خیبرپختونخوا حکومت یعنی کوئی حکمران کوہاٹ سانحے کی جگہ پر نہیں پہنچا اور نا جنگلی سہیل آپریدی
یہ وہی حکمران ہیں جو ان فتنہ الخوارج کو افغانستان سے لائے اور آج یہی فتنہ الخوارج معصوم عوام کی جانیں لے رہے ہیں
عوام اور میڈیا کے نمائندے تو جائے وقوع پر موجود اور اپنی پولیس اور افواج کے شانہ بشانہ
18 ستمبر 2026
کوہاٹ
عوام کی رائے
کوہاٹ دھماکہ خیبر پختونخوا حکومت کہاں ہے؟؟؟
فوج کے علاوہ وہاں کوئی موجود نہیں ہے۔ عوام کی رائے
وزیر اطلاعات شفیع جان آئے اور ٹک ٹاک بنا کر چکے گئے جبکہ کوہاٹ واقعہ کے حدود میں حالات پر کوئی بات نہیں کی
اسی طرح وزیر قانون صاحب بھی آئے اور بیان دے کر چلے گئے
صوبائی حکومت کو عوام کا کوئی خیال نہیں بس قیدی 804 کے پیچھے پوری صوبائی حکومت اور سرکاری مشینری لگائی ہے
بد قسمتی سے گزشتہ تیرہ سال سے ان کی حکومت ہے مگر عوام کے لئے کوئی کام نہیں کیا گیا
وزیر اعلئ سہیل افریدی احتجاج کے لئے لوگوں کو جمع کرنے میں مصروف ہے اور یہاں کوہاٹ سمیت پورے صوبے میں عوام دہشتگردی کی زد میں ہے
یہ عمران نیازی پلید کی پالیسی کا قدرتی نتیجہ ہے سب سے کمزور شخص کو کرسی پر بٹھانا
انہوں نے پنجاب میں بزدار کو لا کر یہی کیا تھا
سول حکومت کی عدم موجودگی اور سیکیورٹی بحران
خیبر پختونخوا حکومت کی انتظامی صلاحیت بالکل شل ہو چکی ہے۔عوام
صوبے میں سول انتظامیہ نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی اور تمام تر بوجھ صرف پاک فوج کے کندھوں پر ڈال دیا گیا ہے۔عوام
ایک ایسے وقت میں جب پولیس لائنز اور مساجد جیسے حساس مقامات مسلسل دہشتگردی کا ہدف بن رہے ہیں صوبائی قیادت اور ان کے نمائندے سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنے اور اسلام آباد کی طرف مارچ کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔عوام
@SupariKhan ایسا کرو جو پینرز یہ لوگ اتار رہے ہیں وہ اٹھا کے اپنی ماں بہن بیوی بیٹی کے پھدے پے لگا لو چوتیئے۔کیونکہ اب پختونخواہ عوام کو اس منحوسیت سے چھٹکارا چاہیئے۔
@Umair_Raj321 اور یہی 40 ہزار دہشتگرد تمھارے اس ناجائز باپ عمرانڈو برکی قادیانی نے لا کر بسائے تھے جب فیض حمید غدار کو کور کمانڈر پشاور بنا کر چوکیاں ہٹائی گئی تھی
ہمیشہ یاد رکھیں!
دہشتگردی پاکستان میں واپس آنے کی سب سے بڑی وجہ وہ انسان تھا جس نے 40 ہزار دہشتگرد اپنے زیر نگرانی خیبر پختونخواہ میں اس نیت سے بسائے تھے کہ وہ اسکی سیاسی جماعت چھوڑ کر اسکے سیاسی مخالفین کی الیکشن مہم رکوا دیں گے۔
آج وہ وائرس پھیل چکا ہے۔