فرقت میں زندگی مجھے اپنی اکھڑ گئی
اے مرگِ ناگہاں تو کہاں جا کے مر گئی
قسمت کے میری پیچ نکلنا محال ہیں
یہ زلف تو نہیں کہ سنوارا ، سنور گئی
تو نے کیا تباہ کہ تیری نگاہ نے
تو کام کر گیا کہ نظر کام کر گئی
یہ میرا منہ کہ منہ سے جو نکلا وہی کیا
یہ آپ کی زبان کہ کہہ کر مکر گئی
موقوف دیر پر ہی نہ کعبہ پہ منحصر
دیکھا کیے انہیں کو جہاں تک نظر گئی
ساغر ہے میرے ہاتھ میں اے اہلِ میکدہ
توبہ کو دیکھنا مری توبہ کدھر گئی
خیر آپ تو بخیر رہے گھر رقیب کے
یاں بھی ہمارے دل پہ جو گزری گزر گئی
زورِ حسد ہے رشک کا بازار گرم ہے
دنیا سے قدردانئ اہلِ ہنر گئی
وہ آبدیدہ بیٹھے ہیں بیدؔم کی لاش پر
اب پانی لے کے آئے ہیں جب پیاس مر گئی
مرشد بیدم شاہ وارثی رح
"صرف یہی لمحات اہم شمار ہوتے ہیں، جب آپ ��ے لیے اپنی عزت نفس میں رہنے کی خواہش اس قدر شدید طاقتور ہوتی ہے کہ آپ کسی کے ساتھ ایک لفظ کا تبادلہ کرنے کے بجائے اپنے دماغ کو اڑا دینا زیادہ مناسب سمجھتے ہیں۔"
ایمیل مائیکل سیوران
#NewProfilePic
طرزِ اظہار سے مر جاتی ہے آدھی اُلفت
آپ یہ بات نگاہوں سے نہیں کہہ سکتے؟
گھر پلٹتے ہوئے مردوں کی قسم دنیا میں۔
ایسے دُکھ بھی ہیں جو ماؤں سے نہیں کہہ سکتے!!