جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے مرکزی امیر قائد محترم مولانا فضل الرحمان صاحب جمعیت وکلاء فورم پاکستان کے مرکزی صدر سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ کا افغانستان کے سفارت خانے کی خصوصی دعوت پر امارتِ اسلامیہ افغانستان کے پانچ سال مکمل ہونے کے حوالے سے منعقدہ ’’یومِ فتح‘‘ کی تقریب میں
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے کراچی کے ہوٹل مالکان عوام کو درپیش مسائل، امن و امان، پولیس کے معاملات اور دیگر اہم امور پر جمعی�� علماء اسلام کے نمائندہ وفد کی جےیوآئی بلو��ستان کے امیر سینیٹر مولانا عبدالوسع کی سربراہی میں اہم ملاقات
ملاقات میں ایم پی اے بلوچستان اسمبلی حاجی اصغر علی ترین، جےیوآئی سندھ کے نائب امیر قاری محمد عثمان، ناظم مالیات جے یو آئی صوبہ سندھ و ضلع شرقی امیر مولانا محمد غیاث پشتون کمیونٹی کے نمائندگان سمیت صوبائی وزراء، میئر کراچی، آئی جی سندھ و ایڈیشنل آئی جی کراچی اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران بھی شریک تھے۔
ملاقات میں پشتون عوام کے تحفظات اور مسائل وزیراعلیٰ سندھ کے سامنے پیش کیے گئے، جن کے حل کے لیے وزیراعلیٰ سندھ نے مثبت تعاون اور مؤثر اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔
#TeamJUISindh
اسلام آباد میں سفارتخانۂ افغانستان کے زیر اہتمام یوم فتح کی پانچویں سالگرہ کی تقریب۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی شرکت/ خطاب
نہایت قابلِ قدر جناب سردار احمد خان شکیب صاحب، سفیرِ امارتِ اسلامیہ افغانستان!
افغانستان کے فتحِ مبین کے پانچ سال مکمل ہونے پر اس تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے۔ تمام شرکائے عظام کو دل کی گہرائیوں سے سلام پیش کرتا ہوں۔
محترم سفیر صاحب نے جس پُرخلوص انداز کے ساتھ افغانستان، اس کے ہمسایہ ممالک اور خطے کے ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کے جن جذبات کا اظہار کیا ہے، میں اس کی صدبصد تائید کرتا ہوں اور اپنی طرف سے، پاکستان کی طرف سے اور پاکستان کے عوام کی طرف سے اس خیرسگالی کا جواب دوہری خیرسگالی کے ساتھ پیش کرنا چاہتا ہوں۔
ہمارے تاریخی رشتے، مذہبی رشتے، ثقافتی رشتے اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہم دو مضبوط اور پُرامن پڑوسیوں کی طرح اپنا مستقبل طے کریں، ایک نیا مستقبل، اور نئے مستقبل کی مستحکم بنیادیں تلاش کریں۔
مجھے یقین ہے کہ پاکستان افغانستان کا سہارا ہوگا اور افغانستان پاکستان کا سہارا ہوگا۔
آسیا یک پیکرِ آب و گل است
ملتِ افغان در آں پیکر دل است
از کشادِ او کشادِ آسیا
از فسادِ او فسادِ آسیا
علامہ اقبال نے افغانستان کی جغرافیائی حیثیت کا جو نقشہ کھینچا تھا، میں سمجھتا ہوں کہ قیامِ پاکستان کے بعد پاکستان بھی آج جغرافیائی اعتبار سے ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔
مغرب و مشرق کو قریب کرنا، مشرقِ وسطیٰ ہو، وسطِ ایشیا ہو، مشرقی ایشیا ہو، جنوبِ ایشیا ہو، اس کے لیے آج جغرافیائی طور پر افغانستان اور پاکستان مل کر مشترکہ پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
لہٰذا دونوں مملکتوں کو، امارتِ اسلامیہ کو بھی اور اسلامی جمہوریۂ پاکستان کو بھی، اس حوالے سے خطے کی جو جغرافیائی اہمیت ہے، اس کا ادراک کرنا ہوگا اور اس ادراک کی اہمیت کو سمجھ کر ہمیں ایک مشترکہ مستقبل طے کرنا ہوگا، ایک مستقبل، ایک وحدت، اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ پوری اسلامی دنیا کے لیے ایک رہنما قدم ہوگا جو ساری اسلامی دنیا کو ایک وحدت پر مجتمع کر سکے گا۔
ہم تو ہمیشہ سے اس بات کے خواہش مند رہے ہیں اور یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ مسلمان امتِ واحدہ ہے۔ ہم ایک اسلامی بلاک کے قیام کے حامی ہیں اور اس جانب اگر پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور ایران پیش رفت کرتے ہیں تو وقت کے ساتھ ساتھ دوسری اسلامی دنیا بھی اس میں شریک ہو سکتی ہے، اس کا ہم سفر بن سکتی ہے، اور وقت ��س بات کا تقاضا کر رہا ہے کہ اب ہم عالمی قوتوں پر اپنا انحصار کم کر دیں، بلکہ اپنا انحصار ختم کر دیں اور اپنی قوت کو یکجا کر کے خود اپنے وجود پر انحصار کریں اور اللہ کی ذات کی طرف متوجہ ہو کر ایک امتِ واحدہ بن جائیں۔
آج کے اس اجتماع سے میرے خیال میں ہمارے ملک کے انتہائی اہم لوگ یہاں جمع ہیں اور یہ ہم سب کی آواز ہے، اور میں اپنے وطن کی طرف سے، اپنے ملک کے عوام کی طرف سے، یہاں کے مسلمانوں کی طرف سے افغانستان کے اپنے بھائیوں کو اس اسٹیج سے یہ پیغام دینا چاہتا ہوں، اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر عمل درآمد کے لیے صلاحیت عطا فرمائے اور اس کے درمیان جو رکاوٹیں ہیں، ان تمام رکاوٹوں کو، جس طرح کہ جناب سفیر صاحب نے فرمایا، ہم مکالمے، تفاہم، بات چیت اور گفتگو کے ذریعے سے ان مشکلات کو بڑے سلیقے کے ساتھ ختم کر سکتے ہیں۔
اور میرے خیال میں ان مشکلات کو دور کرنے میں کوئی اختلاف موجود نہیں ہے۔ دونوں طرف سے یہ خواہش ہے کہ یہ مشکلات دور ہوں اور ہم ایک پڑوسی ملک ہی نہیں، بلکہ باقاعدہ پڑوسی اور برادر اسلامی ملک کی طرح ایک جان بن کر دنیا کے سامنے اپنا آپ پیش کر سکیں، تو ہمیں اس کا مصداق بن جانا چاہیے کہ دونوں طرف سے آگ برابر لگی ہوئی ہے۔
اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے۔
میں بہت شکر گزار ہوں، آپ نے مجھے کچھ گفتگو کرنے کا موقع دیا، جو کہ میں سمجھتا ہوں، مجھے کچھ علم نہیں تھا کہ مجھے کوئی بات بھی کرنی ہے، لیکن اس موقع پر جو اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا، گفتگو کی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اللہ اس بات پر گواہ ہے کہ ہم افغانستان اور پاکستان کے درمیان یک جان ہونے کی خواہش رکھتے ہیں اور ان شاء اللہ ہم یک جان ہو کر ہی اپنا مستقبل متعین کریں گے۔
ہمارے اسلاف نے انگریز کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ ہم انگریز کے پالشیوں کے سامنے بھی سر جھکانے کو تیار نہیں ۔
اسلام آباد میں سیرت کانفرنس سے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہم کے خطاب سے اقتباس
#جشن_آزادی_مبارک#پاکستان_ہمیشہ_زندہ_باد
ہم تو چیخ چیخ کر کہ رہے ہیں کہ یہ کھٹمل پاکستان کے نہیں ایران کے وفادار،
لیکن ہم پر فرقہ واریت کا لیبل لگا دیا جاتا تھا ۔
اب دیکھ لو اس نمک حرام کو ،
اور تعجب کی بات یہ ہے کہ اس کو سب امن پسند سمجھتے ہیں
کراچی: میر رضا علی کے اہلِ خانہ سے علامہ راشد محمود سومرو کی ��لاقات،قاتلوں کی فوری گرفتاری اور سخت سزا کا مطالبہ
جمعیت علماء اسلام سندھ کے صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو نے جےیوآئی کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی ہدایت پر ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ کراچی کے نوجوان میر رضا علی کے گھر جا کر ان کے والد سے ملاقات کی۔
اس موقع پر علامہ راشد محمود سومرو نے میر رضا علی کے سفاکانہ اور بے دردی سے کیے گئے قتل پر گہرے غم، افسوس اور شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مقتول کے والد اور سوگوار خاندان سے دلی تعزیت کی۔ انہوں نے جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی جانب سے بھی تعزیت اور ہمدردی کا پیغام پہنچایا۔
علامہ راشد محمود سومرو نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب اس اندوہناک واقعے پر شدید غمزدہ ہیں اور انہوں نے سوگوار خاندان کو مکمل تعاون اور ہر ممکن ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
انہوں نے مرحوم میر رضا علی کے لیے بلندیِ درجات اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔
اس موقع پر تعزیتی وفد نے میر رضا علی کے سفاکانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کرکے قانون کے مطاب�� سخت سے سخت سزا دی جائے۔
علامہ راشد محمود سومرو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرپورخاص، لاڑکانہ، سکھر اور جیکب آباد میں معصوم بچیوں کے اغواء، بہیمانہ زیادتی، قتل اور گمشدگی کے واقعات کے بعد اب کراچی میں ایک نوجوان کا سفاکانہ قتل سندھ حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کو اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے فوری طور پر مستعفی ہو جانا چاہیے۔ جو حکومت عوام کی جان، مال، عزت اور آبرو کا تحف�� نہیں کر سکتی، اسے عوام پر حکمرانی کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔
تعزیتی وفد میں جمعیت علماء اسلام سندھ کے صوبائی نائب امیر قاری محمد عثمان صاحب، مولانا سمیع الحق سواتی صاحب، جمعیت بزنس فورم سندھ کے سیکرٹری جنرل مولانا فاروق خلیل صاحب، جنرل سیکرٹری ضلع شرقی فاروق سید صاحب، جناب احسان اللہ ہزاروی صاحب اور دیگر رہنما و کارکنان شامل تھے۔
جے یو آئی تحریک انصاف سے کن چیزوں پر تحریری معاہدہ کرنا چاہتی ہے
پی ٹی آئی سے تحریری معائدے میں اسرائیل کے حوالے سے احمدیوں کے حوالے سے اور بعض اسلامی شقوں کے حوالے سے کمٹمنٹ چا��تے ہیں تاکہ بعد میں (اگر اقتدار میں آئے) ان پر عمل ہو یا نہ ہو لیکن لوگوں کے سامنے ایک تحریر ہو …
جے یو آئی تحریک انصاف سے کن چیزوں پر تحریری معاہدہ کرنا چاہتی ہے
پی ٹی آئی سے تحریری معائدے میں اسرائیل کے حوالے سے احمدیوں کے حوالے سے اور بعض اسلامی شقوں کے حوالے سے کمٹمنٹ چاہتے ہیں تاکہ بعد میں (اگر اقتدار میں آئے) ان پر عمل ہو یا نہ ہو لیکن لوگوں کے سامنے ایک تحریر ہو
بہن اسماءجتک کا جرم صرف یہ تھا کہ اس نے زبردستی شادی سے انکار کیا،
باپ،شوہر،سمیت متعدد معصوم جانوں ، کی جان لے گئیں،
آج اسماء جتک ریاست سے اپنی اور فیملی کی حفاظت کی بھیک مانگ رہی ہے۔
��نتہائی افسوس ہے کہ اے آئی کا غلط استعمال کرتے ہوے میری جعلی تصویر اور جعلی آواز بناکر میری ایسی گفتگو سوشل میڈیا پر پھیلائی جارہی ہے جسکا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور بعض لوگ اس سے گمراہ ھوسکتے ھیں یہ سراسر جھوٹ اور دھوکہ ہے سائبرکرائم ایجنسیاں اسکا نوٹس لیں
کسی کو اس بات پہ شک نہیں ہے کہ موجودہ سیٹ اپ جیتا ہوا نہیں ہے، 2018 کا بھی ملتا جلتا تھا، 2018 میں الیکشن ٹاپل کیا گیا تھا تو یہ الیکشن بیچا گیا ہے، ان سب چیزوں کو ٹھیک کرنا چاہیے ہم نے یہ ملک چلانا ہے یہ ملک قائم رہنا ہے، کامران مرتضیٰ
@KamranM69045926@Dawn_News