوبے معنی خیز ہوں گے بلکہ وفاق بھی زیادہ مستحکم ہوگا۔
***The Myth of Homogeneous Generations— Boomers, Gen X, Millennials and Gen Z***
The classification of humanity into Gen X, Millennials and Gen Z is often presented as a neutral sociological science. However, a deeper analysis reveals these categories to be constructs of Western industrial centers designed to streamline global marketing and reinforce a specific developmental trajectory.
These labels are not organic or natural. They are commodification tools. Marketers and "trend-watchers" in the global North define a generation by the products they consume and the communication platforms they use. By imposing these labels on a global scale, the global market creates a "universal consumer." When a young person in a remote village in Swat is labeled "Gen Z" the label ignores his self and attempts to tether his identity to global capitalistic trends.
These categories are fundamentally metropolitan and Eurocentric. The "shared social experiences" that define a Millennial such as the 9/11 attacks or the 2008 financial crash are specific to the West. For an indigenous Torwali person or say for a laborer in Karachi or Lahore the defining "social experience" might be a local flood, a specific military operation or the loss of ancestral land because of some infrastructure project or migration.
Many "Gen Z" youth today live in socio-economic conditions that mirror the 1980s. A teenager performing hard manual labor without access to electricity cannot be grouped with a Western peer whose identity is defined by "digital activity."
Generational labels act as a shroud for class struggle, too. By grouping people by birth year we ignore the gap between the elite and the marginalized:
An individual born into the Pakistani aristocracy in 1970 has more in common with a Gen Z elite today than they do with a poor laborer born the same year.
Grouping people into "digital generations" is an elitist exercise. Thousands of young people today still lack smartphones or internet access. By labeling them Gen Z the state and marketers effectively "erase" their actual lived experience of digital exclusion.
In our area I daily meet many young men who have been undergoing tougher conditions than I did when I was in my teens. For instance, I do not know how to make a tuft (trw. Daat) whereas many children in the villages can make it wonderfully while cutting grass from the grassland (hundi) they have. Similarly, I did harder work but never did coal mining or ‘logs dragging’ (trw. Patru/Patlu) but I know many young men who still do this in their heartland or in Kohistan.
Applying these "alphabetized" generations to the Global South is a form of intellectual colonialism. It suggests that everyone is moving along the same timeline toward a Western-defined "modernity." In reality, time is experienced differently across different geographies and social conditions. A young man today suffering under harsher economic conditions than his father is not "Gen Z". He is part of a specific local struggle that the globalized center refuses to name. See less
There are supportive teachers like Kifayat Ullah Hairan who give opportunities to the lesser known languages to be presented and sung at the colleges and universities! Thankful
Below is the random English translation of the Torwali song presented by محمد نواز توروالی
Translation:
My heart is like the Taj Mahal, you step in slow slow!
Step in to the beautiful garden slow slow
Cold dull winds of autumn 🍂 flew everywhere
If you come this weather will change slow slow
Everywhere is pain, sorrow and the sad evening
Come and start the life anew slow slow
Your Sabir is crazy, doing strange things in love
Come and heal him to normal slow slow
Rahim Sabir