Proud Pakistani 🇵🇰 | Devoted supporter of #PPP | Follower of #SMBB | Believer in the vision and ideology of #SZAB | Democracy • Equality • Social Justice
The Happiest 93rd Birthday to Mother of democracy in Heaven. Your scarification for the #PPP and for the whole nation will be missed forever. Your Life Partner #SZAB & your 3 Children was killed for the restoration of democracy in Pakistan.
@MediaCellPPP@PPP_Org
رہنما پاکستان پیپلز پارٹی اور رکن قومی اسمبلی ناز بلوچ کا مصطفیٰ کمال کے کراچی تقسیم کرنے کے بیان پررد عمل
کراچی کو تباہ کرنے والے پیپلز پارٹی کو کراچی پر لیکچر دے رہے ہیں، ناز بلوچ
جن کے دور میں کراچی میں ٹارگٹ کلنگ عروج پر تھی،آج امن کی بات کرتے ہیں، ناز بلوچ
@NazBaloch_
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا ویڈیو پیغام
ایک تو سوشل میڈیا نے میری بات پکی کروادی، منگنی اور شادی بھی کروادی ہے
میں واضح کروں کہ ایسا کچھ نہیں ہوا ہے اور نہ ہی میں کسی پرنسز گلوریا کو جانتا ہوں
سوشل میڈیا پر یہ تماشے حقیقی ایشوز پر سے توجہ ہٹانے کے لئے ہوتے ہیں۔
@BBhuttoZardari
Pakistan Sending 80 Tonnes Relief Goods To Help Nepalese Flood Victims
First consignment includes tents, medicines, blankets and essential supplies as Pakistan steps up support for flood-hit communities
- WE News English https://t.co/bjkyr9ddSO
Serious win for Pakistan at the Permanent Court of Arbitration which unanimously ruled that India cannot unilaterally suspend, terminate or place the Indus Waters Treaty (IWT) “in abeyance.” All judges at The Hague ruled that The Treaty remains fully in force and binding on India.
Now if India wants to ignore this it should be clear about about exiting the international system of law.
ایک تو سوشل میڈیا نے میری بات پکی کروادی، منگنی اور شادی بھی کروادی ہے
میں واضح کروں کہ ایسا کچھ نہیں ہوا ہے اور نہ ہی میں کسی پرنسز گلوریا کو جانتا ہوں
سوشل میڈیا پر یہ تماشے حقیقی ایشوز پر سے توجہ ہٹانے کے لئے ہوتے ہیں۔
حیدرآباد کے عوام کو دل کے امراض کا مفت، جدید اور معیاری علاج فراہم کرنے کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے حیدرآباد میں سندھ ادارہ برائے امراضِ قلب (SICVD) قائم کیا۔
#HealthForAll
#SICVD
صوبہ سندھ میں کئی منصوبے مکمل ہوچکے ہیں، بے شمار جاری ہیں اور بہت سے ابھی شروع ہوں گے۔ چیئرمین صاحب کے وژن کی روشنی میں وزیراعلیٰ سندھ سے لیکر کابینہ کے اراکین اور پارٹی عہدیداروں تک اس ترقی کے سفر کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
@SyedNasirHShah
کورنگی اور لانڈھی کے انڈسٹریل ایریا کیلئے 4 ارب روپے مختص کیئے گئے ہیں تاکہ مقامی لوگوں کو مزید سہولیات دی جاسکیں، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا وژن ہے کہ عوام کو بہتر سے بہتر سہولیات فراہم کی جائیں جس کیلئے حکومت سندھ اور بلدیہ عظمیٰ کراچی دن رات کوشاں ہے۔
صوبائی وزیر سندھ سید ناصر حسین شاہ کا کورنگی 5 کے فلائی اوور کی افتتاحی تقریب سے خطاب
@SyedNasirHShah
*اسلام آباد، نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان کا بھارت پر سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کو یقینی بنانے پر زور*
*بھارت نے آبی معاملات کو سیاسی دباؤ کیلئے استعمال کرکے خطے کے باہمی اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے، شیری رحمان*
جب جب پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو عہدے سے ہٹانے کی کوشش کی گئی، تو وہ کون لوگ ہیں جو انہیں بچانے کے لیے سرگرم ہو جاتے ہیں؟
26 اگست کو پمز کی نرسری میں پیش آنے والے افسوسناک سانحے کے بعد بھی وہ اپنے عہدے پر موجود ہیں۔ آخر ذمہ داری کا تعین کب ہوگا؟
قومی اسمبلی اجلاس کے دوران رکن قومی اسمبلی سید رفیع اللہ کا 26 اگست 2026 کو پمز کی نرسری میں پیش آ نے والے سانحے پر اظہار خیال ۔
اسلام آباد، نائب صدر پیپلزپارٹی سینیٹر شیری رحمان کا سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال
آج جو یہاں سوال اٹھائے جا رہے ہیں وہ نا جائز نہیں ہیں ، شیری رحمان
سانحے کے بعد ہم نے ساتھیوں کے ساتھ پمز کا وزٹ کیا ہم نے وہاں بھی کہا تھا اور یہاں بھی کہا کہ ہم یہاں سیاست کرنے نہیں آئے ، شیری رحمان
ہماری سیاست کا مقصد یہ ہے کہ ہم صرف اپنی بات نہ کریں اس کا مطلب ہے پبلک انٹرسٹ ،جہاں خرابی ہےوہاں احتساب ہونا چاہیے ، شیری رحمان
میں ہیلتھ منسٹر رہ چکی ہوں چھ ماہ کے لیے، میرے پاس چار منسٹری رہی لیکن جب میں نے دیکھا کہ جہاں مجھ سے کچھ خراب ہو اتو میں نے تمام منسٹری چھوڑ دیں، شیری رحمان
میں نے اپنا اور اپنے شوہر کا علاج بھی یہاں سے کرایا حالانکہ تب بھی میں وزیر تھی پھر بھی علاج کے دوران گڑبڑ تھی ، تو سوچیں عام عوام کا کیا ہوتا ہوگا،شیری رحمان
اس وقت پمز اسپتال کسی کو سروس کرنے کے لائق نہیں ہے ، شیری رحمان
ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز جھوٹ بول رہے تھے کہ ایمرجنسی گیٹ بند نہیں تھا ایمرجینسی گیٹ کو بند رکھنے کی کیا ضرورت تھی ، شیری رحمان
بائیس ارب روپے پمز کو دیے گئے یہاں پیسوں کا مسلہ نہیں ہے یہاں گورننس کا مسلہ ہے ، شیری رحمان
پاکستان بھر سے یہاں مریض آتے ہیں موجودہ سانحے کا ذمہ دار ہم سب ہیں ، شیری رحمان
ہم وزیر نہیں عوام کے نوکر ہیں میں تنقیدی تقریر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں لیکن مجھے یہاں حل نکالنا ہے ، شیری رحمان
پاکستان کے عوام ایوانوں اور اشرافیہ سے مایوس ہو چکے ہیں کیوں کہ یہاں کچھ نہیں ہو رہا ہے، شیری رحمان
یہاں ہاوس کی کمیٹی بننی چاہیے جو کمیٹی بنی ہے ہمیں اس پر کوئی بھروسہ نہیں ہے اس میں سب ایک دوسرے کو تحقیقات کر رہے ہیں ، شیری رحمان
امریکا اور دوسرے ممالک کی سینیٹ کا یہ کام ہوتا ہے یہاں بھی ایسا ہونا چاہیے کمیٹی یہاں سے بننی چاہئے ، شیری رحمان
چودہ بچوں کی مائیں صدمے میں ہیں اس وارڈ کو دیکھیں تو دل بند ہو جاتا ہے ، شیری رحمان
پورا عملہ سو رہا تھا ایک بچہ نکالا گیا وہ بھی سکیورٹی گارڈ نے نکالی ، شیری رحمان
کہا گیا چنگاری ایئر کنڈیشر سے نکل کر آئی کیا کبھی کسی نے ایسا ہوتا دیکھا ہے ، شیری رحمان
سچ تو یہ تھا کہ سسٹم بالکل کام نہیں کر رہا تھا ہیلتھ کمیٹی کی رپورٹ پلوشہ کی رپورٹ کو دفنا دیا گیا ، شیری رحمان
اگر ایسے ہی رپورٹس دفنانے کا کام جاری رہا تو میں یہ ہاوس نہیں چلنے دوں گی، شیری رحمان
پمز کی رپورٹ سی ڈی اے سے متصادم ہے سی ڈی اے بار بار کہہ رہا ہے کہ آپ کے اسپتال کا فائر سیفٹی انتظام ٹھیک نہیں ہے تو کیوں نہیں نوٹس لیا گیا یہاں تک کہ ان کے پاس فائر این او سی بھی نہیں ہے، شیری رحمان
یہ ایوان تعمیری سیاست کا منبہ بننی چاہیے یہاں کمیٹی بننی چاہیے جو چالیس دن میں رپورٹ مرتب کرے اور اسپتال کی معاونت کرے کہ کیسے روزانہ آنے والے مریضوں کو ہینڈل کیا جا سکتا ہے، شیری رحمان
پمز کے سانحے پر ہر دل غمزدہ ہے، پوری قوم سوگوار ہے۔ مگر افسوس، ہر بار حکومت کا یہی مؤقف سامنے آتا ہے کہ آئندہ ایسے واقعات نہیں ہوں گے۔
قومی اسمبلی اجلاس کے دوران سابق اسپیکر قومی اسمبلی/ رکن قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کا 26 اگست 2026 کو پمز کی نرسری میں پیش آ نے والے سانحے پر اظہار خیال ۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ندیم افضل چن کا اہم بیان
پمز اسپتال اسلام آباد میں آتشزدگی کا واقعہ انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا ہے، ندیم افضل چن
پمز اسپتال میں معصوم نومولود بچوں سمیت قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ناقابلِ تلافی سانحہ ہے۔
متاثرہ خاندانوں کے غم اور صدمے میں برابر کے شریک ہیں۔
پمز جیسے بڑے سرکاری اسپتال میں حفاظتی انتظامات کا فقدان وفاقی وزارتِ صحت کی کارکردگی پر سنگین سوالیہ نشان ہے۔
وفاقی حکومت بتاۓ ، پمز میں معصوم بچوں کی حفاظت کے لیے مؤثر حفاظتی انتظامات کیوں موجود نہیں تھے؟
معصوم بچوں کی جانیں ضائع ہوئیں، وفاقی وزارتِ صحت کی نگرانی اور انتظامی کارکردگی کہاں تھی؟
سرکاری اسپتالوں میں حفاظتی نظام کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، حکومت فوری اقدامات کرے
وزارتِ صحت صرف بیانات تک محدود نہ رہے، تمام سرکاری اسپتالوں میں سیفٹی آڈٹ اور حفاظتی انتظامات یقینی بنائے جائیں۔
پمز آتشزدگی واقعے کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات کرائی جائیں
غفلت یا کوتاہی ثابت ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے
وفاقی حکومت متاثرہ خاندانوں کو فوری معاونت فراہم کرے اور زخمیوں کے بہترین علاج کو یقینی بنائے
اللہ تعالیٰ جاں بحق بچوں کے اہلخانہ کو صبر جمیل اور زخمیوں کو جلد صحتیابی عطا فرمائے
There is a big question mark on what happened at PIMS today. What are these parents saying ?? These grieving parents who lost their newborns in the nursery fire deserve more than condolences, they deserve certainty. Even severely burned remains can sometimes be identified through DNA from surviving tissue, bone, or other biological evidence. Transparency, proper forensic identification, and accountability are the bare minimum these families deserve.
آج پمز (PIMS) ہسپتال میں پیش آنے والے دردناک واقعے پر مجھے بے حد افسوس ہے۔ جن ماؤں نے اپنے معصوم بچوں کو کھویا ہے، اُن کے دکھ اور کرب کا اندازہ الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان ماؤں اور ان کے خاندانوں کو یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کی ہمت، حوصلہ اور صبر عطا فرمائے۔ آمین۔
کسی ماں کے بچے کی جان کا کوئی ازالہ یا معاوضہ نہیں ہو سکتا، اور نہ ہی اس ناقابلِ تلافی نقصان کی کبھی حقیقی معنوں میں بھرپائی کی جا سکتی ہے۔ لیکن حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہو، اس افسوسناک واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کروائے، اور اگر کسی کی غفلت یا لاپرواہی ثابت ہوتی ہے تو اس کا احتساب یقینی بنائے۔
وزیرِ صحت کی بھی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے فرائض پوری سنجیدگی، دیانت داری اور ذمہ داری کے ساتھ ادا کریں اور صحت کے نظام کو بہتر اور مؤثر بنائیں۔ اگر وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہیں تو انہیں اس ناکامی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے