🌱 OFFICIAL POSTER 🌱
On the occasion of 17 September — Altaf Hussain Bhai’s 73rd Birthday, join the Global Tree Planting Campaign from 9–15 September 2026. 🌎🍀
Let’s make this birthday a celebration of life, hope, and a greener future.
#OnePlantForAltafBhai
کراچی میں ریڈ لائن بی آر ٹی کے زیرِ تعمیر پل کی شٹرنگ اور اسکافولڈنگ گرنے اور ایک شخص کی ہلاکت پر ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کا اظہارِ افسوس اور شدید مذمت
حادثہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی نااہلی اور حفاظتی انتظامات کی ناکامی پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے؛ آزادانہ تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے — رابطہ کمیٹی
لندن۔۔۔ 2 اکتوبر 2026ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں یونیورسٹی روڈ پر بیت المکرم مسجد کے قریب ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے کے زیرِ تعمیر پل کی شٹرنگ اور اسکافولڈنگ گرنے سے ایک سیکیورٹی گارڈ کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ رابطہ کمیٹی نے مرحوم کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کرتے ہوئے ان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔
رابطہ کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ جان لیوا حادثہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی نااہلی، ناقص نگرانی اور حفاظتی انتظامات کی ناکامی پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ کراچی کے عوام پہلے ہی منصوبے کی تاخیر، ٹوٹی سڑکوں، گردوغبار اور ٹریفک کی شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اب انسانی جان کا ضیاع اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ حکومت محض وضاحتی بیانات دینے کے بجائے ذمہ داری کا تعین کرے۔
رابطہ کمیٹی نے کہا کہ اگر خدانخواستہ ایسی ساختی یا حفاظتی ناکامی اُس وقت پیش آتی جب پل پر ٹریفک رواں ہوتی، یا اس کے نیچے شہریوں اور گاڑیوں کا ہجوم ہوتا، تو جانی و مالی نقصان کس قدر ہولناک ہو سکتا تھا؟ اس سوال کو نظرانداز کرنا کراچی کے شہریوں کی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہوگا۔
رابطہ کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ آزاد ماہرینِ تعمیرات اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین پر مشتمل غیرجانبدار تحقیقاتی کمیٹی قائم کی جائے، جو حادثے کی وجوہات، تعمیراتی معیار، عارضی ڈھانچے کی مضبوطی، حفاظتی انتظامات اور نگرانی میں ممکنہ کوتاہیوں کی جامع تحقیقات کرے۔ منصوبے کے ٹھیکوں، ادائیگیوں اور اخراجات کا بھی آزادانہ آڈٹ کیا جائے تاکہ بدعنوانی، مالی بے ضابطگیوں یا غیرمعیاری کام کی حقیقت سامنے آسکے۔
رابطہ کمیٹی نے کہا کہ تحقیقات میں مجرمانہ غفلت، بدعنوانی یا حفاظتی ضابطوں کی خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں متعلقہ ٹھیکیداروں، انجینئروں، نگران افسران اور دیگر ذمہ داروں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے۔ تحقیقاتی رپورٹ اور اس پر ہونے والی کارروائی عوام کے سامنے پیش کی جائے۔
رابطہ کمیٹی نے مزید مطالبہ کیا کہ جاں بحق شخص کے خاندان کو فوری اور مناسب معاوضہ دیا جائے، اس کی کفالت کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور منصوبے کے تمام زیرِ تعمیر حصوں کا فوری حفاظتی معائنہ کرکے خطرناک مقامات کو محفوظ بنایا جائے۔
کراچی کے عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے نام پر انسانی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے اور ذمہ داری سے فرار کی کسی کوشش کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔
•••••
"کراچی میں BRT کا اسٹرکچر گرنا انجینئرنگ کی ناکامی نہیں بلکہ حکومتی غفلت اور انسانی جان کی بے حرمتی کا ثبوت ہے۔ پیپلز پارٹی کے کارنامہ عوام کے لیے موت کا جال بنتے جا رہے ہیں۔ اگر یہ ترقی ہے تو پھر اس سے بڑا ظلم اور کیا ہوگا؟
@AltafHussain_90@AwazEHaq90@BBhuttoZardari
سینئر صحافی اور معروف تجزیہ نگار مبشر فاروق نے ثبوت وشواہد کے ساتھ منشیات کی اسمگلنگ اور پیپلزپارٹی کے سابق وزیرداخلہ ذوالفقار مرزا کے گھناؤنے کردار کو بے نقاب کیا ہے*
*براہ کرم اس معلوماتی اور تحقیقی پروگرام کو ضرور سنیں اور زیادہ سے زیادہ شیئر بھی کریں۔
*شکریہ*
https://t.co/fwahM6rXd4
وزیراعظم شہباز شریف نے آج صومالیہ میں قزاقوں کےہاتھوں شہید ہونےوالے پاکستانیوں کے اہل خانہ کو ایک کروڑ 25 لاکھ روپےکی مالی معاونت کرنے،انہیں رہائش اور انکے بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنےکا اعلان کیا ہے۔بہت شکریہ۔
کاش کہ وزیراعظم صاحب ان صومالی قزاقوں کو تاوان کی رقم اداکردیتےتو یہ پاکستانی زندہ واپس آجاتے، یہ پیسے، اور یہ امداد کئی گنا بھی دیدی جائے تو وہ بھی ان فیملیز کے پیارے واپس نہیں آسکتے۔
وزیراعظم صاحب ! ان شہیدوں کے اہل خانہ آپ سے صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان کے شہیدوں کی میتیں اور زخمی جلد از جلد ان تک پہنچادیں
شہداءِ حق کو سلام۔ ان کا خون رائیگاں نہیں جائیگا۔ آئیے ہم سب ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے، حق اور سچ کی آواز بنیں۔ مہاجروں جاگو، کہ اتحاد میں ہی ہماری طاقت ہے۔شہدا کی قربانی ہمارا عزم ہے اور ہمارا عزم ان کا مشن زندہ رکھے گا۔ مہاجروں متحد ہو جاؤ!
@AltafHussain_90@AwazEHaq90
On September 30, 1988, Hyderabad experienced a mini apocalypse.
#سانحہ_حیدرآباد_30ستمبر
Whenever we have the authority, we will ensure that those responsible for the #Hyderabad tragedy face justice.
This was stated during the address commemorating the 38th anniversary of the tragic event.
..........
On September 30, 1988, thirty-eight years ago, Hyderabad, the second largest city in #Sindh, experienced a night of chaos that felt like a mini apocalypse. That evening, a group of armed men in ten vehicles stormed into the city, unleashing a barrage of gunfire on unsuspecting citizens across various neighborhoods. Anyone who crossed their path became a target. For half an hour, the shooting went on, and shockingly, neither the police nor any local authorities showed up. The commissioner, deputy commissioner, SDM, and the entire administration just vanished from sight.
Over 200 innocent people lost their lives, and many more were injured, including youths, the elderly, women, and children. The streets of Hyderabad were tragically marked by the blood of the #Muhajirs.
This wasn’t the first time such violence occurred; similar attacks had happened in #Karachi during General Ayub Khan's rule, resulting in the deaths of many innocent Muhajirs. The same kind of brutality was seen during Zulfikar Ali Bhutto's government as well.
On December 14, 1986, there were similar attacks in Aligarh Colony and Qasba Colony in Karachi, leading to a tragic massacre of the Muhajirs.
As these attacks persisted, Altaf Hussain urged the Muhajirs to get licenses and keep weapons for their safety and to protect their belongings. Even today, I encourage the Muhajirs to take steps to ensure their survival.
The Prophet of Islam, Hazrat Muhammad Mustafa ﷺ, taught his Companions the importance of being prepared and even shared insights on where to find the best arrows and swords.
As we mark the 38th anniversary of the tragic events in Hyderabad on September 30, 1988, I want to pay my respects to the martyrs and extend my heartfelt condolences to their families. I assure them that when we have the opportunity, we will ensure that those responsible for these acts are brought to justice.
I strongly condemn those biased individuals who point fingers at the @OfficialMQM and Muhajirs for the Hyderabad tragedy. It's absurd that the victims of the massacre were Muhajirs, yet we are still being blamed. I want to ask: when the linguistic bill was introduced in the Sindh Assembly during Bhutto's time in 1972, who sparked the riots across Sindh? Did the MQM even exist back then? Was Altaf Hussain involved in politics at that time?
People who spread false accusations about MQM and Altaf Hussain on social media: have they ever actually witnessed Altaf Hussain or the MQM committing acts of terrorism? When questioned, their response is often that they just heard it from someone else.
People who make these accusations are often just passing along rumors, but do they really understand what took place in Hyderabad on September 30, 1988? This kind of hateful mindset has only stoked the flames of animosity and bias in our country. The tragic massacre of the Muhajirs in Hyderabad that day was meant to instill fear in them. Yet, we stood strong then, and we will continue to stand strong today.
I want to honor the martyrs of the Hyderabad tragedy and pray that Allah Almighty accepts their sacrifices. May their blood be a source of blessing that helps us succeed in our goals.
Altaf Hussain.
London. UK.
Public address on the occasion of 38th anniversary of the martyrs of the Hyderabad tragedy on September 30, 2026.
"جو قومیں اپنے شہیدوں کی قربانیوں کو بھلا دیں، وہ اپنے وجود کی روشنی کھو بیٹھتی ہیں؛ کیونکہ جس مٹی میں احسان دب جائے وہاں تاریخ بھی خاموش ہو جاتی ہے۔
@AltafHussain_90@AwazEHaq90
30ستمبر 1988ء کو حیدرآباد میں قیامت صغریٰ بپاکی گئی تھی۔
جب بھی اختیارملا، قاتلوں کوانصاف کے کٹہرےمیں لائیں گے۔سانحہ حیدرآباد کی 38 ویں برسی پرخطاب
#سانحہ_حیدرآباد_30ستمبر
آج سے 38برس قبل 30 ستمبر 1988ء کو سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں قیامت صغریٰ بپا کی گئی تھی۔ اس روز شام کے وقت 10 گاڑیوں میں سوار اسلحہ بردار حیدرآباد شہر میں داخل ہوئے، انہو ں نے شہر کے مختلف علاقوں میں شہریوں پر اندھا دھند فائرنگ کی،جو سامنے آیا اسے گولیوں کانشانہ بنایا گیا، آدھے گھنٹے تک یہ سلسلہ جاری رہا لیکن نہ پولیس، انتظامیہ پہنچتی ہے، کمشنر، ڈپٹی کمشنر، ایس ڈی ایم پوری انتظامیہ غائب ہوتی ہے۔200 سے زائد معصوم شہریوں کو شہیدکردیا جاتا ہے اور سینکڑوں زخمی ہوتے ہیں جن میں نوجوان، بزرگ، خواتین اوربچے شامل ہوتے ہیں، حیدرآباد کی سڑکیں مہاجروں کے خون سے رنگ دی جاتی ہیں۔ اسی طرح کے حملے جنرل ایوب خان کے زمانے میں کراچی میں بھی ہوئے تھے جن میں بڑی تعداد میں بے گناہ مہاجروں کوشہید کردیا گیا تھا، اسی طرح کے واقعات ذوالفقارعلی بھٹوکے دور حکومت میں بھی کرائے گئے۔ 14دسمبر1986ء کواسی طرح کراچی میں علی گڑھ کالونی اورقصب کالونی میں پر بھی حملے کرکے مہاجروں کا قتل عام کیا گیا تھا۔جب اسی طرح کے حملے ہوتے رہے تو الطاف حسین نے ڈنکے کی چوٹ پر مہاجروں سے کہا تھا کہ وہ اپنی جان ومال کے تحفظ کے لئے لائسنس بنوائیں اوراسلحہ رکھیں اورمیں آج بھی مہاجروں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنی بقا کا سامان کریں۔ امام الانبیا حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ نے بھی صحابہ کومسلح ہونے کادرس دیا اوریہاں تک بتایا کہ کہاں کے بنے ہوئے تیراورتلواریں اچھی ہوتی ہیں۔
میں سانحہ حیدرآباد 30ستمبر1988ء کے شہدا کی 38ویں برسی پر شہیدوں کوخراج عقیدت پیش کرتا ہوں اوران کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہارکرتاہوں اوران سے وعدہ کرتا ہوں کہ جب بھی ہمیں اختیارملا، ہم قاتلوں کوانصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔
میں ان متعصب لوگوں کی بھی مذمت کرتا ہوں جو سانحہ حیدرآباد کا الزام بھی ایم کیوایم اور مہاجروں پر لگاتے ہیں، یہ مذاق ہے کہ قتل عام بھی مہاجروں کاہواورالزام بھی ہمی پر لگایاجائے۔ میں سوال کرتاہوں کہ جب 1972ء میں بھٹوکے زمانے میں سندھ اسمبلی میں لسانی بل پیش کیا گیا تھااس وقت پورے سندھ میں فسادات کس نے کرائے تھے؟ کیااس وقت ایم کیوایم موجود تھی؟ کیااس وقت الطاف حسین میدان سیاست میں تھا؟جولوگ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمزپر بیٹھ کرایم کیوایم اور الطاف حسین پرجو جھوٹ اور من گھڑت الزامات لگاتے ہیں، کیا انہوں نے اپنی آنکھوں سے الطاف حسین یا ایم کیوایم کو دہشت گردی کرتے دیکھا ہے؟ ان سے پوچھو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم نے فلاں سے سناہے۔ الزامات لگانے والے سنی سنائی باتیں توبیان کرتے ہیں لیکن کیا انہیں معلوم ہے کہ 30 ستمبر 1988ء کوحیدرآبادمیں کیا ہوا تھا؟ اسی قسم کی نفرت انگیزسوچ نے ملک میں نفرت اورعصبیت کی آگ بھڑکائی ہوئی ہے۔
30ستمبر 1988ء کوحیدرآباد میں مہاجروں کاقتل عام اسی لئے کیا گیا تھا تاکہ مہاجروں کو خوفزدہ کردیا جائے لیکن ہم نہ کل خوفزدہ ہوئے تھے اورنہ آج خوفزدہ ہوں گے۔میں سانحہ حیدرآباد کے شہدا کوخراج عقیدت پیش کرتاہوں اوردعا کرتاہوں کہ اللہ تعالیٰ شہیدوں کی قربانیوں کوقبول فرمائے اوران کے لہوکی بدولت ہمیں اپنے مقصد میں کامیابی عطافرمائے۔
الطاف حسین
سانحہ حیدرآباد کے شہدا کی 38ویں برسی پر خطاب
30ستمبر 2026ء
میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ MDCAT کے سامنے آنے والے نتائج میں کراچی کے طلبہ و طالبات کے ساتھ زیادتی واضح نظر آتی ہے۔ اعتراض یہ نہیں کہ اس میں ٹاپ پر آنے والوں کا تعلق تھر سے ہے، کراچی کے طلبہ و طالبات کے ساتھ امتحانی نتائج میں زیادتیوں کی شکایات مسلسل سامنے آرہی ہیں، اس سے قبل کراچی میں انٹر بورڈ کے امتحانی نتائج میں بھی جان بوجھ کر تبدیلی کرنے کی شکایت سامنے آئی تھیں جس پر طلبہ نے کئی روز تک احتجاج کیا تھا، کراچی کے طلبہ کے ساتھ تسلسل کے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں سے صاف ظاہر ہوتا ہےکہ یہ سب کچھ انہیں اعلیٰ تعلیم کے میدان میں جان بوجھ کر پیچھے رکھنے کے لئے کیا جارہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس حوالے سے کی جانے والی شکایات کو تعصب کی بھینٹ چڑھانے کے بجائے ان کا نوٹس لیا جائے۔
ایم کیو ایم کوآرڈینیشن کمیٹی کے رکن ایڈووکیٹ جوہر عابد، ایم کیو ایم شعبۂ خواتین کی ذمہ داران اور مختلف سیکٹرز کے کارکنان نے صومالی قزاقوں کے حملے میں شہید ہونے والے کاشف عمر کے بفرزون میں واقع گھر جا کر ان کے والد، صاحبزادے، صاحبزادی اور دیگر سوگواران سے قائدِ تحریک جناب الطاف حسین بھائی کی جانب سے تعزیت کی، انہیں دلاسہ دیا اور شہید کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا کی۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جوہر عابد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام شہداء کی میتوں کی وطن واپسی کو جلد از جلد یقینی بنایا جائے اور شہداء کے لواحقین کی ہر ممکن مالی و اخلاقی معاونت کی جائے۔
ٹورانٹو میں قائدِ تحریک جناب الطاف حسین بھائی کی 73ویں سالگرہ کی پروقار تقریب کا انعقاد
#17SepBirthdayOfAltafHussain
ایم کیو ایم کینیڈا کے زیرِ اہتمام تقریب میں ساتھیوں اور عوام کی شرکت
ٹورانٹو، کینیڈا: ایم کیو ایم کینیڈا کے زیرِ اہتمام ٹورنٹو میں قائدِ تحریک جناب الطاف حسین کی 73ویں سالگرہ کے سلسلے میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ایم کیو ایم کینیڈا کے ذمہ داران، کارکنان، خواتین، بچوں اور بچیوں سمیت بڑی تعداد میں ساتھیوں نے شرکت کی۔ تقریب کا ماحول خوش گوار اور جوش و خروش سے بھرپور تھا اور شرکاء نے قائدِ تحریک کو سالگرہ کی مبارکباد پیش کی۔
تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا، جس کے بعد نعتِ رسولِ مقبول ﷺ اور حمد و ثناء پیش کی گئی۔ اس کے بعد مقررین نے قائدِ تحریک جناب الطاف حسین کو 73ویں سالگرہ کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے تحریک کے تنظیمی سفر، موجودہ حالات اور ساتھیوں کے کردار کے مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال کیا۔
عمیر خسرو بھائی رکن رابطہ کمیٹی نے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے قائدِ تحریک جناب الطاف حسین اور تمام مظلوم اقوام کے قائد کو 73ویں سالگرہ کی دلی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے تحریک کے تاریخی اور تنظیمی سفر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تحریک اے پی ایم ایس او کے شجر سے ایم کیو ایم کے ایک تناور درخت کی صورت اختیار کر گئی اور اس کی روشنی پاکستان کے مختلف علاقوں تک پہنچی۔
عمیر خسرو بھائی نے قائدِ تحریک کی سالگرہ کے موقع پر جاری شجرکاری مہم کا بھی خصوصی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایم کیو ایم کیلگری نے سٹی انتظامیہ کے تعاون سے شہر میں 500 پودے لگائے اور اس سلسلے میں تعاون کرنے پر سٹی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماحول کے تحفظ اور معاشرے میں مثبت سرگرمیوں کے فروغ کے لیے شجرکاری ایک اہم قدم ہے۔
انہوں نے ساتھیوں سے کہا کہ وہ باہمی اتحاد، تنظیمی نظم و ضبط اور آپس کے رابطے کو مضبوط بنائیں اور اپنی تنظیمی ذمہ داریوں کو بھرپور انداز میں ادا کریں۔ انہوں نے قائدِ تحریک پر اعتماد برقرار رکھنے اور ان کی قیادت میں تحریک کی منزل کے حصول کے لیے دعا کی، جس پر شرکاء نے بلند آواز سے آمین کہا۔
اقبال بہادر بھائی، آرگنائزر ایم کیو ایم کینیڈا، نے قائدِ تحریک جناب الطاف حسین کو 73ویں سالگرہ کی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں تنظیمی نظم و ضبط، باہمی اتحاد اور ساتھیوں کے درمیان اعتماد کی اہمیت پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔
اقبال بہادر بھائی نے کہا کہ کسی بھی تنظیمی جدوجہد میں ساتھیوں کا متحد، منظم اور باہمی رابطے میں رہنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے ساتھیوں پر زور دیا کہ وہ اپنے تنظیمی فرائض کو ذمہ داری، مستقل مزاجی اور خلوص کے ساتھ انجام دیں اور بدلتے ہوئے حالات میں بھی اپنے حوصلے بلند رکھیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، اس لیے ساتھیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ حالات پر نظر رکھیں، ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہیں اور تنظیمی سرگرمیوں کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ باہمی اعتماد اور اتحاد کو برقرار رکھتے ہوئے ساتھی اپنے قائد اور تحریک سے اپنی وابستگی کو مضبوط رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ منظم اور متحد ساتھی ہی اپنی تنظیمی ذمہ داریوں کو بہتر انداز میں پورا کر سکتے ہیں۔
خواتین ونگ کی ساتھی عینی باجی نے قائدِ تحریک جناب الطاف حسین کو 73ویں سالگرہ کی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے خواتین ساتھیوں کو تحریک کی سرگرمیوں میں مزید فعال کردار ادا کرنے کی دعوت دی اور کہا کہ خواتین تنظیمی سرگرمیوں میں اپنی شرکت کو مزید مؤثر بنائیں اور باہمی رابطے کو مضبوط کریں۔
عمران ملہی بھائی نے بھی قائدِ تحریک جناب الطاف حسین کو سالگرہ کی مبارکباد پیش کی اور دنیا میں رونما ہونے والی تیز رفتار تبدیلیوں اور بدلتے ہوئے عالمی حالات پر اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے موجودہ دور کے حالات کو سمجھنے اور ان پر نظر رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
تقریب کے اختتام پر اسرار حسین بھائی، جو قائدِ تحریک جناب الطاف حسین کے چھوٹے بھائی ہیں، نے ڈاکٹر ندیم احسان بھائی، مشیر رابطہ کمیٹی، سمیت دیگر ساتھیوں، بچوں اور بچیوں کے ہمراہ قائدِ تحریک کی سالگرہ کا کیک کاٹا۔
کیک کٹنگ کے موقع پر شرکاء نے قائدِ تحریک جناب الطاف حسین کی درازیِ عمر، صحت و سلامتی، خیر و عافیت ، کامیابی، تحریک کے شہدا ، اسیر اور لاپتا ساتھیوں کے لیے خصوصی دعا کی۔ اس موقع پر تمام شرکاء نے دعا میں شرکت کرتے ہوئے بلند آواز سے آمین کہا۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء نے قائدِ تحریک جناب الطاف حسین کو 73ویں سالگرہ کی مبارکباد پیش کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ تقریب دعاؤں اور نیک تمناؤں کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔
*سانحہ 30، ستمبرحیدرآباد اور یکم اکتوبرکراچی 1988ء ناقابل فراموش ہے،قائد تحریک الطاف حسین*
*کراچی اورحیدرآبادمیں مہاجر آبادیوں پر مسلح حملوں اور مہاجروں کے قتل عام کا میڈیا میں تذکرہ تک نہیں کیاجاتاجوکہ افسوسناک ہے*
*سانحہ30 ستمبراوریکم اکتوبر کے شہداء کی 38ویں برسی کے موقع پر بیان*
#سانحہ_حیدرآباد_30ستمبر
#سانحہ_حیدرآباد_30ستمبر 1988ء
کسی صحافی،اینکر پرسن، تجزیہ نگار،یوٹیوبر کو یاد ہےکہ
مہاجر قوم پر کیا قیامت ڈھائی گئی ؟
یاپھر بھول گئے؟
کہ
حیدرآبادشہرمیں مسلح دہشتگردوں کی قتل وغارتگری
سینکڑوں مہاجرشہیدوزخمی کیےگئے
سفاک قاتلوں کوعدالت نےبری کردیا
اللّہ، شہداءکےدرجات بلندکرے،آمین
انا للہ وانا الیہ راجعون کراچی کے تین نوجوان حکومت کی بے حسی کی بھینٹ چڑھ گئے کیا کراچی کے لوگوں کے نصیب میں یہی لکھا ہے سوچو کراچی والوں سوچو ورنہ ایک ایک کر کے تم سب کی باری ایسے ہی اتی جائیگی اور یہ بے ہس غیر مقامی ڈاکو تم پر حکومت کرتے رہیں.
@AltafHussain_90@AwazEHaq90
30 ستمبر 1988: جب کئی گاڑیوں میں سوار مسلح دہشت گردوں نے حیدرآباد میں داخل ہوکر شہریوں پر اندھادھند فائرنگ کی ۔ آدھےگھنٹے تک خون کی ہولی کھیلی جاتی رہی،پولیس اور انتظامیہ غائب رہی۔300 سے زائد مہاجرشہید کردیےگئے، قادر مگسی اور دیگرقاتل بری کردیےگئے
#سانحہ_حیدرآباد_30ستمبر
ایم کیو ایم کےخلاف دن رات بھونکنے والے نفرت و تعصب کے سوداگروں کی زبان سے کبھی اس قتل عام کا زکر نہیں ہوتا اسلئے کہ 30 ستمبر 1988 کو حیدرآباد میں جن کا قتل عام کیا گیا وہ مہاجر تھے۔
اس منسلک وڈیو کو دیکھئے اور زرا سوچئے کہ مہاجروں پر کیسا کیسا ظلم کیا گیا ۔
یہ حکومت کی بے حسی، بے غیرتی بے شرمی ہے کہ صومالی قزاقوں کی قید میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے لئے حکومت پاکستان کے پاس پیسے نہیں تھے لیکن وزیراعلیٰ پنجاب کے لئے سرکاری خزانے سے 13 سے 14 ارب روپے میں قیمتی جہاز خریدا گیا۔
#بےحس_حکومت_مردہ_باد
صومالی قزاقوں نے 21 اپریل 2026 کو تیل بردار جہاز کو اغوا کیا گیا جس کے عملے میں 10 پاکستانی تھے، آج قزاقوں کی فائرنگ سے عملے کے پانچ ارکان شہید اورکئی زخمی ہوگئے۔پانچ مہینے8 دن تک حکومت پاکستان، ریاست پاکستان کہاں تھی؟ الطاف حسین
#بےحس_حکومت_مردہ_باد
صومالی قزاقوں نے مغوی عملے کی رہائی کے لیے تاوان مانگا تھا اور تاوان ادا نہ کرنے پر انہیں مارنے کی دھمکیاں دی تھیں لیکن حکومت پاکستان نے ان دھمکیوں کا کوئی نوٹس نہیں لیا ۔ الطاف حسین
#بےحس_حکومت_مردہ_باد
میں وزیراعظم شہبازشریف، فیلڈمارشل عاصم منیر، وزیرخارجہ اور پاکستان کے تمام حکام سے اپیل کرتاہوں کہ وہ صومالیہ میں قزاقوں کی فائرنگ سے شہید اورزخمی ہونے والے اور زندہ بچ جانے والے پاکستانی عملےکو فی الفور وطن واپس لانے کے اقدامات کریں۔
پانچ مہینے تک تیل بر دار جہاز پر موجود پاکستانی عملے کے ارکان صومالی قزاقوں کی قید کے دوران حکومت پاکستان سے اپیلیں کرتے رہے، حکومت پاکستان نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی، بالآخر قزاقوں نے وہاں کئے جانے والے آپریشن کے دوران عملے کے پانچ ارکان کوفائرنگ کرکے شہید اورکئی ارکان کو زخمی کردیا۔ ان کے ماں،باپ، بیوی بچے حکمرانوں سے اپیلیں کررہے ہیں کہ اگر حکومت ان کے پیاروں کوزندہ واپس نہیں لاسکی توکم از کم ان کی میتیں اور زخمیوں کوہی واپس لے آئے۔
میں حکمرانوں سے کہتاہوں کہ اگرآپ اپنے شہریوں کا ذرہ برابر بھی احساس ہے تو آپ قزاقوں کے ظلم کانشانہ بننے والے پاکستانی عملے کے ماں باپ، بیوی بچوں کی فریادوں پرتوجہ دیں، شہیدوں کی میتوں کو اور زخمیوں کوفی الفور وطن واپس لانے کے اقدامات کریں تاکہ ان کی مظلوم فیملیزان کودیکھ سکیں، شہیدوں کی تدفین کرسکیں اورزخمیوں کاعلاج کراسکیں۔ یہ آپ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
الطاف حسین
30ستمبر 2026ء
سانحہ 30، ستمبرحیدرآباد اور یکم اکتوبرکراچی 1988ء ناقابل فراموش ہے،قائد تحریک الطاف حسین
کراچی اورحیدرآبادمیں مہاجر آبادیوں پر مسلح حملوں اور مہاجروں کے قتل عام کا میڈیا میں تذکرہ تک نہیں کیاجاتاجوکہ افسوسناک ہے
سانحہ30 ستمبراوریکم اکتوبر کے شہداء کی 38ویں برسی کے موقع پر بیان
#سانحہ_حیدرآباد_30ستمبر