یہ جرنیل یہ ججز یہ بڑی بڑی کرسیوں پر ب��ٹھے شخص، اِن کو کیا پتہ جب اپنی بیوی بچوں کے ساتھ اپنا گھر چھوڑنا پڑتا ہے تو کتنی تکلیف ہوتی ہے، آئیں ناں اپنی بیوی بچوں کے ساتھ ایک دن کیمپ میں رہیں ناں، کبھی اپنے گھروں پر یہ بم گراؤ ناں تب پتہ چلے گا تمہیں، تب تکلیف کا احساس ہو گا کہ تمہیں کے جب چھوٹے بچے شہید ہوتے ہیں تو کتنی تکلیف ہوتی ہے، سہیل آفریدی آبدیدہ ہو گئے
🚨سپیکر خیبر پختون خواہ بابر سلیم سواتی صاحب
اپ کے پاس مزید سستی کا وقت نہیں-- اب اسی وقت اسمبلی کھولیں اپنا ائینی طاقت استعمال کریں, پولیس ایکٹ میں ترمیم کرے ائی جی اور سیکرٹری کو اسمبلی بلائے...
شفیع جان صاحب کا کہنا ہے کہ انکی اور باقی پارلیمینٹیرینز کی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔۔مطلب ماضی میں بھی وفاق جب چاہتا پولیس/ افسران کو ہدایات دیتا اور صوبائی حکومت منہ دیکھتی رہتی۔۔ مطلب ووٹ کے پی میں پڑا وہاں حکومت بھی بنی۔۔لیکن حکومت تھی کبھی نہیں۔
چار سال سے آئین کے ہر صفحے پ�� سیاہی مل کر، عوام کے ہر حق کو روند کر، غربت کی بلندیوں کی انتہا کو چھوتے ہوۓ مہنگائی کے ریکارڈ توڑتے ہوئے ہمیں یہ بتایا جا رہا ہے کہ پاکستان بلندیوں کی پرواز کر رہا ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ جب آئین ہی لہولہان ہو، عوام تباہ حال ہو تو یہ اونچی اُڑان آخر کس کے لیے ہے؟
Thousands of Imran Khan supporters are on the way to Islamabad to demand his release from prison. Pakistan’s former PM has been in jail since 2023. The government says it will not allow the march to enter the capital.
اندورنی صورتحال۔۔۔۔
اندرونی صورتحال یہ ہے کہ جرنیلوں سے لے کر فارم 47 والوں تک کا لانگ مارچ کی شرکہ پر نظر ہیں جو 24 گھنٹے مونیٹر کیا جارہا ہے اگر مارچ میں شرکہ کی تعداد زیادہ ہوٸی اور لوگ سڑکوں پر زیادہ میں نکل آٸے تو یہ لوگ گھٹنے ٹِکنے پر مجبور ہوجاٸیں گے, لوگوں کو نکلنا ہوگا!
میرے پاکستانیو! لیڈر ہمارا ناحق قید میں، اس کا پورا خاندان مقید، سپریم کورٹ کے حکم پر بھی علاج کی سہولت میسر نہیں۔ مینڈیٹ ہمارا چرایا، جعلی لوگ مسلط کرکے جعلی لوگوں سے، جعلی قانون سازی کروا کر عدالتیں کنٹرول کیں، جبر اتنا کہ ہلاکو خان بھی شرما جائے۔ گھر توڑے خواتین کو ہراساں کیا، کارکنان، اراکین اسمبلی، ان کے بچوں تک کو اغوا اور لاپتہ کیا۔ اس سب کے باوجود ہم نے انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ آئینی و قانونی ہر راستہ اپنایا اور بار بار اپنایا۔ اب جب سپریم کورٹ کے حکم پر بھی علاج کی سہولت نہ ملی، نو مہینے کی بے رحمانہ قید تنہائ، اپیلوں کی سنوائی کے لیے اور نا حق اسیری کے خلاف پر امن لانگ مارچ کا آغاز ہوا تو جعلی مسلط شدہ ٹولہ اور ان کی ڈوریاں ہلانے والوں نے اس کے نام پر شروع؛ آئین و قانون کے مطابق اور پر امن مارچ کے سامنے پختونخواہ کی عوام کا سودا کرنے کی شرط رکھ دی۔ وہ جس نے ملک و قوم کا سودا کرنے سے انکار کرتے ہوئے وزارت عظمی قربان کی، تین سال سے ناحق اسیری کاٹ رہا ہے۔
شرط ہے کہ اپنی عوام کو میڈ اپ دہشت گردی کا ایندھن بناؤ یعنی لشکر کشی میں ساتھ دو۔ عوام کو بے گھر کرکے فوجی چیک پوسٹیں قائم کرکے، قطاروں میں ذلیل کرنے کی تاریخ دہراؤ۔ اُن پر بے دریغ بمباری کی اجازت دو، تو ہی آپ کے لیے آسانی ہوگی ورنہ آسانی تو دور پختونخواہ حکومت ختم کرکے آپ کو کچل کے رکھ دیں گے۔عمران خان کی حکومت میں اس بات کا ایبسلوٹلی ناٹ کے علاوہ تو کوئ جواب مل نہیں سکتا تھا۔ جواب یہی ملا کہ لعنت تمہاری ایسی آسانی پر جو اپنے لوگوں کے خون کا سودا کرنے سے مشروط ہو۔
لعنت ایسی ہوسِ اقتدار پر جو اپنے لوگوں کو آگ کا ایندھن بنادے۔ملک کو تو تباہ کر دیا آپ کی اس ہوس نے۔ بلوچستان میں لشکر کشی کے بعد آپ کا وزیر اعلی اور کور کمانڈر کینٹ سے باہر نہیں جا سکتا لیکن پختونخواہ پر لشکر کشی کرنی ہے۔ امن مقصد ہوتا تو صوبائی اسمبلی میں پختونخواہ کی تاریخ کا سب سے بڑا جرگہ ہوا جس میں صوبے کے تمام سٹیک ہولڈرز شامل تھے، دیرپا امن کے لیے ان کی بتائ پالیسی پر عمل ہوتا لیکن فوج و وفاقی حکومت نے اس جرگے پر بغاوت غداری اور وفاق کو تقسیم کرنے کا فتوی لگایا۔جن کی زندگیاں وابستہ ہیں، جن پر ان حالات کا براہ راست اثر ہونا ہے۔ ان کی پالیسی قبول نہیں کیونکہ مقصد امن نہیں۔
مقصد؛ ایک طرف افغانستان کے حوالے سے کی گئی کمٹمنٹس کو پورا کرنے کا وقت آپہنچا ہے جس کے لیے پختونخواہ کو ایندھن بنایا جائے گا۔ دوسری طرف پاکستان کے ہر دور کے جنرل و ڈکٹیٹر کا طاقت کے طول کا آزمودہ فارمولہ؛ پاکستان کو نئی پیکنگ میں سیکورٹی سٹیٹ بنا کر پیش کرنا ہے۔ رہی بات ایمرجنسی کی تو کون نہیں جانتا جن دہشت گردوں کی آبادکاری کی پالیسی یہ عقلِ کُل لے کر آئے تھے اُن کے مطالبات کا ��یسرا نکتہ فاٹا کو وفاق کے زیر انتظام دینا یعنی فاٹا مرجر کو واپس کرناتھا۔ وہی مرجر جس کے حوالے سے انہی کا بیانیہ تھا کہ ملک دشمن قوتیں اور ان کے آلہ کار فاٹا انضمام کے خلاف ہیں۔ تو کیا اب یہ دشمن کے ایجنڈے پر عمل پیرا نہیں؟
مارچ عمران خان کی رہائی کا تھا ہے اور یہی مطالبہ ہے۔ رہی بات دہشت گردی کے حالیہ بیانیے کی تو حقیقت یہی ہے کہ موجودہ لہر آئی نہیں لائی گئی، دہشت گرد آئے نہیں لائے گئے، صرف لائے نہیں گئے باقاعدہ رُوٹ لگا کر اپنی نگرانی میں پھیلائے گئے۔ اور جس ایمرجنسی کے لگانے کے لیے آج ان کٹ پتلیوں کو بٹھا کر بیانیے بنائے جارہے ہیں یہ انہی کے آرمی چیف کے الفاظ ہیں ��ہ فاٹا کو وفاق کے حوالے کرنا طالبان کا مطالبہ ہے۔جی! آرمی چیف نے کہا فاٹا کو صوبے سے وفاق کے حوالے کرنا طالبان کا مطالبہ ہے۔ جس پالیسی کے تحت ان دہشت گردوں کو آباد کیا جا رہا تھا اس کا تیسرا نکتہ ہی یہی تھا۔ ایک بار پھر ہر میدان میں ناکامی کے بعد بالآخر جمال، کمال کا نام استعمال کرکے پاکستان کو دلدل میں دھکیلا جارہا ہے مگر یہ قوم نہ تو مزید کسی کی جنگ میں ایندھن بنے گی نا ہی بے گھر ہوگی نا ہی مارٹر گولوں، ڈرون اور لڑاکا طیاروں کا نشانہ بن کر کولیٹر ل ڈیمج بنے گی، نا ہی اپنے گھر میں قطاروں میں کھڑے ہوکر آپ کے ہاتھوں ذلیل ہوگی۔ جب نکلنا ہی ہے تو اپنے گھروں کی تباہی کے بعد بے گھری کیوں جھیلیں، تمہارے ان گھناؤنے منصوبوں کے خلاف نکل کر اپنے مسیحا عمران خان کو واپس لانے کے لیے نکلیں گے۔
خیبر پختون خواہ میں پی ٹی ائی کے وزیر ایم این اےایم پی اے کو نامعلوم گھر سے اور سب کے سامنے اٹھا کر لے جاتے ہیں لیکن دہشت گردوں کو اٹھانے کے لیے ان کو پی ٹی ائی حکومت کی اجازت کی ضرورت ہے؟؟؟؟؟
پی ٹی آئی کی سیاست اقتدار کے لیے نہیں ہے۔ پی ٹی آئی اقتدار کو جوتے کی نوک پر رکھتی ہیں۔ پی ٹی آئی گورنر راج یا ایمرجنسی بھی بھگت لے گی، لیکن شاید لگانے والے بھگت نہیں سکیں گے۔
سہیل آفریدی صاحب خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کا سب سے مقبول ترین لیڈر ہے، لیکن جب سے انہوں نے اپنے لوگوں کو بے گھر ہونے سے انکار پر اپنے اقتدار کو خطرے میں ڈالا ہے، آج پورا سابقہ فاٹا ان کے پیچھے کھڑا ہے۔
خیبر پختونخوا کے عوام کی نفرت آپ کو بہا کر لے جائے گی!
عمران خان جو جیل میں ہمارے لیے بیٹھا ہے وہ ہمارے مستقبل کی جنگ لڑ رہا ہے ہمارا فرض ہے کہ ہم نکلیں اور اس فسطائیت کے خلاف احتجاج میں شریک ہوں۔
تونسہ پنجاب سے پیدل لانگ مارچ کے قافلے میں شریک نوجوان کی گفتگو
#عوامی_مزاحمت_کی_للکار
سہیل آفریدی انتظامیہ پر ISI ایم آئی اور وفاقی حکومت اور فوج کا پورا قبضہ ہونے کے باوجود انہیں شکست دے رہا ہے ہر گزرتے دن جب وہ عوام کو نکال پاتا ہے یہ لانگ مارچ کی کامیابی ہے اس کے برعکس جو جعلی بیانیہ بنانے کی فیکٹری ہے جس کو انجینئر شریف کا لڑکا چلاتا ہے وہ برے طریقے سے فیل ہو چکی ہے سہیل آفریدی کی ایک جلسے کی آڈیو چلا کر تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ سہیل آفریدی نے جلسے میں علی امین گنڈاپور کے خلاف تقریر کردی ہے حقیقت میں وہ تقریر مریم اور بلاو�� کے لئے تھی
شہزاد اکبر
دس سال قید سزا سنائے جانے والی فردوس رائے صاحبہ جو کہ 13 مہینے سے جیل میں قید ہیں، انکی تصویر ار انکا ذکر خواتین اسیران کے اکثر پوسٹر پر نہیں ہوتا، انکی تکلیف اور قید کا ذکر مت بھولیے۔
#JusticeForFirdosRai