انتہائی اہم🚨قوم کو سچ بتایا جائے ! انڈین میڈیا کے مطابق پاکستان سے ایران کے خلاف اڈے دینے ،چائنہ اور روس کو چھوڑنے کے بدلے بڑے تجارتی معاہدوں ،کشمیر کی ثالثی اور انڈس واٹر ٹریٹی پر امریکہ کی بھرپور حمایت کا یقین دلایا گیا ہے۔کیا امریکی حمایت میں پھر پاکستانی شہید ہونگے جواب دیں؟
“پارٹی کے تمام عہدیداران کو پیغام ہے کہ جس میں بھی دباؤ برداشت کرنے کی قوت نہیں ہے وہ عہدے سے الگ ہو جائے اور اپنی جگہ انہیں موقع دے جو پریشر برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ لہذا کم حوصلہ عہدیداران براہ مہربانی خود ہی پیچھے ہٹ جائیں تاکہ انکی جگہ ہم دلیر اور نظریاتی ورکرز کو آگے لائیں جو قانون اور آئین کی بالادستی اور حقیقی آزادی کیلئے ڈٹ کر کھڑے ہوسکی��۔
پاکستان کی تاریخ میں کسی سیاسی جماعت کے ساتھ اس قدر ظلم نہیں ہوا جو تحریکِ انصاف کیساتھ ہوا۔ ایسے میں ہمارے پاس ملک گیر احتجاج کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔
میں خود جیل سے بطور پارٹی سربراہ احتجاج ک�� قیادت کروں گا۔ میں نے پوری پارٹی کو پیغام بھیج دیا ہے کہ ملک گیر عوامی احتجاج کی تیاری کریں۔ ہمارے پرامن احتجاج پر گولیاں چلائی جاتی ہیں اب ہم گولیاں نہیں کھائیں گے۔ پوری قوم اور اوورسیز پاکستانیوں کو ہدایت دیتا ہوں کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں پرامن احتجاج کیلئے کمر کس لیں۔
میں دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی آئین کی بحالی کے لیے اس ملک گیر احتجاج میں شرکت کی دعوت دیتا ہوں۔
سپیکر قومی اسمبلی جس طرح ایوان کو چلا رہا ہے ہم اس کے خلاف عدم اعتماد لائیں گے۔ اس کے ہوتے ہوئے ایوان سے اراکین قومی اسمبلی کو اغوا کیا گیا، ہمارے ایم این ایز کی تقاریر سنسر کر دی جاتی ہیں۔ اڈ��الہ جیل کے باہر پارلیمنٹیرینز پر تشدد ہوتا ہے مگر یہ ہر معاملے میں ممبران قومی اسمبلی کی نمائندگی میں ناکام رہا ہے۔
حیران کن طور پر الیکشن دھاندلی کی اپیل چیف الیکشن کمشنر ہی کے پاس جارہی ہے جو اس دھاندلی کا سہولت کار اور مینڈیٹ چوروں کی ٹیم “بی�� ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کا مقصد ہی یہ تھا کہ 8 فروری کے الیکشن فراڈ کو تحفظ فراہم کیا جائے اور تحریک انصاف کو victimize کیا جائے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ محض حکومتی عدلیہ بن کر رہ گئی ہے۔ ہم سے مخصوص نشستیں چھیننے کی پوری تیاری ہے مگر آپ سب نے حوصلہ نہیں ہارنا اور جم کر کھڑے رہنا ہے-“
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی وکلأ اور میڈیا سے گفتگو
3/3
“رمضان المبارک کے بعد ہم تمام اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر لائحہ عمل بنائیں گے اور ملک گیر احتجاجی تحریک چلائیں گے۔ اس مقصد کے لئے میں نے اپنے مذاکراتی کمیٹی کو رابطوں میں تیزی لانے کی ہدایت کر دی ہے۔ ہم ملک میں قانون کی حکمرانی کے لئے پاکستان کے ہر شعبے سے منسلک افراد وکلاء، کسانوں، مزدوروں، علماء اورطلباءسمیت سب پاکستانیوں کو دعوت دیں گے کہ اس احتجاج میں شرکت کریں اور اپنے حقوق کی بحالی کے لیے نکلیں۔ یہ احتجاج آئین اور جمہوریت کی بحالی اور حقیقی آزادی کے لیے ہو گا-
کسی بھی جج کا فرض ہے کہ جب تک دونوں اطراف کا موقف نہ سن لے کوئی فیصلہ یا ریمارکس نہ دے کیونکہ ججز کے ریمارکس اور فیصلوں کے نہ صرف متعلقہ مقدمات بلکہ مستقبل کے مقدمات پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ججز کا ضابطہ اخلاق اس بات کا متقاضی ہوتا ہے کہ کوئی بھی جج مقدمہ سنتے ہوئے ایسے ریمارکس دینے سے احتراض برتے۔ جسٹس مسرت ہلالی صاحبہ کو نو مئی کے واقعے پر یکطرفہ ریمارکس دینے سے قبل دونوں اطراف کا موقف سننا چاہیئے۔ ابھی تک اس واقعے پر کوئی شفاف کمیشن نہیں بنا نہ ہی کوئی عدالتی تحقیقات کی گئی ہیں۔ پولیس اور ایجینسیز نے جو مقدمات نو مئی کے حوالے سے بنائے ہیں ان پر عدالتوں میں کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے۔ اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج تک غائب ہے۔ سپریم کورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ سے میرے اغوا کو غیر قانونی قرار دے چُکی ہے۔
نو مئی کے واقعات میں ظلم بھی ہم پر کیا گیا، کارکنان بھی ہمارے شہید کیے گئے، الزام بھی ہم پر لگایا گیا اور سزا بھی ہمیں دی گئی۔ نو مئی کے دن جس طرح قوم کی ماؤں بہنوں کو سڑکوں پر گھسیٹ کر ان کی توہین کی گئی وہ شرمناک ہے۔ نو مئی باقاعدہ منصوبہ بندی سے عمل میں لایا جانے والا ایک پلانٹڈ فالس فلیگ آپریشن تھا اس میں کسی بھی ذی شعور کو کوئی شبہ
نہیں ہونا چاہیئے۔
مجھے نو مئی والے دن اسلام آباد ہائیکورٹ کی حدود سے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بغیر وارنٹ کے رینجرز کے ہاتھوں توہین آمیز انداز میں، غیر قانونی طور پرحراست میں لیا گیا تاکہ عوام کے جذبات ابھارے جا سکیں اور پھر اپنے لوگ شامل کروا کر پر امن احتجاج کو فالس فلیگ میں بدل دیا جائے۔ نو مئی سے پہلے ہی ہمارے دس ہزار کارکنان کی فہرستیں تیار تھیں جنھیں چند دنوں میں گرفتار کر لیا گیا۔ نو مئی کی آڑ میں پاکستان کی عوام پر ظلم و فسطائیت کے پہاڑ توڑے گئے۔ ہمارے لوگوں کو شہید اور زخمی کیا گیا، ہزاروں کارکنان کو غیر قانونی چھاپے مار کر گرفتار کیا گیا، جبری طور پر اغواء اور گمشدہ کیا گیا، لوگوں کو ملٹری حراست میں دے کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ہمارے کئی لیڈران اور کارکنان ابھی تک ان مقدمات میں نا حق پابند سلاسل ہیں۔ نو مئی کا مقصد تحریک انصاف کو کچلنا تھا اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ نو مئی کے جھوٹے بیانیے کی آڑ میں لوگوں کے بنیادی حقوق سلب کر کے ان سے جینے کا حق چھینا گیا۔ ملکی تاریخ میں اس سے پہلے صرف سقوط ڈھاکہ کے وقت کسی سیاسی جماعت کے ساتھ ایسا سلوک کیا گیا تھا کہ عورتوں کی حرمت اور بچوں تک کا لحاظ نہیں کیا گیا۔
ہمارے بارہا مطالبے کے باوجود نو مئی اور 26 نومبر پر جوڈیشل کمیشن قائم نہیں کیا گیا۔ اگر جوڈیشل کمیشن کا قیام ہو جاتا تو عوام کے سامنے سب حقائق آ جاتے۔ جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ جن معاملات پر دو رائے موجود ہوں ان کی شفاف تحقیقات کر کے اصل حقائق کی روشنی میں مجرمان کا تعین کیا جا سکے۔ ہم نو مئی کے واقعات کی سی سی ٹی وی فوٹیج برآمد ک��نے کا بھی مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق ہر عدالت سے رجوع کیا۔ جسٹس باقر نجفی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے ایک بینچ نے ہماری پٹیشن سنی جس کا فیصلہ ڈیڑھ سال سے “محفوظ” ہی ہے- عامر فاروق سے لے کر قاضی فائز عیسی تک اور اب یحیٰی آفریدی اور آئینی بینچ کے سربراہ نے بھی انسانی حقوق سے متعلق ہماری درخواستوں پر کوئی سنوائی نہیں کی۔ اب بھی اگر جوڈیشل کمیشن کا قیام ہو جائے تو نو مئی پر ریاست کا جھوٹا بیانیہ زمین بوس ہو جائے گا جسے عوام پہلے ہی 8 فروری 2024 کو مسترد کر چکی ہے-
اس ملک کے ہر ادارے پر اس وقت نادیدہ قوتوں کا قبضہ ہے۔ اڈیالہ جیل اس وقت ایک کرنل کے کنٹرول میں ہے جو نہ قانون کی پاسداری کرتا ہے اور نہ ہی جیل مینول کی۔ میرے لوگ دور دراز علاقوں پنجاب، سندھ ، کے پی ، آزاد کشمیر سے مجھ سے ملنے آتے ہیں مگر ان کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی جو کہ میرے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ میرے بچوں تک سے میری بات نہیں کروائی جاتی تاکہ مجھ پر دباؤ بڑھایا جا سکے”۔
سابق وزیراعظم عمران خان کی وکلاء اور میڈیا سے گفتگو
Former Prime Minister Imran Khan’s Conversation with Lawyers and Media at Adiala Jail - February 10, 2025
“I applaud the public for their participation in the nationwide protests on February 8th, including in Punjab, Sindh, and Swabi. Despite this era of blatant fascism, people continue to respond to my call, breaking the shackles of fear, proving that the nation is now determined to attain genuine sovereignty at any cost. The fraudulent, subservient government is fearful. Raids were conducted across the country, and individuals were subjected to violence. Under the pretext of cricket, we were denied permission to hold a rally at Minar-e-Pakistan, which clearly indicates the panic and desperation of this worthless government.
My letter to the Army Chief was written with the sincere intentions for the betterment of the country. This is my nation, and I am deeply concerned about its future. I would like to address the DG ISPR and state that the reputation of the military is being completely ruined. While you claim to be uninvolved in politics, every citizen is aware that the country's affairs are being controlled by the Army Chief. Individuals like Mohsin Naqvi, who have never even contested a councilor’s election, have been imposed upon the nation, wielding authority over everything from cricket to internal and external affairs.
Repression and fascism are rampant in the country. The 26th Constitutional Amendment has effectively dismantled the Supreme Court’s independence. Justice Qazi Faez Isa was the most biased and shameless Chief Justice in history, surpassing even Justice Munir in his misdeeds. During his tenure, democracy was trampled upon and human rights were grossly violated, yet instead of taking action against this injustice, he facilitated every illegal move. Rule of law and human rights have been severely compromised. Sham elections were carried out and the people were deprived of their mandate. The Chief Election Commissioner and Qazi Faez Isa served as facilitators of the establishment, and in the process, betrayed their offices and the nation. As a result, a forged parliament, a fraudulent prime minister, and a phony president have been installed.
What Qazi Faez Isa was being used for is now being done by the Constitutional Bench. The country has been reduced to a banana republic. Judges are supposed to hear both sides of an argument, but, one-sided decisions are being handed down here.
I would like to send a special message to Justice Yahya Afridi: Given the state of law and human rights in the country, you should take a stand against this injustice and become an honorable part of history, rather than playing a disgraceful role like Qazi Faez Isa.
Voices of media and social media have been silenced through the draconian amendments to the PECA law. State of the internet in the country is evident to all. The economy has suffered a loss of $1.7 billion. The country is experiencing a rapid brain drain, with 1.7 million people having moved abroad. Economic devastation and unemployment have left the entire nation distressed.
We demanded commissions be formed to investigate May 9th (2023) and November 26th (2024) because we knew that negotiations were a mere facade. Forming a commission on the events of February 8th (2024) was way out of their league. Had their intentions been sincere, they would have established commissions on May 9th and November 26th to uncover the truth, as these were matters related to human rights violations that required immediate action. However, nothing was done. The establishment murdered unarmed civilians on November 26th when they ordered opening fire on them. 1/2
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور میڈیا سے گفتگو!!
“آٹھ فروری کو ملک بھر بشمول پنجاب،سندھ اور صوابی میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے پر عوام کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ اس ننگی فسطائ��ت کے دور میں بھی عوام ہر مرتبہ میری کال پر خوف کے بت توڑ کر نکلتی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ قوم اب ہر حال میں حقیقی آزادی کی منتظر ہے۔ اردلی حکومت اندر سے ڈری ہوئی ہے۔ ملک بھر میں چھاپے مارے گئے اور لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ کرکٹ کا بہانہ بنا کر ہمیں مینار پاکستان جلسے کی اجازت نہیں دی گئی، اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ کھوکھلی حکومت اندر سے کس قدر بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔
میں نے آرمی چیف کے نام خط ملک کی بہتری کے لیے نیک نیتی سے لکھا تھا۔ یہ میرا ملک ہے اور مجھے اس کی فکر ہے۔ میں ڈی جی آئی ایس پی آر کو کہنا چاہتا ہوں کہ فوج کی ساکھ مکمل طور پر تباہ ہو رہی ہے۔آپ کہتے تو یہ ہیں کہ ہم سیاست میں مداخلت نہیں کرتے مگر بچہ بچہ واقف ہے کہ ملک کا نظام آرمی چیف ہی چلا رہا ہے۔ ملک پر محسن نقوی جیسے ٹاوٹس مسلط کر دئیے گئے ہیں جس نے کبھی کونسلر کا انتخاب نہیں لڑا، مگر اب وہ کرکٹ سے لے کر خارجی اور داخلی معاملات تک ہر چیز کا کرتا دھرتا ہے۔
ملک میں ہر جانب جبر و فسطائیت کا بازار گرم ہے۔ چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ کی خودمختاری کا جنازہ نکال دیا گیا۔ قاضی فائز عیسیٰ تاریخ کے جانبدار اور بے شرم ترین چیف جسٹس تھے جن کا کردار جسٹس منیر سے بھی زیادہ گھناونا تھا۔ ان کے دور میں جمہوریت پر شب خون مارا گیا، انسانی حقو�� بری طرح پامال ہوئے مگر انہوں نے بجائے کوئی ایکشن لینے کے، ہر غیر قانونی اقدام کی سہولتکاری کی۔ ملک میں قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق دونوں بری طرح پامال ہیں۔ انتخابات کے نام پر ڈھونگ رچا کر عوام سے ان کا مینڈیٹ چھینا گیا۔ چیف الیکشن کمشنر اور قاضی فائز عیسیٰ اس سب میں اسٹیبلشمنٹ کے سہولتکار بنے رہے۔ ان دونوں چہروں نے اپنے عہدوں اور عوام سے غداری کی۔ اس سب کے نتیجے میں جعلی ایم این ایز، جعلی پارلیمان جعلی وزیراعظم اور جعلی صدر کا وجود عمل میں آیا ہے۔
قاضی فائز عیسیٰ کا کام اب آئینی بینچ سے لیا جا رہا ہے۔ملک کو بنانا ریپبلک بنا دیا گیا ہے۔ ججز کا یہ فرض ہوتا ہے کہ دو طرفہ مؤقف سنا جائے مگر یہاں ایک ہی طرف کا مؤقف سن کر فیصلے سنا دئیے جاتے ہیں۔
جسٹس یحیٰی آفریدی کو خصوصی پیغام دینا چاہتا ہوں کہ جو ملک میں انسانی حقوق اور قانون کا حال ہے آپ کو اس کے خلاف کھڑے ہو کر تاریخ میں سرخرو ہونا چاہیئے اور قاضی جیسا شرمناک کردار ادا نہیں کرنا چاہیئے۔
پ��کا کے کالے قانون کے ذریعے میڈیا اور سوشل میڈیا کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے۔انٹرنیٹ کا جو حال کیا گیا وہ سب کے سامنے ہے۔معیشت کو 1.7 بلین ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑا۔ملک میں brain drain تیزی سے جاری ہے۔17 لاکھ افراد بیرون ملک منتقل ہو چکے ہیں۔معاشی تباہی اور بے روزگاری سے پوری قوم پریشان ہے۔
ہم نے 9 مئی اور 26 نومبر پر کمیشن کا مطالبہ اسی لیے کیا تھا کیونکہ ہمیں معلوم تھا کہ مذاکرات صرف ایک ڈرامہ ہیں۔ آٹھ فروری پر کمیشن بنانا تو ان کے بس کی بات ہی نہیں تھی۔ اگر ان کی نیت صاف ہوتی تو 9 مئی اور 26 نومبر پر کمیشن بنا کر دودھ کا دودھ پانی کا پانی کرتے کیونکہ یہ انسانی حقوق سے متعلق معاملات تھے اور فوری طور پر ان پر ایکشن لیا جا سکتا تھا مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ 26 نومبر کو اسٹیبلشمنٹ نے گولیاں چلوا کر نہتی عوام کا قتل کیا۔
ملک کے سب سے بڑے منی لانڈررز کو قوم پر مسلط کر دیا گیا ہے۔ 30 سال سے خفیہ ایجنسیاں ہمیں بتا رہی تھیں کہ ملک کو ان دو خاندانوں نے کس طرح لوٹا۔ سرے محل اور مے فئیر فلیٹس کی فائلیں انہوں نے ہمیں خود دکھائیں۔ نیب نے 1100 ارب ریکور کرنے تھے۔ ہمارے دور میں 480 ارب ریکور کیے گئے کیونکہ ہم احتساب کو لے کر سنجیدہ تھے جبکہ پچھلے 17 سال میں صرف 80 سے 90 ارب ہی اکٹھے ہو سکے۔ نیب ترامیم کر کے ان دو خاندانوں کے تمام مقدمات بند کر دیے گئے۔ مقصود چپڑاسی، مے فئیر، ون ہائیڈ پارک میں رشوت، اومنی گروپ سمیت تمام مقدمات بند کر دیے گئے۔ ہمیں خود ہی بتایا گیا کہ یہ لوگ کرپٹ ہیں اور اب دھاندلی کے ذریعے ان کو ہم پر مسلط کر دیا گیا صرف اس لیے کیونکہ بوٹ پالشی ان کی مہا��ت ہے۔ پاکستان کی عوام جن چہروں کو مسترد کر چکی ہے ان کو حکومت دے کر فوج نے اپنی ساکھ تباہ کر لی ہے اور عوام میں نفرت پیدا کی ہے۔ اس جعلی نظام کی بقاء صرف تحریک انصاف کو کچلنے اور ہمارے لوگوں کو جیلوں میں رکھنے میں ہے تاکہ اردلی حکومت قائم رہے اور انتخابی فراڈ سامنے نہ آئے۔ آپ کوئی بھی سروے کروا کر دیکھ لیں آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ عوام اور فوج کے درمیان خلیج کس قدر بڑھ چکی ہے۔ 1/2
سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے چیف آف آرمی سٹاف کو کھلا خط۔۔
“فوج بھی میری ہے اور ملک بھی میرا ہے!!
ہمارے فوجی پاکستان کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ قوم فوج کے پیچھے کھڑی ہو لیکن افسوسناک امر ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں کی وجہ سے فوج اور عوام میں خلیج دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔
اس کی کچھ بنیادی وجوہات ہیں جن کو مد نظر رکھتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے تا کہ عوام اور فوج کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے اور فوج کی بدنامی کو کم کیا جا سکے۔
سب سے بڑی وجہ 2024 کے انتخابات میں تاریخی دھاندلی اور عوامی مینڈیٹ کی سر عام چوری ہے جس نے عوام کے غصے کو ابھارا ہے۔ جس انداز میں ایجنسیاں پری پول دھاندلی اور نتائج کنٹرول کرنے کے لیے سیاسی انجینئرنگ میں ملوث رہیں اس نے قوم کے اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے۔ صرف 17 نشستیں جیتنے والی پارٹی کو اقتدار دے کر “اردلی حکومت” ملک پر مسلط کر دی گئی-
دوسری وجہ چھبیسویں آئینی ترمیم ہے۔ جس طرح چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو کنٹرول کرنے کی غرض سے ملک میں آئین اور قانون کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں اس کے خلاف پاکستانی عوام میں شدید نفرت پائی جا رہی ہے۔ میرے مقدمات "پاکٹ ججز" کے پاس لگانے کے لیے ناصر جاوید رانا نے فیصلے کو ملتوی کیا۔ عدالتوں میں جاری "کورٹ پیکنگ" کا مقصد یہی ہے کہ عمران خان کے خلاف مقدمات من پسند ججز کے پاس لگا کر اپنی مرضی کے فیصلے لیے جا سکیں۔ اس سب کا مقصد میرے خلاف مقدمات میں من پسند فیصلے، انسانی حقوق کی پامالی اور انتخابی فراڈ کی پردہ پوشی ہے تا کہ عدلیہ میں کوئی شفاف فیصلے دینے والا نہ ہو۔
��یسری وجہ "پیکا" جیسا کالا قانون ہے۔ الیکٹرانک میڈیا پر پہلے ہی قبضہ کیا جا چکا ہے، اب پیکا کی صورت میں سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر بھی قدغن لگا دی گئی ہے۔ اس سب کی وجہ سے پاکستان کا جی ایس پی پلس سٹیٹس بھی خطرے میں ہے۔ انٹرنیٹ میں خلل کی وجہ سے ہماری آئی ٹی انڈسٹری کو 1.72 بلین ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے اور نوجوانوں کا کیرئیر تباہ ہو رہا ہے۔
چوتھی اہم وجہ ملک کی سب سے بڑی اور مقبول جماعت پر ریاستی دہشتگردی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ ہمارے لیڈران اور کارکنان کی چادر چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے ایک لاکھ سے زائد چھاپے مارے گئے، 20 ہزار سے زائد ورکرز اور سپورٹرز ک�� گرفتاریاں کی گئیں، انہیں اغوا کیا گیا، لوگوں کے خاندانوں کو ہراساں کیا گیا اور تحریک انصاف کو کچلنے کی غرض سے مسلسل انسانی حقوق کی پامالی کی جا رہی ہے جس نے عوامی جذبات کو مجروح کیا ہے۔
پانچویں بڑی وجہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کی بدولت معیشت کا برا حال ہے جس نے عوام کو مجبور کر دیا ہے اور وہ پاکستان چھوڑ کر اپنے سرمائے سمیت تیزی سے بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں۔ معاشی عدم استحکام اپنی انتہا پر ہے۔ گروتھ ریٹ صفر ہے اور پاکستان میں سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے۔ ��سی بھی ملک میں قانون کی حکمرانی اور عدل کے بغیر سرمایہ کاری ممکن نہیں ہوتی۔ جہاں دہشتگردی کا خوف ہو وہاں کوئی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ سرمایہ کاری صرف تب آتی ہے جب ملک میں عوامی امنگوں کی ترجمان حکومت قائم ہو اس کے علاوہ سب کلیے بے کار ہیں۔
چھٹی بڑی وجہ تمام اداروں کا اپنے فرائض چھوڑ کر سیاسی انتقام کی غرض سے تحریک انصاف کو کچلنے کا کام کرنا ہے۔ میجر، کرنل سطح کے افراد کی جانب سے عدالتی احکامات کی دھجیاں بکھیرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ عدلیہ کے فیصلوں کو جوتے کی نوک پر رکھا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے پوری فوج پر نزلہ گر رہا ہے۔ پرسوں اے ٹی سی کے جج نے عدالت میں می��ی اہلیہ کو شامل تفتیش ہونے کا حکم دیا اس کے باوجود کے وہ آنا چاہتی تھیں کسی نادیدہ قوت نے اس کو سبوتاژ کیا۔
بحیثیت سابق وزیراعظم میرا کام اس قوم کی بہتری کے لیے ان مسائل کی نشاندہی ہے جس کی وجہ سے فوج مسلسل بدنامی کا شکار ہو رہی ہے۔ میری پالیسی پہلے دن سے ایک ہی ہے یعنی فوج بھی میری اور ملک بھی میرا۔ ملکی استحکام اور سلامتی کے لیے ناگزیر ہے کہ فوج اور عوام کے درمیان کی خلیج کم ہو، اور اس بڑھتی خلیج کو کم کرنے کی صرف ایک ہی صورت ہے، اور وہ ہے فوج کا اپنی آئینی حدود میں واپس جانا، سیاست سے خ��د کو علیحدہ کرنا اور اپنی معین کردہ ذمہ داریاں پوری کرنا، اور یہ کام فوج کو خود کرنا ہو گا ورنہ یہی بڑھتی خلیج قومی سلامتی کی اصلاح میں فالٹ لائنز بن جائیں گی۔”
Former Prime Minister Imran Khan's Media Talk in Adiala Jail - January 29, 2025
"In civilized societies, defamation is penalized with fines; it is considered a civil liability. However, in Pakistan, the draconian PECA law was passed, increasing the punishment for defamation to five years. For the first time in world history, individuals are being penalized for insulting government institutions. In developed countries, including the UK, defamation is punished with fines because the world is progressing based on democratic values and freedom of expression. But in Pakistan, such undemocratic laws are being enacted to strangle democratic values, suppress freedom of expression, and suffocate press freedom. The purpose of all this is to ensure that no one dares to speak out against the stolen mandate of February 8th (2024), the violation of citizens' privacy, the false-flag operation of May 9th (2023), or the massacre of November 26th (2024).
This puppet government has achieved nothing except violating the fundamental rights of citizens through illegal amendments. The 26th Constitutional Amendment has weakened the judiciary. Despite the presence of senior judges in the Islamabad High Court, attempts are being made to appoint a Chief Justice from outside, who is expected to be Qazi Faez Isa Part 2. We strongly condemn such judicial appointments.
The appointment of the Chief Election Commissioner should also be based on merit; otherwise, figures like Sikandar Sultan Raja emerge—those who serve the establishment instead of the people. He deserves to be tried under Article 6 because he facilitated the government of Form 47 [Election fraud and stolen mandate] by stealing the people's mandate in broad daylight.
February 8th will be observed as a ‘Black Day’ nationwide. On that day, the public mandate was betrayed. First, elections were postponed, then the May 9 narrative was fabricated to crush PTI. Despite this, the people came out in droves to vote for PTI, but the results were shamelessly and ruthlessly altered, plunging the country into darkness. Now, to cover up the robbery of February 8, laws like PECA and the 26th Amendment are being passed. A lie always needs a hundred more lies to sustain itself.
The government staged a sham dialogue, but it only exposed their true faces. They will neither allow the formation of a judicial commission, nor allow investigations into May 9th or November 26th because they fear that the truth will come out. Because the truth is that they are themselves involved in these incidents. A dishonest person never plays with a neutral umpire. In any case, they have no real power; whatever they do is at the behest of the Establishment.
The Quran repeatedly emphasizes 'Amr Bil Ma'ruf Wa Nahi Anil Munkar'—standing for what is right and resisting evil. The very foundation of democracy lies in morality. God has described the hallmark of a hypocrite as standing with the wrongdoers. Such people face humiliation both in this world and in the hereafter. There is no cure for shamelessness and dishonor. La ilaha illallah (There is no God, but One) instills dignity in a person. A dishonorable person begs before others instead of relying on God. A nation stands and thrives on self-respect. Otherwise, it remains dependent on handouts. A society can only progress through justice and rule of law. Justice is delivered only by those who uphold morality. The state of Medina was built on these principles, and Muslims ruled the world because of them. If we want to set our direction right, we must focus on teaching ethics, uphold fundamental human rights, and value human life. Otherwise, our future will remain bleak. In the state of Medina, even a Jew [a minority] won a case against the Caliph of the time, Ali (RA). These principles of justice are the true traditions of an Islamic society, which we have forgotten. 1/2
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں میڈیا سے گفتگو:
“سب کو نیا سال مبارک ! 2025 حقیقی آزادی کا سال ہے، جس میں گھٹنوں پر آئے اس جعلی اور فسطائی نظام کو شکست ہو گی، انشاء اللہ!
اس آمرانہ دور میں شخصی آزادیوں کے خاتمے، بنیادی قانونی حقوق کی پامالیوں اور اداروں کی تباہی نے ملک کے ناصرف سماجی و سیاسی نظام بلکہ قانونی و معاشی نظام کو بھی درہم برہم کر دیا ہے۔جس بھونڈے انداز میں خالد خورشید کو 34 سال قید کی سزا سنائی گئی اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ملک میں رول آف لا کا خاتمہ ہو چکا ہے اور غیر اعلانیہ بدترین آمریت کا راج ہے۔ مشرف دور میں بھی ہم فوج کی مداخلت پر تنقید کرتے رہے ہیں لیکن اسکے باوجود ہمیں اس قسم کی جبر و فسطائیت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ وکلاء تحریک سے پہلے بھی ہم فوج کی سیاسی مداخلت کے خلاف بھرپور تنقید کرتے تھے، لیکن تب کوئی ایجنسی اپنے شہریوں کو اس طرح سے نہیں اُٹھاتی تھی۔
آئینی عدالت بنا کر پورے عدالتی نظام کو تباہ کیا گیا اور قاضی فائز عیسی کی باقیات کو عدالتی نظام کا قبضہ دے دیا گیا تاکہ قاضی کی روایت برقرار رکھتے ہوئے عدالتی فیصلے جی ایچ کیو کے زیر اثر کروائے جا سکیں۔
میرے خلاف پچھلے سال بھی چار غیر قانونی فیصلے دئیے گئے تھے۔ سوموار کو القادر کیس کا فیصلہ بھی ویسا ہی توقع کر رہا ہوں۔ ایسے ہی لا قانونیت پر مبنی فیصلے پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں ۔
ملٹری کورٹس جیسے فیصلوں سے پاکستان میں قانون کی حکمرانی کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ جس ملک میں قانون کی حکمرانی نہ ہو وہاں کوئی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں ہوتا ۔ پاکستان میں اب بھی گروتھ ریٹ صفر ہے جب معاشی ترقی ہی نہیں ہو گی تو نہ ہم قرضوں سے نکل پائیں گے اور نہ ہی بے روزگاری کا خاتمہ ہو گا ۔
پاکستان کے فیصلے پاکستان میں ہی ہوں گے اس سے متعلق میرا موقف واضح ہے لیکن جب بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہوتا ہے تو پوری دنیا سے آوازیں اٹھنا فطری عمل ہے ۔ اقوام متحدہ جیسے ادارے اسی لیے ہیں ۔ دنیا کے تمام ذی شعور انسان بنیادی حقوق کی پامالی کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں ۔ ارسطو نے بھی یہی کہا تھا ہر شہری کا فرض ہے انسانی حقوق کی پامالی ہو تو آواز اٹھائے ۔ دو قسم کے لوگ ہی انسانی حقوق کی پامالیوں پر آواز بلند نہیں کرتے: ایک خودغرض اور دوسرے بزدل۔
ٹرمپ سے یہی توقع ہے کہ وہ نیوٹرل رہیں گے کیونکہ بائیڈن نے جنرل باجوہ کے اکسانے پر ہماری حکومت کو عدم اعتماد کے ذریعے ہٹا کر واضح مداخلت کی تھی جو ساری دنیا جانتی ہے ۔
ہماری مذاکراتی کمیٹی حکومت کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے۔ ہمارے مطالبات جائز ہیں
- 26 نومبر اور 9 مئی پر جوڈیشل کمیشن کا قیام
- سیاسی قیدیوں کی رہائی
ڈی جی ائی ایس پی آر 9 مئی پر صریح غلط بیانی کر رہے ہیں۔ سیدھا اصول یہی ہے کہ جس نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی اس نے ہی 9 مئی کروایا۔ ملٹری کورٹس سے فیصلے بھی اسی لیے کروائے گئے کہ وہاں کسی نے سی سی ٹی وی فوٹیج مانگنی ہی نہیں تھی ۔26 نومبر کو سیدھی گولیاں مار کر ہمارے لوگوں کو شہید کیا گیا جب بھی ان دو واقعات کی شفاف تحقیقات ہوں گی دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔
ہم نے حکومت کو 31 جنوری تک کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ مذاکرات اور اسکے ساتھ ساتھ ترسیلاتِ زر کے بائیکاٹ کی مہم بھی جاری ہے۔ اگر حکومت نے ہمارے مطالبات کی منظوری میں سنجیدگی دکھائی تو بائیکاٹ مہم پہ دوبارہ غور کیا جا سکتا ہے۔
مجھے بالواسطہ طور پہ بنی گالہ منتقل کرنے کی پیشکش کی گئی ہے۔ میرا موقف واضح ہے کہ پہلے میرے اسیر کارکنان اور رہنماؤں کو چھوڑا جائے اسکے بعد میری بات ہو گی۔ اٹک جیل میں بھی مجھے تین سال تک باہر بھیجنے کی پیشکش کی گئی تھی۔ لیکن میرا جینا مرنا پاکستان ہے ۔ میں آخری سانس تک ملک کی آزادی کی جنگ لڑوں گا اور اپنی قوم سے بھی یہی امید کرتا ہوں-“
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پاکستانی قوم کے نام پیغام:
“تحریک انصاف نے ہمیشہ آئین اور قانون کے مطابق جدوجہد کی ہے مگر ملک پر مسلط مافیا ہمیشہ آئین و قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے- 9 مئی اور 26 نومبر کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کا قیام اور انڈر ٹرائل اسیران کی رہائی ہمارے جائز مطالبات ہیں-
میں سول نافرمانی کی تحریک چند دنوں کے لیے مؤخر کر رہا ہوں، اس دوران تحریک کے خدوخال اور ٹائم لائن کا فیصلہ کروں گا-
سات ایسی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ہمارےلیے سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنا ضروری ہو چکا ہے:
۱۔ 2023 میں لندن پلان کے تحت پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے الیکشن آئین کے برخلاف 90 دن کے اندر نہیں کرائے گئے۔ کیونکہ الیکشن سے پہلے تحریک انصاف کو ختم کرنا مقصد تھا۔
۲- نو مئی سے پہلے ہی مجھ پر ایک سو چالیس سے ذائد مقدمات بنا دئیے گئے تھے۔ رینجرز نے مجھے اسلام آباد سے اغواء کیا جس کو سپریم کورٹ نے غیر قانونی قرار دیا۔ نو مئی ایک فالس فلیگ آپریشن تھا جس کے تحت ہمارے لوگوں کو گرفتار کرنا مقصد تھا۔ دس ہزار افراد کو گرفتار کر کے جھوٹے مقدمات میں جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ ہمارے کارکنان اور پارٹی رہنماؤں پہ تشدد کیا گیا ان کے گھروں کو توڑا گیا۔ ان کے خاندانوں کو ہراساں کیا گیا۔ ان کو عدالتوں سے ضمانت ملتے ہی کسی نئے جھوٹے پرچے میں گرفتار کر لیا جاتا۔ میرے اغوا سے لے کر کارکنان پہ تشدد، گرفتاریاں سب کچھ غیر قانونی اور غیر آئینی تھا۔
اس ظلم کے خلاف سپریم کورٹ میں پیٹیشن دائر کی لیکن سپریم کورٹ نے انسانی حقوق کی ان بدترین خلاف ورزیوں کا نوٹس تک نہ لیا۔ قاضی فائز عیسیٰ حکومت کے ساتھ ملا ہوا تھا۔ 1971 کے بعد کبھی کسی پارٹی پر اس طرح کا ریاستی جبر نہیں کیا گیا۔
۳- تمام غیر قانونی و غیر جمہوری حربوں کے بعد ان کو غلط فہمی تھی کہ 8 فروری کو تحریک انصاف الیکشنز نہیں جیت سکتی۔ سکندر سلطان راجہ اور قاضی فائز عیسیٰ نے مل کے پارٹی نشان چھینا جو پارٹی کو بین کرنے کے مترادف تھا۔ ہمارے امیدواروں کو نشانہ بنایا گیا۔ تین تین امیدواروں کو زبردستی الیکشن سے دستبردار کرایا گیا۔
۴-ان کو انجینئرنگ کے ذریعے الیکشن جیتنے کا اس قدر یقین تھا کہ نواز شریف اپنی وکٹری سپیچ بھی کرنے کو تیار تھا لیکن تقریر سے پہلے ان کو پتہ چلا کہ تحریکِ انصاف الیکشن جیت گئی ہے۔ پھر انہوں نے فارم-47 کے زریعے الیکشن فراڈ کیا۔ کمشنر راولپنڈی نے اس فراڈ کو کنفرم کیا اور گواہی دی۔ لیکن اس پر بھی نظام انصاف خاموش رہا اور کوئی نوٹس نہ لیا گیا۔
۵۔ اس رجیم چینج کے بعد کے ڈھائی سالوں میں یوں تو انصاف کے نظام پر قبضے کے ��یے ہر جابرانہ اور غیر اخلاقی حربہ استعمال کیا گیا لیکن چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدالتوں کی آزادی کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دیا گیا۔ اپنی مرضی کے جج لگانے کے لیے آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا۔ اس ترمیم کی منظوری کے لیے جو حربے استعمال کئے گئے وہ بھی ایک مضحکہ خیز داستان ہے، لیکن اس سارے معاملے پر بھی نہ عدلیہ نے کوئی نوٹس لیا نہ ریاست کا چوتھا ستون سمجھے جانے والے میڈیا میں اس کےخلاف آواز بلندکرنے کی اخلاقی جرات تھی۔
۶-سپریم کورٹ کے فل کورٹ کے فیصلے کے باوجود تحریکِ انصاف کو آج تک مخصوص نشستیں نہیں دی گئیں۔ یہ نہ صرف توہین عدالت ہے بلکہ عوامی فیصلے کی توہین اور جمہوریت پر شب خون بھی ہے۔
۷۔ 26 نومبر کو ہمارے پرامن اور نہتے سیاسی کارکنان پہ گولیاں برسائی گئیں۔ ہمارے کارکنان مکمل طور پہ پر امن تھے انہوں نے کسی کو نقصان نہیں پہنچایا تھا۔ ان کا مطالبہ آئین اور جمہوریت کی بحالی تھا- نہ تو لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال تھی نہ ہی کوئی اور پر تشدد کاروائی ہوئی لیکن اسکے باوجود ہمارے لوگ شہید کئے گئے۔ 12 لوگ مغرب سے پہلے شہید کئے گئے اور باقیوں کو رات بجلی بند کر کے گولیاں ماری گئیں۔
ان حالات م��ں جب پاکستانیوں سے تمام آئینی حقوق چھین لیے گئے ہیں، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ پر قبضہ کر لیا گیا ہے، پرامن احتجاج کا حق چھین لیا گیا ہے، قانون اور آئین کی بنیادیں ہلا دی گئی ہیں، اپنے ہی شہریوں پر گولیاں چلائی جا رہی ہیں، اداروں کو عوام کے مقابلے میں لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تو سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنا قوم کی مجبوری بن چکی ہے-
اس کے علاوہ اپوزیشن لیڈران کو جیل میں ملاقات کے لئے ویلکم کرتا ہوں۔ پر مجھے اس حکومت سے امید نہیں ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈران کو مجھ سے ملاقات کی اجا��ت دیں گے۔ کیونکہ انہوں نے میری پارٹی کے لوگوں سے بھی تین مہینے سے میری ملاقات نہیں کروائی-“
Former Prime Minister Imran Khan's message to the Pakistani nation from Adiala Jail – December 17th, 2024:
Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) has always operated within the constitution and the law, but the mafia that has imposed itself on our country continually violates the law and the constitution. The establishment of judicial commissions to investigate the events of May 9th (2023) and November 26th, and the release of undertrial prisoners are our legitimate demands.
I am postponing the (proposed) civil disobedience movement, during which I will define the framework and timeline of the movement.
There are seven reasons why it has become necessary for us to start a civil disobedience movement:
1- In 2023, under the London Plan, elections to the Punjab and Khyber Pakhtunkhwa provincial assemblies were not held within 90 days, contrary to the constitution, because the aim was to eliminate PTI before holding elections.
2- More than one hundred and forty cases were filed against me before May 9th (2023). Paramilitary Rangers kidnapped me from Islamabad, which the Supreme Court later declared illegal. May 9th was a false-flag operation, the aim of which was to arrest our people. Ten thousand people were arrested and jailed on trumped-up charges. Our party workers and leaders were tortured, their homes were ransacked, their families were harassed. As soon as they obtained bail from the courts, they were rearrested in new false cases. From my abduction to the torture and arrests of party workers, everything was illegal and unconstitutional.
A petition was filed in the Supreme Court against these atrocities, but the Supreme Court did not pay any attention to these horrific violations of human rights. Qazi Faez Isa was in cahoots with the imposed government. No party has ever been subjected to such state oppression since 1971.
3- Because of all the illegal and undemocratic tactics that were employed, they were under the delusion that PTI could not win the February 8th elections. Sikandar Sultan Raja and Qazi Faez Isa worked together to take away our party symbol, which was tantamount to banning the party. Our candidates were targeted. As many as three candidates in a constituency were forced to withdraw from elections.
4- They were so sure of winning the elections through engineering that Nawaz Sharif was even prepared to deliver his victory speech. But before he could, they realized that PTI had won. Then they committed Form-47 election fraud. The testimony of the Commissioner of Rawalpindi confirmed this fraud. But even after that, the justice system remained a silent bystander, and no action was taken.
5- Although every oppressive and immoral tactic to take over the justice system was employed in the two-and-a-half years since regime change, the 26th Constitutional Amendment became the final nail to be hammered into the coffin of the independence of the judiciary. The Constitution was tampered with to pack the courts with hand-picked judges. The tactics used to pass these amendments (through parliament) were a farcical exercise. Despite that, neither the judiciary took any action nor did the media, considered the fourth pillar of the state, have the moral courage to raise its voice.
6- Despite a decision of the full court of the Supreme Court, reserved seats have not yet been allocated to PTI. This is not only contempt of court but also an insult of the public mandate and an assault on democracy.
7. On November 26th, bullets were rained down on our peaceful and unarmed political workers. Our party workers were completely peaceful and did not harm anyone. Their demand was the restoration of democracy and the constitution. There was neither a breakdown in law-and-order, nor was there violence. But, despite this, our people were martyred. 12 people were shot dead before sunset and the rest were gunned down at night in the dark after the electricity was turned off.
1/2
ناحق قید میں 500 دن مکمل ہونے پر سابق وزیراعظم عمران خان کی اپنے ورکرز اور وکلأ سے اڈیالہ جیل عدالت میں گفتگو:
“ایاک نعبد وایاک نستعین
سب سے پہلے تو آپ نے گھبرانا نہیں ہے!!
میں ساری عمر بھی جیل میں گزارنے کے لئے تیار ہوں، لیکن وقت کے یزید کے آگے کبھی نہیں جھکوں گا۔
اللہ الحق ہے- وہ حق سچ کا خدا ہے اور صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے- ہم سب اس ملک کی حقیقی آزادی کے لیےقربانی دے رہے ہیں۔ آپ نے صبر کرنا ہے اور میرے ساتھ مل کر ظلم کا مقابلہ کرنا ہے۔
ڈی چوک میں دور حاضر کے جنرل ڈائیر نے قوم کو اپنا غلام گردانتے ہوئے نہتے اور پر امن شہریوں پر بلااشتعال گولیاں چلوائیں- ہم اس واقعہ کو کبھی بھی بھولنے نہیں دیں گے اور اپنے ورکرز اور شہدأ کو انصاف دلائیں گے-
مجھے ورکرز اور وکلا نے بتایا ہے کہ ابھی تک سامنے آنے والے 12 شہدا وہ ہیں جنہیں 26 نومبر کو مغرب سے پہلے شہید کیا گیا اور باقی لوگوں کو رات کو علاقے کی بجلی بند کروا کر گولیاں ماری گئی ہیں۔ ان کو کدھر غائب کیا گیا ہے؟ ابھی بھی درجنوں افراد مسنگ ہیں- مسنگ پرسنز کو تلاش کرنا اور تمام ڈیٹا پبلک کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ میڈیا سمیت ہزاروں لوگوں نے اندھا دھند فائرنگ اور برب��یت اپنی آنکھوں سے دیکھی اور اس کے بعد ہسپتالوں کا ریکارڈ غائب کرنے اور شہدا کی لاشیں ورثأ کو فراہم کرنے سے انکار کی بھی میڈیا رپورٹس موجود ہیں-
ہمارا مطالبہ ہے کہ جلد از جلد 9 مئی کے فالس فلیگ آپریشن اور 26 نومبر کے اسلام آباد قتل عام کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کے تعین کے لئے آزادانہ جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے جس میں سینئر ترین سپریم کورٹ ججز شامل ہوں۔
قوم تیار رہے، میں جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کروں گا- “
🚨🚨
مبشر بلال کنسٹیبل بھاگتے ہوئے کو پولیس نے ٹھیک سے گاڑی پر بھی نہیں چڑھنے دیا پھسل کر گرا سر پر چوٹ لگنے سے جان گئی
مظاہرین آوازیں دیتے رہے کہ اسے ہاسپٹل لے جائیں لیکن کسی کو احساس نہ ہوا ابتدائی طبی امداد بھی مظاہرین نے جو بن سکی دی.