@asmashirazi اسرائیل اس سیز فائر کے وقفے میں ایک طرف اپنے میزائل replenish کر رہا ہے اور دوسری طرف خاموشی سے آیت اللہ کو اپنی انٹیلی جنس سے ٹریک کر رہا ہے ۔ جس دن اسے لگا وہ انہیں ہٹ کر سکتا ہے سیز فائر اسی دن ٹوٹ جائے گا
چین امریکہ کی ایران سے جنگ کو لائیو ریکارڈ کر رہا ہے۔
یہ حملے اب چین کے لیے ایک بڑی فوجی انٹیلی جنس لیبارٹری بن چکے ہیں۔ جیلن-1 سیٹلائٹس کا بیڑا، جو 300 سے زیادہ ہیں، ہر چیز کو سیکنڈ بہ سیکنڈ ریکارڈ کر رہا ہے۔ ہتھیاروں کی ری فیولنگ ہو، میزائل کی پرواز کا راستہ ہو، طیاروں کی نقل و حرکت ہو یا بحری جہازوں کی پوزیشن، سب کچھ محفوظ ہو رہا ہے۔
چین اس پورے عمل کو ایک بہت بڑے ڈیٹابیس میں تبدیل کر رہا ہے۔ ری فیولنگ کے عین اوقات، ایئر ڈیفنس کے ردعمل، ڈرونز کی تعیناتی، بمبار طیاروں کی حکمت عملی، سب کچھ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈیٹا چین کو فوجی تحقیق اور ترقی میں دہائیوں کی برتری دے سکتا ہے۔
امریکہ کی جنگی تکنیکوں کا گہرا تجزیہ ہو رہا ہے۔ ملٹی ڈومین آپریشنز سے لے کر جدید ڈرون اس��عمال تک، سب کچھ سیکھا جا رہا ہے۔ یہ کوئی عام نگرانی نہیں۔ یہ ایک اسٹریٹجک فائدہ ہے جو چین کو مستقبل کی کسی بھی جنگ میں، چاہے وہ بحرِ جنوبِ چین ہو یا تائیوان کے آس پاس، براہ راست کام آئے گا۔
چین خاموشی سے دیکھ رہا ہے، سیکھ رہا ہے اور تیاری کر رہا ہے۔
اب جنگیں صرف زمین، سمندر یا ہوا میں نہیں لڑی جاتیں۔ خلاء میں بھی ریکارڈ ہوتی ہیں اور وہیں سے اگلی جنگ کا نقشہ بنتا ہے۔
وقت واقعی بہت نازک ہے۔