پنجاب اسمبلی سے منظور ہونے والا “اسپیشل سیکیورٹی کیس” قانون عدلیہ کی آزادی اور شفاف انصاف کے لیے ایک خطرناک قدم ہے۔
اس قانون کے تحت ایک گریڈ 20 یا اس سے اوپر کا افسر، جسے وزیرِ اعلیٰ نامزد کرے گا، تن تنہا یہ فیصلہ کرنے کا اختیار رکھے گا کہ کون سا دہشت گردی کا مقدمہ “خصوصی تحفظ” کا مستحق ہے۔ جیسے ہی وہ یہ نامزدگی کرے، لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اس پر عمل کرنے کے پابند ہوں گے، نہ انکار کی گنجا��ش، نہ نظرثانی کا حق۔ ایک غیر منتخب، غیر شناخت شدہ افسر کو عدلیہ پر یہ بالادستی دینا انصاف کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔
سب سے تشویش ناک بات یہ ہے کہ ایسے اختیارات پہلے ہی موجود قوانین میں شامل ہیں۔ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 (دفعہ 21) ججز کو اپنی صوابدید پر بند کمرہ کارروائی کرنے کی اجازت دیتا ہے، اور 2018 کا گواہ تحفظ قانون جیل میں ٹرائل کی سہولت دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آزاد ججز سے یہ اختیار چھین کر ایک ایسے سرکاری افسر کو کیوں دیا جا رہا ہے جو خود ایگزیکٹو کا تابع ہے؟
وزیرِ اعلیٰ کا نامزد کردہ افسر کسی بھی حکم سے انکار کی پوزیشن میں نہیں ہوگا۔ نہ آزادانہ نگرانی، نہ ��وامی ریکارڈ، نہ کوئی ضمانت کہ یہ “دہشت گردی مخالف” قانون سیاسی مخالفین، صحافیوں یا اختلافِ رائے رکھنے والوں کے خلاف استعمال نہیں ہوگا۔ ��اکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ قومی سلامتی کے نام پر بننے والے قوانین اکثر سیاسی انتقام کا ہتھیار بن جاتے ہیں۔
مزید یہ کہ آئین کا آرٹیکل 10-A ہر شہری کو منصفانہ ٹرائل کا حق دیتا ہے۔ گمنام جج، گمنام گواہ اور سربمہر ریکارڈ اس بنیادی حق کو کمزور کرتے ہیں۔ وکلا برادری اور سول سوسائٹی کے لیے بھی یہ تشویش کا باعث ہے کیونکہ دفاعی وکیل تک محدود رسائی رکھیں گے۔
ایسے وقت میں جب ملک میں عدلیہ کی آزادی پر پہلے ہی سوالات اٹھ رہے ہیں، اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی گورننس اور رول آف لا پر نظر رکھی جا رہی ہے (بشمول FATF جیسے فورمز)، ایسی قانون سازی سرمایہ کاروں کے اعتماد اور عوام ک�� تحفظ کے احساس دونوں کو نقصان پہنچائے گی۔
سیکیورٹی کے نام پر اداروں کی چیک اینڈ بیلنس کو قربان کرنا نہ انصاف ہے، نہ تحفظ۔
🚨Nine-year-old Palestinian child Israa al-Hissi was shot and killed by Israeli forces east of Deir al-Balah in central Gaza on Tuesday.
She was one of three children among at least 7 Palestinians killed in Israeli attacks across Gaza since Tuesday morning.
🎥 Salah_ostaz, Yousef Deeb
قوم کی پیاری بہادر بیٹی
نرس رضیہ نورین کیلئے وزیراعظم نے ایک کروڑ روپے اور ستارہ خدمت دینے کی منظوری
مجھ سے سویا نہیں جاتا،وہ بچے مجھے سونے نہیں دیتے،بہت کوشش کی کے باقی بچوں کو بھی بچالوں،لیکن آگ تیز تھی، میں نے کوئی احسان نہیں کیا، اپنی ڈیوٹی کی، نرس رضیہ نورین
صُوبہ اسلام آباد کے رہائشی ۔۔۔
صدر
وزیر اعظم
نائب وزیر اعظم
سینیٹ چیئرمین
سپیکر قومی اسمبلی
چیف جسٹس پاکستان اور ججز
چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت اور ججز
چیف جسٹس اسلام آباد اور ججز
وزیر صحت
وزیر داخلہ
وزیر خارجہ
وزیر دفاع
وزیر تعلیم
فیلڈ مارشل/چیف آف ڈیفنس فورسز/آرمی چیف
ائیر چیف مارشل
نیول چیف
ڈی جی آئی ایس آئی
چیف الیکشن کمشنر
100 سینیٹرز
336 ممبران قومی اسمبلی
کمشنر
ڈپٹی کمشنر
سی ڈی اے چیئرمین
آئی جی پولیس
درجنوں وزیر/مشیر
دسیوں درجن سینئیر بیوروکریٹس
جس دن ان سب کے بچے اسلام آباد کے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرنا شروع کر دیں اور ان کا علاج اسلام آباد کے دونوں سرکاری ہسپتالوں میں ہو��ا شروع ہو جائے تو سارے پاکستان میں حالات بہتر ہو جائیں گے۔ پھر جتنے چاہے صوبے بنا لیں۔
@AmirHQureshi Ma sha ALLAH yehs susti bijli ho ge jo government use kray ge or phir ipps k bijli bnd kr k uss k bhe bill awam ko ai ga awam ko na khuda he mila na sanam wali baat ho jai ge
@AssalRad@Reuters dont know who killed them i suppose they are waiting for Elon musk to give them air ship so they can send there investigator to mars to verify the killers