اسلام آباد
صحافی پر حملہ
صحافی احتشام عباسی پر میلوڈی میں حملہ
نامعلوم افراد نے ایف آئی اے دفتر کے باہر صحافی پر حملہ کیا
حملے کے نتیجے میں صحافی احتشام عباسی شدید زخمی
صحافی احتشام عباسی پر حملہ صحافت پر حملہ ہے۔ ہم اس بزدلانہ کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہیں اور انتظامیہ سے مطا��بہ کرتے ہیں کہ ملوث عناصر کو فوراً گرفتار کر کے کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔
پاکستان تحریکِ انصاف ضلع نصیرآباد بلوچستان کی نئی تنظیم میں تمام نومنتخب عہدیداران کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ بالخصوص صدر محترم وڈیرہ عرض محمد عمرانی صاحب اور جنرل سیکریٹری میران بخش بنگلزئی صاحب سمیت تمام ذمہ داران کے لیے نیک خواہشات۔
انصاف اسٹوڈنٹ فیڈریشن کی مرکزی قیادت سے اہم ملاقات، جس میں سندھ میں تنظیمِ نو، تنظیمی معاملات اور نوجوانوں کے کردار کے حوالے سے تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
انتظامی یونٹس کی تشکیل
پاکستان میں جب بھی نئے انتظامی یونٹس یا نئے صوبوں کی بات ہوتی ہے تو فوراً اسے ملک کو تقسیم کرنے، تعصب پھیلانے یا موجودہ صوبائی وحدتوں کے خلاف سازش کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انتظامی اکائیوں کا قیام ریاست کو توڑنے کا نہیں بلکہ ریاست کو عوام کے قریب لانے کا عمل ہے۔
ایک وسیع و عریض ملک کو صرف نقشے پر چند بڑی اکائیوں میں تقسیم کر دینا اس بات کی ضمانت نہیں کہ ریاست کا ہر شہری یکساں طور پر ریاستی سہولیات، انصاف، تعلیم، صحت، روزگار اور ترقی کے مواقع تک رسائی حاصل کر سکے گا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ریاست عوام تک کتنی آسانی سے پہنچ رہی ہے؟
اگر ایک عام شہ��ی کو اپنے بنیادی انتظامی، قانونی، معاشی اور سماجی مسائل کے لیے سیکڑوں کلومیٹر کا سفر کرنا پڑے، اگر دور دراز علاقوں کی آواز بڑے شہروں کے سیاسی اور انتظامی مراکز تک پہنچتے پہنچتے دم توڑ دے، تو ہمیں نقشے سے زیادہ نظامِ حکمرانی پر غور کرنا ہوگا۔ میرا مؤقف یہ ہے کہ پاکستان کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایسے انتظامی یونٹس تشکیل دیے جانے چاہئیں جو آبادی، رقبے، جغرافیہ، وسائل، معاشی سرگرمیوں اور عوامی ضرورتوں کو سامنے رکھ کر بنائے جائیں۔ خاص طور پر اندرونِ سندھ اور شمالی سندھ کے بہت سے علاقے اس بات کی مثال ہیں کہ محض ایک بڑے صوبے کا حصہ ہونا اور عملی طور پر ریاستی توجہ حاصل کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ جیکب آباد، کشمور، شکارپور، سکھر اور ملحقہ علاقوں کے عوام کو بھی وہی ترقی، بنیادی ��ہولیات اور انتظامی رسائی ملنی چاہیے جو کسی بھی بڑے شہری مرکز کے شہری کا حق ہے۔
نیا انتظامی یونٹ کسی زبان، نسل، قبیلے یا برادری کے خلاف نہیں ہونا چاہیے؛ اس کی بنیاد انتظامی ضرورت اور عوامی مفاد ہونی چاہیے۔ ہمیں یہ سوچ بدلنا ہوگی کہ اختیارات جتنا دور ہوں گے، نظام اتنا ہی مضبوط ہوگا۔ جدید ریاست کا اصول اس کے برعکس ہے: اختیار وہاں ہونا چاہیے جہاں مسئلہ موجود ہے۔ اگر ایک ضلع یا خطے کے مسائل مقامی سطح پر بہتر طور پر سمجھے اور حل کیے جا سکتے ہیں تو ہر معاملے کے لیے دور بیٹھے ہوئے بڑے انتظامی مرکز کی طرف دیکھنے کی ضرورت کیوں ہو؟ انتظامی یونٹس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوسکتا ہے کہ اختیار کی اجارہ داری کم ہو، انتظامیہ جواب دہ ہو، ترقیاتی وسائل مقامی ضرورت کے مطابق استعمال ہوں اور عام شہری کی ریاست تک رسائی آسان ہو۔ اور شاید اس بحث کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان کی نوجوان نسل کو صرف ووٹ دینے والی قوت نہیں بلکہ فیصلہ سازی اور حکمرانی میں شریک قوت بنانا ہوگا۔ جب انتظامی اکائیاں نسبتاً چھوٹی اور قابلِ انتظام ہوں گی تو مقامی نوجوانوں، ماہرین، کاروباری افراد، وکلاء، اساتذہ اور سول سوسائٹی کے لیے بھی آگے آنے کے زیادہ مواقع پیدا ہوں گے۔
ہمیں ایسا نظام چاہیے جہاں کسی علاقے کی ترقی چند بااثر خاندانوں یا محدود سیاسی مراکز کی محتاج نہ ہو۔ جہاں وسائل اور اختیارات کا راستہ عوام تک پہنچے، نہ کہ چند دروازوں پر رک جائے۔ یہی وجہ ہے کہ انتظامی یونٹس کی بحث کو لسانی، نسلی یا جذباتی سیاست سے نکال کر انتظامی اصلاحات، گورننس اور عوامی حقوق کی بحث بنانا ضروری ہے۔
پاکستان چھوٹے انتظامی یونٹس سے کمزور نہیں ہوگا؛ اگر یہ عمل آئین، عوامی رضامندی، میرٹ، شفافیت اور انتظامی ضرورت کے اصولوں پر ہو تو ریاست مزید مضبوط ہوسکتی ہے۔ ہمیں نقشے نہیں، نظام تبدیل کرنا ہے۔
ہمیں سرحدیں نہیں، فاصلے کم کرنے ہیں۔
ہمیں صوبے نہیں توڑنے، عوام اور ریاست کے درمیان دیواریں توڑنی ہیں۔ اور آخر میں سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ نیا انتظامی یونٹ کیوں بنایا جائے؟
اصل سوال یہ ہونا چاہیے اگر موجودہ انتظامی ڈھانچہ ہر شہری تک ریاست کی مکمل رسائی یقینی نہیں بنا پا رہا تو بہتر، قریب تر اور زیادہ جواب دہ نظام بنانے کی کوشش کیوں نہ کی جائے؟
5 اگست یومِ سیاہ
بانیٔ پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کی ناحق قید کے تین سال مکمل ہونے پر سابق صدر ISF لارکانہ ڈویژن علی سمیر اور سابق سینیئر نائب صدر ISF لارکانہ ڈویژن خضر عباس جویو کی قیادت میں ایک پُرامن موٹر سائیکل ریلی نکالی گئی۔
ریلی میں سابق جنرل سیکریٹری ISF لارکانہ ڈویژن امداد دومکی اور سابق صدر ISF ضلع جیکب آباد زبیر جکھرانی سمیت کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرک��ء نے عمران خان کی فوری رہائی، آئین و قانون کی بالادستی، جمہوریت کے تحفظ اور عوامی مینڈیٹ کے احترام کا مطالبہ کیا۔
ہم اپنے قائد عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں اور انصاف، آئین کی بالادستی اور عوام کے حقِ حکمرانی کی جدوجہد ہر حال میں جاری رکھیں گے۔
پولیس کے سخت پہرے اور تمام تر رکاوٹوں ��ے باوجود پاکستان تحریکِ انصاف جیکب آباد کی جانب سے آج انصاف ہاؤس سے ڈی سی چوک تک ایک عظیم الشان احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ حق اور آئین کی بالادستی کے لیے نکلنے والے بہادر نوجوانوں نے بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ شرکت کرکے ثابت کر دیا کہ عوام کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔
جعفرآباد: 5 اگست کی ریلی کے سلسلے میں پاکستان تحریک انصاف نصیرآباد ڈویژن صدر ایڈووکیٹ آدم خان رند، سینئر رہنما صاحب خان رند سمیت متعدد کارکنان اور عہدیداروں کو گرفتار کر لیا گیا۔ سیکرٹری اطلاعات زاہد حسین بنگلزئی
مؤرخہ 05/08/2026
ملک بھر کی طرح ضلع اوستا محمد میں بھی پاکستان کے وزیر اعظم عمران احمد خان نیازی کے غیر قانونی گرفتاری کے حوالے سے ایک پُرامن احتجاجی ریلی پی ٹی آئی ضلعی سیکرٹریٹ سے نکالی گئی
ریلی مختلف رستوں سے ہوتی ہوئی ��ھنٹہ گھر پہنچ کر اختتام پزیر ہوئی
ریلی سے پاکستان تحریکِ انصاف بلوچستان کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری علی بخش نون، نصیر آباد ڈویژن کے جنرل سیکرٹری سید بلاول شاہ ،ڈسٹرکٹ اوستا محمد صدر لالا افضل مسعود ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری نصیر آباد ڈویژن عبدالجبار منجھو ، میڈیا کوآرڈینیٹر جمیل احمد جمالی ، جنرل سیکرٹری ضلع اوستا محمد علی احمد جمالی ، زوار حسین کھوکھر نے خطاب کیا
اس موقع پر سید وقار شاہ ،ٹکری حاکم علی جتک ، یامین علی دایہ ، عمران علی پندرانی ، برکت علی رند ، اعظم لغاری ، نیک محمد مینگل ، محمد صلاح رند ، صابر علی لاشاری، سرفراز احمد عمرانی ، نور محمد جمالی ، ارشد علی دایہ ، شہزادہ رند ، نجیب اللہ ، شوکت علی بگٹی ، باسط پلال ، محمد اسلام ، شاہ زیب ، مجیب احمد ، سراج احمد سومرو ، عبد الفتح ، سیف اللہ دایہ ، نوریز علی دایہ ریحان جان برڑہ ، سلیم احمد دایہ ، قربان علی ، محمد خان جتک ، عابد جتک ، سمیت متعدد کارکنان نے شرکت کی
کل 5 اگست بروز بدھ صبح 10 بجے، پی ٹی آئی جیکب آباد کی جانب سے راجہ خان ہاؤس سے ایک پُرامن ریلی نکالی جائے گی۔
5 اگست 2023 کو چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کو ہم آئین، قانون اور عوامی مینڈیٹ کے خلاف ایک اقدام سمجھتے ہیں۔ اسی حوالے سے ہم اپنے جمہوری اور آئینی حق کے تحت پُرامن احتجاج کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں۔
میں جیکب آباد کی تمام باشعور عوام، نوجوانوں اور کارکنان کو دعوت دیتا ہوں کہ آئیں، انصاف، آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، عوامی خودمختاری (Sovereignty) اور قومی وقار کے لیے اس پُرامن ریلی میں بھرپور شرکت کریں۔
وقت: صبح 10:00 بجے
مقام آغاز: راجہ خان ہاؤس، جیکب آباد
پاکستان زندہ باد
فیض اور حبیب جالب کی نظمیں گانے والے یہ نوجوان جو خود کو کیمونسٹ کہتے اور عمران خان کی حکومت میں آزادئ رائے کی وجہ سے سرکاری عمارت الحمرا میں فیض میلوں میں انقلاب کے گیت گاتے تھے ، آج کہاں گم ہیں ۔ کیا کسی کے اشارے پر اکٹھے ہوتے تھے
Heartbreaking and deeply alarming news is emerging from Azad Kashmir. Instead of protecting the people 🚨
which is the fundamental duty of the state and its institutions—bullets are being fired at unarmed citizens and peaceful protesters. This is extremely tragic and utterly unacceptable.
Whenever the people of any region stand up for their basic rights, against inflation, or against injustice, instead of listening to their grievances, there is an attempt to silence them through force and violence. Using force against our own citizens is not only a state injustice, but it also deepens the dangerous rift and hostility between the public and state institutions.
Our stance—and that of Imran Khan—has always been clear:
The duty of the state is to provide protection, respect, and dignity to its citizens, not to suppress their voice through force.
Violence against unarmed citizens is unacceptable under any circumstances and can never be a solution to any problem.
Such actions will only heighten public anger and sow seeds of division, chaos, and hatred across the country and the region.
We demand that the authorities and administration immediately stop the use of force and violence. The demands and rights of the people must be recognized, and issues should be resolved through meaningful dialogue.
If this use of force against our own citizens does not stop immediately, the flames of hatred will spread further—and the full responsibility for this will lie entirely with the current rulers and state institutions.
#Kashmir #StandWithKashmir #StopViolence #RightsForPeople