گزشتہ تین دن سے سوشل میڈیا پر مکہ مکرمہ میں دو بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دینے پر خوب شور مچایا جا رہا تھا۔ کسی نے شریعت پر سوال اٹھائے، کسی نے انصاف کو تنقید کا نشانہ بنایا، اور کسی نے واقعے کی حقیقت جانے بغیر اپنی رائے قائم کر لی۔
لیکن جب اصل حقائق سامنے آئے تو معاملہ سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے تاثر سے بالکل مختلف نکلا۔
اطلاعات کے مطابق، یہ دونوں زائرین یا میاں بیوی نہیں تھے، بلکہ مکہ مکرمہ میں بطور کلینر کام کرتے تھے۔ مئی 2023 میں انہیں ایک مسجد کے اندر غیر اخلاقی فعل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ 14 اکتوبر 2026 کو مقدمے کی کارروائی کے بعد سزا پر عمل درآمد کیا گیا۔
سوال یہ ہے کہ آخر ہم کسی خبر کی مکمل حقیقت جانے بغیر شریعت، انصاف اور قانون پر فتوے صادر کرنے میں اتنی جلدی کیوں کرتے ہیں؟ کیا چند سوشل میڈیا پوسٹس پڑھ کر کسی معاملے کے تمام پہلوؤں کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے؟
اختلاف اور تنقید ہر ا��ک کا حق ہے، لیکن حقائق جانے بغیر تنقید کرنا نہ دانش مندی ہے، نہ انصاف۔
کسی بھی خبر پر جذباتی ہونے اور دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے تحقیق کر لیا کریں۔ کیونکہ بسا اوقات حقیقت وہ نہیں ہوتی جو ہمیں سوشل میڈیا پر دکھائی جا رہی ہوتی ہے۔
کمیل احمد معاویہ