مئی 2024 میں جب ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ ناروے کے ورلڈ ایکسپریشن فورم (WEXFO) میں آزادیٔ اظہار پر لیکچر دینے پہنچی تو بظاہر یہ ایک علمی دورہ ت��ا۔ لیکن پردے کے پیچھے کہانی کچھ اور تھی۔ کنفیڈنشل مشن بریفنگ 14/24 کے مطابق اسی دورے کے دوران اوسلو کے نواحی علاقے بیاکرڈالن میں واقع را وِنگ لیژن ہاؤس میں ماہرنگ کی ملاقات بھارتی خفیہ ایجنسی RAW کے یورپین مشن چیف، اجے چندر بیدی، سے ہوئی۔ یہی وہ لمحہ تھا جب پرامن احتجاج کے لبادے میں پاکستان مخالف مہم کا نیا خاکہ تیار ہوا۔
بیدی نے تجویز دی کہ حقوقِ انسانی کا بیانیہ اختیار کر کے بلوچ معاشرے کو ریاست سے بدگمان کیا جائے۔ماہرنگ کو خصوصی ٹاسک دیا گیا کہ خواتین اور کم عمر بچوں کو فرنٹ لائن بنا کر ہمدردی سمیٹی جائے۔ پراجیکٹ لیلیٰ کے نام سے ایک ورکشاپ ناروے ہی میں منعقد ہوئی NOR-PSS Internal Memo, 28 May 2024، جہاں پانچ روزہ سیشن میں بی وائی سی کے کمیونٹی آرگنائزرز کو میڈیا ہینڈلنگ اور اسکرپٹڈ سلوگنز سکھائے گئے۔ انڈیا کا پلان تھا کہ 👇