“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے” -
ناحق قید سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پیغام
(21 مارچ، 2026)
Details of the martyrs of November 26, 2024 #IslamabadMassacre. There were more martyrs whose details may come to surface later. It is a well known fact that there was a cover up exercise to conceal the evidence.
#OurMartyrsOurHeroes
It has now been around 1,100 days since my father, Imran Khan, was imprisoned, and my brother and I haven’t heard his voice since March. For months, we’ve been denied contact with him. We remain in the dark about his access to healthcare as his eyesight continues to deteriorate. He urgently needs medical attention, and with no family or legal access, we don’t even get any second hand information or reassurance.
I’ve found myself especially missing him recently. I want to speak to him about mundane things like my cricket, books I’ve been reading and what new movies are good. I understand the people of Pakistan want their chosen leader free, but I miss my father more than ever.
But this is not just about a father. It is about Pakistan, and its future. A rigged, authoritarian regime continues to crush political opposition, undermine democratic institutions, and deny millions of Pakistanis their right to freely choose their leaders, whilst terrorising those who speak their beliefs.
I once again plea to the international community to not look away. Silence in the face of injustice only enables it.
جب آپ کسی بزرگ خاتون کو ان کے بالوں سے پکر کر گرائیں گے اور پھر سڑک پر گھسیٹں گے تو آپ کو کیا لگتا ہے کہ وہ آپ کے قصیدے پڑھیں گی؟ ان کے بیٹے کو ملیٹیری قید میں ڈالا، بھائی کو تنہائی میں رکھا ہےبغیر کوئی جائز کیس کے، ان کی ایک آنکھ کی بینائی لے لی، عوام کا مینڈیٹ چرایا، اور جو لوگ احتجاج کرنے نکلے، ان کو گولی مار کر شہید کیا ۔۔ یہ ہیں وہ ریڈ لائنز جو آپ روز کراس کرتے ہیں۔ اس وقت پوری قوم کو آپ کی نیت پر شک ہے کیونکہ آپ نے حق مانگنے کہ سارے دروازے بند کیے ہوئے ہیں-
اور جب اتنا ظلم کریں گے تو کبھی غلطی سے آپ کو کامیابی مل بھی گئی تو قوم آپ کے ساتھ نہیں کھڑی ہوگی کیونکہ آپ قوم کے ساتھ نہیں کھڑے-
ضد اور انا میں ظلم کرنے کے کچھ نقصانات ہوتے ہیں۔ قوم پیچھے نہیں کھڑی ہوتی۔ ان کو سڑکوں پر آنے سے روک سکتے ہیں آپ گولی سے ڈرا کر، مگر دلوں سے عمران خان کو نہیں نکال سکتے نہ ہی اپنے لیے کوئی اچھے جزبات پیدا کر سکتے ہیں۔
اللہ توبہ کا موقعہ دیتا ہے، اس وقت اللہ سے اور عوام سے معافی مانگنے کا وقت ہے تمام ظالموں کا۔ نفرتیں اور بڑھانے سے (اور ہر صوبے میں بڑھانے سے) پاکستان کا بہت نقصان ہوگا۔ یہ ملک اور اس کی عوام ہیں تو سب کچھ ہے، جب عوام بے دل ہوجائے اور ملک سے باہر جانے کے موقعے ڈھونڈ رہی ہو تو وہ ملک نہیں، محض ایک پلاٹ ہے اور جس پلاٹ میں لوگ نہیں رہنا چاہتے، اس کی قدر نیچے جاتی رہتی ہے، یہ بات آپ شاید ہم سے بھی بہتر سمجھتے ہیں۔
پاکستان کو نقصان پہنچانا بند کریں اور عدالتیں آزاد کریں۔ انصاف ہوگا ملک میں تو برکت آئے گی۔ اس کے علاوہ کوئی حل ہوتا تو چار سالوں میں مل چکا ہوتا۔
۵ اگست تک تحریک کو پیک پر لے جانے اور فیصلہ کن تحریک کے حوالے سے بدھ کے روز میٹنگ بلائی گئی ہے۔ میری گزارش ہے کہ اس کو اک روزہ ایونٹ کے بجائے ایک فیصلہ کن تحریک کی طرف لے جائیں۔ انشاءاللہ آپ کے لائحہ عمل کے اعلان کے بعد میرے حلقے سمیت پوری قوم اپنے لیڈر کے لیے مزید بہتر انداز سے تیاریاں کرتے ہوئے نظر آئے گی، جس لیڈر کی وجہ سے ان کا امن ممکن ہوا، کسٹم ایکٹ کا خاتمہ ہوا اور زندگی میں خوشحالی آئی اور آج پھر ان پر جبر کے سائے منڈلانے لگے ہیں۔
میٹنگ میں اس نکتے کو بھی سامنے رکھیں کہ پختونخواہ کے جنوبی اضلاع اور سابقہ فاٹا میں پہلے ہی میڈ اپ دہشت گردی سے حالات خراب ہوچکے ہیں اور اب مالاکنڈ ریجن میں سوات، دیر، بونیر ،شانگلہ میں وہی بیس بیس بندے جن کو باجوڑ سے سیلاب کے دنوں میں خصوصی روٹ لگا کر منتقل کیا گیا تھا (اس کی تفصیل میں پچھلے سال ٹویٹس اور پھر کتاب میں درج کر چکا ہوں) ان کو یکدم سےمتحرک کر دیا گیا ہے جس کے بعد ہی پچھلے ہفتے جھڑپ اور سی ٹی ڈی ڈرون گرانے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں۔ مہینوں نہیں، ہفتوں یا دنوں میں حالات مزید خراب ہوں گے اور اس دفعہ نہ صرف بیانیہ بنا کر دہشت گردی کا ملبہ آپ پر ڈالا جائے گا بلکہ ان لائے ہوئے لوگوں سے نشانہ بنوایا جائیگا۔ پھر سے سن لیجئے “آپ کو نشانے پر رکھا جائیگا”۔ ایسے حالات میں تحریک تو چھوڑیں پی ٹی آئی گھروں تک محدود ہوجائے گی۔ عوام کا نقصان تو ہوگا ہی آپ کو بھی اندازہ ہے کہ اس سے عمران خان کی زندگی مزید کتنے خطرات سے دوچار ہوگی جب ان کا مضبوط قلعہ اور کارکن بھی محصور اور محدود ہوجائے گا۔ میں نے اپنی غیر موجودگی میں جن کو امن کا پرچم حوالے کیا تھا وہ تیار ہیں، آپ یعنی قیادت و اراکین اسمبلی بھی امن پاسون کا انعقاد کریں کیونکہ امن کے دشمنوں کی پالیسیوں کو شکست اسی سے ہوگی۔
تیسرا نکتہ فوج عوام کو لشکر بنانے پر زور دے رہی ہے۔ ماضی میں امن کمیٹیز بنا کر ان کو عسکری سپورٹ دے کر ظلم کی داستانیں رقم کی گئیں۔امن کمیٹیز کی نشاندہی پر لوگوں کو فوج کے حوالے کیا جاتا رہا، گھر گرائے گئے۔ پھر پالیسی بدلی آباد کاری کا فیصلہ ہوا اور واپسی پر انہی امن کمیٹیز سے بدلہ لینے کا سلسلہ شروع ہوگیا، ٹارگٹ کیلینگز کے واقعات اسی پالیسی کا خمیازہ ہے۔ آج پوری کی پوری قوم کو لشکر بنانے پر لگا کر ان کو لڑنے پر آمادہ کیا جا رہا ہے۔ جو لشکر کے خلاف ہوتا ہے یا انکار کرتا ہے ان پر چنگیز خان، ہلاکو خان بن کر ٹوٹ رہے ہیں۔ قوم امن پاسون کررہی تھی آپ گولیاں چلا رہے تھے، قوم آپ کو غلط پالیسی بتا رہی تھی، آپ غداری کے تمغے بانٹ رہے تھے دہشت گردی لانا آپ کی خواہش تھی تو قوم کیوں لشکر بنائے؟ آپ کے ہوتے ہوئے ان کو پھیلایا گیا اب آپ قوم کو بندوق تھما کر کیا حاصل کرنا چاہتے ہو؟
ڈرون حملوں پر مجرمانہ خاموشی،آپریشن پر خاموشی، ریڈیو پاکستان بلڈنگ، نو مئی کی رپورٹ اور زمہ داران کا تعین نہ کرنا وغیرہ پہلے ہی آپ پر سیاہ دھبہ ہے اب پی ٹی آئی کو صوبے میں کچلنے کے لیے انکے مد مقابل کھڑا کرکے عوام کو مزید اذیت دینے کا ارادہ ہے۔ اس لیے تمام تر تفصیلات کو دیکھتے ہوئے گزارش ہے کہ کل کی بلائی گئی میٹنگ میں ایک دن کا ایونٹ نہیں ایک تحریک کا پلان واضح کیجئے۔ محصور اور محدود ہونے سے قبل فیصلہ کن مرحلے کی طرف بڑھیں۔
سوات میں میرے آبائی علاقے سے علیمہ خان صاحبہ کا بیان سُنا، سب سے پہلے تو میں اس بات پر اپنے لوگوں کا بہت شکرگزار ہوں جنہوں نے ایک رات کےشارٹ نوٹس پر میرے لیڈر کی بہن کا شاندار استقبال کیا۔ خان صاحب کی وساطت سے ہم سب کے دلوں میں ان کا بہت احترام ہے۔ میں ان کے مجھ پر اس قدر اعتماد پر بھی مشکور ہوں کہ ان کی رائے میں میری موجودگی سے عمران خان کی رہائی کی تحریک کو وہ تقویت ملے گی جو تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اور اتنی تجربہ کار اور قابل قیادت کے ہوتے ہوئے نہیں ممکن ہو پائ۔ جب بھی خان صاحب کی میرے حوالے سے ہدایات میں تبدیلی سے مجھے، ان کے مصدقہ زرائع سے تصدیق ملی، میں انشاء اللہ ان کے اور اپنی قوم کے اس بھروسے کو شرمندہ نہیں ہونے دوں گا۔ تب تک اور ہمیشہ، ہر تحریک اور ہر مرحلے پر عمران خان کی پارٹی اور عمران خان صاحب کے خاندان کو میری اور میرے لوگوں کی ویسی ہی حمایت میسر ہوگی جس کا مظاہرہ آپ نے اس ہفتہ مالاکنڈ ریجن، آج سوات میں اور اب سے کچھ دیر بعد بونیر میں دیکھیں گے۔
رہی بات اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونے کی تو میری قوم جانتی ہے کہ کل بھی اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑا تھا اور آج بھی اپنے قائد اور اپنی قوم کے ساتھ کھڑا ہوں چاہے میں اپنے لوگوں کے مابین موجود ہوں یا نہیں میں نے نہ ان کے حقوق اور ان کی زندگیوں کا سودا کرنے کی اجازت کسی کو دی ہی، نا آگے کبھی دوں گا۔ دہشت گردوں کو نکالنے اپنا امن قائم کرنے،کسٹم ایکٹ کے خاتمے اور دیگر ترقی سے یہ ثابت شدہ اور میری قوم اس کی گواہ ہے۔
اگرچہ چند حلقوں کو اس تحریر کی طوالت سے تکلیف ہوگی مگر چونکہ ایک لایعنی بحث چھڑ ہی گئی ہے تو اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چند حقائق سامنے لے آؤں۔ آپ کو پڑھنے میں دقت پیش آتی ہے تو معذرت کے ساتھ میں اپنے کارکنان سے مخاطب ہوں، آپ آگے گزر سکتے ہیں ۔
۲۰۱۸ انتخابی مہم کا آغاز عمران خان نے سوات سے کیا اور کل جہاں ہیلی کاپٹر لینڈ ہوا اسی جگہ میرے گاؤں عمران خان کا ہیلی کاپٹر لینڈ ہوا تھا۔ خان صاحب نے جگہ کی تعریف کی، میں نے بتایا یہاں سوات آپریشن کے دور سے فوج قابض ہے انشاءاللہ اب آپ وزیراعظم ہوں گے تو یہ قبضہ چھڑوانا ہے، ایک بوڑھی خاتون جن کے پانچ بچوں کو دس سال سے فوج اٹھا کر لے گئی تھی اور جو کئی مہینوں سے میرے پاس آرہی تھے ان کی درخواست بھی تھما دی۔ جلسے میں خان صاحب سے یہ بھی گزارش کی کہ پچھلے مہینےایک نوٹیفیکشن کے زریعے فاٹا اور پاٹا پر ٹیکس لاگو کیا گیا ہے آج ہم سے اسے ختم کرنے کا وعدہ کریں۔
عمران خان کی حکومت بنی، بطور رُکن کابینہ پہلی میٹنگ میں یاد دلایا کسٹم ایکٹ تو اسی دن ختم ہوگیا لیکن فوج سے زمین خالی کرانے اور بوڑھی ماں کے بچوں کو بازیاب کرانے کی جدوجہد جاری رہی۔
جب وزیراعظم سے حیلے بہانے کیے گئے تو میں نے اپنے حلقے کے لیے نئے منظور شدہ دو منصوبوں؛ یونیورسٹی اور ہسپتال کے لیے اسی جگہ کا انتخاب کیا۔ فوج نے ہماری ہی حکومت میں ہمیں دھمکیاں لگائیں، ہر ممکن کوشش کی لیکن ہم نے افتتاح کی تاریخ دے دی۔ نتیجتاً سول سوسائٹی کو ڈھال بنا کر عدالت سے رجوع کیا گیا۔ کیس لگنے سے قبل ہم نے اصل سول سوسائٹی کے مظاہرے کروا کر مطالبہ کیا کہ عوام کی جگہ خالی کرائیں اور یہ غیر قانونی قبضہ چھڑوائیں۔
فوج نے ہماری ہی حکومت میں مجھے غدار بنا کر پیش کرتے ہوئے وزیراعظم تک شکایت لگائی۔ خان صاحب نے بلایا نئے تنازعے کی وجہ پوچھی، انہیں یاد دلایا کہ یہ وہی جگہ ہے۔ خان صاحب نے ایم ایس کو بلا کر کہا کہ ان کو پیغام دو کہ یہ تو قبضہ چھڑوا رہا ہے اور آپ میرے پاس آکر کہتے ہیں کہ قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ خان صاحب نے پوچھا عوام کی زمین تو چھڑوا لیں گے یہ منصوبے کہیں اور نہیں لے جاسکتے تاکہ تاخیر کا شکار نہ ہوں؟ میں نے کہا سر اتنے عرصے میں میں فوج کا قبضہ نہیں چھڑوا سکا یہ منصوبے اتنے بڑے ہیں کہ عوام خود قبضہ چھڑوا لے گی، لیٹ می ہینڈل دس۔ خان صاحب نے کہا پہلے ہی سستی سڑکوں اور احتساب کے عمل پر حالات ٹھیک نہیں، شہزاد اکبر کو کہا ہے کہ وہ آپ کے بھیجے کیسسز پرسیو کرے لیکن ”چوز یور بیٹلز کیرفلی، یو ہیو مینی فائٹس“۔
بلآخر ہم تمام کیسز جیت گئے اور افتتاح کااعلان ہوا۔ ڈی جی سی نے پیغام دیا کہ کرسکتے ہو تو کرلو یہ افتتاح تب افتتاح سے قبل اسی جگہ عوام کو مجتمع کیا۔ منصوبہ روکنا ممکن نہیں تھا تو نیا پینترہ اختیار کیا گیا، ایف ڈبلیو او نے بغیر ٹینڈر کے منصوبے کا ٹھیکہ اٹھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ کور کمانڈر سے لے کر اعلی حکام تک نے سی ایم اور متعلقہ محکموں سے رابطے کیے، مجھ سے ڈی جی ایف ڈبلیو او نے ملاقات کا وقت مانگا۔ ملے تو کہنے لگے مبارک ہو بہت بڑے منصوبے ہیں ”مل کر اچھا سا پی سی ون بناتے ہیں اور بسم اللہ کرتے ہیں“۔ میں نے جواب دیا پی سی ون سے آپ کا یا میرا کیا لینا دینا؟ متعلقہ محکمے ہیں، افسران ہیں، پھر پلاننگ ہے، پی ڈی ڈبلیو پی ہے، پھر اشتہار، ٹینڈر، بڈنگ کا پراسس۔۔ کہنے لگا نہیں معیاری اور جلدی کام کے لیے ضروری ہے کہ ہم بیٹھ جائیں۔ ہم نے ان کی آفر مسترد کر دی اور بڈنگ کے بعد ۲۰۲۱ میں منصوبے کا آغاز ہوا۔کل اس منصوبے کا افتتاح ہوا۔ جو کہ ایک لمبی جدوجہد کی تاریخ رکھتی ہے۔
بات چھڑی تھی تختیوں سے، تختیاں اتارنے اور تختیوں پر عمران خان کا نام لکھنے نا لکھنے سے عمران خان مائنس نہیں ہوتا۔ عمران خان مائنس ہوتا ہے یہ ماننے سے کہ عمران خان ایک فرد ہے جس سے رابطے کے زرائع ختم کرکے اس کے دیے گئے نظریے اور سوچ کو مفلوج کیا جاسکتا ہے، اس تاثر کو تقویت دینے میں ہم اپنے قول و فعل سے کس قدر سہولت کاری کررہے ہیں اس پر غور کریں۔
باقی نہ عمران خان کا نام تختیوں کا محتاج ہے نہ عمران خان کے بغیر کسی تختی پر اپنا نام لکھوا کر میں امر ہوسکتا ہوں۔ نہ مجھ اس تختی معاملے کا علم تھا نہ میرا وزیر اعلی سے کوئی رابطہ باقی ہے۔ مذکورہ پراجیکٹ عمران خان کے دور کا ایک ایسا پراجیکٹ تھا جس کو ممکن بنانے کے لیے ہم نے ملٹری مافیہ سے ایک طویل جنگ لڑی تھی مجھے خوشی ہوتی اگر اس منصوبے کا افتتاح بھی اس جدوجہد کے شایان شان ہوتا؛ عمران خان کی رہائی کے لیے عملی اور مثالی جدوجہد ہورہی ہوتی، ڈرون حملوں کے خلاف بڑے قلعوں کے سامنے پولیس گرفتاری کے آرڈرز کے ساتھ موجود ہوتی، آپریشن روکنے کے لیے ہم ہر آئینی، قانونی اور عوامی محاذ پر کوشاں ہوتے۔ مگر افسوس۔
سلمان رضا اور جنید جہانگیر دونوں پڑھے لکھے، با شعور، قانون کی پاسداری کرنے والے نوجوان اس ملک کا مستقبل ہیں جو آج اس فاشسٹ سرکار کے فاشزم کا سامنا کر رہے ہیں اور اسی کی وجہ سے متحدہ عرب امارات میں ناحق قید ہیں، ان نوجوانوں کا قصور صرف اتنا ہے کہ یہ پاکستان کے بہتر مستقبل کیلئے جدوجہد کرتے ہیں۔
اس ملک کے مستقبل کے ساتھ اس طرح کا سلوک ہرگز قابل قبول نہیں یہ نوجوان اس ملک کا اثاثہ ہیں، ان کی قدر کریں۔
#JusticeForJunaidAndSalman
جرات سے عمران خان کے جانثار اور نظریاتی کارکن ذیشان گل سیٹھی کو وفات کے ڈیڑھ سال بعد آج عدالت نے دیگر کارکنان سمیت بے گناہ قرار دے کر با عزت بری کر دیا۔
ذیشان سیٹھی کینسر جیسے موذی اور جان لیوا مرض کا شکار ہونے کے باوجود دو سال تک مسلسل عدالتوں کے چکر کاٹتا رہا، انصاف کی آس لیے ہر پیشی پر جاتا رہا، اور بالاخر اسی نظام کی بے حسی کا صدمہ لیے اس جہانِ فانی سے کوچ کر گیا۔
آج وہ بے گناہ تو ثابت ہو گیا، لیکن اس انصاف کو وصول کرنے کے لیے وہ خود اس دنیا میں موجود نہیں ہے۔ قابض رجیم نے پاکستان کا نظام عدل تباہ کردیا ہے آج عام پاکستانیوں کو بے گناہی ثابت کرنے کے لیے زندگی ہارنی پڑتی اور ایلیٹ کلاس کے سامنے پورا نظام عدل جھُک جاتا۔
اللہ تعالیٰ ذیشان گل سیٹھی کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور ان کے اہلخانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
🧵Part 1/n
“جب طاقتور فیصلہ کرتا ہے اس ملک میں، تو کیونکہ وہ قانون کے اوپر ہے، وہ ہر قسم کا ظلم کر سکتا ہے۔ یہ جو ہماری تحریک ہے یہ پاکستانیو آپ کے مستقبل کی تحریک ہے۔ اس میں نہ آپ نے گھبرانا ہے، نہ دل چھوڑنا ہے۔ اگر اس وقت ہم اپنی جدوجہد سے پیچھے ہٹے تو ہمارے بچے ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گے۔”
- عمران خان
#FreeImranKhan
#FreePoliticalPrisoners
FASCISM CANNOT DEFEAT IDEOLOGY!
BUSHRA BIBI
798 Days
Former First Lady of Pakistan
Arbitrarily detained under Asim law
Standing strong beside her husband, sacrificing freedom for a better Pakistan.
#UndeclaredMartialLaw
پہلے قوم کو سیاسی شعور دینے والے محسن قائد عمران خان کو پسِ زندان ڈالا گیا، پھر ایمان مزاری کی آواز کو زنجیروں میں جکڑا گیا، اس کے بعد مہرنگ بلوچ اور اب شوکت نواز میر کو بھی پابندِ سلاسل کر دیا گیا ہے۔
مگر تاریخ گواہ ہے کہ ہر دبائی گئی آواز کے بدلے کئی نئی آوازیں جنم لیتی ہیں۔ اختلافِ رائے کا جواب طاقت اور جبر سے نہیں، بلکہ دلیل، انصاف اور آئین کی بالادستی سے دیا جاتا ہے۔ گرفتاریاں نظریات کو ختم نہیں کرتیں، بلکہ انہیں مزید مضبوط اور توانا بنا دیتی ہیں۔آوازِ حق کو زنجیروں میں جکڑا نہیں جا سکتا، کیونکہ سچ ہمیشہ اپنی راہ خود بنا لیتا ہے۔ یہ گرفتاریاں ایک بوکھلائے ہوئے اور خوف زدہ نظام کی بے بسی کی علامت ہیں۔
یہ آوازیں اب کسی ایک شخص کی جاگیر نہیں رہیں، بلکہ اس دھرتی کے ہر مظلوم، ہر محروم اور ہر پسے ہوئے انسان کی دھڑکن بن چکی ہیں۔
"کراچی میں آرمی دفتر پر حملے کی ذمہ داری جماعت الاحرار نے لی جس حملے میں ہمارے کچھ جوان شہید بھی ہوئے۔ ایک افسوسناک واقعہ ہے اس کے بعد فوری طور پر افغانستان کے کچھ علاقوں پر فضائی حملے کرکے کہا گیا کہ ان کے سہولتکار اور منصوبہ کار مار دئیے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر آپ کو پتہ تھا کہ وہاں سے منصوبہ بندی کی گئی تو پھر آپ کیوں انتظار کرتے رہے کہ ہمارے کچھ جوان شہید ہوجائیں، یہ ایسا ہی ہے جیسے امریکہ کرتا تھا اس سٹرائیک کو ڈبل ٹیپ سٹرائیک کہا جارہا یہ وہ سٹرائک ہوتی کہ جس پہ شک ہوتا ہے کہ اس علاقے میں ہمارے دشمن بستے ہیں حملے کے بعد جب ان کو ریسکیو کرنے ٹیمیں آتی ہیں تو دوبارہ سٹرائک کی جاتی یہ وہی طریقہ ہے جو امریکہ پاکستان میں کرتا تھا اس پر دنیا بھر میں سٹڈیز کی گئیں کہ اس طرح دہشتگردی کم نہیں ہوتی بڑھتی ہے۔ ان کی کوئی سوچ کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے ایک بدمست ہاتھی کی طرح کبھی ادھر حملہ کررہے کبھی ادھر” @ShazadAkbar
ہم نے جو باتیں عدالت کے سامنے آج رکھیں وہ حقائق پر مبنی ہیں۔ عمران خان اور بشری بی بی سے کسی کی ملاقات نہیں ہو رہی۔ وکلا کو وکالت نامے سائن نہیں کروا کے دیے جا رہے۔ یہ ایک اوپن سیکرٹ ہے، کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں۔ ہم نے ہر قسم کے کیس میں بے گناہی ثابت کر دی ہے، کچھ بھی ثابت کرنا باقی نہیں۔ اب آخری القادر کا کیس ہے جس میں زور و زبردستی ہو رہی ہے جو بالکل غیر مناسب ہے۔ ہمیشہ ہمیں عدالتوں سے امید رہی ہے کیونکہ اگر نظام عدل ختم ہو جائے اور انصاف ملنا بند ہو جائے تو سب کچھ ختم ہو جائے گا۔ ہمیں یہ پیٹیشن دائر کرنے کی ضرورت نہ پڑتی اگر اسلام آباد ہائیکورٹ انصاف دیتی۔
بیرسٹر سلمان صفدر
#خان_کی_قید_تنہائی_جرم_ہے
بات نہ ہوتی اگر جہاز باپ کے پیسے سے خریدا ہوتا جہاز عوام کے خون پسینے کی کمائی سے خریدا تبھی بات ہوئی ، بے شرمو تم جہاز میں بیٹھ کر سیریں کررہے ہو اور عوام اپنے پیاروں کو غربت کے ہاتھوں مجبور بغیر کفن دفنانے پر مجبور ہے اوپر سے اتنی ڈھٹائی اور بے شرمی سے چوری پر سینہ زوری بھی کرتے ہو۔
ذہنی مریض عاصم منیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سات ماہ سے قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے-
جس کے دوران نہ وکلاء نہ فیملی سے ملاقاتیں ممکن ہیں، نہ علاج کی مناسب سہولیات میسر ہیں، نہ تازہ کتابیں دی جا رہی ہیں-
یہ سب کچھ کرنا قومی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، مگر ان سب چیزوں کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے، کسی کو کوئی فکر نہیں ہے-
#خان_کی_قید_تنہائی_جرم_ہے
اب ہمیں بتایا گیا کہ ان کا ارادہ ہے کہ ایک بہن کی ملاقات کروائیں۔ جب باہر آ کر وہ عمران خان کا کوئی پیغام دے گی تو پھر اگلے چھ مہینوں کے لیے عمران خان کو قید تنہائی میں ڈال دیں گے۔ آج ملاقات کروائیں گے تو اگلے منگل کو کیوں نہیں، اس سے اگلے منگل کو کیوں نہیں؟ اس لیے میں پہلے بتا دوں کہ ایسا ہو تو یہ ان کا ارادہ ہے۔
ہم ایک ملاقات پر شکر گزار کیوں ہوں؟ ہمیں عمران خان کا علاج چاہیے، اس تک ڈاکٹرز کی رسائی چاہیے اور آئین و قانون کے مطابق تمام حقوق کی بحالی چاہیے۔ علیمہ خان
@Aleema_KhanPK
#خان_کی_قید_تنہائی_جرم_ہے
"وردی کے سائے میں قانون کا جنازہ!"
جب عدالتیں آئین کے بجائے طاقت کے سامنے سر جھکا دیں تو انصاف دفن ہو جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ انصاف سے انحراف کرنے والوں کو عوام اور وقت دونوں معاف نہیں کرتے۔ #ShameOnJudges
میڈیا میں ایسے لیپ ڈاگز پیدا ہو چکے ہیں جن کا کام فسطائیت کے لیے جواز تراشنا، آئین اور بنیادی حقوق کی پامالی کو معمول بنانا، اور طاقتور حلقوں کا بیانیہ دہرانا ہے۔ ان کا کام صرف یہ بتانا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کتنی طاقتور ہے، مگر یہ کبھی نہیں بتاتے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آئین، قانون، جمہوریت اور بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔ عمران خان کے دور میں یہی لوگ ارسطو، افلاطون اور سیاسی فلسفے کے حوالے دیتے تھے، مگر آج ہر غیر آئینی اقدام کا الزام بھی عمران خان پر ڈالتے ہیں۔ صحافت کا کام طاقتوروں سے سوال کرنا ہے، ان کا ماؤتھ پیس بننا نہیں۔
— بیرسٹر ابوزر سلمان خان نیازی
@SalmanKNiazi1