X مہم کا اعلان
بلوچ وائس فار جسٹس، ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی جبری گمشدگی کے 17 سال مکمل ہونے پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم “X” پر ایک آن لائن آگاہی مہم چلائے گی۔
اس مہم کا مقصد ان کی بحفاظت بازیابی کے لیے آواز اٹھانا اور شعور اجاگر کرنا ہے۔
تمام افراد، بالخصوص متاثرہ خاندانوں، صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سوشل میڈیا صارفین سے شرکت کی اپیل ہے:
• دو منٹ کی ویڈیو شیئر کریں
• مضامین لکھیں
• متعلقہ ہیش ٹیگز کے ساتھ پوسٹس کریں
یہ مہم 28 جون کو رات 8 بجے سے 12 بجے تک جاری رہے گی۔
آئیں، جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز بلند کریں اور انصاف کا مطالبہ کریں۔
#ReleaseDrDeenMohammad
بے گناہ نوجوانوں کو اٹھانا بند کرو روڈ بلاک نہیں ہوتے ہیں جب لوگ فریاد کرتے ہیں کوئی سننے والا نہیں ہے ۔لوگ اپنے پیاروں کو رہا کرنے کے لیے روڈ بند نہ کریں تو اور کیا کریں کوئی اور راستہ نہیں ہے مجبوری میں روڈ بند کرتے ہیں کسی کو روڈوں پر انے کا شوق نہیں ہے
بلوچستان کے حالات کے خرابی کا ذمدار حکومت بلوچستان ہے ۔ان کے پاس اختیارات نہیں ہے آئیے روز بے گناہ شہریوں کو اٹھاتے ان کا قتل کرتے ہیں ان کے مسخ شدہ لاشیں پھینکتے ۔حکومت کیوں خاموش ہے جب لوگ مجبور ہوکر روڈ بلاک کرتے ہیں تو مسافروں سے ذیادہ وزیر اعلی کو تکلیف ہوتی ہے
سرفراز بھٹی ایک نا اہل نا لائق اور جھوٹے وزیر ہے اس نے بلوچ یکجہتی کمیٹی ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی جلسے کو روک نے کے لئے تین دن نیٹ ورک بند کیے گاڑیوں کو پکڑا گاڑیوں کو رجسٹریشن کا بہانہ بنایا روڈ بلاک کیا ٹرانسپورٹرز کو ڈرایا دمکایا پھر بھی ناکام ہوا یہ آئین و قانون کی بات
*کراچی پولیس کی جانب سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رکن و انسانی حقوق کی کارکن سمی دین بلوچ و دیگر کارکنان کی گرفتاری و خواتین پر تشدد کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہیں پی پی حکومت حواس باختہ ہو کر بلوچ خواتین پر ظلم جبر کر کے انسانی ��قوق کی تمام حدیں پار کر دی ہے پر ا��ن احتجاج کا حق
جب بھی میر شعیب نوشیروانی اقتدار پر آتا خاران کی امن امان تباہ ہوجاتی وہ خاران کا ایم پی اے ہے امن و امان اس کی ذمےداری ہے امن وامان کی بجائے وہ نوکریوں کے پیچھے لگا ہو ہے اپنے من پسند افراد نوکری دیکر میرٹ کی دھجیاں اڑا دی ہے تمام محکموں کی افسران کو یرغمال کیا گیا کسی کی
مو جودہ حکومت نے ہر مسئلے کا حل: صرف اور صرف موبائل اور انٹرنیٹ بند کرنے کو سمجھاہے کہ موبائل اور انٹرنیٹ بند کرو عوام کو کوئی معلومات نہیں ہوگا تو پھر بڑے سےبڑے مسلے حل بلوچستان حکومت نے اس سارے جھنجھٹ سے چھٹکارا پانے کے لیے ایک آسان طریقہ دریافت کیا ہے: موبائل اور
بلوچستان حکومت کے جادوگر ترقی اور خوشحالی کے بلند بانگ دعوے کرتے ہوئے نہیں تکتے ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے بلوچستان میں کرپشن کا کمپٹیشن ہے ہر ادارے دوسرے سے زیادہ کرپشن کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں غریب کاچولھا بھج گیاہے مہنگائی بےروزگاری عروج پر پہنچ چکا ہے
اسلام آباد میں جو کچھ پی ٹی آئی کے ساتھ ہوا یہ غیر انسانی عمل ہے اس کی ہر پاکستانی مذمت کرتا ہے یہ اج پی ٹی آئی ساتھ ہوا کل دوسرے پارٹی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے احتجاج کرنا ہر پاکستانی کا آئینی حق اس کو چینے کا کسی کو حق نہیں ہے ۔امید ہے چیف جسٹس اور ارمی چیف اس ایکشن لینگے
مسلم لیگ اور پی پی کے گورنمنٹ نے مہنگائی بےروزگاری آپریشن روڈوں کو ��ند کرنا لوگوں کواٹھانا ماورائے عدالت بند کرنا ان کے اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔اور کرپشن کا
بازارخوب گرم کیا ہے آئی ایم ایف بار بار سےقرضے لےکر کے معیشت کا ستیاناس کردیا ہے لوگ مہنگائی کی وجہ خودکشیاں کر رہے
بلوچستان کےمسلے کا حل جنگ نہیں محبت ہے بلوچوں کو عزت دیں گلے لگائیں ان کو روزگار دیں نہ کہ ان کے عورتوں کا دو پٹہ چین لیں۔بے گناہ نوجوانوں کو اٹھائیں ان کی مسخ زدہ لاشیں پینک دیں گورنمنٹ میں سوچ سوچ نہیں یا جان بوجھ کر ایسا کر رہاہے 75سالوں سے آپریشن ہو رہا ہے کیا فائدے
گورنمنٹ کیوں اتنا ڈری ہوئی ہے بوکھلاہٹ ہے
جلسہ کرنا ہر شہری کا آئینی قانونی حق ہے یہ حق اپ کس طرح لوگوں سے چین رہے ہیں ۔پھر اگر آئین و قانون کو مسترد کر کے آئین کو نہیں مانو۔ زبردستی کررہے ہیں اتنے ظلم کے باوجود پھر بھی یہ گورنمنٹ یہ ��یسے چل رہی ہے
باڈر کی بند�� اور مہنگائی کی وجہ سے لوگ سوکھی روٹی کے کھانے کے بھی محتاج ہوگئے ہیں ۔فارم 47 کے گورنمنٹ نے ملک کو تباہ کر کے رکھ دیا دیا قرضے پہ قرضے لیکر کرپشن کررہے ہیں عوام کو بے روزگار کیا ہے ملازمتیں بند مہنگائی اسمان کو چھو رہا لیکن یہ 47 والے جھوٹ پے جھوٹ بول رہے ہیں
ایڈوکیٹ ایمان مزاری. اور اُنکے شوہر ہادی علی کی گرفتاری قابل مذمت ہے، پولیس نے کارِ سرکار میں مداخلت کے نام پر جھوٹے الزام پر درج مقدمہ میں انہیں گرفتار کرلیا جس کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں انہیں فی الفور رہا کیا جائے اور اس طرح کے روز بے بنیاد گرفتاریوں
سردار اختر جان کے خلاف ایف ائی ار شہباز اور بلاول کی نا اہلی اور غلط سوچ کی وجہ سے بلوچس��ان کے لوگوں میں سخت نفرت پیدا ہوئی ہے کہ یہ کونسا آ ہین و قانون ہے کہ لوگوں کو اغوا کر کے ان سے زبردستی ووٹ لیا جائے ۔اور پھر اختر جان جیسے بلوچستان کے عظیم لیڈر کے خلاف ایف ائی ار کریں
قاسم رونجھو سے پریس کانفرس کی ترید کرنے سے وہ زخم ٹھیک نہیں ہونگے جو تم لوگوں نے کیا ہے کیونکہ پوری دنیا جانتی ہے۔ اپ اپنے اپ کو خوش کرنے کیلئے یہ یہ پریس کانفرنس کر وایا ہے لیکن حقیقت سب لوگ جان چکے ہیں اس طرح کے حرکت کرنے سے تم لوگوں کی گراف نہیں بڑے گی بلکے کم ہوگی
بارڈر بند کرنا بھوک و افلاس کے مترادف ہے پہلے بلوچوں کے
روزگار کا مسلہ حل کریں بلوچستان میں 75 سالوں سے روزگاری کا فقدان ہے اگر روزگار بندہوگا یقیناً یہ ��وگ کچھ کرنے پر مجبور ہو جائیں گے پھر نہ کہنا کہ بلوچ ہم سے کیوں ناراض ہیں اس وقت 60 لاکھ بلوچوں کے روزگار بارڈر سے منسلک
اس ملک میں آئیں وقانون نام کی کوئی چیز نہیں ہے آئین اور قانون کی کوئی پاسداری نہیں ہو رہا ہے حکومت کی مرضی جو چاہے جب بھی چاہیں غیر قانونی چیز اس کے لئے قانونی ہے حکومت کے بڑے بڑے منصب کے لوگ اکر میڈیا میں جھوٹ بولتے ہیں اور ان کو عوام کی کوئی پرواہ ہی نہیں ہے نہ مہنگائی کم ہو