کمال کی بات یہ ہے کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ تمام خودکش حملہ آور نشے کے عادی ہوتے ہیں۔
لیکن انہی کے بقول یہی مبینہ نشے کے عادی افراد سینکڑوں کلومیٹر کا سفر طے کر کے اپنے ہدف تک پہنچ جاتے ہیں۔
جبکہ ان کی ریاست انہیں نشے کے عادی کو روکنے میں ناکام رہتی ہے۔
واقعی، یہ نہایت حیران کن بات ہے۔
😔كل نفس ذائقه الموت😞
یہ ایک کڑوی حقیقت ہے
دوستو !!
سعودی عرب میں
اگلے تین سال تک جدہ ٹاور مکمل
ہو کر برج خلیفہ پیچھے چھوڑ کر
بلند ترین عمارت جو ایک کلو میٹر ہائٹ
کیساتھ دنیا کی پہلی عمارت
ہو گی ۰۰۰۰۰۰
یہیں پر بس نہیں اسکے چند سال بعد
سعودی عرب میں ہی
" رائز ٹاور " بھی بن رہا ہے
جس کی بلندی جدہ ٹاور سے دوگنی
ہو گی
ہمارے پیارے آقا ﷺ نے یہ
نقشہ چودہ سو سال پہلے ہی
بتا دیا تھا که قیامت تب تک نہیں
آئے گی جب تک کہ
" تم عرب کے ننگے پاؤں ننگے بدن
والے چرواہوں کو دیکھو گے کہ
وہ اونچی اونچی عمارتیں
بنانے میں فخر اور مقابلے کریں گے ،
“شائد نہیں بلکہ پورے
یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم زمانہ آخر
میں داخل ہو چکے ہیں
اللہ ہم سب کو فتنوں کے اس دور میں
ایمان والی زندگی اور موت
نصیب فرمائے۔
آمین یا ربّ العالمین ———-
🔴 طالبان رہنما، عبد السلام ضیعف:
▪️"یہ سیاسی تنازعہ ہندوؤں اور پنجابیوں (پاکستانیوں) کے درمیان ہے، اس کا کوئی مذہبی رخ نہیں ہے۔ پشتونوں کو اس کھیل سے دور رہنا چاہیے"۔
▪️پاکستان پشتونوں کو "جہاد" کے نام سے ہندوستان کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کی ترغیب دینے کی کوشش کرے گا۔
ایک طرف بی ایل اے کا ترجمان ہے جس نے ٹرین یرغمال بنانے کی خبر فوری شئیر کی تاکہ ان کا مطلوبہ مقصد پورا ہوسکے۔
دوسری طرف آئی ایس پی آر ہے جو گُومگو کی کیفیت میں ہے کہ خبر شئیر کریں یا نہ کریں، اگر شئیر کریں تو کس طرح اپنی عزت بچائیں، وغیرہ وغیرہ۔
سات لاکھ حاضر سروس فوجی، مزید سات لاکھ سٹینڈبائے پر موجود نفری، سارا ملک ان کے ہاتھ میں، ساری پولیس، عدالتیں، اسمبلیاں ان کے تابع۔
اس کے باوجود اگر ان سے سیکیورٹی صورتحال نہیں سنبھل رہی تو یا تو یہ ملک ٹھیکے پر کسی عالمی طاقت کو دے دیں یا پھر موجودہ فوجی قیادت کو برطرف کرکے نئی کمان کو سامنے لائیں۔
عوام کب تک جرنیلوں کی تجوریاں بھرنے کیلئے اپنی جان و مال کی قربانی دیتے رہیں گے؟
کالونئل ریاستی نظام کا ظلم جبر اپنے عروج پر ہے۔
ایک طرف پی ٹی ائی احتجاج پر ظلم جبر، شھادتیں، زخمی اور گرفتاریاں تو دوسری طرف انکو کوریج دینے والے صحافی مطیع اللہ جان کی اغوائیگی اور جھوٹے ایف ائی ار۔
اس ظلم جبر پر ہمیں سخت افسوس ہے ا��ر مشکل کی اس گھڑی میں پی ٹی ائی اور حق گو صحافیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔
ریاستی میشنری عوام پر کئے گئے ظلم جبر کو بطور فتح جشن منا رہی ہے مگر یقین کر لے کہ یہی اعمال ان ظالموں کے شکست اور بھیانک انجام کا سبب بنینگے۔
پی ٹی ائی کے شہیدوں کے اللہ تعالی درجات بلند فرمائے اور زخمیوں کو کامل شفاء نصیب فرمائے۔آمین
ظلم جبر اور طاقت کے ناجائز استعمال کے زریعے عوام کو خاموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔
جتنا یہ ظلم زیادہ کرینگے اتنا ہی ان کے زوال کے دن کم ہوتے جائینگے بشرطہ یہ کہ مختلف عوامی حلقے انکے خلاف جدوجہد میں حوصلے بلند رکھے اور اپنی جدوجہد جاری رکھے۔
پشتون قومی عدالت میں اورکزئی سے آئے ہوئے ایک شخص نے بتایا کہ اس کے والد کو 14 سال پہلے فوجیوں نے گھر سے اٹھایا تھا اور وہ ابھی تک لاپتہ ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ جب سے اس کے والد کو فوجیوں نے گرفتار کیا ہے، ان کے گھر میں مسلسل پریشانی اور غم کا ماحول ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کے سامنے بے بس ہے کیونکہ حکومت طاقتور ہے، لیکن کم از ��م اتنا تو بتایا جائے کہ اس کا والد زندہ ہے یا قتل کر چکا ہے اور اسے کس جرم میں گرفتار کیا گیا ہے؟
#11Oct_Unity_Day #PashtunNationalCourt11October #جرګه_دپښتنو_دود #Welcome2PashtunNationalJirga
خیبر پختونخوا کی گلیوں بازاروں اور راستوں میں فوج نہیں مانتے
بس اب فوج کو نکلنا ہوگا
ہماری پولیس، جرگے کافی ہیں۔
فوج کو صرف سرحدوں اور چھائونی تک محدود ہونا پڑے گا۔
مشتاق احمد خان
یہ ہیں گزشتہ22سال کی اعدادوشمار۔
اسمیں یہ بھی شامل کرلیں کہ رپورٹس کےمطابق پاکستان میں جنوری2004سےنومبر2018تک 14سال میں 409ڈرون حملےہوچکےہیں جنمیں 2714افراد ہلاک اور728افراد زخمی ہوئے۔ڈرون حملوں میں صرف 3فیصددہشتگرد ہلاک ہوئےجبکہ 97 فیصد بےگناہ شہری کولیٹرل ڈیمیج کےنام پرمارےگئے