CLAUDE FULL COURSE 4 HOURS
This is the most detailed Claude guide I’ve seen online.
Bookmark this before you forget.
4 hours.
Build tools.
Automate work.
Learn how people build bots and systems.
Claude → Tools → Automation → Products → Money
INSTEAD OF WATCHING NETFLIX TONIGHT.
Spend 1 hour with this.
Claude AI FULL COURSE that teaches you how to BUILD and AUTOMATE anything.
The people who watch this tonight will wake up tomorrow with a skill that most people will not have in 2 years.
The people who skip it will still be watching Netflix next year wondering why nothing in their life has changed.
Your call.
فخر الدین پاشا نے اور ان کے سپاہیوں نے 90 دن تک ٹڈیاں کھا کر گزارا کیا، مگر مدینہ منورہ کو حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا:
“میں اُس جگہ کو جہاں نبی کریم ﷺ مدفون ہیں ہرگز کسی ایسے کافر کے حوالے نہیں کروں گا جسے وضو تک نصیب نہیں۔”
یہ ایک عظیم داستان تھی جس کی مثال تاریخ میں کم ملتی ہے۔ یہ ایک انسانی جذبے کی ایسی تصویر تھی جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی، اور ایک فوجی کارنامہ بھی تھا جس نے سخت ترین حالات اور مشک�� ترین شرائط کا مقابلہ کیا۔
اس داستان کا ہیرو عثمانی کمانڈر فخر الدین پاشا تھا، جسے “نمر الصحراء” (صحرا کا شیر) کہا جاتا تھا، اور انگریز اسے “ترک شیر” کہتے تھے۔
جب سلطنتِ عثمانیہ انگریزوں کے خلاف جنگ میں شکست کھا گئی اور شام و حجاز سے عثمانی فوجیں واپس چلی گئیں، تو مدینہ منورہ میں صرف فخر الدین پاشا اور ان کے سپاہی باقی رہ گئے۔ انہوں نے ہتھیار ڈالنے اور مدینہ منورہ کو ان عرب افواج کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا جو انگریزوں کی قیادت میں لڑ رہی تھیں، جسے قوم پرست لوگ “عرب بغاوت” کہتے ہیں۔
مصر میں برطانوی ہائی کمشنر جنرل ونجٹ نے فخر الدین پاشا کو ایک دھمکی آمیز خط لکھا، جس میں کہا:
“ترک شکست کھا چکے ہیں، شام پر قبضہ ہو چکا ہے، اور اب اگر آپ نے ہتھیار نہ ڈالے اور مدینہ حوالے نہ کیا تو جو خون بہے گا اس کے ذمہ دار آپ ہوں گے۔”
اس کے جواب میں صحرا کے شیر نے لکھا:
“مصر کے ونجٹ کے نام میں محمدی ہوں، میں عثمانی ہوں، میں ایک سپاہی ہوں، میں بالی بیگ کا بیٹا ہوں۔”
یعنی وہ کسی دھمکی سے ڈرنے والے نہیں اور رسول اللہ ﷺ کے شہر کا دفاع کرتے ہوئے مرنے کے لیے تیار ہیں۔
وہ مدینہ کے آخری عثمانی امیر تھے۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد بھی انہوں نے مدینہ حوالے کرنے سے انکار کیا اور سات ماہ تک بغیر کسی مدد اور رسد کے مزاحمت جاری رکھی۔
آخرکار جب خوراک، دوا اور اسلحہ بہت کم ہو گیا اور دفاع جاری رکھنا ممکن نہ رہا تو انہیں ہتھیار ڈالنے پڑے۔
اس کے باوجود انہوں نے مدینہ چھوڑنے سے انکار کیا اور ارادہ کیا کہ روضۂ رسول ﷺ کے پاس ہی رہیں گے، لیکن ان کے افسران انہیں ��بردستی شہر سے باہر لگے ہوئے خیمے میں لے گئے۔
اللہ نمر الصحراء فخر الدین پاشا پر رحم فرمائے اورلاکھوں برکتیں نازل فرمائے،آمین!
حوالہ جات: کتاب “مذکراتی”
امریکی سائنسدان نے جنریشن زی کے نالائق ہونے کی وجہ ڈھونڈ نکالی
امریکی کانگریس کو رپورٹ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر جیرڈ ہوروتھ نے کہا
"ہمارے بچے اس درجے کی ذہنی صلاحیت نہیں رکھتے جتنی ہم رکھتے تھے۔ انیسویں صدی کے آخر (1800ء کے بعد) سے جب سے ہم نے ریکارڈ رکھنا شروع کیا، ہر پچھلی نسل نے اپنے والدین سے بہتر کارکردگی دکھائی تھی۔ جنریشن زی (Gen Z) جدید تاریخ کی پہلی نسل ہے جو تقریباً ہر اس ذہنی پیمانے پر ہم سے کم کارکردگی دکھا رہی ہے جسے ہم ناپتے ہیں۔بنیادی توجہ سے لے کر یادداشت، خواندگی ، عددی مہارت ، انتظامی افعال تک، بلکہ عمومی IQ تک (ہر چیز میں کمزور ہے) حالانکہ وہ ہم سے زیادہ اسکول جاتے ہیں۔ تو ایسا کیوں ہوا ؟ لگتا ہے جواب وہ اوزار ہیں جو ہم اسکولوں میں تعلیم کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں
اگر آپ اعداد و شمار دیکھیں تو جیسے ہی ممالک اسکولوں میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر اپناتے ہیں، کارکردگی نمایاں طور پر گر جاتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ بچے جو اسکول میں سیکھنے کے مقصد سے روزانہ تقریباً پانچ گھنٹے کمپیوٹر استعمال کرتے ہیں، اُن بچوں کے مقابلے میں جو اسکول میں شاذ و نادر یا کبھی بھی ٹیکنالوجی استعمال نہیں کرتے، دو تہائی معیار سے بھی کم اسکور کرتے ہیں۔ اور یہ رجحان 80 ممالک میں دیکھا گیا ہے۔
لیکن اسکرینز صرف سیکھنے کو تباہ نہیں کر رہیں اور نئی نسلوں کو پچھلی نسلوں کے مقابلے میں کم ذہین نہیں بنا رہیں۔ وہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک کام کر رہی ہیں۔ اور جب آپ قریب سے دیکھتے ہیں، تو منظر خوشگوار نہیں "
BREAKING:
Israel is raining bombs on civilian homes in South Lebanon right now.
Residential homes. Not military sites.
And this despite a so-called “ceasefire.”
ایک باپ کی بیٹے کو وصیت جس نے میرے وجود کو ہلا کر رکھ دیا۔
نوجوان ضرور پڑھیں۔اور والدین کے سات�� اپنے رویے پرتوجہ دیں۔
ایک باپ اپنے بیٹے کو مخاطب کر کے نصیحت کرتا ہے۔
میرے پیارے بیٹے : ایک دن تم مجھے بوڑھا دیکھو گے۔
میرا رویہ تمہیں غیر منطقی معلوم ہوگا ۔
تب براہ مہربانی بیٹا مجھے تمہار ا وقت اور صبر چاہیے ہو گا ۔تاکہ تم مجھے سمجھ سکو ۔
جب میرے ہاتھ کانپیں اور میرا کھانا سینے پر گر پڑے۔
اور جب میں کپڑے نہ پہن سکوں ۔
تب گزرے ہوئے سالوں کو یاد کرنا جب میں تمہیں وہ کچھ سکھاتا تھا جو میں آج نہیں کر سکتا۔
اگر میں تم سے بار بار بات کروں اور آپ کو باربار یا دہانی کرواٶں تو غصہ اور ملامت مت کرنا۔
اس لیے کہ میں نے تمہارے لیے کتنی ہی باتیں کہانیاں دہرائی ہیں، صرف اس لیے کہ انہوں نے تمہیں خوش کیا.اور تم نے ہمیشہ باربار مجھ سے پوچھا جب کہ تم چھوٹے تھے معذرت، اب مجھے رکاوٹ نہ ڈالنا ۔
اگر میں اب خوبصورت نہیں ہوں، یا مجھے سے تمہیں مہک نہیں آتی تو مجھ پر الزام مت عاٸد کرنا
اور یاد رکھنا جب میں جوان تھا تو میں نے آپ کو خوبصورت اور خوشبودار بنانے کی بہت کوششیں کیں۔
اپنی جوانی میں میری لاعلمی اور کم فہمی پر مت ہنسنا
بلکہ تم میری آنکھیں اور دماغ بن جانا تاکہ جو چیزیں مجھ سے رہ گٸیں میں انہیں پا سکوں ۔
بیٹا میں وہ ہوں جس نے تمہیں سکھایا، میں نے تمہیں زندگی کا سامنا کرنا سکھایا
آج آپ مجھے کیسے سکھاتے ہو کہ کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں؟
اپنی گفتگو کے دوران میری کمزور یادداشت اور میری باتوں اور سوچ کی سستی سے نہ تھکنا۔ کیونکہ میری خوشی اب صرف تمہارے ساتھ رہنے میں ہے
بس مجھے وہ خرچ کرنے میں مدد کرنا جس کی مجھے ضرورت ہے میں اب بھی جانتا ہوں کہ میں کیا چاہتا ہوں۔
جب میرے پاؤں مجھے جہاں چاہیں لے جانے میں ناکام ہو جاٸیں
تو مجھ پر احسان کرنا اور یاد رکھنا کہ میں نے تمہارا ہاتھ اتنا پکڑا کہ تم چل سکو ۔
آج میرا ہاتھ پکڑتے ہوئے کبھی شرمانا مت، کل تم کسی کا ہاتھ پکڑو گے۔ اس عمر میں، میں جانتا ہوں کہ میں آپ کی طرح زندگی کے قریب نہیں آ رہا ہوں۔ لیکن میں مرنے کا انتظار کر رہاہوں ۔
بیٹا میر ساتھ دینا ، میرا مخالف مت بننا ۔
جب آپ کو میری کچھ غلطیاں یاد آٸیں تو جان لینا کہ میں نے ہمیشہ آپ کے بہترین مفادات کے علاوہ کچھ نہیں چاہا۔
اور یہ سب سے اچھی چیز ہے جو آپ ابھی میرے ساتھ کر سکتے ہیں۔ میری لغزشوں کو معاف کرنے کے لیے۔ اور میری خطاؤں پر پردہ ڈالنے کے لیےخدا تمہیں معاف کرے اور تمہیں چھوڑ دے۔
بیٹا آپ کی ہنسی اور مسکراہٹ اب بھی مجھے اسی طرح خوش کرتی ہے جیسے جب میں جوان تھا۔ مجھے اپنی صحبت سے محروم نہ کرنا ۔
بیٹا ، جب تم پیدا ہوئے تو میں تمہارے ساتھ تھا
تو جب میں مروں تو میرے ساتھ رہنا
عربی تحریرکا ترجمہ
*نوٹ* اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیے تاکہ اللہ کسی کی زندگی کو آپ کے ذریعے بدل دے۔
منقول
This is beyond horrifying.
New data shows Israel has killed over 680,000 Palestinians in Gaza.
Among them:
• 380,000 infants under 5
• 99,000 children over 5
That’s 479,000 children murdered by Israel.
Israel isn’t “defending itself.”
It is wiping out Palestinian life.
بحیرہ ارل قدیم زمانے سے قازقستان اور ازبکستان کے درمیان پھیلا ہوا تھا۔ اس کا رقبہ تقریباً 68,000 مربع کلومیٹر تک پہنچ جاتا تھا، یعنی آدھا پنجاب جتنا۔ یہ دنیا کا چوتھا بڑا اندرونی سمندر تھا۔ اس میں پانی دراصل دو بڑی ندیوں — آمودریا اور سیردریا — سے آتا تھا۔ صدیوں تک انہی دریاؤں نے اس سمندر کو زندہ رکھا، مچھلیوں کے ذخائر کو بڑھایا اور ساحلوں پر آباد بستیوں کو روزگار دیا۔
انیسویں اور بیسویں صدی کے وسط تک یہاں ایک مضبوط ماہی گیر معیشت موجود تھی۔ صرف ازبک اور قازق قصبوں میں سالانہ لاکھوں ٹن مچھلی پکڑی جاتی، فیکٹریاں چلتی تھیں، اور ہزاروں خاندان اسی پر زندہ رہتے تھے۔ بعض علاقوں میں گرم پانی کے چشمے بھی تھے جنہیں علاج اور آرام کے لیے استعمال کیا جاتا، اگرچہ سیاحت کبھی زیادہ فروغ نہ پا سکی۔
المیہ دراصل سوویت دور میں شروع ہوا۔ 1960 کی دہائی میں سوویت منصوبہ سازوں نے وسطی ایشیا کو “روئی کا سونا” بنانے کا فیصلہ کیا۔ آمودریا اور سیردریا کے پانی کو بڑے نہری نظاموں کے ذریعے کپاس، گندم اور دیگر فصلوں کے لیے موڑ دیا گیا۔ نظریہ یہ تھا کہ صحرا میں زراعت کو وسعت دی جائے — مگر اس کے نتیجے میں آرال سمندر کا فطری توازن ٹوٹ گیا۔ پانی سمندر تک پہنچنے کے بجائے کھیتوں میں ضائع ہونے لگا، لاکھوں ایکڑ پر زراعت تو بڑھی مگر سمندر سکڑنا شروع ہو گیا۔
1970 کی دہائی میں سطح نمایاں طور پر کم ہوئی۔ 1980 تک سمندر کا رقبہ تقریباً آدھا رہ گیا۔ 1990 کے بعد تو صورتحال تیزی سے بگڑی — پانی پیچھے ہٹتا گیا، ساحلی شہر دریا کے کنارے سے سینکڑوں کلومیٹر اندر رہ گئے، اور آخرکار سمندر مختلف حصّوں میں بٹ کر “چھوٹے آرال” اور “بڑے آرال” کے بے جان تالابوں میں بدل گیا۔
جہاں کبھی پانی تھا، وہاں نمک آلود صحراء پھیل گئی۔ ریت اور نمک کے طوفان اٹھنے لگے جن میں کھادوں اور کیمیائی زہروں کے ذرات شامل تھے، جو ��رسوں تک زمین پر گرتے رہے۔ اس کے نتیجے میں:
زرعی زمینیں بگڑ گئیں
پینے کے پانی کے ذخائر آلودہ ہوئے
سانس اور دل کے امراض بڑھے
ماہی گیری اور مقامی صنعتیں ختم ہو گئیں
کُنڑاز، موئناک اور دیگر ساحلی قصبے کھنڈرات میں بدل گئے۔ بندرگاہیں ریت میں دفن ہو گئیں۔ آج وہاں زنگ آلود جہاز کھڑے ہیں — جیسے کسی وقت کے خواب کی قبریں ہوں۔
ماہرین کے مطابق آرال کے خشک ہونے سے خطّے کا موسم بھی بدل گیا۔ گرمیوں میں درجہ حرارت زیادہ ہو گیا، سردیاں سخت ہو گئیں، اور بارشوں کا نظام متاثر ہوا۔ یوں ماحول، معیشت اور انسانی صحت — سب پر کاری ضرب لگی۔
گزشتہ برسوں میں قازقستان نے “نارتھ آرال” کو بچانے کے لیے ڈیم اور نہری اصلاحات کی کوششیں کیں، جس سے اُس حصے میں کچھ بہتری آئی۔ پانی کی سطح کچھ بڑھی، اور محدود پیمانے پر مچھلیاں واپس آئیں۔ مگر مجموعی طور پر اصل سمندر کا زیادہ تر حصہ اب ماضی کا قصہ بن چکا ہے۔
آرال سمندر کی کہانی ہمارے لیے ایک جیتی جاگتی تنبیہ ہے۔ یہ یاد دلاتی ہے کہ جب ترقی اور معاشی منصوبہ بندی ماحول کی حدود کو نظر انداز کر دے تو اس کی قیمت نسلیں ادا کرتی ہیں۔ پانی — جو زندگی ہے — اگر غلط استعمال اور بے تدبیری کا شکار ہو جائے تو شہروں، معیشتوں اور تہذیبوں کو ویران کر دیتا ہے۔
آج آرال کی ریت میں کھڑے زنگ آلود جہاز ہمیں خاموشی سے یہی سکھاتے ہیں کہ فطرت کو چیلنج کرنے سے پہلے اس کے اصولوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ بصورتِ دیگر — سمندر ریت میں بدل جاتے ہیں، اور یادیں صحرا کی دھول میں گم ہو جاتی ہیں.
#الف_نگری
پاکستان کے شمالی پہاڑوں کے دامن میں ایک عظیم منصوبہ اپنی تکمیل کی طرف بڑھ رہا ہے، دیامر بھاشا ڈیم۔ 272 میٹر بلند یہ ڈیم دنیا کا سب سے بڑا آر سی سی ڈھانچہ ہوگا۔ میڈیا لینز کے مطابق مکمل ہونے پر یہ 1.8 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرے گا، 2.1 ملین ایکڑ زمین کو سیراب کرے گا، سیلابی خطرات کم کرے گا اور 4500 م��گاواٹ بجلی پیدا کر کے نیشنل گرڈ کو ہر سال 18 ارب یونٹ ماحول دوست توانائی فراہم کرے گا۔
DiamerBashaDam #GilgitBaltistan
Reasons why Gaddafi was killed:
1. Libya has no electricity bill, electricity came free of charge to all citizens.
2. There were no interest rates on loans, the banks were state-owned, the loan of citizens by law 0%.
3. Gaddafi promised not to buy a house for his parents until everyone in Libya owns a home.
4. All newlywed couples in Libya received 60,000 dinars from the government & because of that they bought their own apartments & started their families.
5. Education & medical treatment in Libya are free. Before Gaddafi there were only 25% readers, 83% during his reign
6. If Libyans wanted to live on a farm, they received free household appliances, seeds and livestock.
7. If they cannot receive treatment in Libya, the state would fund them $2300+ accommodation & travel for treatment abroad.
8. If you buy a car, the government finances 50% of the price.
9. The price of gasoline became $ 0.14 per liter.
10. Libya had no external debt, and reserves were $150 Billion (now frozen worldwide)
11. Since some Libyans can't find jobs after school, the government will pay the average salary when they can't find a job.
12. Part of oil sales in Libya are directly linked to the bank accounts of all citizens.
13. The mother who gave birth to the child will receive $5000
14. 40 loaves of bread cost $0.15.
15. 25% of Libyans had all Ilisna diplomas.
16. Gaddafi has implemented the world's biggest irrigation project known as the "BIG MAN PROJECT" to ensure water availability in the desert.
If this is called “DICTATORSHIP” I wonder what democracy is?