گلت بلتستان میں یکم مارچ میں جو اقوام متحدہ کی عمارتوں اور آرمی دفاتر کو جلایا فوج کے سپاہی زندہ جلائے ان ہنگاموں میں ملوث افراد کی لسٹیں جاری ہوئی ہیں یہ وہ لوگ جن کے پاس اس دن اسلحہ تھا اسے ہر طرف وائرل کریں تاکہ یہ لوگ انجام تک پہنچیں
تب امریکی بڑے اچھے تھے
جب 2003 میں عراق میں صدام حسین کے خلاف مدد کے لیے آئے انہیں اپنی عورتوں کے ساتھ بٹھایا گیا
نجف میں بعض شیعہ گروہوں نے انہیں پھول پیش کیے اور صدام حسین سے نجات دلانے پر شکریہ ادا کیا۔😪
آج وہی لوگ امریکہ دشمنی کے نعرے ل��اتے ہیں،
منافقین اور دغلے لوگ
جن دوستوں کو میری راجہ ناصر پر تنقید پر غصہ چڑھ رہا ہے، ان سے معصومانہ سوال
جو بکواس اس بندے نے پاکستان پر کی ہے، اگر تین ماہ پہلے یہ بندا ایسی ہی بکواس ایران میں بیٹھ کر ایرانی ریاست کے خلاف کرتا تو آیت اللہ کی حکومت اسکے ساتھ کیا سلوک کرتی؟
کوئی مہذب ملک یہ برداشت نہیں کرتا
یورپی یونین سے پرچی دیکھ کر خطاب کرتے برخوردار کو بغور دیکھیں تو چہرے کے تاثرات اور پلکوں سے باپ کے نشے کے اثرات صاف جھلکتے دکھائی دیں گے۔مزید برآں باپ کی طرح و��ن فروشی میں بھی کم نہیں ہے۔پس ثابت ہوا بندہ حلالی ہے۔
یہ کفر و اسلام کی جنگ نہیں ہے✋🏻
ہوتی تو ایران 9 اپریل 2023 کو ہی اسرائیل پر حملہ کر دیتا
اسمائیل ہانیہ کی شہادت کے بعد اسرائیل پر حملہ کردیا جاتا لیکن دو چار سست رفتار ڈرون بھیجے جو گھنٹوں میں اسرائیل پہنچے
اگر کفر و اسلام کی جنگ ہوتی تو روس ایران سے شام پر حملے /بمباری نا کرتا
+
مذاکرات کے لئے راستہ ہموار کرنے اور امن کوششوں کو کامیاب بنانے کے لئے پاکستان کی استدعا پر امریکہ نے ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقرقالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کا نام 4 سے 5 روز کیلئے ��ارگٹ لسٹ سے ہٹایا گیا ہے۔
جب بھی پاکستان عالمی سطح پر کوئی مثبت اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرتا ہے، بدقسمتی سے کچھ اندرونی عناصر اس کامیابی کو سراہنے کے بجائے اس کے خلاف منفی پروپیگنڈا شروع کر دیتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوشش ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے، جسے قومی مفاد میں دیکھا جانا چاہیے تھا۔
لیکن افسوس کہ ایک مخصوص سیاسی جماعت،جو اب ایک “کلٹ” کی شکل اختیار کر چکی ہے، اس مثبت اقدام کو بھی مشکوک بنانے میں مصروف ہے۔ان کے پیش نظر بس ایک ہی قیدی نمبر 804 ہے،یہ رویہ سیاسی اختلاف نہیں بلکہ قومی مفاد سے انحراف او�� اندھی وابستگی کی علامت ہے۔
خارجہ پالیسی ہمیشہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے تحت ترتیب دی جاتی ہے۔اگر پاکستان ��طے میں امن کے لیے کردار ادا کرتا ہے، تو یہ اس کی ذمہ داری اور سفارتی بصیرت کا ثبوت ہے، نہ کہ تنقید کا موضوع۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اختلاف کو نفرت اور تعصب تک نہ لے جایا جائے۔ پاکستان ہم سب کا مشترکہ گھر ہے، اور اس کے مفاد کو ہر سیاسی وابستگی پر ترجیح دینی چاہیے۔
جیسا باپ عمران نیازی پاکستان دشمن۔ ویسا بیٹا کاسم گولڈ اسمتھ بھی پاکستان دشمن نکلا۔ اور وہی مطالبہ کردیا جو اب تک انڈیا کی سب سے بڑی خواہش ہے۔
عمران نیا ی کے بیٹے کاسم گولڈ اسمتھ نے یورپی یونین سے پ��کستان کی جی ایس پی پلس سہولت واپس لینے کے مطالبہ پر منعقدہ کانفرنس میں شرکت کی۔
جمائما گولڈ اسمتھ کے بیٹوں نے جمائما کے سابق شوہر اور صہیونیوں کے اثاثے کو بچانے کے لئے پاکستان پر پابندیوں کا مطالبہ کر ��یا
مجھے حیرت اس بات پر کہ ہمارے قانون نے اسے دیسی گھی میں بنے ککڑ کھلانے کی ذمےداری لی ہوئی ہے جبکہ اس کی سزا صرف آرٹیکل 6 ہے
دوسرا وہ کون ہے جو پی ٹی آئی پر پابندی لگانے نہیں دے رہا؟؟؟
قاسم خان پرچی سے دیکھ کر پڑھ رہا ہے ، یہ خان کا بیٹا نہیں ہوسکتا
جمائمہ نے کہیں اور منہ مارا ہے۔
دوسرا یہ یورپی یونین میں بی ایل اے دہشتگرد نسیم بلوچ جو سینکڑوں بلوچوں کاقاتل ہے اس کے ہمراہ تقریر کرتے ہوئے پاکستان پر پابندیاں لگانے کی بات کررہا ہے صرف اس وجہ سے کہ اسکا مادرفروش باپ چوری کرتے پکڑا گیا
عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے یورپی یونین سے پاکستان کی جی ایس پی پلس سہولت واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ اگر ایسا ہوگیا تو اس سے پاکستان کی ایکسپورٹس پر فرق پڑے گا اور ملک میں چیزیں مہنگی ہوجائیں گی
عمران خان و فیملی پاکستان سے کس جرم کا بدلہ لے رہی ہے
کراچی امریکی قونصلیٹ پر حملے میں ملوث بلوائیوں رجیمی تکفیریوں کی تصاویر جاری مبینہ طور پر اکثر کا تعلق طلباء تنظیم امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور علاقائ تعلق گلگت بلتستان اور پاڑہ چنار سے بتایا جارہا
حکومت پاکستان کے ساتھ ان حملہ آوروں کی شناخت میں مد�� کر کے ثواب دارین حاصل کرے
محسن نقوی کو ان سوالات کا جواب دینا پڑے گا
محسن نقوی انتہائی متنازع بن گئے
وہ وزیر داخلہ بن کر خود کو اپنے فرقے سے الگ نہیں کرسکے
ایسا متنازع شخص پاکستان کی داخلی سلامتی کے عہدے کے لیے غیر موزوں یے
رانا ثناء اللہ کو فوری طور پر وزیر داخلہ بنائیں