A year has passed since the assassination attempt on Chairman Imran Khan’s life. In these 365 days, neither an FIR could be registered as was his legal right, nor a transparent investigation was conducted. Instead of dispensing justice, the state has been protecting and facilitating the perpetrators. If the chain of events is looked at, the brazen manner in which the masterminds of the assassination attempt have been given a clean chit is enough to tell the whole story of complicity. #NeverForgetNov3
🚨💥عمران خان کا اپنے اوپر فردِ جرم عائد ہونے کے بعد جج ابو الحسنات سے تاریخی مکالمہ
جج صاحب، قوم کو مبارک ہو سنا ہے مینڈیلا (نواز شریف) واپس آگیا ہے، عمران خان
سائفر میرے خلاف آیا، حکومت میری گئی تو ملزم بھی میں ہی کیسے ہوگیا، عمران خان
سائفر کو غائب کردیا گیا ہے، اس وقت کسی ادارے کے پاس سائفر کی ک��پی نہیں ہے، پھر مجھ پر کیس چل ہی نہیں سکتا اور ٹرائل غیر قانونی ہے، عمران خان
سب سے بڑا مجرم (نوز شریف) اس وقت آزاد ہے تو جس اڈیالہ جیل میں آپ بیٹھے ہیں یہاں پر موجود تمام چھوٹے مجرمان کو بھی آزاد کردیں، عمران خان
میں فردِ جرم پر دستخط کر رہا ہوں مگر ساتھ لکھ بھی رہا ہوں کہ سائفر میں میرے خلاف گواہان کو جب تک میرے سامنے پیش نہیں کیا جاتا میں کوئی جواب نہیں دوں گا، عمران خان
آپکو پھر کہہ رہا ہوں کہ ٹرائل غیر قانونی ہے، مجھے آج تک مجھ پر لگائے گئے الزامات ہی نہیں بتائے گئے تو میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ میں نے جرم کون سا کیا ہے، عمران خان❣️✌️
پاکستانیوں پیغام پھی��ا دو🔥
ایک ورکرز کنونشن کی اجازات دے گئے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کاہنہ میں۔
لیکن ابھی جلسہ آرگنائزر کے گھر بھوری نفری کے ہمراہ چھاپہ مارا گیا۔
وارنٹ کا پوچھنے پر بتایا گیا،وارنٹ کو چھوڑو،ہم نے تلاشی لینی ہے۔
دوسری طرف سرکاری سرپرستی میں نواز شریف کا استقبال کیا گیا۔
ڈیل کے نتیجے میں واپس انے والے مجرم کو پورا پروٹوکول دیا گیا۔
چیئرمین عمران خان پہلے ہی کئی مواقع پر قوم کو ”لندن پلان“ کی تفصیلات سے آگاہ کر چکے تھے۔ مفرور نوازشریف کی واپسی سے یہ منصوبہ اسی انداز میں رو بہ عمل ہے جس کی توقع کی گئی تھی۔
عدالت سےسزایافتہ ایک مجرم کی تالیف و سہولت کیلئے ریاستی پروٹوکول،سرکاری وسائل اور عوام کے ٹیکس کے پیسے کے بےجا استعمال کے ذریعے عوام، جو آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخاب کے فوری انعقاد سے کم کچھ بھی قبول کرنے پر آمادہ و تیار نہیں، کی رائے پر اثر انداز ہونا ممکن نہیں۔
#PTISMT
کل درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ آئی،کل ہی درخواست منظور ہوئی،کل ہی درخواست سماعت کیلئےمقرر ہوئی،کل ہی بنچ بنا،کل ہی سماعت ہوئی،کل ہی بن بلائےنیب پراسیکیوٹر عدالت آگئے،کل ہی بن بلائے آئے نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتا دیا کہ نوازشریف کو ضمانت دیدیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں اور آج
احتساب عدالت اور اسلام باد ہائیکورٹ نے نوازشریف کو اپنےحفاظتی حصار میں لے لیا۔۔
کون کہتا ہے کہ پاکستان میں سستا اور فوری انصاف نہیں ملتا۔۔
میرے نظامِ انصاف تجھے سلام۔۔
اسلام آباد ہائی کورٹ تو اٹارنی کے ذریعےضمانت کی درخواست دائر ہو نہیں سکتی تھی تو پھر کیسے یہ ہوا ؟کیسے اعتراض ختم ہو گیا ؟ اسی بائیو میڑک کے لیے عمران خان صاحب بائیو میڑک کمرہ میں موجود تھے جب اسی کمرہ سے 9 مئی کو اغوا کیا تھا.ہماری درخواست پر اس وقت کیوں اعتراض لگا ؟ جب کہ اس وقت درخواستیں میرے ذریعے دائر ہوئی کیونکہ میرے پاس خان صاحب کا سپیشل پاور آف اٹارنی تھا.ہر درخواست پر مجبور کیا گیا کہ عمران خان خود آکر بائیو میڑک کرے،ہم بار بار کہہ رہے تھے کہ عمران خان صاحب زخمی ہوۓ ہیں اور ویل چئیر پر مشکل ہے ان کا زیادہ موومنٹ کرنا.لیکن کوئی بات نہیں مانی گئی.آج نواز شریف ملک سے باہر ہے تو کیسے اس کے اٹارنی کے ذریعے درخواست دائر ہوئی اور درخواست پر کوئی اعتراض بھی نہیں لگا.