The #Commonwealth Observer Group to Pakistan has released its final report on the 2024 General Elections.
The report notes some areas of improvement and makes recommendations for strengthening Pakistan's democratic institutions.
Read the full report: https://t.co/Q0nQl0cZXJ
Imran Khan, former Prime Minister of Pakistan, to the Nobel Peace Prize for his work with human rights and democracy says @partiet_sentrum and @MediaCentrePWA https://t.co/GOTqQTERQ2
The former Pakistani Prime Minister #ImranKhan has been nominated for the #Nobel Peace Prize, recognising his contributions to human rights and democratic values.
The nomination was announced by members of the Pakistan World Alliance (PWA), an advocacy organisation established in December, who are also affiliated with the Norwegian political party Partiet Sentrum.
Details here 🔗 https://t.co/eRh4WjW4bd
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اہم پیغام:
“ملک میں اس وقت دہشتگردی اپنے قدم دوبارہ جما چکی ہے۔ ہمارے دور میں ملک دہشتگردی پر قابو پا کر سیاحت کے فروغ کی جانب گامزن ہو چکا تھا اور “گلوبل ٹیررازم انڈکس” میں پاکستان کی ری��کنگ چار درجے بہتر ہوئی تھی- لیکن رجیم چینج نے اس سارے عمل کو بھی ریورس گئیر لگا دیا اور اب بدقسمتی سے ہم گلوبل ٹیررازم انڈکس میں دوبارہ دنیا کا دوسرا بدترین ملک بن گئے ہیں۔
اندرونی معاملات کی طرح اس وقت پاکستان کی خارجہ پالیسی بھی بدترین طریقے سے چلائی جا رہی ہے- افغانستان کے ساتھ ہماری سرحد بہت لمبی ہے ان کے ساتھ معاملات بات چیت سے حل ہونے چاہئیے۔ جب تک ہمسایہ ممالک کو لے کر ہماری خارجہ پالیسی آزاد اور خود مختار نہیں ہو گی ملک میں امن نہیں آ سکتا۔ فوجی آپریشنز کبھی مسائل کا حل نہیں ہوتے بڑی بڑی جنگوں کا حل بھی مذاکرات اور امن و استحکام کی کوشش سے ہی نکلتا ہے۔
خفیہ اداروں کا اصل کام سرحدوں کا تحفظ اور دہشتگردی سے بچاؤ ہے، اگر وہ پولیٹیکل انجنئیرنگ اور تحریک انصاف کو توڑنے میں ہی لگے رہیں گے تو سرحدوں کا تحفظ کون کرے گا؟ بلوچستان میں دہشتگردی پنپ رہی ہے اور وہاں کے مسئلے کا کوئی سیاسی حل نہیں نکال رہا۔ بلوچستان سمیت ملک بھر میں جب تک عوامی اعتماد پر مشتمل حکومت نہیں لائی جائے گی، اس��حکام ممکن نہیں ہے-
ملک بھر میں گورننس کا برا حال ہے کیونکہ ہر جگہ عوام کے حقیقی نمائندگان کے بجائے فارم 47 والوں کا قبضہ ہے۔ خیبرپ��تونخوا واحد صوبہ ہے جہاں عوامی حکومت موجود ہے اور عوامی امنگوں کی ترجمانی کے باعث پختونخواہ کی کارکردگی تمام صوبوں سے بہتر ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت کی سالانہ کارکردگی رپورٹ بہترین ہے۔ علی امین گنڈاپور بطور وزیراعلٰی بہت اچھا کام کر رہے ہیں-
اڈیالہ جیل اس وقت قانون سے بالاتر ہے۔ جیل مینول کے برخلاف میری اپنی اہلیہ سے 90 دن میں 72 گھنٹے ملاقات نہیں کروائی جا رہی جو کہ میرا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ عدالتی احکامات کے باوجود دو ہفتوں سے میرے بچوں سے بھی بات نہیں کروانے دی جا رہی۔ پچھلے چار ماہ میں صرف چار بار بات کروائی گئی- یہاں تک کہ میری کتابیں مجھ تک پہنچنے نہیں دی ��اتی ہیں۔ یہ سب کچھ بنیادی انسانی حقوق ، قانون اور جیل مینول کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ پاکستان میں اس وقت صرف جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون نافذ ہے۔“
سابق وزیراعظم عمران خان کی جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو:
“ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے۔ جعفر ایکسپریس کا سانحہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے- اس قسم کی منظم دہشتگردانہ کاروائیاں کسی ��ھی ملک کی سیکیورٹی پر سوالیہ نشان ہیں۔ دہشتگردی کے واقعات میں فوجی اور سویلینز کی قیمتی جانوں کے ضیاع کا جتنا دکھ ہمیں ہے کسی کو نہیں ہوسکتا کیونکہ تحریکِ انصاف وہ واحد سیاسی جماعت ہے جس سے تمام صوبوں کی اکثریت جڑی ہے- افسوسناک امر یہ ہے کہ تمام ایجینسیاں دہشتگردی کی روک تھام کی بجائے تحریک انصاف کو ختم کرنے پر لگائی ہوئی ہیں-
تحریک انصاف کی جانب سے نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے بائیکاٹ کا فیصلہ بالکل درست ہے۔ اس اجلاس میں نہ مجھے بلایا گیا، نہ میری رائے لی گئی اور نہ ہی بلوچستان کے نمائندوں کو بلایا گیا- ان کی نیت اس معاملے میں صاف ہوتی تو میری جماعت کے ارکان کو سب سے پہلے مجھ سے مشاورت کرنے کی اجازت دیتے۔ اس وقت تحریک انصاف پاکستان کی واحد جماعت ہے جس کی سپورٹ تمام وفاقی اکائیوں میں موجود ہے جبکہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ سندھ اور پنجاب کے چند مخصوص علاقوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں- ملک کی سب سے بڑی جماعت اور فیڈریشن کی علامت واحد سیاسی پارٹی کے سربراہ کو باہر رکھ کر کون سا اتفاق رائے حاصل کیا جا سکتا ہے؟
اردلی حکومت کی خارجہ و داخلی پالیسیاں ملک کے لیے زہرِ قاتل ہیں۔ دہشتگردی کا مسئلہ صرف تب حل ہو گا جب اس کا سیاسی حل دریافت کیا جائے گا اور لوگوں کی منشاء کے مطابق ان کے فیصلے ہوں گے۔ دہشتگردی کا مسئلہ صرف فوجی حکمت عملی (Kinetic Operations)سے حل نہیں ہو سکتا۔ ہمسایہ ممالک کو لے کر ہماری خارجہ پالیسی آزاد اور خود مختار ہونی چاہیے۔ افغانستان کے ساتھ معاملات بھی بات چیت سے حل ہونے چاہئیے۔ رجیم چینج کے بعد ان کی غیرسنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ بلاول نے پوری دنیا کے دورے کیے لیکن ایک بار بھی افغانستان نہیں گیا- فوجی آپریشنز کبھی مسائل کا حل نہیں ہوتے، بڑی بڑی جنگوں کا حل بھی مذاکرات اور امن و استحکام کی کوشش سے ہی نکلتا ہے۔
ملک صرف تب ہی متحد اور مضبوط رہ سکتا ہے جب عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے، سیاسی جماعتوں کو ان کی جگہ دی جائے اور اسٹیبلشمنٹ سیاست میں مداخلت سے باز رہے۔ اکہتر میں بھی ایک سیاسی جماعت کو دیوار سے لگایا گیا پھر جو ہوا وہ تاریخ بھلا نہیں پائی-تب بھی اگر سیاسی جماعتوں کو متوازن مواقع ملتے تو ملک دو لخت نہ ہوتا۔ آج بھی لوگوں کی آواز کو دبایا جا رہا ہے اور ان کی نمائندگی کرنے والی سیاسی جماعتوں کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔ بلوچستان میں یہی ماڈل نافذ کیا گیا جس کی وجہ سے آج وہاں کے حالات بے قابو ہیں۔ جب تک عوام کی نمائندہ حکومتوں کو اقتدار منتقل نہیں کیا جائے گا یہ مسائل جوں کے توں رہیں گے بلکہ بڑھتے جائیں گے۔
اردلی حکومت مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے تمام غیر قانونی ہتھکنڈے است��مال کر رہی ہے۔ میری اہلیہ کو بے جا جیل میں ڈالا گیا ہے۔ نہ تو یحیٰی خان نے مجیب الرحمٰن کی اہلیہ کو جیل میں ڈالا، نہ جنرل ضیا نے بھٹو کی اہلیہ کو جیل میں ڈالا، اور نہ ہی مشرف نے کلثوم نواز کو جیل میں ڈالا، مگر اس اسٹیبلشمنٹ نے اخلاقی پستی کی بدترین سطح پر پہنچ کر میری اہلیہ کوبھی جعلی کیسز میں پابندِ سلاسل کر رکھا ہے۔
پچھلے قریباً ایک ہفتے سے میری مواصلات کے ذرائع تک رسائی پر کڑی بندش ہے۔ حالاتِ حاضرہ سے بےخبر رکھنے کیلئے ٹی وی دیکھنے پر پابندی عائد ہے اور اخبار اور کتابوں کی ترسیل بھی معطل ہے۔ میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی گئی۔ بار بار یاددہانی کے باوجود مروّجہ طریقے کے مطابق 90 دنوں میں میری اہلیہ سے 72 گھنٹے کی ملاقات بھی نہیں کروائی جارہی۔ میرے ذاتی معالج کو مجھ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی نہ ہی ڈینٹسٹ کو ملوایا جا رہا ہے۔ میرے پارٹی رہنماؤں سے ملاقات بھی نہیں کروائی گئی۔ مجھے مکمل طور پر بے خبر رکھا گیا تا کہ اے پی سی کے بارے میں مجھے علم نہ ہو سکے۔
یہ جو کچھ بھی کر لیں میں ان کی فسطائیت کے آگے نہ ہی ��ہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا- میں پاکستان کی حقیقی آزادی کے لیے کھڑا تھا، کھڑا ہوں اور کھڑا رہوں گا ۔ چاہے مجھے تمام عمر جیل کاٹنی پڑے۔ میں انشاللہ اپنے ملک اور اپنی قوم کی خودمختاری کے لیے آخری سانس تک لڑوں گا۔”
نریندرہ مودی حکومت کی پچھلے دور سے پاکستان کے حوالے سے اپنائی گئی پالیسی کو “اجیت دووال ڈاکٹرائن” کہا جاتا ہے۔ اس ڈاکٹرائن کا سب سے اہم نقطہ پاکستان کو اندرونی طور پر تقسیم کرنا یعنی خدانخواستہ بلوچستان، سابقہ فاٹا اور گلگت بلتستان کو پاکستان سے علیحدہ کرنا تھا۔ اور دوسرا ”گھر میں گھس کر مارنا“، جس کے تحت حالیہ دنوں میں ان افسران اور افراد کو ��شانہ بنایا گیا جن کا کشمیر سمیت انڈیا کے لیے باعث تشویش دیگر محاذوں پر کوئی کلیدی کردار رہا تھا۔
چند ہفتے قبل ظل الہی کے ہرکارے کے دورۂ تاجکستان کے حوالے سے گفتگو میں رجیم کے ایک ٹاؤٹ کی جانب سے اجیت دووال ڈاکٹرائن کا حوالہ دیا گیا کہ پاکستان نے بھی اس پر عمل پیرا ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ کئی دن تک عسکری زرائع کی جانب سے اس بیان کی وضاحت یا تردید کا انتظار کرتا رہا۔ساتھ ہی اس بیان کو تاجکستان کے دوروں، وا خان کاریڈور کے حوالے سے بیانات، پھر کشمیر پر بدلتے مؤقف، فلسطین کے مسئلے پر دو ریاستوں کے قیام کا بیانیہ، اور ملک پر نئی جنگ مسلط کرنے کی کوششوں کے تناظر میں جانچا تو واضح ہوا کہ طاقت کو دوام دینے کی خواہش نے قابض عفریت کی سوچنے سمجھنے کی تمام صلاحیتیں مفلوج کردی ہیں۔
اجیت دول ڈاکٹرائین ایک offensive strategy ہے اور اس پالیسی کا مرکز یا نشانہ پاکستان تھا، اس کا حوالہ پاکستان کی جانب سے کسی پڑوسی ملک کو لے کر دینا ہی کافی تشویشناک بات ہے لیکن افسوسناک امر تو یہ ہے کہ ہماری سرزمین پر ہمارے مفادات کے لئے کام کرنے والو کو شہید کرنے پر ہم خاموش رہے، کشمیر پر اپنا مؤقف ہی تبدیل کردیا۔ ملک میں کوبکو لگی آگ کو ماپتے ہوئے دشمن کی پالیسی کا توڑ کیا نکالتے انکی معاونت کرنے لگے۔ ہماری سرحدوں کے اندر کاروائیاں کرنے پر ہم ان کو جواب کیا دیتے، وہ حکمت عملی جو ہماری تباہی کے لیے بنائی گئی تھی بجائے یہ کہ ہم اس اینٹ کا جواب پتھر سے دیتے ان کے سامنے سرینڈر کرکے نیا دشمن بنانے پر بضد ہیں۔دشمن ہمیں ”گھس کر مارنے کے لئے“ سرجیکل سٹرائکس؛ افسران اور اہم افراد کو کامیابی سےنشانہ بنارہا ہے اور ہم دوسری طرف سرجیکل سٹرائک اور گھس کر مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ ہم وہاں رجیم چینج کی خواہش بھی لئے بیٹھے ہیں اور اس مقصد کے لئے ہم نے اپنے وہ مہرے بیانیہ بنانے کے لئے متحرک کر دئیے ہیں جو سابقہ بھارت نواز رجیم کے قریبی ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ عالمی طاقتوں کو فرد واحد سے نتائج جلدی اور فوری ملتے رہے ہیں چاہے وہ افغان جہاد ہو یا وار ان ٹیرر تب ڈکٹیٹر کو بیرونی امدد اور انکو اپنے مفادات عزیز تھے۔ طاقت کا کھیل اور طاقت کو طوالت دینے کی خواہش وہی ہے بس فرق یہ ہے کہ تب ہم ضرورت تھے اب ضرورت بننا چاہتے ہیں۔ تب بھی ڈکٹیٹر نے ذاتی مفاد (طاقت اور ڈالر) کے لیے قومی مفادات کا سودا کیا اور آج بھی وہی ہو رہا ہے جس کو ہم سے جو چاہئے وہ ملے گا، ہم ہر قسم کی خدمت کے لیے دستیاب ہیں چاہے اس کے لیے ملکی و قومی مفاد کا کتنا ہی نقصان ہو بس اتنی سی گارنٹی چاہئے کہ مقامی سطح پر جو جیسے ہے اس کو چلنے دیجئے ہم جمہوریت کے نام پر سرکس لگائیں، قوم کے لیڈر کو کال کھوٹری میں ڈالیں، چاردیواریاں پار کریں یا گھریلو خواتین کے گریباں چاک کریں، ہمارے زیر تسلط افلاس کے مارے ۱۳-۱۳ سال کے بچے ڈنکیاں لگا کر ملک سے نکلنے کی سعی کریں اور بیچھ سمندر مارے جائیں، عدالتوں کے احاطوں میں لوگ خود پر تیل چھڑکیں، مور چرانے والوں کے ملٹری ٹرائل ہوں اور قومی خزانہ لوٹنے والوں کو لینے خصوصی جہاز جائیں ��وئی حساب نہ مانگے، ہم جو ظلم کریں جبر کریں کوئی ہمیں آئینہ نہ دکھائے۔ ہم چوبیس کروڑ بھیڑ بکریوں کو ہانک کر جہنم کی آگ میں جھونک دیں آپ سے کیا سروکار آپ کی خدمت تو پوری کریں گے نا؟
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء ٹیم سے گفتگو:
“جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک میں دھماکے کے نتیجے میں مولانا حامد الحق سمیت ساتھیوں کی افسوسناک شہادت کی پر زور مذمت کرتا ہوں۔ اللہ پاک شہداء کے درجات بلند کرے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔ آمین
پاکستان میں رجیم چینج کے بعد سے دہشتگردی کا ناسور مکمل طور پر بے قابو ہو چکا ہے۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں آئے روز دھماکے اور قیمتی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے۔ خیبرپختونخوا کی عوام نے دہشتگردی کے خلاف بہت زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ گھر گھر جنازے اٹھائے گئے ہیں۔ ابھی امن قائم ہوئے کچھ عرصہ ہی ہوا تھا کہ ناقص پالیسیوں کی بدولت ایک مرتبہ پھر دہشتگردی کا جن بوتل سے باہر آ چکا ہے۔
پاکستان کی عوام اب کسی پرائی جنگ کا ایندھن بننے کو تیار نہیں ہے۔ اس حوالے سے خیبرپختونخوا میں حالیہ دنوں امن مارچ کا انعقاد ہوا جس کی ہم بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ جب عوام ��ود اپنے حقوق کے تحفظ کی جنگ لڑنا سیکھ لے گی امن تب ہی ہمارا مقدر بنے گا۔
اس کے علاوہ ایک اہم مسئلہ پاکستان کے چھوٹے صوبوں میں پانی کی تقسیم کا بھی ہے اور اس کا حل ہونا ناگزیر ہے۔ سندھ اس وقت خشک سالی سے گزر رہا ہے اور وہاں کی عوام اپنے پانی کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں جس کی ہم بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ پاکستان کے زرعی مستبقل کی حفاظت کے لیے اہم ہے کہ تمام صوبوں کو ان کے حصے کا پانی ملے۔ ہم سندھ کے عوام کے حقیقی نمائندگان کی رضامندی کے بغیر نئی نہروں کے منصوبے کے اجرا پر سندھ کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم سندھ کے حقوق کا ہر سطح پر دفاع کریں گے۔ آبی وسائل کی تقسیم تمام صوبوں کی باہمی رضامندی کے تابع ہے۔
جب تک تمام ادارے اپنے آئینی دائرہ کار میں واپس نہیں جاتے اور ایک عوامی حمایت والی حکومت نہیں آتی تب تک ملک روز بروز نئے بحرانوں کا شکار ہوتا رہے گا- ایس آئی ایف سی ایک غیر آئینی ادارہ ہے جس کا مقصد غیرملکی سرمایہ کاری لانا بتایا گیا تھا- اب تک کوئی سرمایہ کاری تو نہیں ہوئی لیکن اس کے ذریعے مختلف سرکاری محکموں کو فوجی کنٹرول میں دے دیا گیا ہے جس سے پہلے سے تنزلی کا شکار ریاستی نظام مزید تباہ و برباد ہو گیا ہے- اب مزید آگے بڑھتے ہوئے کسانوں اور نہروں کا مسئلہ بھی کھڑا کر دیا ہے-“
Former prime minister @ImranKhanPTI has firmly declared that he will not engage in any deals, despite ongoing government tactics aimed at pressuring him. https://t.co/rH2LETNtoa
مجھے قوی امید ہے کہ اس رمضان میں عوام سرطان کے نادار مریضوں کے علاج کیلئے دل کھول کر سخاوت کریں گے کیونکہ اس مرتبہ شوکت خانم کو لاہور اور پشاور میں کینسر کے غریب مریضوں کو علاج کی فراہمی کیساتھ کراچی میں پاکستان ��ے تیسرے بڑے ہسپتال کی تعمیر کا چیلنج بھی درپیش ہے۔
The article claims that I had made Gen Asim resign as DG ISI because he had shown me my wife Bushra begums corruption cases .
This is completely false. Neither did Gen Asim show me any proofs of my wife's corruption nor did I make him resign because of that.
https://t.co/iD0zJLrd1F.
"Political disagreement is now labelled as 'anti-state' activity, punishable by forced disappearances and draconian anti-terror laws. The last vestiges of democracy in Pakistan have been all but erased," Imran Khan writes https://t.co/1dMq1lTMCv
"The world must recognize the urgency of this crisis—not just for Pakistan’s future, but for the stability of South Asia and beyond.
The suppression of democratic voices in a country as pivotal to regional and indeed global security as Pakistan sets a dangerous precedent, one that should concern all who believe in free and fair governance."
Former Prime Minister Imran Khan's article in @TIME highlighting the pressing need for the world to pay attention to Pakistan.
Read full article by clicking the link or by scanning the QR
🖇️
https://t.co/5Ry1qndjtP
"From my confinement in a solitary cell, I witness the heartbreaking reality of a nation gripped by authoritarian rule."
Imran Khan writes from prison: Why the world must pay attention to Pakistan https://t.co/JVU4oz0T2M