اصلی مرد چدائی کا آغاز لن ڈال کر نہیں کرتا، وہ عورت کے بدن کو عبادت سمجھ کر چھوتا ہے۔ اس کے ہونٹ، چھاتیاں، رانیں — سب پر لب رکھتا ہے، اور جب وہ پگھل جائے، تب لن اندر اتارتا ہے، اور پھر چاہے وه گھوڑی بنائے یا کتیا، عورت دونوں بننے کیلئے بیتاب ہوتی ہے
فیملی سیکس کی موجودگی ہر معاشرے میں موجود ہے اور صدیوں سے موجود رہی ہے
اس کو جھٹلایا نہیں جا سکتا
سائکیولوجیکل سروے کے مطابق جو اک دفعہ فیملی سی��س میں انوالوو ہوجائے پھر اس مرد کو وہ مزا عام خواتین / نارمل فطری سیکس میں قطعا مزا نہیں اتا
نہ وہ کر سکتا ہے
محبت ہونٹوں سے شروع ہوتی ہے اور شلوار اتارنے پر ختم ہوتی ہے
اگر کوئی عورت یہ سمجھتی ہے کہ عشق میں اُس کو ننگا نہیں کیا جائے گا تو وہ سب سے بڑی جاہل ہے محبت تو نام ہی محبوب محبوبہ کے ننگے ہونے کا ہے