سعودی عرب میں مفت میں ڈگری کریں
کنگ سعود یونیورسٹی سعودی عرب میں بچلرز کے داخلے جاری ہیں
آخری تاریخ
18 ستمبر 2024
فلی فنڈڈ سکالرشپ، ویزہ، ٹکٹ، ماہانہ الاؤنس 850 ریال آرٹس اور 1000 ریال سائنس مضامین کے لیے، رہائش، میڈیکل، تعلیم سب کچھ فری۔
مطلوبہ کاغذات
(1) پاسپورٹ
(2) رزلٹ کارڈ میٹرک اور انٹر میڈیٹ
(3). شناختی کارڈ
(4) سی وی
اپلائی کرنے کیلئے آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں۔
https://t.co/WrEDDovDIK
*💕اپنی بیٹیوں کو تتلیاں نہیں بلکہ مدھو مکھیاں بناؤ انہیں پَر بھی دو اور ڈنک بھی۔۔*
*اونچی پرواز بھی سکھاؤ اور سر کچلنے کا فن بھی*
*کیونکہ انہیں سانپوں کی بستی میں زندگی بسر کرنی ہے*
💯✌🏻
میں سیالکوٹ کے عظیم لوگوں کو اور ضلع بھر کے ٹکٹ ہولڈر کو پرامن احتجاج کی دعوت دیتی ہوں ہم سب آج 2 بجے کچری چوک سیالکوٹ اکٹھے ہوں گے اور ان ووٹ چوروں کے خلاف بھرپور احتجاج کریں گے
مسٹر بیسٹ یوٹیوب کا بادشاہ ہے۔
اس کا راز؟ قاتل تھمب نیلز۔
اس AI ٹول کے ساتھ، آپ 30 سیکنڈ میں ناقابلِ مزاحمت تھمب نیلز بنا سکتے ہیں۔
میں نے آپ کو دکھایا ہے کہ کیسے:
فخرالدین پاشا
مدینہ کا محافظ
یقینا آپ اس نام کو پہلی بار سن رہے ہیں۔ یہ خلافت عثمانیہ کا وہ بہادر جرنیل تھا جو اکیلا تن تنہا عرب باغیوں اور برطانیہ اور اسکے اتحادی افواج سے 72 دن تک لڑتا رہا۔ اور بعد میں برطانیہ نے اسکے بہادری اور دلیری سے متاثر ہوکر انکو "صحرائی چیتا” یا "ٹائگر آف دے ڈیزرٹ” کا خطاب دیا تھا۔ تاریخ اسے مدینہ کا محافظ کے نام سے یاد کرتے ہے۔ وہ خلافت عثمانیہ کا ایک بہادر جرنیل تھا لیکن جس چیز نے اسکی شخصیت اجاگر کی وہ تھا اسکا حضورﷺ سے تعلق اور عشق۔
پہلی جنگ عظیم کے دوران برطانیہ تقریباً ہر جگہ سلطنت عثمانیہ کے ہاتھوں شکست پہ شکست کھاتا جارہا تھا تو اس کو ایک چال سوجھی۔ اس نے شریف مکہ حسین بن علی جو کہ حجاز کا گورنر تھا اپنے ساتھ اس لالچ پہ ملا لیا کہ جنگ کے اِختتام پر اسے مسلمانوں کا خلیفہ بنایا جائے گا۔ شریف مکہ نے خلافت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کر دی اور مکہ اور جدہ پر قبضہ کر لیا. اسکے بعد وہ مدینہ کے طر�� بڑھا۔ اسکے ساتھ انگریز اور فرانسیسی فوجیں بھی تھیں اور لارنس آف عریبیہ نامی بدنام زمانہ جاسوس بھی تھا۔ انہوں نے 1916 کو مدینہ کا محاصرہ کر لیا۔ یہ محاصرہ 1919 تک جاری رہا کیونکہ انکو یہاں کے عثمانی مجاہدوں کی طرف سے سخت مزاہمت کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔
اس وقت مدینہ شہر کا دفاع ایک عثمانی سپہ سالار فخری پاشا یا عمر فخرالدین پاشا کے زیر نگرانی تھا۔ یہ شخص انتہائی دلیر اور صاحب ایمان تھا۔ مدینہ منورہ کے باسی اسکی بہادری اور حسن انتظام پر اسے بہت پسند کرتے تھے۔ عربوں کی غداری کی وجہ سے عثمانیہ کو شدید دھچکا لگا اور برطانیہ اور اسکی اتحادی بڑی تیزی سے عثمانیہ کے علاقوں ک�� اپنی قبضے میں لیتے جارہے تھے۔ عثمانیہ کے اتحادی بلغاریہ کے ہتھیار ڈالنے پر جرمنی نے بھی ہتھیار ڈالے اور اسی وجہ سے بالآخر سلطنت عثمانیہ کو بھی برطانیہ اور اتحادی کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے۔ اس وقت شریف مکہ اور ان کے بیٹے علی، فیصل اور عبداللہ اس خیال میں تھے کہ اب فخرالدین پاشا بھی ہتھیار ڈال دیگا اور مدینہ اسکے ہاتھ آ جائے گا لیکن فخرالدین پاشا نے ہتھیار نہیں ڈالے اور برابر لڑتا رہا.. مدینہ شہر کو سامان رسد پہنچانے والے ٹرین کو انگریز ناکارہ کرچکے تھے اور اسی طرح فخرالدین پاشا کو باہر سے کوئی امداد نہیں پہنچ رہی تھی۔ محاصرہ کے دوران مدینہ پر 130 بار حملہ کیا گیا اور 30 اپریل 1918 کو مدینہ کی مقدس سر زمین پر 300 بم برسائے گئے۔ کھانے پینے کے چیزیں ختم ہو چکیں تھیں اور فخرالدین پاشا اور اسکی فوج ٹڈے کھاتے رہے۔ لیکن ہتھیار نہیں ڈال رہے تھے اسلئے کہ اسکو خواب میں حضورﷺ نے حکم دیا تھا کہ ہتھیار نہیں ڈالنا۔ ایک ترک مصنف لکھتا ہے: "ایک مرتبہ 1918 میں جمعہ کے دن فخرالدین پاشا مسجد نبوی میں نماز کے دوران خطبہ دینے منبر کی سیڑھیوں پر چڑھنے لگا تو آدھے ہی راستے میں رک گیا اور اپنا چہرہ حضورﷺ کے روضہ مبارک کی طرف کرتے ہوئے عرض کیا: "اے اللّٰہ عزوجل کے رسولﷺ! میں آپﷺ کو کبھی نہیں چھوڑوں گا”۔ اس کے بعد اس نے نمازیوں اور مجاہدین سے ولولہ انگیز خطاب کیا۔ "مسلمانو! میں تم سے حضورﷺ کا نام لے کر جہاد کی اپیل کرتا ہوں جو اس وقت میرے گواہ بھی ہیں۔ میں تمہیں یہ حکم دیتا ہو کہ دشمن کی طاقت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ان (حضورﷺ) کا اور ان حضورﷺ کے شہر کا آخری گولی تک دفاع کرو۔ اللّٰہ عزوجل ہمارا حامی وناصر ہو اور حضورﷺ کی برکت ہمارے ساتھ ہو۔ ترک افواج کے بہادر افسرو! اے چھوٹے محمدیو! آگے بڑھو اور میرے ساتھ مل کر اللّٰہ عزوجل اور اسکے رسولﷺ کے سامنے وعدہ کرو کہ ہم اپنے ایمان کی حفاظت اپنی زندگیاں لٹا کر کریں گے”۔ اس کے بعد فخری پاشا نے کہا کہ اسے خواب میں حضورﷺ نے حکم دیا تھا کہ وہ ابھی ہتھیار نہ ڈالے۔ اگست 1918 میں جب اسے شریف مکہ ک�� طرف سے پیغام آیا کہ ہتھیار ڈال دو تو اس نے ان الفاظ میں جواب دیا: "فخری پاشا کی طرف سے جو عثمانی افواج کا سپہ سالار اور سب سے مقدس شہر مدینہ کا محافظ اور حضورﷺ کا ادنیٰ غلام ہے۔ اس اللّٰہ عزوجل کے نام سے جو ہر جگہ موجود ہے۔ کیا میں اس کے سامنے ہتھیار ڈالوں جس نے اسلام کی طاقت کو توڑا، مسلمانوں کے درمیان خونریزی کی اور امیرالمومنین کی خلافت پر خطرے کا سوالیہ نشان ڈالا اور خود کو انگریز کے ماتحت کیا۔ جمعرات کی رات میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تھکا ہوا پیدل چل رہا تھا اس خیال میں کہ کس طرح مدینہ کا دفاع کیا جائے اچانک میں نے ایک جگہ پر خود کو نامعلوم افراد کے درمیان پایا جو کہ کام کر رہے تھے۔ پھر ان میں سے میں ایک بزرگ شخصیت کو دیکھا وہ حضورﷺ تھے۔
بقیہ
کمنٹس میں
اگر لوگ آپ سے پوچھیں کہ غزة کہاں واقع ہے؟
تو انہیں بتائیں؛
"غزہ کا آدھا حصہ جنت میں اور آدھا زخموں سے چْور اسی دنیا میں واقع ہے۔"
یا الله! ان کی حفاظت فرما، ان کی مدد فرما اور انہیں آزادی سے نواز دے، اللھم آمین
@sanctified__
سندھ جاگ گیا ہے!!
عوام کے مینڈیٹ پر شہری اور دیہی ڈاکوؤں کا قبضہ نامنظور۔۔
جی ڈی اے کے تحت حیدرآباد میں دھرنا، لاکھوں افراد کا جعلی میںدی�� کے خلاف زوردار احتجاج۔
#الیکشن_نتائج_کالعدم_قرار_دو