We have absolutely no reliable information on Imran Khan’s health. Imran Khan have never had any blood pressure issues. His normal blood pressure has always been on the lower side since he does regular exercise for several hours a day. So this disinformation being spread on Imran Khan has all the markings of the agency disinformation cell. Are they trying to set the stage for something more serious to happen to him? All those claiming credible sources are effecting their own credibility!
"آپ نے اور ہم نے مل کر نکلنا ہے اور تب تک واپس نہیں آنا جب تک عمران خان رہا نہیں ہوجاتے۔ ہم نے عمران خان کو تنہا نہیں چھوڑنا ، یہ مجرم لوگ ہیں جنہوں نے عمران خان کو بے جرم جیل میں رکھا ہوا ہے"۔
علیمہ خان
"عمران خان نے یہ کبھی نہیں کہا کہ آپ میری آزادی کے لیے نکلیں اس نے ہمیشہ کہا اپنی حقیقی آزادی کے لیے نکلیں گے۔ آپ کے علاقے کے جو مسائل ہیں جو یہاں دہشتگردی ہے اس کا حل عمران خان بار بار بتا چکے ہیں، اس کا حل عمران خان کی ٹوئٹس پیغامات میں موجود ہے۔ عمران خان نے بڑی محنت سے اس علاقے میں امن قائم کیا تھا، عمران خان نے اس امن کی بحالی کے لیے بارہا کہا کہ امن تب آئے گا جب پاکستان اور افغانستان کے ان علاقوں کے مقامی لوگ اور دونوں حکومتیں مل کر بیٹھیں گی اور اس کا حل نکالیں گی"۔
علیمہ خان
@Aleema_KhanPK
صرف عمران خان کی پارٹی پر ظلم نہیں ہورہا سب پر ہورہا ہے میڈیا پر بھی ہورہا ہے لیکن میڈیا والے بولتے نہیں ان شاء اللہ ان کے لیے بھی ہم بولیں گے ان کی جگہ ہم آواز اٹھائیں گے۔
کشمیر میں جو ظلم ہورہا وہاں معصوم شہریوں کا قتل عام کیا جارہا کسی میڈیا چینل نے دکھایا؟ اگر ہم میڈیا میں ہوتے تو ہمارا ضمیر اس ظلم پر خاموش نہ رہتا ہم احتجاجاً ہڑتال کردیتے کام چھوڑ دیتے۔
اس ظلم پر آواز اٹھائیں اپنے میڈیا مالکان کو بتائیں کہ ہم غیرت رکھنے والے باضمیر پاکستانی ہیں۔
علیمہ خان
@Aleema_KhanPK
#مزاحمت_سے_انقلاب_آئے_گا
یہ آپ کے پیچھے ہیں۔۔ میں تو بس آپ کے اور ان کے درمیان کھڑا ہوں۔۔ عمران خان
آج یہ بات سچ ثابت نظر آتی ہے۔ ساری سیاسی جماعتیں اور لیڈر قوم کا قیمہ بنتا دیکھ رہے ہیں کسی میں جرات نہیں کہ ہاتھ روک سکیں۔ جو ظالم کے سامنے کھڑا ہوا وہ جیل میں ہے۔ اور خیبر سے کراچی تک عوام لاوارث ہے۔
“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابند�� عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے” -
ناحق قید سابق وزیرِ اعظم پ��کستان عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پیغام
(21 مارچ، 2026)
یہ مناظر زندگی بھر میرے ساتھ رہیں گے۔ آنسو گیس کے (تکلیف دہ) اثرات زائل کرنے کیلئے سر پر پانی انڈیلتے اور دیوانہ وار جھومتے ہوئے بلند کی جانےوالی آزادی کی یہ والہانہ اور پرجوش صدائیں! ماشاءاللہ ایک قوم بالآخر بیدار ہو رہی اور آزادی مانگ رہی ہے۔
"آپ کی بہن آپ کے پاس کیوں آئی ہے؟ عمران خان کی پاکستان کو ضرورت ہے ، مجھے نہیں ان کے بچوں کو نہیں ہمارے خاندان کو نہیں پاکستان کو ضرورت ہے پاکستان عمران خان کا خاندان ہے اور آپ سب اس کے موروثی بنیں، عمران خان کو ایک ہزار سے زائد دنوں سے جھوٹے کیسوں میں قید رکھا ہوا ہے، اس کو رہا نہ ہونے دینے کے لیے خصوصی عدالت بنائی گئی ہے جہاں بے شرم ججز کو بٹھایا گیا ہے"۔ علیمہ خان کا بقہ میں کارکنوں سے خطاب
ہمارے خاندان کو نہیں پاکستان کو عمران خان کی ضرورت ہے، پورا پاکستان عمران خان کا خاندان ہے ۔اس لیے ہم سب نے مل کر چلنا ہے میں آپ کے پاس آئی ہوں کہ آپ ہمارا خاندان بنے ہمارے ساتھ موروثی بنیں۔
جس دن ہمارے وکیل نے ہمیں بتایا کہ عمران خان کی پچاسی فیصد بینائی چلی گئی ہم بہنوں کا اس دن دل ٹوٹا ہمیں بھائی نے بہادر بنایا لیکن یہ دیکھ کر بہت روئیں کہ اتنے قیمتی انسان کی جان بوجھ کر آنکھ ضائع کردی انہوں نے یہ سارے مجرم ہیں ۔
��مران خان نے کہا میری زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے عاصم منیر کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ عمران خان نے کہا تھا اگر یہ دھمکی دیں واپس دھمکی دیں عمران خان نے کہا تھا مجھے موت قبول ہے یزید کے آگے سر نہیں جھکاؤں گا۔
علیمہ خان
کاش ہم جیل میں جاکر عمران خان کو بتا سکیں کہ لوگ آپ سے کتنا پیار کرتے ہیں اور آپ کے لیے نکلنے کو تیار ہیں۔
دیکھیں وہ لوگ جو کہتے تھے عمران خان کے لیے کوئی نکلنے کو تیار نہیں ، آج لوگوں نے دکھا دیا ہے کہ عمران خان اکیلا نہیں ہے۔ یہ جو شیطان لوگ ہیں انہوں نے بہت کوشش کی عمران خان کے ورکرز کو تقسیم کرنے کی آپس میں لڑوانے کی جو لڑواتا ہے وہ شیطان ہوتا ہے۔ جعلی حکومت کو بتائیں کہ ہم عمران خان کے لیے متحد ہیں۔
علیمہ خان کا ایبٹ آباد میں خطاب
#ازادی_یا_شہادت
وہ مناظر جو جیوڈیشیل کمپلیکس کےمرکزی دروازےسے داخل ہوتےہی مجھےدیکھنےکو ملے۔کوئی ابہام باقی نہیں رہناچاہئیےکہ نامعلوم افراد کےہمراہ اس ساری نفری کی وہاں موجودگی کا مقصد مجھےجیل میں ڈالنانہیں بلکہ ��یک فرضی لڑائی کی آڑ میں مجھےرستےسےہٹانا اور میری موت کو ایک حادثہ قرار دینا تھا۔
“مجھے دو سال پہلے کہا گیا کہ تین سال کے لیے پیچھے ہٹ جاؤں اور موجودہ نظام کو چلنے دوں، لیکن میں کسی یزید کے کہنے پر تین سال تو کیا تین منٹ بھی خاموش نہیں رہوں گا۔
مجھ پر چھبیسویں ترمیم کو قبول کرنے کا بھی زور ڈالا جا رہا ہے لیکن میری جدوجہد ہی قانون کی حکمرانی کی ہے اور چھبیسویں آئینی ترمیم عین اس کے منافی ہے۔
مجھ سے نو مئی کی معافی مانگنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے مگر معافی وہ لوگ مانگیں جنہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی ہے، جنہوں نے عورتوں کی عزتیں پامال کیں، لوگوں کے گھروں کا تقدس برباد کیا، ہزاروں سیاسی ورکروں کو جیلوں اور عقوبت خانوں میں ڈالا اور بے گناہ لوگوں کو شہید کیا۔ نو مئی کے کیسز کی ایک گھنٹہ بھی میرٹ پر سماعت ہو تو یہ بےبنیاد مقدمات فوری ختم ہو جائیں گے، لیکن المیہ یہ ہے کہ یہاں انصاف ہونا تو دور کی بات انصاف ہوتا نظر بھی نہیں آ رہا۔
ظلم سے قومیں کبھی ختم نہیں ہوتیں بلکہ نئے سرے سے بنتی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے 13 سال مشکل ترین وقت کاٹا لیکن آپ ﷺ ڈٹے رہے اور بالآخر سرخرو ہوئے۔ لہٰذا ہم سب کو آپ ﷺ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بحیثیت قوم ڈٹ کر آخری دم تک مقابلہ کرنا ہوگا۔
جب انصاف کا ہر دروازہ بند کر دیا جائے پھر پر امن احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ تحریک انصاف سمیت پوری قوم کو پیغام دیتا ہوں کہ ملک گیر احتجاج کے لیے تیار رہیں۔
پاکستان میں قانون مکمل طور پر معطل ہے۔ یہاں عورتوں کی بھی ��زت محفوظ نہیں ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم صرف سہولت کاری کے الزام میں 14 ماہ سے قید تنہائی میں ہیں حالانکہ ان پر جرم ثابت بھی نہیں ہوا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کینسر سروائیور اور بزرگ خاتون ہیں مگر ان کو بھی بے شرمی سے جعلی مقدمات میں پابند سلاسل کیا گیا ہے۔ میری ہمشیرگان، جن کی عمریں 65 سے 70 سال کے درمیان ہیں، ہائی کورٹ کے حکم پر جیل مجھ سے ملنے آتی ہیں جو ان کا اور میرا بنیادی حق ہے مگر ایک کرنل ان کو روک دیتا ہے اور عدالت کا حکم ردی کی ٹوکری کی نذر ہو جاتا ہے۔ جنگل کے قانون کا یہ عالم ہے کہ میری بہنوں کو یہاں سے گرفتار کیا جاتا ہے اور چکری کے پاس آدھی رات کو لے جا کر بے یارو مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جس ملک میں اپنی ہی خواتین کے ساتھ ایسا سلوک ہو وہاں کا اخلاقی معیار فوت ہو چکا ہے۔ مریم نواز کے لندن میں 5 فلیٹس نکلے تھے مگر ان کی ضمانت دو ماہ میں ہی ہو گئی تھی کیونکہ شریف خاندان ڈیل پر راضی تھا۔ جو فرعونیت کے آگے جھک جاتا ہے اس کے سب کیس معاف ہیں مگر جو حق پر کھڑا ہو وہ بے جرم بھی سزاوار ٹھہرتا ہے۔
دو سال میں بیرون ملک سے کوئی سرمایہ کاری اسی لیے نہیں آ سکی کیونکہ دنیا جانتی ہے یہاں قانون ایک کرنل کے جوتے کی نوک پر ہے۔ یاد رہے کہ سرمایہ کاری کے بغیر نہ ملک میں معاشی استحکام آتا ہے اور نہ ہی معیشت ترقی کر سکتی ہے۔ جب تک عدالتی احکامات کرنل کے اشاروں کے محتاج ہوں گے تب تک سرمایہ کاروں کے لیے اعتماد کی فضا ناپید رہے گی۔
پوری قوم انصاف کے لیے عدلیہ کی طرف دیکھ رہی ہے۔ مگر چھبیسویں آئینی ترمیم کر کے عدلیہ کو مفلوج کر دیا گیا ہے۔
اس ترمیم کے پیچھے دو ہی وجوہات ہیں:
ایک تو دھاندلی ذدہ الیکشن کا تحفظ کرنا، اور دوسرا مجھ سمیت تحریک انصاف کی لیڈر شپ و کارکنان کو جیل میں قید رکھنا اور احتساب کے خوف کے بغیر بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنا۔
چھبیسویں آئینی ترمیم کے براہ راست دو نتائج نکلے ہیں:
۱: ایک یہ کہ عدلیہ نے ��پنے آئینی و روایتی کردار کے برعکس انتظامیہ کے سامنے بالکل سرنڈر کر دیا ہے۔ ملٹری کورٹس کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل 175 (3) کے متصادم ہے جو کہتا ہے کہ عدلیہ انتظامیہ سے الگ ہے مگر یہاں اس آرٹیکل میں ترمیم کیے بغیر ہی ایگزیکٹو کو عدلیہ کے تمام اختیارات سونپ دیے گئے ہیں۔ ملٹری کورٹس کے ساتھ ساتھ مخصوص نشستوں پر بھی بینچ بنا کر تحریک انصاف سے یہ نشستیں چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ووٹ تحریک انصاف کو پڑا ہے مگر آئین کے بر خلاف یہ نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے کی کوشش جاری ہے۔
۲: دوسرا یہ کہ عدلیہ اس قدر مفلوج ہو چکی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اور جج اپنی مرضی سے م��دمات لگا ہی نہیں سکتے۔ نتیجتاً مجھے بھی عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا۔ کبھی میرے کیسز کے لیے بینچ مکمل نہیں ہوت تو کبھی سماعت نہیں ہوتی۔ جان بوجھ کر میرے مقدمات کو التواء میں رکھا جاتا ہے۔ میرے بنیادی انسانی حقوق بھی معطل ہیں۔ جیل مینوئل کے مطابق جو حقوق ایک عام قیدی کو حاصل ہوتے ہیں مجھے وہ بھی نہیں دئیے جا رہے۔ میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی جاتی، میری اہلیہ سے ہفتے میں ایک طے شدہ ملاقات بھی روک دی جاتی ہے اور تو اور میری کتابیں تک روک لی جاتی ہیں۔ یہ سب صرف اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ میں ٹوٹ جاؤں۔
1/2
This image will remain with me for the rest of my life. The passionate cry for freedom while dancing and pouring water on his head to dilute the effects of tear gas.
MashaAllah a nation waking up finally and demanding freedom.