حلف نامہ
میں " حافظ غلام مجتبیٰ" یہ گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری پیغمبر اور نبی ہیں اور حضرت محمد صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد نہ کوئی پیغمبر آیا ہے اور نہ کبھی آئے گا اور جو دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا اور کذاب ہوگا
#ختم_نبوت_زندہ_باد
سردار منصُور عباسی نے کل ملک تیمور مسعود کی صدارت میں مری میں ایک ورکرز کنونشن رکھا، ورکرز کنونشن سے پہلے ہی مخبری کی وجہ سے پولیس نے سارے علاقے میں اپنی ٹولیاں کھڑی کر دیں، جہاں ورکرز کنونشن تھا اس جگہ کو بھاری نفری سے گھیر لیا گیا۔ بنا کسی وارنٹ کے کارکنان کو گرفتار کیا گیا اور اب ایک مزاحیہ خیز ایف آئی آر کر دی گئی ہے کہ سردار منصور کارکنان کو لے کر پی سی ہوٹل پر اٹیک کرنے والے تھے۔
رات گئے پہلے انکے مری والے گھر کا گھی��اؤ کیا گیا اور اب اسلام آباد والے آفس کے باہر پولیس موجود ہے۔ حکومتِ وقت اور انکے ہینڈلرز اوچھے ہتھکنڈوں کی آخری حد پر ہیں۔
چلیں نوازشریف نے تو ان کا چیف بدلنے کی کوشش کی تھی (جو اصل میں اس کا آئینی حق تھا)، جو اس کا تختہ الٹ دیا، بینظیر بیچاری نے کیا کیا تھا جو اسے گولیوں سے بھون دیا گیا؟
وہ تو جرنیلوں کے ساتھ مفاہمتی ایگرمنٹ کرکے امریکہ سے پاکستان آئی تھی اسے پھر کیوں مار دیا؟ کیوں اس سے جینے کا حق چھین لیا گیا؟
عمران خان آخری وقت تک جنرل باجوہ کے ساتھ ایک پیج پر تھے، پھر عمران خان کی پیٹھ میں خنجر کیوں مارا گیا؟ (عمران خان نے خود خنجر کا لفظ استعمال کیا ہے۔ کہا باجوہ نے میری پیٹھ می خنجر مارا۔)
ایک طرف عمران خان کو کہتے رہے نریندرا مودی کے خلاف تقریر کرو، کشمیر کے حق میں بولو، دوسری طرف جنرل باجوہ کشمیر کا سودا کر رہا تھا۔ انڈین اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطے بنا رہا تھا۔ ایک طرف عمران خان کو کہا روس جاؤ دوسری طرف امریکہ کو کہا یہ تمہارے خلاف اتحاد بنا رہا ہے۔
ایک طرف عمران خان کی فلسطین کے حق میں تقریروں کو سراہتے دوسری طرف امریکہ کو کہتے عمران اسرائیل کے خلاف ہے، اسرائیل اور امریکہ کا دشمن ہے۔ جبکہ ہم جرنیل اسرائیل اور امریکہ کے اصلی دوست ہیں۔
یہ منافقت، یہ غداری کیوں؟ کیا یہ ان کی سرشت میں ہے؟
اب بھی اگر دوست اور دشمن کی پہچان نہ ہو
تو ناکامی تباہی بربادی مہنگائی بم دھماکے تمہارا مقدر ہے
اور ہاں یہاں محسنوں کو سزا اور غداروں کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی منسب دیئے جاتے ہیں،
جہاں نوجوان بے روزگار اور ریٹائر ہونے والے پوری قوم پر مسلط ہو، وہاں تباہ�� بربادی قوم کا مقدر ہے۔
عمران خان کا کل ہونے والے سمبڑیال ضمنی الیکشن کے حوالے سے پیغام :
“سمبڑیال الیکشن میں تمام لوگ بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالیں۔ اس ظلم کے نظام کے خلاف اپنی واحد طاقت یعنی ووٹ کے ذریعے فیصلہ دیں۔ انہوں نے الیکشن چوری کا پورا پلان بنایا ہو گا لیکن آپ لوگ چوکنا رہیں- فارم 45 لے کر پولنگ سٹیشن سے نکلیں اور فارم 47 ملنے تک RO کے دفتر میں موجود رہیں- دھاندلی کے آگے دیوار بننا ہے تاکہ اس حکومت کو اس کی مقبولیت کا اندازہ ہو سکے۔”
1/3
“جو حق پر کھڑا ہوتا ہے وہ ہارتا نہیں ہے۔ اللہ تعالٰی کا قرآن پاک میں فرمان ہے کہ: "میں کسی ایسی قوم کو تباہ نہیں کرتا جو حق سچ پر کھڑی ہوتی ہے۔" حضرت علیؓ کا قول ہے کہ: "کفر کا نظام چل سکتا ہے مگر ناانصافی کا نہیں-" جھوٹا اور دھوکے باز خود بخود بے نقاب ہو جاتا ہے۔
۹ مئی درحقیقت لندن پلان کا حصہ تھا جس کا مقصد ہی ملک کی سب سے بڑی سیاسی قوت تحریکِ انصاف کو ختم کرنا تھا۔ جس میں مجھے اور دیگر پارٹی اراکین اور کارکنان کو پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت جیل میں ڈالا گیا۔ ہمارا مینڈیٹ لوٹ کر چوروں کو ملک پر مسلط کیا گیا۔ ہم پر ہر طرح کی فسطائیت کے پہاڑ توڑے گئے۔ ہمارے لوگوں پر گولیاں چلائی گئیں اور ہمیں پر جھوٹے کیسز بنائے گئے-
میں نے بطور وزیراعظم جنرل عاصم منیر کو ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے ہٹایا تو عاصم منیر نے اپنے ذرائع سے بشریٰ بی بی تک رسائی کی کوشش کی کہ میں اس حوالے سے آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں، جس پر بشریٰ بی بی نے صاف انکار کر دیا کہ میرا ان معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے لہٰذا میں آپ سے ملاقات نہیں کرونگی۔ بشریٰ بی بی کی گزشتہ 14 ماہ کی ناحق قید اور جیل میں ناروا سلوک کے پیچھے جنرل عاصم منیر کا یہ انتقامی رویہ ہی کارفرما ہے۔ مجھے زیر کرنے کیلئے جس طرح میری اہلیہ بشریٰ بی بی کو انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے اس طرح پاکستان کی تاریخ میں آمریت کے دور میں بھی کبھی نہیں ہوا۔ ان پر اعانت کا الزام تھا جو کہ ثابت بھی نہیں ہوا۔ لہذا ایک کیس سے دوسرے میں گرفتاری ڈال دی جاتی ہے۔ وہ ایک گھریلو خاتون ہیں جنکا سیاست سے کوئی تعلق نہیں- چار ہفتوں سے میری اپنی اہلیہ سے ملاقات بھی نہیں کروائی جارہی۔ جیل ضابطے کے مطابق کل میری اپنی اہلیہ سے ملاقات کا دن طے تھا مگر عدالتی حکم کے باوجود طے شدہ شیڈول کے مطابق ہماری ملاقات نہیں کروائی گئی۔
کل ہمارے ایک ایم این اے عبدالطیف چترالی کو ۹ مئی کے جھوٹے مقدمے میں سزا سنائی گئی ہے، کس ثبوت کی بنیاد پر؟ اسی طرح ڈاکٹر یاسمین کو جیل میں رکھا گیا ہے اور شاہ محمود قریشی اگر مطلو��ہ بیان دے دیں تو انہیں قید سے خلاصی مل جائے۔ انسدادِ دہشتگردی عدالت اور تمام ججز سب ملے ہوئے ہیں کیونکہ ۹ مئی کی جو سی سی ٹی وی فوٹیجز چوری ہوئی ہیں ججز ان کو پیش کرنے کا حکم نہیں دیتے۔ کسی جج نے ہمت نہیں کی کہ وہ سی سی ٹی وی فوٹیج منگوائے اور ثبوتوں کی روشنی میں فیصلہ سنائے۔ ہم بے قصور ہیں اور ہمارے لوگوں کو ثبوتوں کی عدم موجودگی اور بغیر فئیر ٹرائل کے سزائیں سنائی گئی ہیں۔ ہم تمام عدالتوں میں ۹ مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیج منگوانے کیلئے درخواست دیں گے۔
میں نے ۹ مئی اور 26 نومبر کے قتل عام کی منصفانہ تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا تھا جس پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ پاکستان میں عدلیہ اتنی disgraceful کبھی نہیں تھی جتنی آج ہے۔ پہلے ایک جسٹس منیر تھا جسے اسکے ناجائز فیصلے کے باعث دنیا جانتی تھی۔ قاضی فائز عیسیٰ نے بھی وہی روش اختیار کی۔ اب سارے ججز ملے ہوئے ہیں اور صرف اپنی نوکریاں بچانے کے چکر میں ہیں۔”
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی وکلأ اور میڈیا سے گفتگو
2/3
“پارٹی کے تمام عہدیداران کو پیغام ہے کہ جس میں بھی دباؤ برداشت کرنے کی قوت نہیں ہے وہ عہدے سے الگ ہو جا��ے اور اپنی جگہ انہیں موقع دے جو پریشر برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ لہذا کم حوصلہ عہدیداران براہ مہربانی خود ہی پیچھے ہٹ جائیں تاکہ انکی جگہ ہم دلیر اور نظریاتی ورکرز کو آگے لائیں جو قانون اور آئین کی بالادستی اور حقیقی آزادی کیلئے ڈٹ کر کھڑے ہوسکیں۔
پاکستان کی تاریخ میں کسی سیاسی جماعت کے ساتھ اس قدر ظلم نہیں ہوا جو تحریکِ انصاف کیساتھ ہوا۔ ایسے میں ہمارے پاس ملک گیر احتجاج کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔
میں خود جیل سے بطور پارٹی سربراہ احتجاج کی قیادت کروں گا۔ میں نے پوری پارٹی کو پیغام بھیج دیا ہے کہ ملک گیر عوامی احتجاج کی تیاری کریں۔ ہمارے پرامن احتجاج پر گولیاں چلائی جاتی ہیں اب ہم گولیاں نہیں کھائیں گے۔ پوری قوم اور اوورسیز پاکستانیوں کو ہدایت دیتا ہوں کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں پرامن احتجاج کیلئے کمر کس لیں۔
میں دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی آئین کی بحالی کے لیے اس ملک گیر احتجاج میں شرکت کی دعوت دیتا ہوں۔
سپیکر قومی اسمبلی جس طرح ایوان کو چلا رہا ہے ہم اس کے خلاف عدم اعتماد لائیں گے۔ اس کے ہوتے ہوئے ایوان سے اراکین قومی اسمبلی کو اغوا کیا گیا، ہمارے ایم این ایز کی تقاریر سنسر کر دی جاتی ہیں۔ اڈیالہ جیل کے باہر پارلیمنٹیرینز پر تشدد ہوتا ہے مگر یہ ہر معاملے میں ممبران قومی اسمبلی کی نمائندگی میں ناکام رہا ہے۔
حیران کن طور پر الیکشن دھاندلی کی اپیل چیف الیکشن کمشنر ہی کے پاس جارہی ہے جو اس دھاندلی کا سہولت کار اور مینڈیٹ چوروں کی ٹیم “بی” ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کا مقصد ہی یہ تھا کہ 8 فروری کے الیکشن فراڈ کو تحفظ فراہم کیا جائے اور تحریک انصاف کو victimize کیا جائے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ محض حکومتی عدلیہ بن کر رہ گئی ہے۔ ہم سے مخصوص نشستیں چھیننے کی ��وری تیاری ہے مگر آپ سب نے حوصلہ نہیں ہارنا اور جم کر کھڑے رہنا ہے-“
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی وکلأ اور میڈیا سے گفتگو
3/3
“Those who uphold the truth can never be defeated. Allah Almighty states clearly in the Holy Qur’an: “And your Lord would not have destroyed the cities unjustly while their inhabitants were righteous”. As Hazrat Ali (RA) said, ‘A system built on disbelief may survive, but one founded on injustice will not.’ Lies and deceit inevitably unravel, and the truth prevails.
The events of May 9th (2023) were, in fact, a part of the “London Plan”, the sole purpose of which was to eliminate Pakistan’s largest political force, Pakistan Tehreek-e-Insaf. Under this premeditated plan, I and several of my party leaders and workers were unlawfully imprisoned. Our democratic mandate was brazenly stolen, and corrupt individuals were imposed upon the nation. We were subjected to relentless fascist oppression, our supporters were shot at, and baseless cases have been fabricated against us.
As Prime Minister, when I removed General Asim Munir from the post of DG ISI, he sought to approach my wife Bushra Bibi through intermediaries to discuss the matter. Bushra Bibi categorically declined, saying that she had no involvement with such affairs and would not meet him. It is General Asim Munir's vindictive nature that is behind Bushra Bibi's unjust 14-month incarceration and deplorable inhumane treatment in prison. The way my wife has been targeted for personal vengeance is unprecedented, even during Pakistan’s darkest periods of dictatorship. She was accused of aiding and abetting, an allegation for which no proof has ever been presented, and she is arrested in one false case after another. She is a private citizen, a homemaker with no political involvement. I have not even been allowed to meet her in the past four weeks. According to jail regulations, I was scheduled to meet her yesterday, but even that meeting was denied, in complete violation of court orders.
Yesterday, our Member of National Assembly, Abdul Latif Chitrali, was convicted in a fabricated case related to May 9th (2023). Based on what evidence? Similarly, Dr. Yasmin Rashid remains imprisoned, while Shah Mehmood Qureshi would be released if he agreed to make the statements they desire from him. Anti-terrorism courts and numerous judges are complicit in this campaign of repression. Despite repeated demands, they refuse to summon or examine the stolen CCTV footage from May 9th. Not a single judge has the courage to demand those tapes and deliver a verdict based on evidence. We are innocent. Our people are being sentenced without evidence and without the right to a fair trial. We will petition all courts to demand the release and review of that CCTV footage.
I had called for the formation of a judicial commission to conduct a transparent investigation into the massacres (of unarmed pro-democracy protesters) of May 9th and November 26th (2024). Yet there has been no movement on this demand. The judiciary in Pakistan has never been more disgraceful than it is today. In the past, there was Justice Munir, whose unjust decisions earned him global notoriety. Today, Justice Qazi Faez Isa is following in the same footsteps. The entire judicial system seems complicit, driven not by justice but by a desire to protect their own jobs and privileges.”
Former Prime Minister Imran Khan, speaking from Adiala Jail during a conversation with his legal team and the media (May 31, 2025)
2/3
چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام:
”اس ملک میں جنگل کا قانون نافذ ہے۔ تحریک انصاف پر تمام قانونی اور آئینی راستے بند کر دیے گئے ہیں اس لیے میں اب خود بطور پارٹی سربراہ جیل سے احتجاجی تحریک کی سربراہی کروں گا- باہر میری نمائندگی عمر ایوب کریں گے- سلمان اکرم راجہ ہدایات پر عملدرآمد کروائیں گے-
تحریک کا لائحہ عمل چند روز میں قوم کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔ اس احتجاجی تحریک کے لیے اپنی اتحادی جماعتوں سمیت تحریک تحفظ آئین، جی ڈ�� اے اور ماہرنگ بلوچ کو بھی دعوت دیں گے۔ انشأللہ اس تحریک کو کوئی نہیں روک سکے گا۔
پاکستانی قوم کو میرا پیغام ہے کہ شاید یہ پھر سے میری ملاقاتوں پر پابندی عائد کر دیں لیکن آپ نے یاد رکھنا ہے کہ ووٹ میرا نہیں آپ کا چوری ہوا ہے۔ آواز میری نہیں آپ کی دبائی جا رہی ہے، لہذا آپ کو خود پاکستان کی حقیقی آزادی کے لیے کھڑے ہونا ہوگا۔ بارہا کہہ چکا ہوں کہ “آزادی کوئی پلیٹ میں رکھ کر نہیں دیتا”-
احتجاجی تحریک ملک گیر اور مسلسل ہو گی کیونکہ اسلام آباد میں سنائپرز تعینات ہوتے ہیں جو معصوم شہریوں اور پر امن احتجاجیوں پر سیدھے فائر کھول دیتے ہیں۔جو قتل عام تحریک انصاف کے ساتھ کیا گیا اور کسی جماعت کے ساتھ نہیں ہوا۔
میرا اپنے پارٹی عہدیداران کو پیغام ہے کہ اگر میں جیل کاٹ سکتا ہوں تو آپ کو بھی کوئی ڈر نہیں ہونا چاہیئے۔ اب تک پارٹی سب کو بنی بنائی مل گئی تھی۔ اب مشکل وقت ہے اور سب کا امتحان ہے۔ مجھے بھی جیل میں ڈالنے کے بعد تین سال خاموش ہو جانے پر آرام سے بنی گالا بیٹھ جانے کا کہا گیا تھا جیسے نواز شریف کو دس سال تک چپ رہنا پڑا مگر میں بزدل نہیں ہوں اور یزیدیت پر کبھی خاموش نہیں رہ سکتا۔
میں جمہوریت کی بحالی کے لیے آخری دم تک جدوجہد کروں گا-“
1/2
چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام:
“پاکستانی عوام نے سمبڑیال انتخابات میں ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ ظلم کے ذریعے ان کا نظریہ تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ عوام کا فیصلہ وہی ہے جو 8 فروری کو انھوں نے سنایا تھا۔ اس الیکشن میں بھی بے شرمی سے دھاندلی کر کے عوامی مینڈیٹ کو پیروں تلے روندا گیا۔
8 فروری کی انتخابات کی چوری میں قاضی فائز عیسیٰ، سکندر سلطان راجہ اور جنگل کا بادشاہ پوری طرح شامل تھے۔ انھوں نے اس وقت تک انتخابات ملتوی کروائے جب تک تحریک انصاف کو اپنی دانست میں کرش نہیں کر دیا گیا لیکن 8 فروری کو عوام خاموش انقلاب لے آئی۔
آٹھ فروری ایک بہت بڑا انقلاب تھا۔ جنھوں نے 8 فروری کا دو تہائی مینڈیٹ چرا لیا وہ ہمیں ضمنی انتخاب کیسے جیتنے دیتے؟ کیونکہ ان کو یہی ڈر ہے کہ میں جیل سے باہر نہ آ جاؤں۔لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی حیثیت اب سیاسی لاشوں سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔ ان کو اپنے اصل ٹھکانے لندن واپس چلے جانا چاہیئے۔
تحریک انصاف کو کرش کرنا “لندن پلان” کا حصہ تھا جو نواز شریف نے جنگل کے با��شاہ، قاضی فائز عیسیٰ اور سکندر سلطان راجہ کے ساتھ مل کر بنایا تھا۔
لندن پلان کے تحت ہی نو مئی بھی کروایا گیا۔ جس کا مقصد تحریک انصاف کو توڑنا اور ختم کرنا تھا۔ اسی لیے جنھوں نے پریس کانفرنس کر دی وہ آزاد ہیں جبکہ نظریے پر کھڑے رہنے والے آج بھی ناحق قید میں ہیں۔
اگر 9 مئی تحریک انصاف کی سازش تھا تو سی سی ٹی وی فوٹیج سے ثابت ہو جاتا لیکن سی سی ٹی وی چرا کر سب سے بڑا جرم کیا گیا اور پھر ایک دم سے ۱۰ ہزار ورکرز کو گرفتار کرنا ثابت کرتا ہے کہ یہ ایک فالس فلیگ تھا، جس کی آڑ میں تحریک انصاف کو کرش کیا گیا۔
پاکستان میں عدلیہ مکمل طور پر مفلوج ہے۔ قاضی فائز اور سکندر سلطان ک�� جانے کا وقت آیا تو چھبیسویں ترمیم کر کے کئی نئے فائز عیسیٰ پیدا کر دیے گئے۔ سکندر سلطان راجہ مدت ختم ہو جانے کے باوجود آج تک صرف دھاندلی کی سہولت کاری کے لیے بیٹھا ہوا ہے۔ اس ملک میں انصاف ناپید ہو چکا ہے۔ اب ہم سے مخصوص نشستیں بھی چھبیسویں ترمیم والی عدالتوں کے ذریعے چھیننے کی کوشش میں ہیں۔
ہم اس حکومت سے کیا بات کریں جو خود دو NROs کی پیداوار ہے۔ اس حکومت میں بیٹھی کٹھ پتلیوں نے پہلے مشرف اور پھر باجوہ سے NRO لیا اور اپنی چوریاں معاف کروائیں۔ شہباز شریف “لیلے” کی طرح اسٹیبل��منٹ کی رسی سے لٹکا ہوا ہے، دور جاتا ہے تو اسے آکسیجن کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ یہ حکمران اور چھبیسویں ترمیم والے جج کسی کو کیا ہی انصاف دے سکتے ہیں؟
دنیا میں کہاں ایسا ہوتا ہے کہ جو فراڈ کرے وہی اپیل سنے؟ میرے خلاف 4 جھوٹے فیصلے کروائے گئے جو اسلام آباد ہائی کورٹ آنے پر اڑ گئے، اس کے بعد سرکاری ججوں کا انتظار کیا گیا اور میری اپیل تب لگائی گئی جب سرکاری جج آ گئے۔
میرے تمام انسانی حقوق معطل ہیں۔ میں 2 سال سے قید میں ہوں جبکہ میری اہلیہ کو 14 ماہ سے قید میں رکھا گیا ہے۔ عدلیہ انسانی حقوق کا دفاع نہیں کرتی کیونکہ وہ سب ایک کرنل سے ڈرتے ہیں۔ میں یہ سب ظلم صرف قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں اور کسی صورت ڈیل نہیں کروں گا۔
یہ بات کہ کوئی ڈاکٹر امریکا سے آئے ہیں سب افواہ ہے۔ جب ان پر دباؤ آتا ہے یہ مجھ سے بات چیت کا آغاز کر دیتے ہیں اور جب دباؤ ختم ہو جائے تو پھر سختی بڑھا دیتے ہیں۔ ایک چھوٹے سے سیل میں رہتے ہوئے انسان کیا کر سکتا ہے سوائے کتابیں پڑھنے کے مگر اڈیالہ جیل میں تعینات کرنل کو میری کتابوں سے بھی مسئلہ ہے۔
میرا اسٹیبلشمنٹ کو پیغام ہے کہ آپ کو تحریک انصاف کی ضرورت ہے مجھے آپ کی کوئی ضرورت نہیں ۔ اصل طاقت اسی کے پاس ہوتی ہے جس کے ساتھ عوام ہو۔ عوام کی اصل نمائندہ جماعت تحریک انصاف ہی عوام میں فوج کا تاثر بحال کر سکتی ہے۔
تین وجوہات کی وجہ سے اس وقت قوم کو اتحاد کی شدید ضرورت ہے:
۱- مودی اس وقت زخمی ہے اور پاکستان پر ایک مرتبہ پھر حملہ آور ہو سکتا ہے۔ بھارت کی معیشت ہم سے کافی مضبوط ہے اور 700 ارب ڈالر کے ذخائر ہیں، ہمیں بھی معاشی لحاظ سے مضبوط ہونا ہو گا تاکہ بھارت کا مقابلہ کر سکیں-
۲- خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں آئے روز دہشتگردی کے واقعات بڑھ رہے میں جس میں معصوم ل��گ شہید ہو رہے ہیں۔
۳- معیشت مکمل طور پر تباہ حال ہے اور سرمایہ دار اور نوجوان مسلسل بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں-
جس ملک میں انصاف نہ ہو وہاں کوئی سرمایہ کاری نہیں آ سکتی۔ سرمایہ کاری کے لیے کوئی بھی کلیہ آزما لیں عوام کی منشاء کی حکومت جب تک قائم نہیں ہو گی یہ بس ایک خواب ہی رہے گا۔”
2/2
جیسا کہ عمر ایوب خان صاحب نے آج پریس کانفرنس میں بتایا کہ ہمارے 200 سے زیادہ کارکن لاپتہ ہیں-
سوال یہ ہے کہ اگر حکومت 5000 کارکنوں کی گرفتاری ظاہر کر سکتی تھی، تو وہ 5200 کارکنوں کی گرفتاری بھی ظاہر کر سکتی تھی-
تو پھر یہ جو 200 سے زیادہ کارکنان گم ہو گئے ہیں، یہ کہاں گئے؟
ہمارا پختہ شک بلکہ یقین ہے کہ انھیں شہید کر دیا گیا ہے-
#گولی_کیوں_چلائی ؟
@HassanAyub82@PTIofficial تمہاری مالکن پٹواریوں کی باجی کسی عہدے کے بغیر ایک ارب کے یوتھ پروگرام کی چیئر پرسن کیسے بنی تھی۔۔۔؟؟ بعد میں ذلیل ہو کر سائڈ پر ہوئی تھی جواب کا انتظار ہے مالکوں سے پوچھ کر بتا دو۔۔۔
ابصار عالم اب بھاگنا مت میری یاداشت بدترین تشدد کے بعد بھی الحمدللہ اچھی ہے یہ معاملہ ایک ایسے ماہر کار چور کا تھا جس نے پولیس سے ملی بھگت کرکے کروڑوں کی گاڑیاں چوری کیں۔ لین دین پر تنازعہ ہوا تو پولیس نے اسے پکڑ کر جعلی پولیس مقابلے میں مار دیا اور کروڑوں کا مال ہڑپ لیا اسکے بھائیوں نے جعلی مقابلے کے خلاف آواز اٹھائی تو اسکے 4 بھا��ی جو ملوث نہیں تھے وہ بھی اٹھا کر قتل کر دیئے۔ ان لڑکوں کی ماں میرے پاس فریاد لائی تو معاملہ کھل گیا۔ پولیس والوں نے شریف خاندان تک سفارش پہنچائی اور پھر اس ٹاؤٹ نے یہ نوٹس بھیجا جسکا میرے پروگرام یا پیمرا سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ عدالت میں پولیس زمہ دار نکلی اور عدالت کے احکامات کے باوجود ان پولیس والوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔ شریف خاندان کا دور ایسے بے شمار مظالم سے بھرا پڑا ہے جس پر ابصار عالم جیسے وظیفہ خور سرکاری عہدوں کے لالچی پردے ڈالتے رہے ہیں آج بھی یہ شخص سانحہ ڈی چوک کا چشم دید گواہ ہونے کے باوجود اپنے آقاؤں کی گردن بچانے کے لیے اپنا ضمیر بیچ رہا ہے۔