ایک لڑکے کی شادی ہوئی۔
بیوی بینک میں برانچ مینیجر تھی۔
تنخواہ: 90 ہزار روپے۔
شوہر ایک پرائیویٹ کمپنی میں جاب کرتا تھا۔
تنخواہ: 50 ہزار روپے۔
شروع کے چند مہینے بہت خوبصورت گزرے۔
دونوں مل کر خواب بناتے
چھوٹا سا گھر، بچوں کی اچھی تعلیم، اور سکون والی زندگی۔
لیکن پھر
معاشرہ درمیان میں آ گیا۔
ایک دن خاندان کی دعوت میں کسی رشتے دار نے ہنستے ہوئے کہا:
"او بھائی بیوی تو تم سے ڈبل کماتی ہے!"
دوسرا بولا:
"یار، گھر میں اصل باس کون ہے پھر؟"
سب ہنسنے لگے
مگر شوہر خاموش ہو گیا۔
وہ ہنسی اس کے دل میں کیل بن کر لگ گئی۔
آہستہ آہستہ وہ بدلنے لگا۔
گھر آتا تو چڑچڑا پن، غصہ، خاموشی
ایک رات اچانک بول پڑا:
"تم نوکری چھوڑ دو!"
بیوی حیران رہ گئی۔
"کیوں؟"
شوہر نے غصے سے کہا:
"کیونکہ لوگ میری مردانگی پر ہنستے ہیں!"
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
بیوی چند لمحے اسے دیکھتی رہی
پھر آہستہ سے اپنی سیلری سلپ اس کے سامنے رکھی۔
اور نرم لہجے میں بولی:
"جب میں پیدا ہوئی تھی نا تب بھی لوگوں نے میرے ابو ��ے یہی کہا تھا
"اوہ بیٹی ہوئی ہے؟ بوجھ آ گیا!"
"لیکن میرے ابو نے لوگوں کی نہیں سنی۔
انہوں نے مجھے پڑھایا سنبھالا ہمت دی۔
آج میں 90 ہزار کماتی ہوں کیونکہ ایک باپ نے اپنی بیٹی کے پَر نہیں کاٹے تھے۔
شوہر خاموشی سے سنتا رہا۔
بیوی کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
"اگر آج میں صرف لوگوں کے ڈر سے نوکری چھوڑ دوں
تو کل ہماری بیٹی بھی یہی سنے گی کہ عورت کی کامیابی مرد کی بے عزتی ہے۔"
"آپ کی 50 ہزار اور میری 90 ہزار
یہ مقابلہ نہیں، ہماری ٹیم ہے۔"
"1 لاکھ 40 ہزار میں ہمارے بچوں کے خواب بستے ہیں
ان کا مستقبل ان کی عزت ان کی پڑھائی
پھر اس نے شوہر کا ہاتھ پکڑا اور کہا:
"مردانگی عورت کو دبانے میں نہیں ہوتی
اس کا ہاتھ تھامنے میں ہوتی ہے۔"
"حضرت خدیجہؓ نبی ﷺ سے زیادہ مالدار تھیں۔
انہوں نے تجارت کی کامیابی حاصل کی
مگر نبی ﷺ نے کبھی اپنی انا کو درمیان میں نہیں آنے دیا۔"
"اصل مرد وہ ہوتا ہے
جو اپنی عورت کی کامیابی پر فخر ک��ے، خوف نہیں۔"
یہ سن کر شوہر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
اسے پہلی بار احساس ہوا
وہ اپنی بیوی سے نہیں، لوگوں کی سوچ سے ہار رہا تھا۔
اگلے دن خاندان پھر اکٹھا تھا۔
اسی رشتے دار نے دوبارہ طنز کیا:
"او بھائی، بیوی اب بھی تم سے زیادہ کماتی ہے؟"
اس بار شوہر مسکرایا
اور مضبوط آواز میں بولا:
"ہاں۔
اور مجھے اس پر فخر ہے۔"
"کیونکہ میری بیوی صرف پیسے نہیں کماتی
وہ میرے بچوں کا مستقبل بناتی ہے۔"
"اس کی کمائی میں غرور نہیں برکت ہے۔
اور میں خوش نصیب ہوں کہ میرے گھر میں ایک مضبوط عورت موجود ہے۔"
اس دن پہلی بار
بیوی نے اپنے شوہر کو واقعی "مرد" محسوس کیا۔
مورل آف دی اسٹوری:
1. عو��ت کی کامیابی، مرد کی ناکامی نہیں ہوتی۔
2. کامیاب شادی وہاں ہوتی ہے جہاں انا نہیں، ساتھ ہوتا ہے۔
3. اصل مرد وہ ہے جو عورت کے خواب توڑتا نہیں انہیں پورا کرنے میں ساتھ دیتا ہے۔
4. میاں بیوی اگر ٹیم بن جائیں، تو غربت بھی ہار جاتی ہے
پاکستانی شہری ہو کر
سورج سے روشنی لیتے ہو؟
تم پر ٹیکس لگے گا۔
کیونکہ سورج ہمارے باپ کا ہے
(حکومت)
*زیادہ "چون و چرا"تو
سالو۔۔۔۔ہم ہوا پر بھی ٹیکس لگائیں گے۔
اور
پھر چاند کی روشنی پر بھی
(اسد آر چوہدری)
This is one of the most heartbreaking stories coming out of Gaza.
For nine months, 37-year-old Raed al-Mureidi has been trapped in a medical nightmare. While searching for food for his family at a U.S./Israeli aid distribution point, aka Kill Zones, Raed was shot in the head by the Israeli terrorist forces.
The bullet fractured his skull, leaving him paralyzed and unable to speak.
As his condition deteriorates, a mass has begun to form in his head. Because of the ongoing brutal Israeli blockade and the destruction of Gaza’s healthcare system, the surgery he needs to survive is impossible to get locally.
Israel and its terrorist system have denied his travel permit for nearly a year.
Raed is now a symbol of thousands of others caught in a savage system that blocks both food and the medicine needed to survive.
The heartbreaking video is below.
Ex-US diplomat, Ambassador Jeffrey Gunter delivered a blunt reality check on an Indian news panel, calling out the propaganda and sharply pushing back on negative narratives around Pakistan’s role. He compared the Indian media to “a bunch of school children”.