”دستور"
سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے
سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے تو وہ حملہ نہیں کرتا
درختوں کی گھنی چھاؤں میں جا کر لیٹ جاتا ہے
ہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں
تو مینا اپنے بچے چھوڑ کر
کوے کے انڈوں کو پروں سے تھام لیتی ہے
سنا ہے گھونسلے سے کوئی بچہ گر پڑے تو سارا جنگل جاگ جاتا ہے
سنا ہے جب کسی ندی کے پانی میں
بئے کے گھونسلے ک�� گندمی رنگ لرزتا ہے
تو ندی کی روپہلی مچھلیاں اس کو پڑوسن مان لیتی ہیں
کبھی طوفان آ جائے، کوئی پل ٹوٹ جائے تو
کسی لکڑی کے تختے پر
گلہری، سانپ، بکری اور چیتا ساتھ ہوتے ہیں
سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے
خداوندا! جلیل و معتبر! دانا و بینا منصف و اکبر!
مرے اس شہر میں اب جنگلوں ہی کا کوئی قانون نافذ کر!
زہرہ نگاہ
یہ عورت Swiss پارلیمنٹ کی ممبر ہے
جب صحافی نے اسے پوچھا کہ آیا کیوں نہیں رکھتی تو اس کا جواب تھا کہ میں آیا افورڈ نہیں کر سکتی اور میں پارلیمنٹ کی کاروائی کے بعد ایک بیکری میں ملازمت کرتی ہوں اور اس سے اپنے گھر کا خرچہ چلاتی ہوں
یہ ہے سوئٹزر لینڈ کی ایک MNA اور ہمارے MNA تو____